Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ناول ”خون بہا “
از 🖋️ زرش نور
قسط نمبر ٦
اجالا پھیلے کافی وقت ہو چکا تھا۔ہاسٹل سے لے کر جانے وال وین خراب ہو گٸی تھی ۔اس لٸے وہ پیدل ہی یونی کے لٸے نکل پڑی۔
فٹ پاتھ پر اس وقت اور بھی بہت سے لوگ اس کے آگے پیچھے چل رہے تھے۔جن کی چال میں ہی نہیں انداز میں بھی عجلت تھی۔
تیز تز قدم اٹھاتے اچانک اس کی نظر اپنے برابر میں پڑی جہاں صفوان یحیی اس کے قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔
اسے دیکھ کر اس کے قدم سست پڑ گٸے۔شفاف چہرے پر معصومیت رقص کر رہی تھی۔اور گال گلابی پڑ رہے تھے۔وہ زیر لب کچھ پڑھ رہی تھی۔ گلابی کلر کے گاٶن پہ گلابی ہی حجاب لپیٹے وہ کوٸی پاکیزہ روح لگ رہی تھی۔صفوان کی نظریں اس کے چہرے پر جیسے گڑ سی گٸیں۔
”سنو“ وہ رک گٸی۔
”جلدی کہو۔“
تم مجھے بہت آچھی لگتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔
”تو میں کیا کروں۔“
سر پر لپیٹے اسکارف سے پیشانی کے بل چھپ گٸے۔۔۔۔لہجہ ناگواری لٸے ہوۓ تھا۔
”میں تم۔۔۔۔۔سے محبت کرتا ہوں۔“
غصے سے اس کا رنگ قندھاری انار ہو گیا۔”تمہارا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے۔“
سنو مجھے تمہارا ایڈریس چاٸیے۔میں اپنے ماں باپ کو تمہارے گھر بھیجنا چاہتا ہوں۔
وہ ٹھٹھک کر رک گٸی ،اور اب پوری طرح اس کی طرف رخ کر کے کھڑی ہو گٸی ۔
”تمہیں خدا کا واسطہ ہے میری جان چھوڑ دو۔اگر میرے گھر میں کسی کو پتا چل گیا تو اگلے دن میں یونی نہیں آ سکوں گی۔مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے ۔میں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہوں جو یونیورسٹی تک آٸی ہے۔لیکن اگرتم میرے گھر تک پہنچ گٸے تو پھر میرے بعد میرے خاندان والے اپنی کسی بیٹی کو سکول بھی نہیں بھیجیں گے۔
اس کی بات پر صفوان نے ہونٹ بھینچ لیا۔
کیا میں تمہاری پڑھاٸی کے بعد اپنے والدین کو لے کر آ سکتا ہوں۔
اس کی بات پر وہ چپ ہو گٸی۔ اس نے اپنے بیگ میں سے پین اور نوٹ بک نکال کر اس پر کچھ ہندسے گھسیٹے اورایک نوٹ اس کی طرف بڑھایا۔
یہ میرے بھاٸی کا نمبر ہے۔”جس دن میں اپنی پڑھاٸی ختم کر کے یہاں سے چلی جاٶں اس کے ٹھیک ایک سال بعد اس سے رابطہ کر لینا ۔”اگر اس وقت تک میں تمہیں یاد رہی تو۔“
صفوان اتنے میں ہی خوش ہو گیا۔اس کے لٸے امید کی ایک کرن تھی۔
میں کل آسٹریلیا جا رہا ہوں ۔جب لوٹوں گا تب تک تمہاری پڑھاٸی بھی مکمل ہو چکی ہو گی۔
تم مجھے تب تک ثابت قدم پاٶں گی۔
”وہ مسکراتا ہوا وہ نوٹ اپنے واٸلٹ میں رکھتا اپنی گاڑی کی طرف مڑ گیا۔
