Rate this Novel
Episode 10
ناول ”ہواٸیں رخ بدلتی ہیں“
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٠
وہ جس وقت ہوش میں آٸی خود کو نرم بستر پر پایا۔ زمل اس کے پاس بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔باہر سے رونے اور بین کرنےکی آوازیں آ رہی تھیں۔
وہ اٹھ کر تیزی سے باہر کی طرف بھاگی جہاں اس کے ماں باپ اور شوہر کا جنازہ رکھا تھا۔کچھ لوگ اسے ترحم سے اور کچھ نفرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
وہ بھاگ کر باپ کی چارپاٸی تک پہنچی ۔ان کا چہرہ پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ اسے لگا اس کا دل پھٹ جاۓ گا ۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ساتھ ہی نظر ماں پر پڑی تو نیم پاگل سی ماں کے چہرے کو دیکھنے لگی۔ جن کا چہرہ نیلگوں کیا ہوا تھا۔۔۔اس نے ہاتھ بڑھا کر ان کا چہرہ چھوا اسے لگا ابھی ماں کا ہاتھ اس کے ہاتھ پر آ کر ٹھہر جاۓ گا۔لیکن آج وہ ہمیشہ کے لٸے چلی گٸی تھی۔ وہاں اسے دلاسہ دینے والا کوٸی نہیں تھا۔
اور پھر اسے اس کا خیال آیا جس کے لٸے وہ ابھی بھی لال جوڑے میں ملبوس الجھی بکھری بیٹھی تھی۔اس کے پاس پہنچ کراس کے چہرے سے کفن ہٹانے کے لٸے ہاتھ بڑھایا ہی تھا۔جب درمیان میں ہی رابعہ خاتون نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
تاٸی امی بس ایک بار ۔۔۔۔۔۔پلیز بس آخری بار اس کا چہرہ دیکھنے دے۔
انہوں نے آگے بڑھ کر اسے دھکا دے کر پیچھے کیا۔۔۔۔ اور اس کے آگے ہاتھ جوڑ دٸے۔ وہ مر چکا ہے اب تو اس کا پیچھا چھوڑ دو۔
اور وہ مرے قدموں سے ماں اور باپ کی چارپاٸی کے درمیان میں زمین پر بیٹھ گٸی۔۔۔۔
زمل نے واٸٹ چادر لاکر اسکے سر پر ڈال دی۔۔۔ اور اسکے پاس بیٹھ کر آنسو بہانے لگی۔
جبکہ دیدم بت بنی بس ماں اور باپ کے چہرے دیکھ رہی تھی۔
جب جنازے اٹھانے کا وقت آیا تو اس نے ماں باپ کے چہرے کا بوسہ لیا اور ایک امید سے رابعہ خاتون کی طرف دیکھا۔ لیکن بیٹے کی لاش دیکھ کر ان کے دل میں دیدم کے لٸے نفرت میں اور ہی اضافہ ہوتا تھا۔
رابعہ خاتون بیٹے کی لاش کے ساتھ لپٹ گٸی ۔۔۔ بہت سی عورتوں نے مل کر انہیں تھام رکھا تھا۔۔۔۔
تبھی ان کی نظر دیدم پر پڑی جو پاگلوں کی طرح زمین پر بیٹھی آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہی تھی۔
وہ تیزی سے دیدم کی جانب لپکیں اور تھوڑی ہی دیر میں سب کے بچ بچاٶ کرانے کے باوجود اسے دھنک کر رکھ دیا۔اور وہ بھی مٹی کی بت بنی مار کھاتی رہی۔ تب مریم خاتون ان کے بیچ میں آٸی اور زمل کو دیدم ک اندر لے جانے کو کہا۔
وہ اسے سہارا دے کر اندر لے کر گٸی۔۔۔مار کھانے کیوجہ سے اس کی چال میں لنگڑاہٹ تھی۔
زمل نے اسے روتے ہوۓ بیڈ پر بٹھایا اور ساتھ رابعہ بیگم کو کوسنے لگی۔
