Khoon Bahaa By Zarish Noor Readelle50108 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
ناول ””خون بہا““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١
ایک بلیک مرسڈیز تیزی سے گاٶں کی حدود کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اونچی نیچی پتھریلی سڑک پہاڑوں کو چیر کر بناٸی گٸی تھی۔ہر دو کلو میٹر کے بعد ڈھلوان آ جاتی۔ڈراٸیور بہت احتیاط سے ڈراٸیو نگ کر رہا تھا۔اس کے چہرےپر چٹانوں سی سختی تھی۔آنکھیں ضبط کی کوشش میں لال انگارہ ہو رہی تھی۔
بلیک کلر کےقمیض شلوار میں ملبوس پاٶں میں پشاوری چپل پہنے ایک کلاٸی میں قیمتی رسٹ واچ جبکہ دوسری کلاٸی میں بلیک کلر کا ایک دھاگا باندھ رکھا تھا۔دھوپ کی تمازت کی وجہ سے اس کی رنگت دھمک رہی تھی۔
گاڑی میں اے سی کے باوجود اس کی پیشانی پسینے سے عرق آلود تھی۔
وہ گاٶں کی حدود میں داخل ہوا تو گاٶں میں بنے چھوٹےبڑے گھروں کےدرمیان میں موجود سرخ اینٹوں والی دیو قامت حویلی موجود تھی۔ دور سےہی اسے بہت سے لوگ حویلی کے باہر جمع دکھاٸی دٸیے۔
جس وقت اس کی گاڑی وہاں پہنچی لوگوں نے ایک ساٸیڈ پہ ھو کر گاڑی کو راستہ دیا او گاڑی حویلی کے اندر داخل ہو گٸی۔
جس وقت وہ گاڑی سےاتر کرحویلی کے اندر داخل ہوا وہاں ایک کہرام برپا تھا۔
اس کے عظیم باپ کی میت کے پاس بیٹھی اس کی ماں اور بہنیں بین ڈال رہی تھی۔
اسے دیکھ کر اس کی ماں بھاگ کر اس تک پہنچی اور اس کے گلے لگ گٸی۔
اور روتی بلکتی ماں اور بہنوں کو دیکھ کر بھی اس کی آنکھ میں سےایک آنسو بھی نہ ٹپکا۔اس نے ماں کا سر چوما اور بہنوں کے سر پر ہاتھ رکھ وہ گاٶں کے کچھ اور لوگوں کے ساتھ باپ کی میت کو کندھا دیا اور تدفین کے لٸے لے گٸے۔
تدفین کے بعد وہ ڈھیرے پرآ گیا تھا ۔جہاں اس کے باپ کے کچھ خاص لوگ شامل تھے۔
سردار صاحب اب آگے کیا کریں گے ۔ سنا ہے سردار سلطان محمد نے اپنے بیٹے دراب کو شہر بجھوا دیا ہے۔
زرغام علی خان نے غاٸب دماغی سے سب پر ایک نظر ڈالی ۔سرداراعلیٰ کو پیغام بجھوا دو کہ فیصلہ جرگےمیں ہو گا۔اور سلطان محمد کو پیغام بھجیں کے اپنےبیٹے کو ساتھ لے کر کل جرگےمیں پہنچ آۓ ۔
سب نےاثبات میں سرہلایا اور اپنی بندوقیں کندھوں پر ڈالتےہوۓ باہر نکل گٸے۔
نور خان تم یہی رکو۔اس کی آواز پروہ ایک ساٸیڈ کو مودب سا کھڑا ہو گیا۔
کافی دیر کی خاموشی کے بعد زرغام کی آواز گونجی ”نور خان تفصیل سے بتاٶ ۔کیا ہوا تھا وہاں؟“
سردار ہمارے گاٶں کی ایک لڑکی کے باپ نےآ کر بتایا تھا کہ دراب خان اور اس کے کچھ دوستوں نے اسے اغوا کر کے اپنے ڈیرے پر لے کر گٸے تھے۔جہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس شخص کی شکایت پر جرگہ بلایا گیاتھا۔سردار کے ساتھ یہاں سے صرف میں ہی گیا تھا۔
پنچاٸیت میں سردار اعلیٰ نے دونوں طرف کی بات سن کر فیصلہ کیا کہ دراب خان کو قید کر لیا جاۓ۔
جس پر سردار صاحب نے کہا کہ اسےقید کرنے جی بجاۓ سنگسار کیا جاۓ۔اس بات پر سلطان محمد اور سردار صاحب کے درمیان تلخ کلامی ہوٸی ۔جس کے بعد جرگہ نے سردار کا فیصلہ مان لیا ۔لیکن اچا نک دراب خان اور اس کے آدمیوں نے بندوقیں نکال لیں اور پھر دراب خان نے سردار کے سینے پر پہ در پہ فاٸر کیے اور اپنےآدمیوں کے ساتھ ہواٸی فاٸرنگ کرتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرگے میں سب لوگ وجود تھے۔ماسواۓ سردار زرغام علی خان کے جو ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ تبھی ایک ساٸیڈ سے دھول اڑاتی بلیک مرسڈیز نظر آٸی اور آ کر جرگے کےقریب رکی۔
