Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

ناول ””اجنبی راہوں کے مسافر““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٥

وہ عنایا کو ساتھ لٸے ہمایوں کے کمرے میں داخل ہوا۔اور فرط جزبات سے ان کے گلے لگ گیا۔

چاچو آپ جانتے ہیں؟ ”میں آج بہت خوش ہوں۔“

وہ اس کی محبت پہ مسکرا دٸیے۔
چاچو میری سمیع سے بات ہوٸی ہے۔اس نے امریکہ کے ایک مشہور آرتھوپیڈک سرجن سٹیفن فلپ سے آپ کے لٸے ملا ہے۔ اس نے آپ کو امریکہ بلایا ہے۔

ہم اگلے ماہ امریکہ جا رہے ہیں۔وہاں آپ کے پہلے اس کے ساتھ کچھ سیشن ہوں گے ۔پھر اس کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا جاۓ گا۔

اپنی باتوں میں وہ عنایا کو بھول ہی گیا۔

احان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔

احان نے مسکرا کر اس کی سمت دیکھا۔
چاچو ان سے ملٸیے ۔یہ ہیں عنایا چوہدری آپ کی ہونے والی بہو۔۔۔۔۔۔۔۔احان نے آخری الفاظ چبا چبا کر ادا کیے تھے۔۔

لیکن اپنی خوشی میں مگن عنایا نے اس کے لہجے پر غور نہیں کیا۔

جبکہ ہمایوں علی کے چہرے پر ایک سایہ سا آ کر لہرا گیا۔
پھر بھی وہ خوشدلی سے اس سے ملے۔

لیکن دل میں کہیں ٹیس سی اٹھی تھی۔ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ ان کا داماد بنے۔ لیکن ہر خواہش پوری ہوجاۓ۔یہ بھی ممکن نہیں تھا۔
وہ تھوڑی دیر ان سے باتیں کرتا رہا۔اس کی تقلید میں عنایا بھی وہیں بیٹھی رہی۔
وہ اس کی باتوں سے بہت بور ہو رہی تھی۔اس کی نظریں یمایوں کے چہرے پر ٹکی تھی۔ایک بار اس گھر میں آنے دیں ۔سب سے پہلے آپ کو اس گھر سے رخصت کروں گی۔اسے احان کا ہمایوں کے لٸے اس قدر فکر کرنا آچھا نہیں لگتا تھا۔اور سیرت کے آنے کے بعد اس کے خدشات بڑھ گٸے۔اسے پورا یقین تھا کہ اگر کبھی ہمایوں احان کو سرسری طور پر بھی کہہ دے وہ ایک پل کی بھی دیر کیے بنا اس پر عمل کر دے گا۔

اس کی نظروں کی تپش محسوس کرتے ہوۓ ہمایوں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا کر نظریں جھکا گٸی۔

تبھی سیرت اندر داخل ہوٸی اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھا اور اسکے ہاتھ سے ٹرے لٕے لی۔

سیرت اگرتمہیں تکلیف نہ ہو تو میرا کھانا بھی یہی دے جاٶ ۔میں آج چاچو کے ساتھ ہی کھانا کھاٶں گا۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کیا؟
بابا اور میں ساتھ کھا لیں گے۔نیچے کھانے کے ٹیبل پر آپ کا اور عنایا کا انتظار ہو رہا ہے۔

تم اور عنایا چلی جاٶ اور میرا کھانا کسی ملازم کے ہاتھ بھیج دو۔وہ سردوسپاٹ لہجے میں بولا۔
عنایا ایک جھٹکے سے مڑی اور کمرے سے نکل گٸی۔

سیرت تھوڑی دیر کھڑی اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔پھر کچھ کہنے کے لٸے منہ کھولا۔۔۔

اب کیا کہنا ہےسیرت؟
برا لگتا ہے نیچے سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس نے ہاتھ میں موجود موباٸل زور سے سامنے پڑے ٹیبل پر پٹخا۔

تم سے جو کہا ہے بس وہ کرو ۔

اس کے لہجے پر وہ دہل کر دو قدم پیچھے ہوٸی ۔اور پلٹ کر وہاں سے نکلتی چلی گٸی۔

ہمایوں نے اس کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا۔کیامسٸلہ ہے؟ مجھے بتاٶ گے؟

اس نے نفی میں سر ہلایا ”نہیں“ کوٸی مسٸلہ نہیں ہے۔

آر یو شیور

یس آٸی ایم شیور

پھر چھوٹی سی بات پر اتنا بھڑک کیوں گٸے ہو۔۔۔۔۔

میری بیٹی کو آج کے بعد ایسے غصہ کیا تو میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ۔۔۔میں کیا۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے میں آپ کا بیٹا ہوں۔

اس کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس دٸے۔

کہیں تمہارے غصے کی وجہ میری بیٹی ہی تو نہیں ہے۔تمہیں لگ رہا ہے کہ وہ تمہاری جگہ لے رہی ہے۔
اب کی بار دونوں ہی کھلکھلا کر ہنس دٸیے۔

