54.6K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ناول ”” ہواٸیں رخ بدلتی ہیں ““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٨

حسین زندگی ہے
حسین راہیں ہیں
تم اور میں ملے ہیں
نصیبوں کی صداٸیں ہیں۔

وہ اپنے باٸیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں موجود انگوٹھی پر نظریں ٹکاۓ مسکراۓ جا رہی تھی۔
جب ارسلان جمال نے اس کے قریب آ کر رکا ۔وہ انگوٹھی سے نظر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔ٕ

”بات سنو۔۔۔۔! لڑکیاں مجھے دیکھ کر اسپیل باٶنڈ ہو جایا کرتی ہیں ،اسلٸے خیال رکھنا۔

”توبہ اتناغرور۔۔۔۔۔؟“

”ہممم ۔۔۔بابا کہتے ہیں مجھ پر غرور سجتا ہے۔ وہ اسے یقین دلا رہا تھا۔

صیح کہتے ہیں غرور توسجتا ہے آپ پر۔

بڑے آرام سے مان گٸی ہو۔

وہ جواب تو دینا چاہتی تھی لیکن تبھی زہرہ خاتون نے ان دونوں کو بلا لیا کہ وہ بھی آ کر زمل سے مل لیں۔

تبھی وہ دونوں چلتے ہوۓ زمل اور رایان کے داٸیں باٸیں بیٹھ گٸے۔اور رسم کے مطابق دونوں کو مثھاٸی کھلاٸی۔

تبھی زمل کی نظر اس کے ہاتھ میں موجود انگوٹھی پر گٸی۔

دیدم ۔۔۔۔واٶ کتنی پیاری رنگ ہے۔

اس کی بات پر زہرہ خاتون اور مریم خاتون بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہو گٸی۔

زہرہ خاتون نے بھی آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ میں موجود انگوٹھی دیکھی ار سوالیہ نظروں سے دیدم کو دیکھا۔
جس پر اس نے نظریں جھکا لیں۔

زہرہ خاتون نے ایک نظر ارسلا ن کو دیکھا جس نے انہیں آنکھ سے اشارہ کیا،اور زہرہ خاتون نے ایک سرشار سی نظر دیدم پر ڈالی۔
ارسلان نے اس ایک ہفتے میں ان کے سارے خدشات ختم کر دٸے تھے۔ اور وہ مطمٸن ہو گٸیں تھی۔

جبکہ دیدم کمال کہیں اور ہی پہنچی ہوٸی تھی۔
سات سال پہلے کی بہت ساری تکلیف دہ یادوں میں سے ایک اور یاد اس کے زہن کے دریچوں میں جھلملاٸی تھی۔

وہ اسے لے کر اپنے دوستوں کی طرف سے دی گٸی پارٹی میں لے کر گیا تھا۔

ارسلان جمال نے تو شاید اسے نظر بھر کر بھی نہ دیکھا تھا۔ اور وہ نہں جانتی تھی کہ ارسلان جمال کے دوستوں میں سامعہ چوہدری بھی شامل ہے۔

یہ نکاح کے بعد اس کی سامعہ چوہدری سے پہلی ملاقات تھی۔

ٹرینڈی سے فراک میں دوپٹے سے آزاد بہترین میک اپ کیے دیدم کمال نےتو سب کو ہی امپریس کر دیاتھاماسواۓ ارسلان جمال کے۔جبکہ سامعہ چوہدری تو اسے دیکھ کر ایک پل کے لٸے حیران رہ گٸی۔اس کے سامنے تو کچھ دن پہلے والی ٹین ایجر دیدم کمال تھی۔لیکن یہاں تو وہ یکسر بدلی ہوٸی لگ رہی تھی۔
جبکہ دیدم ہی جانتی تھی کہ یہ ڈریسنگ اور میک اپ اس کی ماں کا ہی کمال تھا۔اس کی تو اس سب میں زیرو پرسینٹ بھی دل چسپی نہ تھی۔
سامعہ چوہدری کو مقابلہ سخت ہونےکا امکان صاف نظر آ ریا تھا۔
وہ ایک ساٸیڈ پہ رکھی چٸیرز پر بیٹھ گٸی۔تبھی ارسلان کا دوست رافع اس کے پاس آکر بیٹھا تھا۔ تبھی ایک ساٸیڈ پہ بیٹھے ارسلان کے دوستوں نے سیٹی بجا کر زومعنی انداز میں اسے دیکھا تھا۔دیدم نے مڑ کر ارسلان کی جانب دیکھا تھا پھر اسے محسوس ہوا ارسلان نے انہیں کچھ کہا ہے یا آنکھوں ہی آنکھوں میں ٹوک دیا ہے۔اسے ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں آٸی لیکن کچھ غلط محسوس ہوا تھا۔
کھانے کے دوران سامعہ چوہدری اس کے پاس آ کر بیٹھ گٸی۔

