Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ناول ”” خون بہا ““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١٠

آج اس کی طبعیت بہت خراب ہو رہی تھی۔اس کا وجود شل ہو رہا تھا۔اسے آرام کی ضرورت تھی ،لیکن ہاسپٹل کے اس کمرےمیں اس کے آرام کے لٸے ایک بینچ ہی تھا۔وہ ڈاکٹر سے دواٸی لے کر تھکے تھکے قدموں سے روم میں داخل ہوٸی۔دروازہ کھولتے ہی سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ ایک پل کے لٸے ٹھٹھک کر رک گٸی۔

اسلام علیکم! کہہ کر وہ اندر داخل ہوٸی چار قدموں کا فاصلہ طے کر کے اس کی سانس پھولنے لگی تھی۔

وہ جا کر بینچ پر بیٹھ گٸی۔لیکن اسے لگ رہا تھا اس کا جسم ٹوٹ رہا ہے۔

میں۔۔۔۔میں تمہیں لینے آیا ہوں۔چلیں؟
اس نے مشکل سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ،لیکن وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔

جی چلیں!اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی۔

زرغام علی خان نے زینب کے پاس رکھا اپنا کوٹ اٹھا کر بازو میں ڈالا اور گاڑی کی چابی لے کر ا یک بار زینیہ کے پاس اس کےسر پر ہاتھ رکھتا ہوا بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔
زینب تب تک اپنا بیگ نکال کر بینچ پر رکھ چکی تھی۔جسے باہر نکلتے ہوۓ زرغام علی خان لے کر باہر نکلا تھا۔

وہ کانپتے وجود کے ساتھ اس کے پیچھے چل دی ۔لیکن گاڑی تک پہنچتے پہنچتے وہ ہانپ گٸی۔ وہ فرنٹ ڈور کھولے اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔

زینب نے شدت سے خدا سے دعا کی کہ بس وہ ایک بار گاڑی کی سیٹ تک پہنچ جاۓ ۔لیکن ہر گھڑی قبولیت کی نہیں ہوتی۔
وہ گاڑی سے تقریباً ایک انچ کے فاصلے پر تھی۔جب اس کی آنکھوں کے آگے اندھیر ا چھا گیا۔لیکن آنکھیں بند ہونے سے پہلے اس نے زرغام علی خان کو تیزی سے اپنی طرف بڑھتے دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جس وقت اسے تھاما تو اسکاجسم بھٹی کی طرح جل رہا تھا۔
اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر اس نے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا اور اپنے فلیٹ میں لے آیا۔

اسے بیڈ پر لیٹا کر اس پر بلینکٹ ڈال کر وہ اپنے پڑوس میں ہی موجود فخری صاحب کو بھلا لایا جو ایک ڈاکٹر تھے۔اسے اس فلیٹ میں رہتے ہوۓ تقریباً تین سال ہو گٸے تھے۔اس لٸے آس پاس کافی لوگوں سے اس کی جان پہچان تھی۔

انہوں نے چیک اپ کے بعد کچھ دواٸیں لکھ کر دیں۔زرغام دیکھو اسے بہت تیز بخار ہے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتے رہواور کوشش کرو کہ یہ کچھ کھا لے۔

جی !اس نے اثبات میں سر ہلایا اور انہیں چھوڑنے ڈور تک ایا۔

چونکہ اب کافی دیر ہو چکی تھی۔اس نے کال کر کہ اموجان کو اس کی خراب طبعیت کا بتایا اور ساتھ ہی آج واپس نہ آنے کے بارے میں بتایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جس وقت ہوش میں آٸی وہ اسکے قریب چٸیر ڈالے اسکی پیشانی پر ٹھنڈی پٹیاں رکھ رہا تھا۔
زینب کو آنکھیں کھولتے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا اور باہر نکل گیا۔

