Hawayein Rukh Badalti Hain By Zarish Noor Readelle50072 Last updated: 23 July 2025
Rate this Novel
Hawayein Rukh Badalti Hain
By Zarish Noor
اس نےصرف جی کہنےپر اکتفا کیا،اور ایک لمبی سانس فضا کے سپرد کرتی ہوٸی پیدل ہی گھر کی طرف چل پڑی۔ گھر کے قریب پہنچ کر اس کے قدم سست پڑ گٸے۔ بیل کی طرف ہا تھ بڑھانے سے پہلے اس نے اپنے کپڑوں کی نادیدہ شکنیں درست کیں اور منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بیل پر ہاتھ رکھ دیا۔
چند ہی پل گزرے ہوں گے جب اسے گیٹ کے پاس سی زہرہ خاتون کی ہنسی گونجی۔ اور پھر دیدم کے سامنے ان کا ہنستا مسکراتا مطمٸن سا چہر ہ سامنے آیا۔
وہ بہت خوشی سے دیدم کو بازو سے پکڑ کر اندر لے کر گٸیں۔
وہ مین ڈور سے اندر داخل ہوٸی تو سامنے ہی وہ اپنے ازلی لاپروا انداز میں بیٹھا کمال احسن سے باتوں میں مشغول تھا۔بلیک تھری پیس سوٹ میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ڈیشنگ اور خوبصورت ہو گیا تھا۔ دیدم کی نظر کچھ پل کے لٸے اس پر ٹھہر گٸی۔
وہ جانتا تھا کہ وہ آ چکی ہے لیکن پھر بھی اس نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا۔تبھی زہرہ خاتون نےہی اسے متوجہ کیا۔ ارسلان بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ دیدم سے نہیں ملو گے۔ ان کی آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا اور پلکیں جھپکنا بھول گیا۔اتنا مکمل اور سوگوار حسن اس نےاپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔
وہ اس پر نظریں جماۓ بڑی فرصت سے دیکھ رہا تھا۔ جب دیدم نے بہت ہی آہستہ آواز میں اسے سلام کیا اور اس کا جواب سنے بغیر اپنےکمرے کی طرف مڑ گٸی۔
کمرے میں پہنچ کر وہ کانپتے وجود کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گٸی۔اور بےآواز آنسو بہانے لگی۔ اسے اس شخص کے ہاتھوں اپنی تذلیل کبھی نہیں بھولنی تھی۔اور وہ اس کا پوراپورابدلہ لینےکا ارادہ رکھتی تھی۔
تبھی دروازے پر دستک دے کروہ اندر داخل ہوا۔
سوری تمیہں ڈسٹرب تو نہیں کیا۔
وہ جلدی سے رخ موڑ کر کھڑی ہو گٸی اور چپکے سے اپنے آنسو صاف کیے۔جب وہ اس کے سامنے آیا تو اس کےچہرے پر مصنوعی مسکراہٹ آ گٸی تھی۔
”کیسی ہو؟“
”میں بالکل ٹھیک ہوں۔آپ سناٸیں کیسے ہیں؟“
اللہ کا شکر ہے۔
تھوڑی دیر دونوں کے درمیان خاموشی چھاٸی رہی۔ارسلان کی آواز نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔
”کہاں جاب کر رہی ہو؟
ایک ایڈور ٹاٸزنگ ایجنسی میں۔
کیا نام ہے ایجنسی کا
ایس ،ایم، زیڈ
کیا تم اس ایجنسی کے ساتھ کام کرتی ہو؟تمہیں یہاں کیسے جاب مل گٸی؟
ویسے ہی بس انٹرویو دیا تھا تو مل گٸی ہے۔
تم جانتی ہو یہ ایک بہت بڑی کمپنی ہے۔ا ن لوگوں کا اپنی ایک ہوٹل چین بھی ہے جو بہت سے ممالک میں ہے۔
آچھا ہو گی مجھے کیا اس نے لاپرواٸی سے کندھے اچکاۓ۔
اوکے ۔۔۔کل میر ی ان کے ساتھ میٹنگ ہے تو صبح ساتھ ہی چلتے ہیں پھر۔
اوکے ۔۔۔۔وہ تھوڑی دیر بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ تمہیں مجھ سے کچھ نہں پوچھنا۔ دیدم نےنفی میں سر ہلایا۔ وہ اس سے رخ موڑکے کھڑکی میں کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔مباداوہ اس کے چہرے سے کچھ اخذ نہ کر لے۔
پھر اس نے بالکل اپنے پیچھے اس کی آہٹ محسوس کی ،تو تیزی سے پلٹی وہ اس کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ دیدم کا سر اس کے سینے جا ٹکرایا۔
لیکن وہ جلدی ہی سنبھل گٸی اور اس سے دور ہوتے ہوۓ کمرے سے نکل گٸی۔
کھانے کی ٹیبل پر اس نے دیدم کی ساتھ والی چٸیر سنبھالی تو دیدم سے نوالہ حلق سے اتارنا مشکل ہو گیا۔ کھانے کے بعد چاۓکا دور چلا،وہ کمال صاحب اور رایان سے باتوں میں مصروف تھا۔ دیدم چپکےسےاپنےکمرے میں آ گٸی، سارا دن پیدل چل چل کر اس کے پاٶں درد کر رہے تھے۔وہ بستر پر لیٹتے ہی سو گٸی۔