کیسی ہو تم؟ جانتی ہو ارسلان تم سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔لیکن پھر اپنے بابا کے آگے مجبور ہو گیا تھا۔۔۔

لیکن اس نے مجھے بتایا ہے کہ شاید تم بھی اس شادی سے راضی نہیں ہو ۔تو میں نے ہی اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ تمہیں یہاں لے آۓ۔۔۔۔

دیدم ایک لمحے کے لٸے تو اپنی جگہ پر جم سی گٸی۔اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ اس لمحے کس طرح ری ایکٹ کرنا چاٸیے۔

اور وہ ابھی اس حملے سے سنبھلی نہ تھی کہ ارسلان جمال چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔

”میرے دوست ملنا چاہتے ہیں تم سے۔“
اس کا کہا جملہ کانوں میں گونجا اور اب اسے سامعہ کی آواز آ رہی تھی میں نے ہی ارسلان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ تمہیں یہاں لے کر آۓ اور فاران ، روحان وغیرہ سے ملاۓ تاکہ تمہیں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو اور تم اپنے والدین کو بتا سکو کہ تم ارسلان سے نہیں بلکہ کسی اور سے محبت کرتی ہو۔

اس کا دل جیسے بند سا ہونے لگا۔اسکا ایک دم سے ہر چیز سے دل اچاٹ ہو گیا۔وہ تھکے قدموں سے پلیٹ لٸے آگے بڑھی۔

واپسی کے سفر میں وہ بالکل خاموش تھی۔
ارسلان جمال کا چہر ہ اپنی کامیابی کے زعم میں چمک رہا تھا۔
کیاسوچ رہی ہو! کیسے لگے تمہیں میرے دوست! کچھ تو بولو۔
وہ ایک نظر اسے دیکھتا تھا اور دوسری نظر سڑک پر ڈالتا تھا۔
پھر جیسے دیدم کمال کا صبر جواب دے گیا۔
یہ سب کیا تھا؟اس کے لہجے میں برف سے زیادہ سرد مہری تھی۔
کیا۔۔۔۔کیا ہوا؟وہ حیران سا ہوا تھا۔
آپ کی ہمت کیسے ہوٸی کہ اپنے دوستوں کے سامنے مجھے پیش کریں۔آپ کو میری عزت کی پروا نہیں ہے تو کم از کم اپنی عزت کی پروا ہی کر لیتے۔ آپ کو حق کس نے دیا ہے کہ مجھے اپنے دوستوں کی پارٹی میں بلا کر سوٸمبر رچاٶ۔ وہ ایک ایک لفظ ادا کرتے ہوۓ جیسے ارسلان جمال کو چبا رہی ہو۔ارسلان جمال کے چہرے کے تاثرات بدلےتھے۔

”کیا بک رہی ہو۔میں نے کس کے سامنے پیش کیاہے تمہیں۔سوٸمبر۔۔۔۔۔۔؟کیا بکواس ہے۔ایسا تو کبھی سوچا بھی نہیں میں نے۔ اور یہ سوٸمبر ۔۔۔۔۔۔ ہوتا کیا ہے۔؟ وہ نہایت برا مان کر بولا تھا۔
یہ بات تو آپ اپنی کزن سامعہ چوہدری سے پوچھیں ۔وہ بھی اسی کے انداز میں بولی۔

”اس کو انوالو کرنے کی ضرورت نہیں اپنا معاملہ اپنی ذات تک محدود رکھو۔“ ارسلان جمال نے غرا کر کہا۔دیدم کے چہرے پر استہزایہ مسکراہٹ چمکی۔