زینب بالکل خاموشی سے پڑی رہی۔وہ پہلے سے بہتر محسوس کر رہی تھی۔

دو دن سے خالی پیٹ ہونے کی وجہ سے اس میں اٹھ کر بیٹھنے کی بھی سکت نہ تھی۔

کچھ ہی دیر کے بعد وہ دودھ اور بریڈ لے کر کمرے میں داخل ہوا ۔اور ساٸیڈ ٹیبل پر دونوں چیزیں رکھ کر وہ اس کےقریب آیا۔
اسکی اٹھنے میں مدد کے لٸے زرغام نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔جیسے زینب نے تھام لیا۔

تھوڑی سی ہمت کر کے وہ اٹھ کر بیٹھ گٸی ۔اور دودھ کے چھوٹے چھوٹے سپ لینے لگی۔

وہ سامنے چٸیر پر ٹانگ پہ ٹانگ جماۓ اس کی کارواٸی ملاحظہ کر رہا تھا۔

آج پہلی زرغام علی خان نے اسے بغیر چادر ے کے دیکھا تھا۔
اس کی چادر گلے میں پڑی تھی۔
ڈارک براٶن بال گرنے کی وجہ سے کھل کر کندھوں پر بکھرے ہوۓ تھے۔

بیماری کی وجہ سے اس کی رنگت زردی ماٸل ہو رہی تھی۔
دودھ کا گلاس ختم کر ک اسے جوں ہی کچھ طاقت محسو س ہوٸی
۔اس نے اپنی چادر سر پر ٹکاٸی۔

زرغام کی نظروں سے خاٸف ہو کر وہ اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کو مسلنے لگی۔

سوری میری وجہ سے آپ لیٹ ہو گٸے ہیں۔میں ٹھیک ہوں اب تو ہمیں چلنا چاٸیے۔

زرغام نے ایک ہنکارا بھرا۔۔۔۔۔

جی ہم کافی لیٹ ہو چکے ہیں ۔اب آپ آرام کریں ،ہم صبح ہی گاٶں کے لٸے نکلیں گے۔

اسکی بات پر اس نے شکر کا کلمہ پڑا اور کمرے سے اس کے جانے کا انتظار کرنے لگی۔

اسے منتظر پا کر وہ کمرے سے نکل گیا۔اور زینب اتنے دنوں کے بعد نرم بستر میسر ہونے سے کچھ ہی پل میں نیند کی وادی میں گم ہو گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کہیں بار کمرے کا چکر لگا چکا تھا۔لیکن وہ گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہی تھی۔ وہ اپنے لٸے کافی لے کر ٹی وی کے آگے بیٹھ گیا اور کافی کے چھوٹے چھوٹے سپ لینے لگا۔

کھٹکے کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا وہ گلابی قمیض شلوار پہ واٸٹ بڑی سی چادر لٸے تیار کھڑی تھی۔
میں تیار ہوں ہم چلیں۔

زرغام نے ریموٹ اٹھا کر آواز کم کی ۔اور چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔اسکی پیشانی کو ہاتھ سے چھو کر بخار چیک کیا۔

اب کیسا محسوس کر رہی ہو تم۔

جی ٹھیک ہوں ۔

وہ سامنے کچن ہے ، ناشتہ کچن میں رکھا ہے ۔ ناشتہ کر لو پھر نکلتے ہیں تب تک میں چینج کر لیتا ہوں۔

وہ ناشتہ کر کے فارغ ہوٸی تو سامنے ہی وہ کوٹ پہنتا ہوا روم سے باہر نکلا ۔

چلیں۔
جی چلیں۔
اوکے ! پہلے ہی کافی دیر ہو گٸ ہے۔ وہ گھڑی دیکھتے ہوۓ بولااور بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔وہ اسکے پیچھے چل دی ۔

تھوڑی دیر کے بعد بلیک مرسڈیز ہواٶں سے باتیں کرتی ہوٸی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔

