58.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ناول”” دھانی آنچل ““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٩

اسے اسلام آباد آۓ پورے چھ ماہ گزر چکے تھے۔اس نے اپنے کچھ خاص بندے سیف کی فیملی کو ڈھونڈنے پر معمور کیے ہوۓ تھے۔لیکن ابھی تک ان کا کچھ بھی پتہ نہیں چل سکا تھا۔

وہ جانتا تھا حاکم علی جانتے ہیں کہ وہ لوگ کہاں ہیں۔لیکن وہ خود ہی انہیں ڈھونڈنا چاہتا تھا۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ حاکم علی کو اس بات بھی بھنک بھی پڑے کے وہ انہیں ڈھونڈ رہا ہے۔

اسے آج شدت سے ماں کی یاد آٸی تھی۔اس نے اپنا والٹ کھول کر اس میں رکھی اپنی ماں کی واحد تصویر کو دیکھا ، جو اسے اپنے باپ کی سٹڈی میں سے بہت عرصہ پہلے ملی تھی۔ حویلی میں کسی کو بھی اس کی ماں کے بارے میں بات کرنے کی اجازات نہیں تھی۔
وہ بہت چھوٹا تھا جب ایک دن اپنی ماں کی بابت دریافت کرنے پر حاکم علی نے اس سے وعدہ لیا تھاکہ وہ اس کی ہر بات مانیں گے۔لیکن وہ کبھی اپنی زبان پر دوبارہ کبھی یہ سوال نہیں لاۓ گا۔
اور اس نے چپ سادھ لی۔حاکم علی اپنی زبان کے پکے نکلے۔

اس کی ہر بات کو بلا چوں چراں مان لیا جاتا تھا۔اسے بےجا لاڈ پیار دیا گیا۔اور حد سے زیادہ لاڈ پیار نے اسے خودسر ،ضدی اور گھمنڈی بنا دیا۔

وہ چاہتا تھا کہ وہ جس چیز کی چاہ کرٕ ے گا ۔وہ اس کی ہو جاۓ گی۔اور یہی غلطی اس سے ہوٸی تھی۔جب اس نے مشال کو دیکھا تو اس نے سمجھا جیسے اس سے پہلے جیسے اس کی زندگی میں لڑکیاں آتی رہی ہیں ۔اور وہ ان کے ساتھ ایک دو راتیں گزار لیتا تھا،اور بس ان کا چارم ختم ہو جاتا تھا۔
اس بار بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔لیکن پہلی بار اس کا پالا ایک مضبوط کردار کی لڑکی سے پڑا تھا۔جسے اس کی پرسنالٹی اور پیسے سے کوٸی سروکار نہیں تھا۔اسے بس اپنی عزت سب سے پیاری تھی۔

اور اس کی یہی ادا اسے بھا گٸی۔
اس کی طرف اگر کوٸی لڑکی دیکھ کر منہ موڑ لیتی۔تو وہ کبھی دوبارہ ادھر تھوکتا بھی نہیں تھا۔لیکن اس کے ساتھ پہلی بار ایسا ہو رہاتھاکہ وہ جتنا اسے دیکھ کر غصہ ہوتی تھی۔جتنا اس سے چڑتی تھی۔اسی قدر ازلان چوہدری کے دل میں اس کو پانے کی جستجو بڑھ جاتی تھی۔

اور پھر شاید اس نے اپنی زندگی میں پہلی با ر کوٸی لڑکی دیکھی تھی جو خود کو چھپا چھپا کر رکھتی تھی۔ اور اس کی یہی بات اسے اٹریکٹ کرتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازلان شاہ انے آفس میں بیٹھا کسی فاٸل کی ورق گردانی کر رہا تھا۔

اس کے موباٸل پر رنگ ہوٸی تو انجان نمبر دیکھ کر اس نے کچھ پل توقف کیا ۔نمبر پہچاننے کی کوشش کی پھر شش وپنج میں اس نےکال ریسیو کر لی۔

لیکن دوسری طرف کی آواز سن کر وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا۔

کہاں ہو تم اس وقت؟

اس نے پین لے کر جلدی سے پتہ نوٹ کیا ، اپنا کوٹ اور گاڑی کی چابی اٹھا کر پاگلوں کی طرح باہر کی طرف بھاگا۔

وہ بس اتنا جانتا تھا کہ جس نے اسے پکارا ہے وہ اس کی متاع حیات ہے۔

اس کے بس میں نہیں تھا کہ وہ اڑ کر لاہور پہنچے ۔وہ بہت ریش ڈراٸیونگ کر رہا تھا۔لیکن پھر بھی اسے لاہور پہنچنے میں کم از کم چار سے پانچ گھنٹے لگنے تھے۔
ہونٹوں میں سیگریٹ دباۓ ایکسیلیٹر پر دباٶ بڑھا کر اس نے سپیڈ اور تیز کی۔اس کے کانوں میں بس اس کی آواز گونج رہی تھی۔
مجھے آپ کی مدد چاٸیے ہے۔

اس کے دماغ میں جوں ہی اس کے کہا جملہ گھونجتا وہ گاڑ ی کی سپیڈ اور تیز کر لیتا۔

اگلے چار گھنٹے میں وہ اس کی بتاٸی گٸی جگہ پر موجود تھا۔

اپنی گاڑی باہر مین روڈ پر کھڑی کر کے وہ پیدل اندر کی طرف چل دیا۔یہ اندورن لاہور کا ایک پسماندہ علاقہ تھا۔تنگ وتاریک گلیوں سے گزر کر وہ ایک پرانے اور بوسیدہ گھر کے سامنے رک گیا۔