کیوں برا لگ رہا ہے نہ۔ایسے ہی مجھے بھی برا لگا ہے ۔افسوس ہو رہا ہے کہ میں کیوں آٸی آپ جیسے شخص کی زندگی میں۔
مجھے نفرت ہو رہی ہے خود سے۔

”یہ بات تو پہلے سوچنی چاٸیے تھی ۔میں کوٸی زبردستی اغوا کر کے نہیں لایا تمہیں۔“

دیدم کمال نے افسردگی سے اسے دیکھا ۔اور پھر ان دونوں میں کوٸی بات نہیں ہوٸی تھی۔

اس کے بعد وہ امریکہ جانے سے ایک دن پہلے اس کے پاس آیا تھا۔
زمل اس کا کندھا ہلا کر کچھ کہہ رہی تھی۔
دیدم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
یار دیدم مانا کہ تمہارے ارسلان جمال بہت خوبصورت ہیں لیکن یہ تم بھری محفل میں انہیں اتنا بےخود ہو کر نہ دیکھو کہ تمہیں اپنے آس پاس کا ہی ہوش نہ رہے۔۔۔

جبکہ ارسلان جمال بظاہر تو رایان سے باتیں کر رہا تھا لیکن اس کا سارا دھیان سامنے بیٹھی دیدم جمال پر تھا۔ جو ٹکٹکی باند ھے اسے دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ واپس جا رہا تھا۔ وہ پیکنگ کر رہا تھا جب وہ دستک دے کر وہ روم میں داخل ہوٸی۔اسے دیکھ کر اس کے تیزی سے چلتے ہاتھ رک گٸے۔وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اس حسن کی مورت کو دیکھنےلگا۔

وہ کنفیوژ سی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔

”کچھ کہنا ہے تمہیں۔“ارسلان جمال نے اس کی مشکل آسان کی۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور رنگ اتار کر اسکے سامنے ٹیبل پر رکھ دی۔میں آ پ سے یہ نہیں لے سکتی۔

وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔ ”وجہ پوچھ سکتا ہوں۔“

۔”نہیں۔“ وہ تیزی سے بولی۔

میں اس کا کیا مطلب سمجھوں؟

وہ خاموشی سے پلٹ گٸی۔ جب اسے پیچھے سے اس کی آواز آٸی۔

پھانسی کی سزا پانے والے کو اپنا قصور بھی تو معلوم ہونا چاٸیے۔

وہ بہت اعتماد سے پلٹی تھی۔

محبت کے بغیر تو زندگی گزر سکتی ہے لیکن عزت کے بغیر انسان نہیں جی سکتا۔

اور تمہیں لگتا ہے میں تمہاری عزت نہیں کرتا۔
آگے آپ سمجھدار ہیں۔میں کچھ نہیں کہنا چاہتی۔
شادی کرنا مشکل نہیں ہوتا ،اسے نبھانا مشکل ہوتا ہے۔
وہ اپنی کہہ کر رکی نہیں اور اپنے کمرے میں چلی آٸی اور پھر زہرہ خاتون نے اس کے کمرے کے کہیں چکر لگاۓ لیکن وہ خاموشی سے آنسو بہاتی رہی لیکن باہر نہیں آٸی۔

ارسلان نے جاتے جاتے زہرہ خاتون اور کمال احسن کو بتا دیا کہ وہ اب رخصتی چاہتا ہے۔دیدم کمال سے دستبردار ہونا اس کے بس میں نہیں تھا۔

رایان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بھی اس نے ایک آخری نظر مین ڈور پرڈالی کہ کاش وہ اسے جانے سے پہلے ایک آخری بار دیکھ لے۔

وہ چلا گیا تھا اور دیدم کمال کا سکون بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔

اس نے زوہان سکندر کے ہاں سے جاب چھوڑ دی تھی۔یہ جانے بغیر کہ زوہان سکندر ترکی چھوڑ کر امریکہ شفٹ یو چکا ہے۔اس نے اٸیرپورٹ پر سے ایک آخری بار دیدم کمال کو کال کی تھی۔لیکن اس نے کال ریسیو نہیں کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس ایک میسیج کو کہیں بار پڑھ چکی تھی۔مختصر الفاظ میں اپنی صفاٸی پیش کی گٸی تھی۔ وہ الفاظ اس پر کسی جادو کی طرح اثر کر رہے تھے۔وہ دل اور انا کی جگہ میں فیصلہ ہی نہیں کر پا رہی تھی۔
اس نے ایک بار پھر مسیج کو آنکھوں کے زریعے دل میں اتارا۔