جبکہ دروازے سے اندر آتی سیرت نے تعجب سے دونوں کو دیکھا ۔اس نے ہاتھ میں پکڑی ٹرے پٹخنے کے انداز میں احان کے سامنے رکھی اور واپس مڑ گٸی۔
اس کے نکلتے ہی ہمایوں پھر سے بولے۔
غصہ صرف تمہیں ہی نہیں آتا میری بیٹی کو بھی بہت غصہ آتا ہے بچ کے رہنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں اس وقت لاس اینجلس میں پرفارم کر رہے تھے۔زارا نور ایک مشہور ماڈل اور ڈانسر تھی۔ سمیع سلمان پاکستان کا بہترین سنگر تھا۔ساری دنیا میں اس کے کروڑوں مداح تھے۔
یہ ایک لاٸیو کنسرٹ تھا جس میں سمیع کے گانوں پر زارا ڈانس پرفارمنس دے رہی تھی۔
کنسرٹ اپنے جوبن پر تھا ۔سمیع کی سحر طاری کر دینے والی آواز پر زارا کی پرفارمنس نے سب کو جھکڑ رکھا تھا۔

سمیع نے دیکھا زارا آنکھیں بند کیے گول چکر کھا رہی تھی۔یہ ان کی لاسٹ پرفارمنس تھی۔
سمیع نے گانا گاتے ہوۓ سٹیج کے ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف جانے لگا ۔زارا کے پاس سے گزرتے ہوۓ اس نے اپنے ہاتھ سے کوٸی چیز اس کے پاٶں کے قریب پھینکی اور خود آگے بڑھ گیا ۔اور اگلے لمحے زارا زمین بوس ہو چکی تھی۔سارے مجمع کو سانپ سونگھ گیا۔
زارا نے اپنے گھگھارے کو سنبھالتے ہوۓ اٹھنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب رہی ۔اوراس نےقہر برساتی نظر سمیع کے مسکراتے چہرے پر ڈالی ۔جو آنکھوں میں طنز بھرے اسے دیکھ رہا تھا۔اسے اٹھتے دیکھ کر اس نے گانا پھر سے شروع کر دیا۔

پرفارمنس کے بعد زارا ہوٹل پہنچی تو اس کی آنکھوں میں مرچی سی بھر گٸی۔آنسو کی وجہ سے سامنے کا منظر دھندلا گیا اور وہ اپنے روم کی طرف بڑھتے ہوۓ سامنے سے آتے سمیع سلمان سے ٹکرا گٸی۔جس نے سختی سے اسے بازٶں سے تھامتے ہوۓ اس اپنے آپ سے دور کیا۔
آنکھیں کھول کر دماغ حاضر رکھ کر اور اپنے قدموں کو اپنے قابو میں کر کے گھر سے نکلا کرو۔ آج کے بعد میرے کسی شو میں پرفارم کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا۔تم جیسی لڑکیاں میری برداشت سے باہر ہیں۔یہ کہہ کر وہ اسے ایک جھٹکے کے ساتھ چھوڑتے ہوۓ اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔

زارا کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔
وہ اس شخص کے پیچھے کہاں تک آ گٸی تھی۔لیکن اسے تو اس کی پروا ہی نہیں تھی۔

وہ دونوں شروع سے ایک ہی سکول میں پڑھے تھے۔پھر اس کے بعد کالج اور یونیورسٹی میں بھی ساتھ ہی پڑھے۔
وہ جس بھی انسٹیٹیوٹ میں پڑھا وہ اس کے پیچھے پیچھے وہاں چل دی ۔حتی کہ اس نے جب میوزک کو پروفیشن کے طور پر اپنایا تو وہ بھی شوبز کی فیلڈ میں آ گٸی۔لیکن وہ اب دلبرداشتہ ہو گٸی۔ اس کا آج کے رویے نے اسے بہت مایوس کیا تھا۔
ساتھ میں مشہور انڈسٹریلسٹ خاور بخاری کی بیٹی ضوفشاں بخاری کے ساتھ اس کے افٸیر کی خبروں نے اسے بالکل توڑ دیا۔
زارا شاہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی جس کی ہر خواہش اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے پوری کی گٸی۔لیکن شاید وہ جس کے لٸے زندہ ہے سانس لے رہی ہے۔جیسے اس نے اپنی ہر سانس کے ساتھ چاہا وہ اس کا کبھی نہیں ہو سکا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں آکر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔اور پھر اس نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔وہ اب اس کے پیچھے پیچھے نہیں جاۓ گی۔اسے اب میری طر ف لوٹنا پڑے گا۔اور ایک فیصلہ کر کے وہ مطمٸن ہو کر ایک عزم سے اٹھ گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمیع آج واپس نیویارک جا رہا تھا۔اسے ہمایوں چاچو کے ڈاکٹر سے ملنا تھا۔
اس نے احان کو کال کرنے کے لٸے موباٸل اٹھایا لیکن اس سے پہلے اس کے پی اے فارس کی کال آ گٸی۔

ہیلو فارس تم تیار رہو ،ہم دس منٹ میں اٸیر پورٹ کے لٸے نکلتے ہیں۔
یس سر۔۔۔۔سر آپ کو ایک بات بتانی تھی۔
بولو۔۔۔

سر آپ نے آج نیوز نہیں سنی۔
کیوں ۔۔۔کچھ خاص ہوا ہے۔۔۔اس نے لاپرواٸی سے پوچھا۔

سر مس زارا شاہ نے شوبز چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

اس کی با ت پر ایک پل کے لٸے وہ ٹھٹھکا لیکن اگلے لمحے اس نے کال کاٹ دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