تبھی وہ کھوٸی کھوٸی سی بولی،”انہیں کیوں کچھ کہہ رہی ہو زمل وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں،انکا جوان خوبصورت بیٹا ان کے بڑھاپے کا سہارا چھین گیا۔میری نحوست کی وجہ سے،میں ۔۔۔۔۔میں تو ایسی منحوس ہوں جو اپنے ماں باپ کو کھا گٸی۔“ زمل کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔ اس نےوارڈوب سے ایک سادہ سا سوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا اور اسے پکڑ کر واش روم میں لے کر گٸی۔
وہ چینج کر کے واپس آٸی تو اسے نیند کی گولی دے کر لیٹا دیا۔اور جب تک وہ سوتی اس کے پاس بیٹھ کر اس کا سر دباتی رہی۔
اسکی آنکھ اگلی صبح دن چڑھے کھلی۔وہ کافی دیر آنکھیں موندے بیڈ پر پڑی رہی۔
تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو زمل ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے لٸے اندر داخل ہوٸی ۔اس کے پیچھے ہی رایان کمرے میں داخل ہوا ۔اسے دیکھ کر دیدم اٹھ کر بیٹھ گٸی۔ الجھے بکھرے بال ، سوجے پیوٹے رایان کے دل کو کچھ ہوا ۔ یہ اس کی وہ بہن تو نہیں تھی ۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور اسے بانہوں کے حصار میں لے لیا۔ دیدم کی روتے روتے ہچکی بندھ گٸی۔آنسو پانی کی طرح اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔۔
رایان نے ہاتھ سے اس کے منہ پر آۓ بال پیچھے کیے ۔اور اس کے آنسو صاف کرتے ہوۓ ۔ناشتے کی ٹرے اپنے آگے کھسکاٸی۔
چلو جاٶ فریش ہو کر آٶ پھر دونوں بہن بھاٸی ناشتہ کرتے ہیں۔
اس نے روتے ہوۓ نفی میں سر ہلایا۔
تم میری پیاری بہن ہو۔چلو اٹھو اگر تم نہیں کھاٶ گی تو میں بھی نہیں کھاٶں گا۔
وہ خاموشی سے اٹھ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوٸم کے بعد رایان نے اپنی اور اس کی سیٹ بک کروا دی۔لیکن وہ جانے سے انکاری تھی۔
نہیں بھیا میں یہاں سے نہیں جاٶں گی۔یہ میرے شوہر کا گھر ہے۔میں یہی رہوں گی۔
دیکھو دیدم ضد نہ کرو تم جانتی ہو ممانی تمہیں ایک پل بھی برداشت نہیں کر سکتی۔تم بےجا ضد نہ کرو۔ زمل غصے سے بول رہی تھی۔
زمل میں ان کی خدمت کروں گی ۔میں ان کے دل میں اپنی جگہ بنا لوں گی۔ میں اپنی عدت یہی پورا کرنا چاہتی ہوں۔ اور اس کے بعد بھی میں یہی رہنا چاہتی ہوں
زمل غصے سے اس کی طرف مڑی لیکن اس سے پہلے ہی رایان نے اسے چپ کروا دیا۔
اوکے! تمہارا جب تک دل کرتا ہے تم رہ لو۔ لیکن جب تمہارا آنے کا دل چاہے بس مجھے ایک کال کر لینا۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور نظریں جھکا لیں۔
اور پھر وہ لوگ چلے گٸے۔ جمال تایا کا اس کے ساتھ رویہ بہت آچھا تھا۔وہ اس کے نہ جانے کا سن کر بہت خوش ہوۓ تھے۔
رابعہ تاٸی اسے ایک آنکھ بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ وہ ان کے سامنے کم ہی آتی تھی۔
اس نے ہنسنا بولنا چھوڑ ہی دیا تھا۔گھر کے زیادہ تر کام اس نے اپنے زمہ لے لٸے تھے۔
ماں ، بابا آ کر دیکھیں آپ کی بیٹی نے سب کچھ کرنا سیکھ لیا ہے۔ لیکن یہ سب دیکھنے کے لٸے آپ نہیں ہیں۔
