Anchal By Zarish Noor Readelle50111 Episode 6
Rate this Novel
Episode 6
ناول ”” دھانی آنچل “
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٦
مشال سکول سے آ کر گھر میں بچوں کو ٹیوشن دینے لگی۔جس سے اس کا وقت آچھا گزرنے لگا۔ سیفی بھیا بھی اب زیادہ تر اسلام آباد میں ہی رہنے لگے تھے۔اور مشال نے مکمل طور پر اریبہ کر گھر ہی ڈھیرہ جما لیا۔
ازلان شاہ نے اپنہ سیکیورٹی کے لٸے پاشا اور سیف کو ساتھ رکھ لیا تھا۔
سیف کو اپنے ساتھ اسلام آباد چلنے کی آفر کرنے سے پہلے اس نے پوچھا تھا کہ وہ مشال کا کیا کرے گا۔پھر ساتھ ہی اس نے آفر بھی کی تھی کہ وہ مشال کو حویلی میں بی جان کے پاس چھوڑ دے۔
سیف نے مشال سے بات کی تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گٸی۔
آپ نے جہاں جانا ہے جاٸیں ۔میں اپنے گھر میں ہی رہ لوں گی۔آپ مجھے کیسےایسے ہی کہیں چھوڑ کر چلیں جاٸیں گے۔
سیف بھی سوچ میں پڑ گیا کہ بہن کو گھر میں اکیلے چھوڑ کر کیسے جاٶں لیکن پھر اریبہ آ گٸی اور اس نے سیف سے کہا کہ وہ مشال کی بالکل بھی فکر نہ کرے وہ اسے اپنے گھر لے جاۓ گی۔
لیکن پھر بھی سیف نے پہلے مشال کی رضامندی کو مقدم سمجھا کہ اگر وہ جانا چاہے تو ٹھیک نہیں تو وہ ازلان کو منع کر دے گا ۔
لیکن مشال بھی بھاٸی کی مجبوری سمجھتی تھی۔وہ سالوں سے ان کےلٸے کام کر رہا تھا۔ وہیں سے کما رہا تھا۔تو اب اسے اس کے ساتھ تو جاناہی تھا۔
آج سیف بھیا کو گٸے پورے پندرہ دن ہو گٸے تھے۔اور یہ زندگی میں پہلی بار ہوا تھا ۔جو وہ اتنے دن کے لٸے گھر سے کہیں گیا تھا۔
مشال تین سال کی تھی جب اس کے ماں اور باپ گاٶں میں ہونے والے ایک جھگڑے میں گولیاں لگنے سے مارے گٸے تھے۔
اس کے بعد وہ اور سیف سکینہ پھپھو کے گھر چلے گٸے۔وہ خود بیوہ عورت تھی۔اریبہ تب چھے سات سال کی تھی۔مشال اور وہ دونوں سارا سارا دن کھیلتے رہتے ۔
سیف نے پھپھو کے گھر کے حالات دیکھتے ہوۓ میٹرک کے بعد اپنے گاٶں آ گیا اور چوہدری حکم علی کے گھر نوکری کر لی۔ان کے چھوٹے موٹے کام کرنے لگا۔
سیف اور ازلان ہم عمر تھے ۔اس لٸے ان کے آپس میں دوستی ہوگٸی۔
اور پھر سکینہ پھپھو کو جب فالج کا اٹیک ہوا تو انہوں نے سیف سے کہا کہ وہ اریبہ سے نکاح کر لے۔سکینہ کے احسانوں کا بدلہ چکانے کا اس سے بہتر موقع نہیں تھا۔اس لٸے سیف نے ہامی بھر لی۔
اور پھر سکینہ پھپو لوگوں کو اپنے ساتھ ہی لے آیا ۔اور چونکہ ابھی اریبہ کی رخصتی نہیں ہوٸی تھی اس لٸے انہیں گھر کے پاس ہی ایک گھر لے کر دے دیا۔
وہ چاہتا تھا کہ پہلے مشال کی شادی کرے ۔لیکن جب سے وہ اسلام آ باد آیا تھا۔اس نے سوچ لیا تھا کہ مشال کے لٸے ہی وہ اریبہ کو رخصت کرا کر گھر لے آۓ گا۔