پانچ گھنٹے کے تھکادینے والے سفر کے بعد جس وقت وہ لوگ گاٶں کی حدود میں داخل ہوۓ ۔ تو پہلے سے انکے انتظار میں دو گاڑیا ں کھڑی تھیں۔ایک زرغام کی گاڑی کے آگے جبکہ ایک پیچھے چل دی۔

ان کی گاڑی جس وقت حویلی میں داخل ہوٸی دوپہر ڈھل رہی تھی۔

زرغام خان نے تھوڑی دیر اسکے نیچے اترنے کا انتظار کیا ۔
تم اس ساٸیڈ پہ چلی جاٶ ۔اسے اشارے سے بتا کر اس نے گاڑی پھر سے سٹارٹ کی اور وہاں سے چل دیا۔

زینب نے چاروں اطراف کا جاٸزہ لیا۔ایک ساٸیڈ پہ گیراج تھا جہاں پہلے سےہی دوتین گاڑیاں کھڑی تھی۔

ایک طرف خوبصورت سا گارڈن تھا۔
جب کے اس کے بالکل سامنے لکڑی کا ایک آہنی دروازہ تھا۔

وہ سست قدموں سے آگے بڑھی اور لکڑی کا دروازہ دھکیلتی ہوٸی اندر داخل ہوٸی۔

سامنے ایک بہت بڑا ہال تھا۔ہال کے درمیان میں رکھے صوفے پر ایک بے حد نفیس سی خاتون بیٹھی تھی۔بہت سے ملازم آ جا رہے تھے۔ ان عورت نے مڑ کر زینب کو دیکھا۔
زینب کو لگ رہا تھا اس کا اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے۔

وہ آگے بڑھی اور سرجھکا کر اس عورت کے قریب جا کر کھڑی ہوگٸی۔

جبکہ زاٸرہ خاتون الجھی نظروں سے سامنے کھڑی سرخ وسفید رنگت اور خوبصورت نقوش کی مالک لڑکی کو دیکھ رہی تھیں ۔جو ڈری سہمی سی کھڑی تھی۔

بیٹا کون ہو آپ؟

جی میں۔۔۔۔۔۔

زینب امو جان زینب ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔

زینب کے پیچھے کھڑا زرغام علی خان بولتے ہوۓ اس کے قریب سے گزر کر ماں کے گلے لگ گیا۔

ان سے الگ ہوتے ہوۓ اس نے ایک اچٹتی سی نظر زینب پر ڈالی جو سر جھکاۓ اپنے پاٶں پر نظریں جماۓ کھڑی تھی۔

زاٸرہ بیگم اٹھ کر زینب کے پاس جانےلگی ،جب زرغام نے انکا ہاتھ پکڑ لیا اور نفی میں سر ہلایا۔
وہ ایک نظر زینب پر ڈال کر اس کےپاس بیٹھ گٸی۔

نیلم ۔۔۔۔۔ ۔۔انہوں نے اپنی ملازمہ کو آواز دی۔

نیلم۔۔۔۔۔۔ زینب بیٹی کواوپر زرغام۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرغام نے ایک بار پھر سے انہیں درمیان میں ٹوک دیا۔

نیلم۔انہیں امو جان کے ساتھ والے کمرے میں لے جاٶ۔

زینب نے ایک درزیدہ نظر زرغام علی خان پر ڈالی جو چہرے پر پتھریلے تاثرات لٸے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

وہ ملازمہ کی معیت میں آگے بڑھ گٸی۔زرغام کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا۔

ماں کے گلہ کھنکارنے پر وہ پلٹ کر ان کی طرف دیکھنے لگا۔

زرغام تم یہ سب آچھا نہیں کر رہے۔
ان کی بات پر وہ استہزایہ مسکرایا۔

زرغام یہ وہی زینب ہے جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لٸے تم اس کے کالج کے باہر کھڑے رہتے تھے۔