وہ ارسلان کے کمرے میں ہی شفٹ ہو گٸی تھی۔وہ آج بھی اس کا پرفیوم اٹھا کر اس کی خوشبو کر محسوس کرتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کا نام ہے گزرنا اور گزر ہی جاتا ہے۔ لیکن دیدم کمال کے لٸے وقت بس ایک جگہ پر رک گیا تھا۔
اسے اسلام آباد میں رہتے ہوۓ پورا ایک سال گزر چکا تھا۔۔۔
وہ اب پہلے سے بھی زیادہ خاموش ہو گٸی تھی۔رابعہ بیگم اور دیدم کے تعلقات میں موجود برف بھی پگلنا شروع ہو گٸی تھی۔۔۔۔
آج سامعہ چوہدری کی مہندی تھی۔ جمال صاحب اور رابعہ بیگم دونوں گٸے تھے۔ دیدم ان کے بہت اصرار کے بعد بھی نہیں گٸی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی والے دن جمال صاحب کی ناراضگی کی وجہ سے وہ چلی آٸی۔۔بلیک کلر کے کپڑوں پر بلیک بڑی سی چادر رکھے۔۔۔اور ایک الگ تھلگ کونے میں بیٹھ گٸی۔اسے آج بھی لوگوں کی باتوں سے ڈر لگتا تھا۔ اور پھر اسے خود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ وہ لوگوں کا سامنہ کرنے سے گبھرا کر کہیں جاتی ہی نہیں تھی۔پھر بھی کسی نہ کسی کی نظر اس پر پڑ ہی جاتی اور ان کی باتیں اس کا دل چھلنی کر جاتی۔
اس وقت بھی اس کے قریب بیٹھی عورتوں کی باتیں سن کر وہ دلبرداشتہ ہو کر باہر کی طرف بھاگی تاکہ وہ جمال صاحب کو بتا کر گھر جا سکے۔
تیزی سے نکلتے ہوۓ اس کی کسی کے ساتھ زوردار ٹکر ہوٸی۔وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھی۔
جبکہ ٹکرانے والا شخص اپنی جگہ پر منجمند ہو گیا تھا۔ ”دیدم کمال ۔۔۔۔اس کے منہ سے سرگوشی نما آواز نکلی تھی۔“
اس نے اپنے قریب کھڑے اپنے دوست سے اشارے سے اس کے بارے میں پوچھا۔
کیا بتاٶں یار۔۔۔وہ افسردگی کے ساتھ بولا۔
کیا مطلب ایسے کیوں کہہ رہے ہو زوہان سکندر بے چینی سے بولا۔
وہ یہاں اپنی دوست فاران چوہدر ی کی بہن کی شادی میں آیا تھا۔فاران اور اس میں امریکہ میں دوستی ہوٸی تھی۔۔۔اور وہ اس کے بہت اصرار پر اس وقت اسلام آباد میں موجود تھا۔
فاران بولو نہ کیا ہوا ہے اس لڑکی کے ساتھ۔
یار یہ ہمارے کزن کی منکوحہ تھیں۔دونوں کی شادی والے دن ہمارا کزن اور ان کے امی ابو ایک ایکسڈنٹ میں فوت ہو گٸے تھے۔۔اس کے بعد بیچاری کو سب نے منحوس قرار دے دیا۔
تو یہ ابھی کہاں ہوتی ہے؟
ابھی وہیں ہماری پھپھو کے گھر ہی۔
جی ۔۔۔۔۔! اپنے شوہر کے فوت ہو جانے کے بعد بھی؟
جی۔۔۔۔۔
اس کےمیکے میں کوٸی نہیں ہے؟
ایک بھاٸی ہے،اور اس نے لے جانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ نہیں مانی۔۔
وہ اپنی کہہ کر چلا گیا۔جبکہ۔زوہان سکندر اس کے پیچھے باہر نکل آیا۔جہاں وہ پارکنگ اٸیریا میں گاڑی کے گرد چکر کاٹ رہی تھی۔ بڑی سی بلیک چادر سے خود کو لپیٹے ناخن کاٹ رہی تھی۔ اس کا چہرہ آنسو سے تر تھا۔
زوہان سکندر کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا۔
