58.6K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ناول ””دھانی آنچل““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٣

اس کو جس وقت ہوش آیا اس نے خود کو نرم گرم بستر میں پایا۔وہ تیزی سے اٹھی اور دروازے کی طرف بھاگی لیکن وہ لاک تھا۔
کافی دیر دروازہ پیٹنے پر بھی جب باہر سے کوٸی آواز نہ آٸی تو مشال وہیں بیٹھ گٸی اور گھٹنوں پر سر رکھ کر بے آواز رونے لگی۔

اسے رہ رہ کر سیف کا خیال آ رہا تھا۔نہ جانے وہ کہاں تھا۔تبھی دروازہ کھلا اور ازلان چوہدری چہرے پر شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔

اسے دیکھ کر مشال کا فشارِخون بڑھا اور وہ چیل کی طرح اس پر جھپٹی ۔اس کے منہ پر ناخنوں سے وار کرنے کے بعد اس نے اس کا گریبان پکڑ لیا۔لیکن اب وہ سنبھل چکا تھا۔اس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا ۔اور اسے دروازے کے ساتھ پِن کر دیا۔
غصے سے مشال کا چہرہ لال پڑ گیا۔اس نے پوری طاقت لگا کر اپنے ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کرواۓ ۔اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے زوردار دھکا دیا۔لیکن وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا۔

اس نے ایک گہری نظر مشال پر ڈالی ۔

مشال کا دل کیا اس کی آنکھیں نوچ لے۔مشال نے اسے تھوڑا سا پیچھے ہٹتے دیکھ کر وہ اس کی ساٸیڈ سے نکلی اور اس سے پہلے ازلان کچھ سمجھتا اس نے بیڈ کے ساٸیڈ ٹیبل سےایک بھاری واز اٹھایا اور کھینچ کے سامنے موجود شیشے پر مارا۔جس سے شیشہ کہیں ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔
واز ہاتھ سے پھینک کر اس نے شیشے کا ایک ٹکڑا اٹھالیا۔

اگر میری طرف ایک اور قدم بڑھایا تو میں خود کو ختم کر دوں گی۔
اسی دوران مشال کی چادر کہیں گر گٸی ۔اس کے سنہری بال بکھر گٸے ۔اس کا سراپا نمایاں ہو گیا۔جو ازلان چوہدری کے جزبات کو بڑھاوا دے رہا تھا۔

لیکن اس نے غور کیا اس کے آنسو اس کے گالوں پر لڑی کی طرح گر رہے تھے۔

ازلان چوہدری نے آگے بڑھ کر چادر اثھاٸی اور دور سے ہی اس کی طرف اچھالی۔مشال نے جلدی سے چادر لے کر اپنے گرد لپیٹ لی ۔لیکن اس دوران ا س کا دھیان بٹا اور ازلان چوہدری اس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔اس نے اس کا شیشے والا ہاتھ پکڑ لیا اور ایک جھٹکا دیا اور شیشہ دور جا گرا۔

اس نے مشال کے بالوں کو ایک زوردار جھٹکا دیا۔

جس سے مشال کی دبی دبی سی چیخیں نکلی۔

مشال نے اس سے اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کی لیکن سب بے سود رہا۔

اسی دوران مشال کے گلے میں پڑا ہارٹ شیپ والا لاکٹ کھلا۔اور اس میں سے سیف کی تصویر ازلان کی آنکھوں کے آگے لہراٸی تو اس نے دھکا دے کر مشال کو بیڈ پر پھینکا۔

اس سے پہلے مشال کچھ سمجھتی وہ بیرونی درواز ے کی طرف مڑ گیا۔

جلدی سے باہر آ جاٶ تاکہ تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آٶں۔

پیچھے مشال حیرت کا بت بنے اسے دیکھنے لگی۔

ازلان شاہ نے روتی دھوتی مشال کو جنجھلا کر دیکھا۔اب کیا مسٸلہ ہے ۔چھوڑ تو رہا ہوں تمہیں تمہارے گھر۔

مشال نے ایک نظر اس کٹھور شخص پر ڈالی ۔اس کی اس شخص سے نفرت میں اور اضافہ ہوا۔

جبکہ اشلان شاہ اپنی بدلتی حالت پر خود ہی جنجھلایا ہوا تھا۔اسے لگ رہا تھا یہ لڑکی اس کے حواسوں پر چھا رہی ہے۔
اس نے ڈراٸیونگ کرتے ہوۓ ایک نظر اس پر ڈالی بلیک چادر میں اس کی دودھیا رنگت کچھ اور نمایاں ہو رہی تھی۔
ازلان شاہ نے اپنی نظریں پھیر لیں مبادا اسے چھوڑنے کا فیصلہ وہ بدل نہ دے

اسے گھر کے دروازے پر اتار کر زن سے گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔
اسے اپنے آپ سے وحشت ہو رہی تھی۔
اس نے بہت سی لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزاری تھی۔لیکن ان کی مرضی سے۔اسے لگا تھا و ہ اسے بھی منا لے گا۔لیکن یہ لڑکی تو جنگلی بلی تھی۔جس نے اسے نوچنا شروع کر دیا۔
کافی دیر گاڑی کو ایسے ہی دوڑاتے ایک جگہ پر اس نے گاڑی روکی اور سیگریٹ سلگا کر مرر میں اپنے منہ اور گلے پر موجود مشال کے ناخنوں کے نشان دیکھنے لگا۔
”جنگلی بلی“ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ اس کا دلکش سراپا اس کی آنکھوں میں لہرایا تو خودبخود اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تالا کھول کر اندر داخل ہوٸی تو خود کو گھسیٹتی ہو ٸی کمرے تک لے کر گٸی اور بیڈ پر گر گٸی۔وہ بے آواز رونے لگی۔نہ جانے کس کی دعاٶں سے وہ آج بچ گٸی تھی۔

وہ جلدی سے اٹھی اور وضو کر کے جاۓ نماز پر کھڑی ہو گٸی۔اس کا روم روم عب کا شکر بجا لا رہا تھا۔جس نے اس شیطان کے دل میں اس کے لٸے رحم ڈالا۔اور وہ باعزت واپس اپنٕے گھر لوٹ آٸی۔

رات کے پچھلے پہر سیف گھر آیا ۔مشال نے نیند کا بہانہ کر کے دروازہ کھول کر واپس لیٹ گٸی۔
صبح وہ بخار میں پھنک رہی تھی۔سیف کو ازلان کے کسی کام سے شہر جانا تھا۔اس نے ازلان کو کال کر کے بتایا کہ مشال بیمار ہے اس لٸے وہ نہیں جا سکے گا۔
اگلے دس منٹ میں وہ سیف کے گھر کے باہر تھا۔
مشال کو تو کوٸی ہوش نہیں تھا کہ وہ کس کے ساتھ ہاسپٹل آٸی۔جبکہ ازلان چوہدری کی آنکھیں کسی مقناطیس کی طرح اس کے سراپے سے چمٹ گٸی تھی۔