ٹھیک ایک ماہ کے بعد جب وہ گھر آیا تو سب اس کی آمد پر بہت خوش ہوۓ۔پھپھو بھی اس کے آنے کی خوشی میں باہر صحن میں آ کر بیٹھ گٸی ۔اور پھر اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی پھپھو نے اس سے بات کر لی کہ وہ اب اریبہ کی رخصتی کرنا چاہتی ہیں۔
ان کی بات پر سامنے بیٹھی اریبہ شرم سے لال ہو گٸی ۔اور اندر کی طرف بھاگ گٸی ۔جبکہ مشال کی تو خوشی کا کوٸی ٹھکانہ ہی نہ رہا۔
اگلی صبح سیف مشال اور اریبہ کو ازلان چوہدری کی گاڑی میں شہر لے کر آیا۔اور ڈھیر ساری شاپنگ کرواٸی۔اریبہ کے لٸے ولیمے کا جوڑا بھی لیا۔
واپسی میں گاڑی میں سیف کے ساتھ ازلان چوہدری بھی موجود تھا۔
اریبہ اور مشال جس وقت مال سے باہر نکلی تو مشال کی پہلی نظر فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ازلان چوہدری پر گٸی جوواٸٹ کلرکے قمیض شلوار پر بلیک واسکٹ زیب تن کیے ۔کندھے تک آتے بالوں کو پونی میں باندھے آنکھوں پر سن گلاسز چڑھاۓبار بار گھڑی میں وقت دیکھ رہا تھا۔
مشال پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ دوڑ گٸی۔
مشال نے غیر ارادی طور پر اپنی چادر درست کی ۔اس کی اس حرکت پر اس نے مسکراتے ہوۓ سر جھٹکا۔
ازلان چوہدری کو آج پتہ چلا تھا کہ خوشی کس چیز کا نام ہے۔
پچھلے ایک ماہ سے دن رات بے چینی میں گزر رہے تھے۔لیکن اس لڑکی کو ایک نظر دیکھ لینے کے بعد اس کے رگ وپے میں سکون سراٸیت کر گیا۔
ان دونوں کے گاڑی میں بیٹھنے پر سیف نے گاڑی آگے بڑھا دی۔جبکہ ازلان چوہدری لاپروا نظر آنے کی کوشش کرتے ہوۓ اپنے موباٸل پر مصروف ہو گیا۔
پھر سارا راستہ خاموشی سے ہی کٹا۔سیف اور وہ آپس میں کوٸی نہ کوٸی بات کر لیتے تھے۔لیکن وہ دونوں خاموش ہی رہی۔
سیف اپنے گھر کے آگے گاڑی کھڑی کی اور جلدی سے نیچے اتر کر سامان نکال کر اندر رکھنے لگا اریبہ بھی اس کی مدد کرنے لگی۔جس وقت مشال اترنے لگی ازلان چوہدری بغیر مڑے بولا۔سنو میں تمہارے لٸے کچھ لایاتھا۔
اس کی بات پر مشال نے ایک سخت نظر اس پر ڈالی۔
اس کی نظروں کو محسوس کرتے ہوۓ ۔ازلان چوہدری نے بھی اس کی طرف دیکھا دونوں کی نظریں ملیں تو مشال نے نظریں جھکا لیں۔
ازلان چوہدری نے ایک پیکٹ مشال کی طرف بڑھایا جبکہ مشال نے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں جیسے مبادا وہ اس کے ہاتھ کے ساتھ آ کر چپک نہ جاٸیں اور گاڑی سے اتر کر بغیر دیکھے گھر کے اندر چلی گٸی۔
جبکہ ازلان چوہدری کی نظروں نے گیٹ تک اس کا تعاقب کیا۔
اس نے ایک گہرا سانس بھرا اور وہ پیکٹ واپس اپنے ہینڈ کیری میں رکھ لیا تھا۔
یہ تو طہ تھا کہ جو چیز اس کے لٸے لی ہے وہ کسی بھی طرح اس تک پہنچاۓ گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خود سے ضد لگانا بھی کیسی عجیب سی کیفیت ہے نہ انسان اپنی ہٹ دھرمی سے شکست کھا جاۓ تو اپنی ہی نظروں میں شرمندہ ہو جاتا ہے۔