گاڑی میں سے واٸٹ کلر کے قمیض شلوار مں ملبوس پاٶں میں چپل اڑسے سردار زرغام علی خان اترا ۔علاقے کی کہیں لڑکیاں اس پہ مرتی تھی۔لیکن وہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔
وہ سردار اعلیٰ سلمان پاشا کے قریب رکھی چٸیر پر بیٹھ گیا۔
اس نے اپنے سامنے بیٹھے مجمعے پر ایک نظر ڈالی اور پھر اس کی نظر سلطان محمد کے بغل میں کھڑی زینب سلطا ن پر ٹک گٸی۔جو بے نیازسی اپنی کلاٸی میں بندھی واچ کو کھول اور بند کر رہی تھی۔
سردار زرغام علی خان یہ اب آپ کا فیصلہ ہو گا کہ آپ اپنے باپ کے قاتل کے لٸے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
سردار اعلیٰ سلمان پاشا کی آواز پر سردار زرغام علی خان نے اپنے سامنے سر جھکاۓ کھڑے درا ب سلطان پر ایک نظر دوڑاٸی اور پھر سردار اعلیٰ کی طرف دیکھا ۔
میں خون بہا چاہتا ہوں اور خون بہا میں زینب سلطان چاٸیے ہے۔
سر پر اسکارف باندھے آنکھوں میں آنسو لٸے زینب سلطان نے زرغام علی خان کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر پتھریلے تاثرات تھے۔اس نے نفی میں سر ہلایا لیکن اس سے پہلے سلطان محمد کھڑے ہو گٸے ”مجھے منظور ہے“ اور زینب سلطان گنگ سی ان دو مردوں کو دیکھ رہی تھی۔ایک جو رشتے میں اس کا باپ لگتا تھا اور دوسرا زرغام علی خان جو آج نفرت کے رشتے کو مزید مضبوط کر رہا تھا۔
اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور اس نے بھی بیٹے کی محبت میں نظریں پھیر لیں۔
اور پھر ایک امید سے اس کی نظر زرغام علی خان پر ٹک گٸیں۔
جس نے آنسو سے لبریز اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر کچھ کہنے کے لٸے لب وا کیے لیکن کچھ سوچ کر ہونٹ بھینچ لٸے۔
اور زینب سلطان کی آخری امید بھی دم توڑ گٸی۔
میں چاہتا ہوں ابھی اسی جرگے میں ہمارا نکاح ہو ۔
اس کی بات پر سلطان محمد تھوڑا تذبذب کا شکار نظر آیا لیکن وہ زبان دے چکا تھا۔
آناً فاناً وہاں مولو ی صاحب کو بلایا گیا اور زینب سلطان کو بھاٸی کی جان کے عوض بیچ دیا گیا۔
وہ زینب سلطان سے زینب زرغام علی خان بن گٸی۔
نکاح ہوتے ہی زرغام علی خان اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔اور ایک نظر زینب سلطان پر ڈال کر وہ دراب خان کے برابر آ کر کھڑا ہو گیا۔اور پھر وہ ہوا جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔
سب نے بس دراب خان کو نیچے گرتے دیکھا تھا۔اور سب کی نظریں زرغام علی خان کے ہاتھ میں موجود پسٹل پر تھی۔جس میں سے چھے فاٸر ہوۓ تھے۔اور اس نے چھے کی چھے گولیاں دراب خان کے سینے میں اتار دیں تھی۔سب ششدر سے کھڑے ہو گٸے۔ سلطان محمد تیزی سے زرغام علی خان کی طرف بڑھا اور اسے گریبان سے پکڑنا چاہا لیکن زرغام علی خان نے بیچ میں ہی اس کے ہاتھ پکڑ لٸے۔
سلطان محمد خان اس نے چبا چبا کر لفظ ادا کیے۔میں سردار زرغام علی خان ہوں جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔اپنی بیٹی تم نے خون بہا میں دی ہے اور تمہارے بیٹے کی دوسری سزا ابھی باقی تھی جو میرے باپ نے اور اس جرگےنے طہ کی تھی۔اس کے ساتھ ہی وہ اس ک ہاتھ چھوڑتا ہوا زینب سلطان پر ایک نظر ڈالتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔ زینب سلطان بھاٸیکی میت پر بیٹھی آنسو بہاتی رہ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