اور زینیہ سر جھکاۓ یونیورسٹی روڈ پر چل پڑی اور نامحسوس طریقے سے اسے سوچنے لگی۔
فاٸقہ اور اس کی دوستی کو چھے مہینے ہو گٸے تھے۔اور دوسرے سمسٹر کے پیپرز کےبعد اب رزلٹ آنے کا انتظار تھا۔
اور جب رزلٹ اناٶنس ہوا تو وہ زینیہ کے لٸے بہت بڑا دھچکا تھا۔کیونکہ وہ بامشکل پاس ہوٸی تھی۔اور اس کے لٸے یہ بہت شرمندگی کی بات تھی۔
پھر اکثر اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ الٹا ہونے لگا۔
اس کی کتابیں غاٸب ہونے لگیں ۔کبھی اس کے نوٹس اس کے بیگ میں سے غاٸب ہونے لگے۔
فاٸقہ اس کے ہاسٹل بھی آنے لگی اور اکثر رات گٸے واپس جاتی۔
اس کے روم میں ایک الیکٹریکل کیٹل تھی،جس میں وہ لوگ رات کو چاۓ بنا کر پیتے تھے۔اور اب زیادہ تر رات کی چاۓ فاٸقہ ہی بنانے لگی۔
زینیہ چاۓ پینے کے بعد جلدی ہی سو جاتی اور اکٹر اوقات اس کی آنکھ دن کےایک دو بجے کھلتی۔وہ بہت پریشان رہنے لگی ۔یونیورسٹی میں کم ایٹینڈنس کی وجہ سے اسے وازننگ لیٹر بھی ایشو کیا گیا۔
اور پھر اسے فاٸقہ پر کچھ شک سا گزرا ایک رات جب اس نے اس کے لٸے چاۓ بناٸی تو وہ زینیہ نے چپکے سے ڈسٹ بن میں الٹ دی اور فاٸقہ کی موجودگی میں ہی نیند کا بہانہ کر کے سو گٸی ۔پھر وہ روز یہی کام کرنے لگی اور یونی میں اسے دیکھ کر فاٸقہ کے ماتھے کے بل بڑھنے لگے۔
وہ اس وقت یونیورسٹی گراٶنڈ میں موجود تھی۔موسم صاف تھا۔دھوپ چمک رہی تھی لیکن دور کہیں آ سمان کے کناروں پر بادل سر اٹھا رہے تھے۔ان دونوں لاسٹ سمسٹر چل رہے تھے۔
فاٸقہ سے اب وہ کھیچی کھیچی سی رہنے لگی۔
اور پھر فاٸنل رزلٹ والا دن بھی آ گیا ۔ زینیہ نے یونی میں ٹاپ کیا تھا۔اور فاٸقہ کے لٸے یہ بات ناقابل برداشت تھی۔
وہ زینیہ کو سخت نظروں سے گھورتی اس کے پاس سے گزر گٸی۔
لیکن اس نے نوٹس نہیں کیا۔
وہ یونی میں مس الیگینس کے نام سے مشہور تھی۔سب لوگ اس کی بہت عزت کرتے تھے۔
بہت سے لڑکوں اور لڑکیوں نے اسے مبادکباد دی۔
یونی کے سبھی لڑکے اس کی بہت عزت کرتے تھے۔
پھر اس نے صفوان کے دوستوں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا۔جنھوں صرف مبارک باد نہیں دی بلکہ اس کے لٸےپھول اور بہت سارے تحاٸف بھی لاۓ تھے۔
وہ ہاسٹل پہنچنے تک بہت تھک چکی تھی۔لیکن پھر بھی اس نے سارے تحاٸف کھولے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گٸی کہ اسے وہ تحاٸف دٸیے تو مختلیف لوگوں نے تھے۔لیکن سب پر صرف صفوان یحیی کا نام ہی لکھا تھا۔ اور پہلی بار اس نام نے اس کے دل کے تاروں کو چھیڑا تھا۔چار سال گزر چکے تھے،لیکن وہ اسے نہیں بھولا تھا۔
اس کے بعد ڈاٸر ی کے سارے صفحے کورے تھے ان پر اس سے آگے کچھ نہیں لکھا گیا تھا۔
زرغام نےڈاٸری بند کر دی اور سر ٹیبل پر رکھے اپنے ہاتھوں پر گرا دیا۔
اسے آج بھی وہ دن یاد تھا۔جب اسے یونی کے ہی کسی لڑکے نے کال کر کے اسے بتایا تھا کہ زینیہ ہاسپٹل میں ہے۔وہ پاگلوں کی طرح وہاں گاٶں سے اسلام آباد پہنچا تھا۔
جہاں ڈاکٹر سے اسے پتہ چلا تھا کہ اس کی بہن کا ریپ کیا گیا ہے۔اور اسکے پیٹ میں چاقو سے وار کیے گٸے ہیں۔
اس کی زندگی تو بچ گٸی لیکن وہ ایک گہری نیند میں سو گٸی۔اور اس کے ساتھ ہی اس کے مجرموں کے نام بھی کہیں چھپ گٸے۔
لیکن زرغام نے جو معلومات اکٹھی کی تھیں اس سے اسے یہی پتہ چلا تھا۔کہ جس دن یہ واقعہ ہوا تھا اس دن وہ فاٸقہ کے ساتھ یونی سے گٸی تھی۔
وہ جب اسلام آباد میں دردانہ بیگم کے گھر پہنچا تو اسے بتایا گیا کہ فاٸقہ سلطان تو اپنے گاٶں چلی گٸی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے امو جان اور بابا سےریپ والی بات چھپا لی اور صرف یہی بتایا کہ کوٸی چور تھے جو اس سے موباٸل اور پیسے چھین رہے تھے اور اس ہاتھاپاٸی میں وہ زخمی ہو گٸی ہے۔لیکن آگے کے دن زیادہ مشکل ہو گٸے تھے۔جب وہ بےہوشی سے واپس ہوش کی دنیا میں نہیں لوٹی۔وہ ہر روز ایک نٸی امید سے اٹھتا شاید آج وہ خوبصورت دن ہو جب وہ نیند سے جاگ جاۓ گی۔ لیکن ڈکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ خود ہی ٹھیک نہیں ہونا چاہتی اور جب تک وہ نہں چاہے گی وہ اس نیند سے باہر نہیں آ سکتی۔
وہ سب کچھ سن سکتی تھی ،محسوس بھی کر سکتی تھی ۔
زرغام سلطان خان کی حویلی گیا تھا۔
اس نے سلطان خان سے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو بلاۓ ۔
تب فاٸقہ سلطان بڑے زعم سے وہاں آٸی تھی۔
اور زرغام کے زینیہ سے پیش آنے والے حادثے کے متعلق پوچھنے پر وہ مکر گٸی کہ وہ تو زینیہ کو جانتی ہی نہیں ہے۔
زرغام اس کو مارنے کے لٸے اس کی طرف بڑھا تھا۔لیکن سلطان خان کے گارڈز درمیان میں آ گٸے تھے۔
اور وہ وہاں سے لوٹ آیا۔
لیکن اگلی صبح اس کے لٸے ایک اور قیامت لٸے کھڑی تھی۔جب اسے پناٸیت نے طلب کیا اور اس پر فاٸقہ سلطان نے الزام لگایا تھا کہ زرغام نے اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی ہے۔
اور زرغام اس مکار لڑکی کو دیکھتا رہ گیا۔
اور پھر زرغام نے گواہی کے لٸے اپنے کچھ دوستوں کو پنچاٸیت کے سامنے پیش کیا کہ جن دنوں کی فاٸقہ سلطان بات کر رہی ہے ان دنوں وہ گاٶں میں نہیں تھا۔
لیکن اس واقعے کے بعدزرغام اور اس کے بابا کی ساکھ بہت متاثر ہوٸی تھی ۔
اور پھر فون پہ فاٸقہ سلطان نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر آٸندہ مجھے نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچا بھی تو میں تمہیں اس قابل بھی نہیں چھوڑوں گی کہ تم اور تمہارا باپ اس گاٶں میں بھی رہ سکو۔
