Anchal By Zarish Noor Readelle50111 Episode 4
Rate this Novel
Episode 4
ناول ””دھانی آنچل ““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٤
وہ سستی سے بستر پر پڑی تھی۔سورج سوا نیزے پر پہنچ چکاتھا۔سورج کی کرنیں چھم چھم اندر آ رہی تھی۔ دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے صحن کا منظر واضح تھا۔جہاں پڑی اکلوتی چارپاٸی پر سیف بیٹھا اخبار کی ورق گردانی کر رہا تھا۔
ساتھ ساتھ اک آدھ نظر آدھ کھلے دروازے پر بھی ڈال دیتا ۔جہاں سے نظر آ رہی چارپاٸی پر مشال سو رہی تھی۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ پاٶں میں چپل اڑستے اس کے سر پر پہنچا۔پیشانی پر ہاتھ لگاکر بخار چیک کیا۔مشال نے اسے دیکھ کر آنکھیں موند لیں۔مبادا وہ اس کی آنکھوں سے کوٸی اور کہانی نہ پڑھ لے۔
مشال بیٹا اٹھ جاٶ اب ۔
مشال نے جھٹ سے آنکھیں کھولی اور جلدی سے اٹھ گٸی۔
آپ نے ناشتہ کیا ہے ؟؟
نہیں میں باہر سے لے کر آیا ہوں لیکن تمہارے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا۔
چلیں پھر ساتھ ناشتہ کرتے ہیں۔
وہ دونوں چھوٹے سے بنے کچن میں آگٸے۔جہاں ان کی ضرورت کی ہر چیز تھی۔
مشال نے ناشتہ لگایا تو سیف بہت رغبت سے کھانے لگا جبکہ مشال بس اس کا ساتھ دے رہی تھی۔
مشال تم او ر اریبہ آج بڑی حویلی چلی جانا بی جان نے بلایا ہے تم لوگوں کو ازلان کی سامعیہ سے منگنی ہو رہی ہے نہ تو کام بھی زیادہ ہے ۔ویسے تو میں تم لوگوں کو کبھی نہ بھیجتا لیکن چونکہ میرے یار کی منگنی ہے اس لٸے چلی جانا۔
مشال کے چہرے پر ناپسندیدگی دیکھ کر اس نے تفصیل سے بتایا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشال اور اریبہ گل بانو کے ساتھ کچن میں کھانا بنا رہی تھی۔آج حویلی میں خوب چہل پہل تھی۔ مشال مطمٸن تھی کہ کچن میں کوٸی مرد نہیں آتا تھا۔
تبھی زارا بیگم وہاں چلی آٸی اور مشال کو حکم ملا کہ وہ سامعیہ کے لٸے کافی لے کر اس کے کمرے میں دے آۓ۔
مشال سوچ میں پڑھ گٸی کہ کیا کرے۔پھر چادر سے آچھی طرح چہرہ چھپا کر کچن سے نکل آٸی سیڑھیوں سے اوپر چڑھ کر پہلا کمرہ سامعیہ کا تھا۔
مشال دستک دے کر اندر داخل ہوٸی تو وہ اپنی کسی دوست سے محو گفتگو تھی۔
اسے کافی دیتے ہوۓ سامعیہ کا ہاتھ کپ کو لگا جس سے کافی چھلک کر اس کے کپڑوں پر گر گٸی۔
جاہل لڑکی یہ کیا کر دیا ہے۔میرا نیا ڈریس خراب کر دیا ہے۔وہ غضبناک ہو کر مشال کی طرف بڑھی اور ایک تھپڑ اس کے گال پر جڑ دیا۔
مشال گال پر ہاتھ رکھتے سکتے میں رہ گٸی ۔جبکہ سامعیہ واش روم کی طرف بڑھ گٸی۔
مشال آنسو پیتی تیزی سے نکلی اور سامنے سے آتے ازلان چوہدری کے سینے سے ٹکرا گٸی۔اسی دوران اس کی چادر اس کے چہرٕ سے کھسک گٸی۔
مشال نے سر اٹھا کر سامنے والے کو دیکھا تو اسے لگا آج اسے کوٸی نہیں بچا سکتا۔وہ پوری جان سے کانپ رہی تھی۔
جبکہ ازلان چوہدری سینے پر ہاتھ رکھے پرشوق نظریں اس کے ڈھکے چھپے سراپے پر مرکوز تھی۔
مشال نے بے جان قدموں سے اس سے پاس گزر کر سیڑھیوں کی طرف بڑھی لیکن گزرتے گزرتے بھی ان دونوں کا کندھا ٹکرا گیا۔
وہ خود کو گھسیٹتی ہوٸی کچن میں لاٸی اور سامنےپڑھی کرسی پر کسی بے جان شے کی طرح ٹک گٸی۔
جبکہ ازلان چوہدری اپنی جگہ پر منجمند ہو گیا ۔وہ اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا۔آنکھیں بند کیے باربار ایک ہی منظر اس کے سامنے آ رہا تھا۔وہ ابھی بھی اپنے سینے پر اسے محسوس کر رہا تھا۔ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگاۓ آنکھیں موندے وہ کھڑا رہا۔کچھ یاد آنے پر اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول۔وہ اپنے جزبوں کی شدت سے خود ہی ڈر گیا۔
اس نے سر جھٹکا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریبہ کی نظر کرسی پر بیٹھی مشال پر پڑی تو وہ تیزی سے اس کے قریب آٸی۔
مشی کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں اس نے نظریں چراٸی۔
اریبہ نے گلاس میں پانی ڈال کر اس کی طرف بڑھایا۔
یہ پی لو تم ابھی بیماری سے اٹھی ہو۔
اسی وقت باہر سے ازلان کے بولنے کی آواز آٸی اور مشال کی سانس سینے میں اٹکنے لگی۔
اماں بی ازلان کے چہرے پر موجود نشانوں کو دیکھ کر ان کی بابت پوچھ رہی تھیں۔
تبھی مشال کو اس کی آواز سناٸی دی۔
کچھ نہیں اماں بی ایک جنگلی بلی نے پنچ مارے ہیں۔
اس کی بات پر وہاں موجود سب لوگ کھلکھلا کر ہنس دٸیے۔جبکہ اس کی بات کو سمجھتی مشال کے اندر غصے کی ایک لہر دوڑ گٸی۔
تبھی وہ کچن میں داخل ہوا اور عین مشال کی چٸیر کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔
اس کی مخاطب گل بانو تھی ۔جبکہ نظریں مشال کے سراپے میں الجھی ہوٸی تھی۔
گل بانو ایک کپ کافی بنا دو سٹرانگ سی۔
یہ کہہ کر وہ چل دیا۔
جبکہ مشال نے ایک گہری سانس خارج کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ لوگ لاٸکس میں بہت کنجوسی کرتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ لاٸکس کریں تاکہ جلدی سے آپ کو نیکسٹ ایپیسوڈ مل سکے۔