اسے آج سبزیاں اگانے کا جوش چڑھا تھا اور وہ کھرپی لٸیے اپنےکام میں مصروف تھی۔ہاتھ گندے ہونے کی وجہ سے پھونک مار کر پیشانی پر آتے بال ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔وہ بلیو کلر کے سادہ سے کاٹن کے جوڑے میں ملبوس تھی۔
وہ نظر ہاتھوں پر جماۓ اپنے کام میں پوری طرح مگن تھی۔تھوڑی دیر کے بعد اسے اپنے عقب میں کیسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔
اپنے عقب میں موجود کسی زی روح کا احساس اسے اس وجود سے اٹھتی خوشبو کے زریعے ہوا تھا۔وہ خوشبو اپنی مہنگی قیمت کا احسا س چہار سو پھیلا چکی تھی۔اس نے دنیا کی تمام مہنگی پرفیوم کے بارے میں پڑھ رکھا تھا۔اور یہ یقینا ً ایسے ہی کسی برانڈ کی خوشبو تھی۔وہ یک دم اٹھ کر کھڑی ہو گٸی۔اس کی اپنے گھر موجودگی پر وہ اتنی حیرت زدہ تھی کہ آس پاس کے منظر تھوڑی دیر کے لٸے کہیں غاٸب ہو گٸے۔
احساس تھا تو صرف یہ کہ وہ اس وقت اس کے گھر میں موجود تھا۔اپنی شان وشوکت ،خوبصورتی۔اپنے بہترین لباس زیب تن کیے۔اور وہ ناقابل بیان احساس کمتری میں مبتلا ہو گٸی۔
”ہیلو۔“
اس کی طرف سے کوٸی جواب نہ پا کر وہ کیاری کے پاس رکھی ایک پرانی زنگ آلود کرسی پر بیٹھ گیا۔جبکہ مشال نے جلدی سے گلے میں پڑا دوپٹہ سر پر جمایا ۔
ازلان چوہدری آج دوسری بار اسے ایسے دیکھ رہا تھا۔بلیو کلر کے کہڑوں میں گرمی کی تمازت سے گلابی چہرہ لٸے ۔سفید ہاتھ مٹی سے لتھڑے ہوۓ تھے۔
تبھی اسے اپنے پیچھے سیف بھیا کی آواز سناٸی دی۔
ارے ازلان کہاں بیٹھ گٸے ہو ؟
آٶ اندر چلو ۔وہ اسے لٸے اندر بڑھ گیا۔اور مشال کو پانی لانے کے لٸے بولا۔
کچن تک پہنچتے پہنچتے اس نے سو طرح کے مشروب سوچ لٸے تھے ۔جو وہ پیتا تھا اور ان کی حویلی میں اکثر موجود رہتے تھے۔لیکن ایسا کوٸی مشروب اس کے گھر میں موجود نہیں تھا۔
وہ فریج کھول کر تھوڑی دیر اس کے اندر موجود چیزوں کو دیکھتی رہی۔پھر آڑو کے جوس کا ڈبہ اور سادے پانی کی بوتل نکال لاٸی۔
تیزی سے ایک گلاس میں جوس اور دوسرے میں پانی انڈیل کر ٹرے میں سجاۓ وہ کچن سے نکلی۔
وہ ڈراٸنگ روم میں جس وقت داخل ہوٸی ۔وہ سیف سے باتوں میں مصروف تھا۔
ڈراٸنگ روم کو سجانے والے کا زوق بہت آچھا ہے۔ڈراٸنگ روم کی اکلوتی کھڑکی کے پردے ہٹا کر بند باندھتے ہوۓ مشال نے سنا۔
”یہ ہو کیا رہا ہے۔“اس نے کھڑکی کے پار دیکھتے ہوۓ ٹھٹھک کر سوچا۔
مشال نے لمحہ بھر کےپلٹی اس کی بات سنی اور پھر کمرے سے باہر نکل گٸی۔
اسے ایک بار پھر سے نٸے سرے سےغصہ آیا۔
یہ کیوں آیا ہے یہاں مجھے میری اوقات دکھانے آیا ہے۔
جبکہ ازلان چوہدری اس کی محبت میں پور پور ڈوب چکا تھا۔
آج وہ سیف کی شادی کے بہانے سے یہاں آیا تھا۔
درحقیقت وہ تو بس اس کو ایک نظر دیکھنےآیا تھا۔