دروازے پر دستک دیتے ہوۓ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
دو تین بار دستک دینے کے بعد اندر سے ایک بوڑھی عورت باہر آٸیں۔

جی بیٹا کس سے ملنا ہے۔

یہ یوسف صاحب کا گھرہے؟
جی ہاں۔آپ کون؟

مجھے مشال سے ملنا ہے۔

عورت نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سر سے پاٶں تک اس کا جاٸزہ لیا۔
اور اسکے لٸے دروازہ کھولتی ہوٸی۔اسے لٸے ایک کمرے میں آگٸی ۔
بیٹھو بیٹا مشال اور ماہ رخ ابھی کہیں گٸی ہوٸی ہیں ۔تھوڑی دیر تک بس آتی ہوں گی۔

تم مشال کے شوہر ہو نہ؟

ان کی بات پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔

تبھی باہر سے آوازیں آنا شروع ہو گٸیں جیسے کوٸی بحث کر رہا ہو۔ ازلان اپنا سارا دھیان موباٸل میں مرکوز کیےتھا۔

لیکن آوازیں تیزسے تیز تر ہوتی جا رہی تھیں۔ازلان جنجھلا کر اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے میں موجود اکلوتے دروازے سے باہر نکل آیا۔

سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گۓ۔جہاں ایک لڑکی کے پیچھے چھپی بلیک عبایا میں ملبوس مشال تھی۔جبکہ سامنے چار آدمی صحن میں پڑی پلاسٹک کی کرسیوں میں براجمان تھا۔ان میں سے ایک مولوی صاحب تھے۔جبکہ ایک آدمی کھڑا ازلان کو اندر لانے والی خاتون سے بحث کر رہا تھا۔

ان لوگوں میں سے کسی کی بھی نظر ازلان پر نہیں پڑی تھی۔وہ خود ہی آگے بڑھ آیا۔

جی کیا میں پوچھ سکتا ہوں کیا مسٸلہ ہے؟؟

اسے دیکھ کر مشال کی جان میں جان آٸی۔
جو آدمی بحث کر رہا تھا اس نے سوالیہ نظروں سے اس عورت کی طرف دیکھا۔

یہ کون ہے؟ اور یہاں کیا کر رہا ہے؟۔

یہ مشال کا شوہر ہے اور اسے لینے آیا ہے۔
اس عورت کی بات پر مشال کا دل کیا کہ زمیں پٹھے اور وہ اس میں سما جاۓ۔

ازلان چوہدری بہت اعتماد سے آگے بڑھا اور مشال کو اپنا سامان لانے کے لٸے کہا۔

جبکہ سامنے کھڑے لوگوں کو ایسا لگ رہا تھا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔

تم تو ایم این اے ازلان چوہدری ہو نہ۔ان میں سے ایک آدمی ازلان کو دیکھتے ہوۓ بولا۔

ہم کیسے یقین کر لیں کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔

یقین کرنا ہے توکرو نہیں تو تم لوگوں کی مرضی۔۔
تم اگر ثبوت نہیں دو گے تو ہم تمہیں اس لڑکی کو یہاں سےلے کر نہیں جانیں دیں گے۔
آچھا تم روکو گے مجھے ازلان نے اس کی طرف پیش قدمی کی جبکہ وہ شخص الٹےقدموں دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔

تت تم مجھے جانتے نہیں ہو؟وہ شخص ہکلاتے ہوۓ بولا۔

آچھا کو ن ہو تم زرا مجھے بھی تو پتہ چلے۔
میں بہت الٹی کھوپڑی کا بندہ ہوں ۔تم لوگ اس لڑکی کہ ساتھ اس سے پہلے جو کچھ کر چکے ہو وہ کافی ہے۔اب مزید مجھے یہاں نظر نہ آٶ تم لوگ۔

وہ شخص بڑبڑاتا ہوا وہاں سے چل دیا۔اس کے پیچھے اس کے دوست اور مولوی صاحب بھی نکل گٸے۔

تبھی اپنے پیچھے کھٹکے کی آواز پر ازلان دیکھا تو بیگ لٸے مشال کھڑی تھی۔

چلیں ۔ازلان کے پوچھنے پر اس نے سر اثبات میں ہلایا۔

ازلان نے آگے بڑھ کر اس عورت کا شکریہ ادا کیا۔آپ نے اتنے دن اسے اپنے پاس رکھا ۔اس کی حفاظت کی ۔میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں چکا پاٶں گا۔

اس کے والٹ میں اس وقت جتنے پیسے تھے اس نے سارے نکال کر اس عورت کی مٹھی میں رکھ دٸے ۔وہ نہ نہ کرتی رہ گٸی ۔لیکن ازلان نے زبردستی انہیں وہ پیسے تھماۓ ۔

اور آگے بڑھ کر مشال کے ہاتھ سے بیگ لے لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں گہری خاموشی چھاٸی ہوٸی تھی۔گاڑی پھر سے اسی راستے پر رواں دواں تھی۔لیکن اب ازلان مطمٸن تھا۔اسے منزل پر پہنچنے کی کوٸی جلدی نہیں تھی۔وہ سرشار سا بیٹھا تھا۔
وہ اس عورت کی بات کو سوچ سوچ کر ہی خوش ہو رہا تھا۔
یہ مشال کا شوہر ہے اسے لینے آیا ہے۔”اس کے کانوں میں یہ بازگشت رس گھول رہی تھی۔“

جبکہ اس کے ساتھ بیٹھی مشال سے شرمندگی کے مار ے سر اوپر نہیں اٹھایا جا رہا تھا۔