امو جان وہ بہت پہلے کی بات تھی۔اب سب کچھ بدل گیا ہے۔
اور ہاں! وہ یہ سب نہیں جانتی ۔آپ میری بات سمجھ رہی ہیں نہ اسے اس بات کی خبر نہیں ہونا چاٸیے۔

مجھے تو چپ کروا لو گے لیکن جس دن زینیہ کو ہوش آ گیا تو تب کیا ہو گا۔

وہ تمہارے ساتھ گٸی تھی اسے دیکھنے کے لٸے۔

کچھ یاد کر کے اس کی آنکھوں میں کرچیاں سی چب گٸیں۔

کیسے وہ اس کے ساتھ گٸی تھی اور جب زرغام نے اشارے سے اسے زینب کے بارے میں بتایا تو وہ شرارت سے مسکراتے ہوۓ بولی تھی۔
شہزاے تم تو کبھی اظہار محبت نہیں کرو گے ۔لگتا ہے یہ کام تمہاری جگہ مجھے ہی کرنا پڑے گا۔

وہ ڈور اوپن کر کے جب نیچےاترنےلگی اس سے پہلے ہی اس کا ہاتھ زرغام کےہاتھ میں تھا۔

اپیا میں جانتا تھاتم کچھ ایسا ہی کرو گی ۔اسی لٸے میں پہلے سے ہی تیار تھا۔

یہ میرا کام ہے اور یہ میں خود ہی کروں گا۔
اور اس کی بات پر وہ دل مسوس کر رہ گٸی۔
اور زرغام کی بات پر وہ اسے خلیل جبران کی محبت کا قصہ سنانے لگی۔

خلیل جبران کی اپنی محبوبہ میزیادہ سے محبت بغیر کسی ملاقات اور دیدار کے بیس سال تک چلتی رہی. جبران نیویارک میں تھا اور میزیادہ قاہرہ میں.
دنیا کے دو کونوں سے دونوں باہم خطوط کا تبادلہ کیا کرتے تھے.ایک خط میں جبران نے میزیادہ کی تصویر مانگی تو میزیادہ نے اس کو لکھا:
” سوچو ! تصور کرو !
میں کیسی دکھتی ہوں گی؟
“جبران : ” مجھے لگتا ہے تمھارے بال چھوٹے ہوں گے جو تمھارا چہرہ ڈھانپ لیتے ہوں گے.
“میزیادہ نے یہ پڑھ کر اپنے لمبے بال کاٹ ڈالے اور ایک خط کے ساتھ اپنے چھوٹے بالوں والی تصویر بھیجی.
جبران: ” تم نے دیکھا ؟ میرا تصور بالکل سچا تھا…..!!
“میزیادہ : ” محبت سچی تھی…..!! “
وہ زرغام کا مذاق اڑانے لگی لگتا ہے تم بھی اس سے ایسی ہی محبت کرو گے ۔
یار زرغام بیس سال تک تو تم بوڑھے ہو چکے ہو گے۔

زرغام علی خان کی آنکھوں کے سامنے وہ منظرپوری جزٸیات کے ساتھ لہرا گیا۔

تبھی وہ اٹھا اور زینب کے لٸے مختص کمرے کے باہر رک گیا۔اس نے دستک کے لٸے ہاتھ اٹھایا ہی تھا۔جب دروازہ کھل گیا اور سامنے وہ دھلے دھلے چہرے کے ساتھ کھڑی تھی۔

وہ سوالیہ نظروں سے زرغام کو دیکھنے لگی۔

یہ تمہاری میڈیسن ہیں۔میں ملازمہ کو کہتا ہوں تمہارا کھانا تمہارے کمرے میں پہنچا دے گی۔کھانے کے بعد میڈیسن لے لینا۔

اتنے دنوں میں پہلی بار زرغام علی خان نے اس سے اتنی طویل گفتگو کی تھی جو تین جملوں پر مشتمل تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