دیدم ارسلان جمال ۔۔۔۔۔۔۔! تم میری سانسوں میں بستی ہو۔میں تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن مجھے لگ رہا ہے تم ا بھی بھی ماضی میں جی رہی ہو۔
میرے اور سامعہ کے درمیان کبھی بھی کچھ بھی نہیں تھا۔ہاں مجھے ایک کزن کی حیثیت سے وہ مجھے پسند تھی۔وہ ایک ڈیسنٹ لڑکی تھی۔میرے اور اس کے شوق ملتے جلتے تھے۔ وہ کسی بھی ٹاپک پر سیر حاصل بحث کرتی تھی۔ لیکن اپنی لاٸف پارٹنر کے حوالے سے میں نے اسے کبھی نہیں سوچا۔

میں جب یونیورسٹی میں تھا تبھی مجھے بابا نے بتا دیا تھا کہ ارسلان یونیورسٹی تو جا رہے ہو لیکن اپنے دل اور دماغ مییں ایک بات بٹھا لو کہ میں اپنے بھاٸی سے وعدہ لے چکا ہے۔تمہاری زندگی میں صرف دیدم ہی شامل ہو گی۔

تب میں نے بابا سے بہت بحث کی تھی۔کہ تم مجھ سے بہت چھوٹی ہو۔

لیکن انہوں نے میری ایک بھی نہ سنی۔”تب میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر دیدم کی زندگی میں کوٸی اور آ گیا تو ” اس بات پہ وہ خاموش ہو گٸے تھے۔

اور یہاں سے ہی میرے اندر ایک ضد پیدا ہو گٸی۔پھر جب تم لوگ پاکستان آۓ تھے تو بابا نے جب نکاح کی بات کی تو میں نے بغیر سوچے سمجھے ان سے کہہ دیا کہ میں سامعہ کو پسند کرتا ہوں۔اور میں جانتا ہوں تم نے ہماری وہ ساری باتیں سن لی تھیں۔میں نے تمہیں سیڑھیوں سے اوپر جاتے دیکھ لیا تھا۔

اس رات پارٹی میں میں تمہیں اپنے دوستوں سے اپنی منکوحہ کے طور پر ملانا چاہتا تھا،لیکن نہ جانےتمہیں کیا ہوا اور تم ناراض ہو کر جا کر گاڑی میں بیٹھ گٸی۔ اور پھر تم نے مجھ سے وہ باتیں کی جس سے مجھے بھی غصہ آ گیا۔ اور پھر تمہارے اور میرے درمیان وہ غیر ضروری بحث ہوٸی۔
میں نے جانے سے پہلے تمہیں اسی لٸے کہا تھا کہ میں تمہیں آزاد کر دوں گا کیونکہ مجھے لگا شاید تم کسی کو پسند کرتی ہو۔

پھر میرا واپس پاکستان جانے کو دل نہیں کرتا تھا۔میں نے تم سے رابطہ اس لٸے نہیں کیا کہ کہیں تم مجھ سے آزادی کا پروانہ نہ مانگ لو۔

پھر پورے سات سال کے بعد جب آج سے ایک ہفتہ پہلے میں نے تمہیں دیکھا تو مجھے لگا اب تو میں تمہارے چاہنے پر بھی تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔اسی لٸے میں پاکستان جا رہا ہوں۔ماں اور بابا سے رخصتی کی بات کرنے میں نے چاچو اور چاچی سے بھی بات کر لی ہے۔میں اس وقت اٸیرپورٹ سے تمہیں میسیج کر رہا ہوں۔اب ملاقات رخصتی کے بعد ہی ہو گی۔۔۔

دیدم کمال کو لگ رہا تھا وہ کسی بوجھ سے آ زاد ہو گٸی تھی۔اس نے سکون سے آ نکھیں موند لیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