اور زرغام باپ کی ناراضگی اور ان کی عزت کی خاطر خاموش ہو گیا۔
زینیہ کو کوما میں گٸے پورے تین سال گزر چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دردانہ ببیگم یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھیں۔ سلطان خان ان کے سامنے بیٹھا تھا۔بڑی ہونے کی وجہ سے سارے فیصلے ان کی ہی ہوتے تھے۔
فاٸقہ کی شادی بھی دردانہ بیگم نے اپنے ہی جاننے والوں میں کی تھی۔انہیں سالوں گزر گٸے تھے، اسلام آباد میں آۓ ہوۓ اور وہ یہاں کے ماحول میں رچ بس گٸی تھیں۔فاٸقہ بھی ان کے ہی نقش قدم پہ چل پڑی تھیں ۔وہ اپنی روایات اور اقدار کو بھول چکی تھیں۔
وہ ٹہلتے ٹہلتے کچھ پل کے لٸے رکیں ۔
سلطان خان یہ تم مجھے مشکل میں ڈال رہے ہو۔تیری اس بیٹی کو میں اپنی بہو تو بنا لوں لیکن مجھے نہیں لگتا یہ گھر بساۓ گی۔یہ تو بالکل ماں پر گٸی پرانے خیالات کی ہے۔
چلو پھر ٹھیک ہے کل ہی ان دونوں کا نکاح کرواتے ہیں اور پھر بعد میں ولیمہ کر لیں گے۔
تم گاٶں جا کرکہنا کہ زرغا م علی خان نےزینب کو طلاق دے دی ہے۔
تبھی زوردار آواز کے ساتھ دروازہ کھول کر زینب اندر آٸی تھی۔
”آپ لوگ ہوش میں ہیں ؟“خود بھی گنہگار ہوناچاہتے ہیں اور مجھے بھی گنہگار کر رہے ہیں۔
”دیکھ لے سلطان خان اس لڑکی کی زبان ،میں کہتی ہوں اس کا جلدی سے کچھ کرو نہیں تو یہ اس زرغام کے ساتھ بھاگ جاۓ گی۔
ہاں جاٶں گی اسی کے پاس شوہر ہے وہ میرا اور اس کے نکاح میں ہوتے ہوۓ۔۔۔۔۔۔چٹاخ کی آواز کے ساتھ ایک زوردار تھپڑ زینب کے منہ پر پڑا تھا۔
اور اس کے بعد سلطان خان نے پےدرپے کہیں تھپڑ اسے رسید کیے۔اور وہ حیرت اور بےیقینی سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔
تو اس کےپاس جاۓگی ؟میں تجھے زندہ چھوڑوں گا تو تم کہیں جاٶ گی۔
وہ اس کا گلہ دبانے کے لٸے آگے بڑھےتھے۔جب درمیان میں سفیر آگیا۔
ماموں جانے دیں ،چھوڑ دیں اسکو۔
اور وہ اسے خونخوار نظروں سے گھور رہے تھے۔
یہ اسکے ساتھ جاۓ گی جس کے باپ نےمیری بہن کے لٸے انکار کیا تھا۔
سلطان خان کی بات سن کر دردانہ خان کے زخم ہرےہو گٸے تھے۔
جبکہ زینب سلطان کسی ہار ے ہوۓ جواری کی طرح اس کمرے سے باہر نکل گٸی۔
سفیر اس لڑکی پر نظر رکھنا اور ہاں اس کاموباٸل بھی لے لو۔
ماں یہ کام میں پہلے ہی کر چکاہوں۔
دردانہ آپا آپ بس یہاں اس لڑکی کو سنبھال لیں۔
زرغام علی خان کا سینہ تو میں گولیوں سے چھلنی کروں گا۔
اس نے میرے سامنے میرے جوان بیٹے کو مارا ہے۔میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
