Anchal By Zarish Noor Readelle50111 Last updated: 23 July 2025
Rate this Novel
Anchal
By Zarish Noor
اس وقت سب لوگ ازلان کی دادی جنہیں سب بی جان کہہ کر پکارتے تھے۔سب لوگ ان کے کمرے میں موجود تھے۔ازلان چوہدری بھی معمول کی طرح اماں بی کے کمرے میں آیا۔لیکن پہلے ہی موڑ پر سامعیہ سے ٹکرا گیا۔جو اسے سامنے دیکھ کر شرماٸی گھبراٸی سی کھڑی تھی۔ ازلان چوہدری سلام کر کے بی جان کی طرف بڑھ گیا۔
دوسری طرف ہمیشہ کی طرح اس کے رووڈ رویہ پر سامعیہ کا پارہ ہاٸی ہو چکا تھا ۔اور وہ وہاں سے واک آٶٹ کر چکی تھی۔
ازلان چوہدری میں بگڑے ہوۓ راٸیس زادوں والی تمام باتیں موجود ہیں۔ ازلان چوہدری چوہدری حاکم علی کا لاڈلا پوتا ہے۔ان کے لاڈلے بیٹے سکندر چوہدری کا بیٹا ہے۔
سکندر چوہدری اور شجاع چوہدری اور ازلان چوہدری اس وقت حکم علی چوہدری کے کمرے میں موجود تھے۔
بابا آپ نے ازلان کو بہت چھوٹ دے رکھی ہے۔آپ جانتے ہیں کل اس نے میرے دوست کے بیٹے کو بہت بری طرح سے مارا پیٹا ہے۔آج اس کی پاس کال آٸی تھی۔وہ بہت ناراض ہے۔
حاکم علی نے ازلان کی طرف دیکھا۔
ازلان بیٹا بولو ! باپ کو جواب دو ۔کیوں کیا ہے آپ نے ایسا؟
دادا جی اس نے ہمارے گاٶں کی لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کی تھی۔ سکندر سن لیا ہے۔اپنے دوست کو بتانا آج کے بعد اگر اس کے بیٹے نے ایسی کوٸی حرکت کی تو وہ یہاں سے زندہ نہیں جاۓ گا۔
بابا آپ بے جا اس کی حمایت کر رہے ہیں۔
حکم علی نے ایک نظر ازلان پر ڈالی۔ تم دونوں تو پتہ نہیں کس پر چلے گٸے ہو۔لیکن میرا پوتا میرا غرور ہے۔
اور ہاں میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بار سامعیہ اور ازلان کی باقاعدہ منگنی کر لیتے ہیں۔ اور پھر الیکشن کے بعد شادی بھی ہو جاۓ گی۔
ان کی اس بات پر سکندر اور شجاع خوش ہو گٸے۔
جبکہ ازلان کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے اٹھ کر چل دیا۔
سامعیہ چوہدری کی تو خوشی کا کوٸی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔اس کا خیال تھا کہ جب بھی کوٸی ایسی بات ہو گی ازلان منع کر دے گا۔لیکن اس کا چپ چاپ مان جانا اس کے لٸے بہت ہی خوش کن تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال گاٶں کی پگڈنڈی پر پہنچی تو سامنے ہی چوہدری ازلان کھڑا تھا۔جب کہ اس کے آدمی پاشا نے ایک لڑکے جو زود کوب کیا ہوا تھا۔ مشال ایک درخت کی اوٹ میں ہو گٸی۔ چوہدری ازلان گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ سیگریٹ پھونک رہا تھا۔وہ وہاں ایسے کھڑا تھا جیسے اس کے سامنے ہو رہے منظر سےوہ قطعاً بے خبرہے۔ مشال نے اب اس سے نظریں ہٹاۓ پاشا کی کارواٸی ملاحظہ کرنے لگی۔ پاشا نے اس لڑکے کی گردن پر چاقو رکھا تو مشال دونوں آنکھیں میچ گٸیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے آنکھیں کھولی تو سامنے کچھ بھی نہیں تھا۔ ازلان چوہدری کی گاڑی کے سوا۔ مشال نے چاروں اور دیکھا لیکن کوٸی نظر نہ آیا۔ وہ جانے کے لٸے مڑی تو کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی ۔اس شخص کے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ زرد پڑ گٸی۔ وہ منہ میں سیگریٹ دباۓ ہاتھوں میں پسٹل تھماے اسے چیک کر رہا تھا۔ مشال کے دیکھنے پر اس نے آنکھ اٹھا کر اسے دیکھا ۔ کیا کر رہی ہو یہاں تم؟ کچھ نہیں۔ اس نے ایک تیز نظر مشال کے چہرے پر ڈالی۔ تو پھر نکلو اپنے گھر کی طر ف اور آج کے بعد اس راستے سے نہیں جانا۔”وہ اسے تنبیہی لہجے میں وارننگ دے رہا تھا۔
مشال نے اپنی چادر ٹھیک کی اور گھر کی طرف بھاگنے کے انداز میں چلنے لگی۔ پیچھے کھڑے ازلان چوہدری کے چہرے پر اس کی گھبراہٹ دیکھ کر مسکراہٹ دوڑ گٸی۔
پاشا ! جی چوہدری صاحب۔
ازلان چوہدری کو یہ لڑکی چاٸیے بس ایک رات کے لٸے۔ حکم کی تعمیل ہو گی چوہدری جی۔
ازلان ہوتھ میں سے آدھ جلا سیگریٹ پھینکتا وہاں سے چل دیا۔
