Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ناول ” اجنبی راہوں کے مسافر“

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٧

کسی نے سچ کہا کہ محبت اندھی ہوتی ہے۔۔۔۔محبت چاہے محبوب سے ہو،ماں باپ سے ہو،بہن بھاٸی سے ہو ،غرض یہ کہ اپنے سے جڑے کسی بھی رشتے سے ہو،اندھی بہرحال ہوتی ہے۔
وہ بھی ایسی ہی اندھی محبت کا شکا ر تھی۔اور جب سے اسے بھول جانے کا ارادہ کیا ہے ، تب سے اس دل نے اور شدت سے اس کی خواہش کی ہے۔
اپنے جزبوں کے عیاں ہونے کے ڈر سے وہ کبھی اس کے سامنے ٹھہر نہ سکی۔
اس وقت بھی ہاتھ میں موباٸل تھامے میکانکی انداز میں انگلیوں نے اس کا نمبر ڈاٸل کیا۔

اسلام علیکم !اس کی گھمبیر آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی تو وہ ہوش میں آٸی جیسے کسی خواب سے جاگی ہو۔

وعلیکم سلام!
اس کی آواز سنتے ہی دوسری طرف خاموشی چھا گٸی۔
زارا کی آواز نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔

کیسے ہو؟
ٹھیک ہوں۔مختصر جواب آیا تھا۔
میں آج گٸی تھی ماموں کی طرف تو انہوں نے بتایا کے احان بھیا ہمایوں ماموں کو لے کر تمہارے پاس گٸے ہیں۔تو میں نے ان کی خیریت دریافت کرنے کے لٸے کال کی تھی۔
ہمم۔۔۔۔۔۔۔
اگلے لمحے ماٶتھ پیس سے ہمایوں کی آواز گونجی تھی۔
کیسی ہے میری بیٹی؟ آج ماموں کی کیسے یاد آگٸی؟

انہوں نے عام سے لہجے میں پوچھا لیکن وہ پھر بھی شرمندہ ہو گٸی۔
سوری ماموں میں پاکستان میں نہیں تھی۔اب یہاں آٸی ہوں تو آپ یہاں نہیں ہیں۔میں کل گٸی تھی آپ سے ملنے وہیں پتہ چلا کہ آپ تو امریکہ میں ہیں۔

ماموں جلدی سے واپس آٸیے گا ہم سب یہاں آپ کے منتظر رہیں گے۔آپ کو تندرست اپنے پاٶں پر کھڑا دیکھنے کے لٸے۔
بیٹا زندگی رہی تو ضرور لوٹوں گا ۔لیکن اللہ جانے اس کو کیا منظور ہے۔
سب آچھا ہو گا انشا ٕاللہ۔

چلیں خداحافظ پھر بات ہو گی۔
خدا حافظ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے تارے میری پہلی دعا تیرے لٸے
تو دل بےصبر کو تسکین زرا سی دے گیا
تند جھونکے کی رگوں میں گھول کر اپنا دھواں
اک دیا اندھی ہوا کو خود شناسی دے گیا
اس نے ڈاٸینگ ٹیبل کی طرف بڑھتے ہوۓ ایک بھر پور مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی جو نہ جانے آج پھر کون سا نیا دھماکہ کرنے اس کے گھر آ موجود تھی۔

ارے امی آج سورج کدھر سے نکلا ہے جو عنایا چوہدری نے ہمارے اس غریب خانے پر اپنے قدم رنجہ فرماۓ۔
عنایا نے ایک تیز نظر اس کے مسکراتے چہرے پرڈالی اور اس کی اگلی بات پر اشعر کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔
آنٹی شادی کی دعوت دینے آٸی ہوں ۔اس ماہ کی پندرہ کو میری شادی ہے آپ اور اشعر ضرور آٸیے گا۔
عنایا کی بات پر صوفیہ بیگم نے بیٹے کے چہرے کی طر ف دیکھا جو دھواں دھواں ہو رہا تھا۔
جبکہ عنایا ان کے سروں پر دھماکہ کر کے خود اپنا بیگ سنبھالتی بیرونی دروازے کی طرف مڑ گٸی۔
ماں بیٹے میں سے کسی نے بھی اسے رکنے کے لٸے نہیں کہا۔
اشعر نے نگاہیں چراتے ہوۓ جانے کے لٸے کھڑا ہو گیا۔

چلتا ہوں ماں میں آفس سے لیٹ ہو رہا ہوں۔احان بھی یہاں نہیں ہے تو میں آج کل اس کے مین آفس میں جاتا ہوں اس کی جگہ۔
اشعر بیٹا انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”امی میں ٹھیک ہوں۔آپ پریشان نہ ہوں۔“
صوفیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی چوم لی اور کہیں ایک آنسو ان کی آنکھوں سے لڑھک گٸے۔
اشعر خاموشی سے نکل گیا۔

وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔تو اس نے عنایا کی گاڑی کو گیٹ کے قریب رکے دیکھا۔
وہ اس طرف بڑھا تو وہ پہلے ہی اسے دیکھتے گاڑی سے نکل آٸی۔

وہ جانتا تھا وہ اپنی بھڑاس نکالنا چاہتی ہے ۔اس لٸے دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
کہو کیا کہنا چاہتی ہو۔
یہی کہ میں تمہیں پل پل مرتے دیکھنا چاہتی ہوں جیسے میں پل پل تمہاری بے وفاٸی پہ مری ہوں۔اور دولت کی ہوس تم نے جو کچھ میرے ساتھ کیا ہے نہ شادی ہو جانے دو احان سے سب سے پہلے تمہیں چلتا کروں گی۔

ہمم اوکے ۔۔۔۔اور کچھ یا بس مس عنایا چوہدری۔

وہ غصے میں اسے ایک دھکا دیتی ہوٸی جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گٸی ۔اور تنفر بھری نگاہ اشعر کے چہرے پر ڈالتے ہوۓ گاڑی زن سے آگے بڑھا لے گٸی۔
اور اشعر نے گاڑی میں بیٹھتے ہی دونوں ہاتھوں پر سر گرا دیا۔
”نہ خدا ملانہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمیع موباٸل ہمایوں کے ہاتھ میں تھما کر کچن میں احان اور سیرت کے پاس آ گیا۔جہاں احان سیرت کو کافی بنانا سیکھا رہا تھا۔
جبکہ وہ بے توجہی سے کچن میں رکھی مختلیف چیزوں کو دیکھ رہی تھی۔
سیرت تمہارا دھیان کدھر ہے؟
احان نے سیرت کا غصہ کافی میکر پر نکالتے ہوۓ اس سے سخت لہجے میں مخاطب ہوا۔

کیوں کیا ہوا ۔۔۔۔یہی تو ہوں ۔
آچھا آٶ پھر چاچو کے لٸے کافی تم بناٶ۔

میں کیوں بناٶں ؟مجھے بنانی آتی بھی نہیں ہےاور میں سیکھوں گی بھی نہیں ۔ویسے بھی میں چاۓ پیتی ہوں تو بابا بھی چاۓ ہی پٸیں گے۔

سیرت سیکھ لو کیا پتا تمہارا شوہر کافی کا شوقین ہو ۔سمیع نے کچن میں داخل ہوتے ہوۓ کہا۔
اس کی بات پر اس نے شرم سے سر جھکا لیا۔
یا پھر اسے بھی چاۓ ہی پلاٶ گی۔
نہیں میں شادی ہی اس سے کروں گی جو چاۓ پیتا ہو۔

اس کی بات پر دونوں کاچھت پھاڑ قہقہ گونجا ۔
سیرت نے پہلی بار احان کو ایسے ہنستے ہوۓ دیکھا تو حیران ہوٸی ۔وہ تو مسکرتا بھی بہت کنجوسی سےتھا۔

بھاٸی اس لڑکی کے شوہر کی تو خیر نہیں یہ تو اسے وہی کچھ کھلاۓ گی جو اسے بنانا آتا ہے۔

سیرت خود کو موضوع گفتگو بنتا دیکھ کر وہاں سے نو دو گیارہ ہو گٸی۔

بھاٸی آپ کی تو دو ہفتے بعد شادی ہے نہ تو آپ چاچو کو شادی کے بعد لے آتے۔

نہیں شادی سے زیادہ ضروری ان کا علاج ہے۔
ویسے آپ کے دماغ میں چل کیا رہا ہے؟
کیا مطلب کیا چل رہا ہے؟

بھاٸی زیادہ نہ سہی لیکن کچھ کچھ میں آپ کو جانتا ہوں۔

ویسے کچھ دن پہلےمیری اشعر سے بات ہوٸی تھی۔
آچھا کیا کہہ رہا تھا؟
کچھ نہیں ! بس وہ کہہ رہا تھا کہ آپ ان دنوں گھر میں وقت زیادہ گزارنے لگے ہیں۔
آچھا وہ مجھ پہ کچھ زیادہ ہی نظر رکھ رہا ہے۔
ہاں میں نے اسے کہا تھا کہ شادی سے پہلے گھر میں رہنے کی پریکٹس کر رہے ہیں۔
ہمم ! احان نے مختصر جواب دیا۔
آچھا میری چھوڑو تم بتاٶ زارا کے گھر رشتہ لے کر کب جانا ہے؟اور یہ کون ہے جس سے تمہارے افٸیر کی خبریں چل رہی ہیں۔
کوٸی بھی نہیں بس وہ مجھ میں انٹرسٹڈ تھی تو میں نے یہ خبر اپنے ایک جرنلسٹ دوست کے زریعے میڈیا تک پہنچا دی۔

اوراس کی وجہ زارا ہوگی۔
جانتے ہیں تو پوچھ کیوں رہے ہیں۔
تم کیوں اسے تنگ کرتے ہو؟
کیونکہ بھاٸی محبت اپنی جگہ لیکن کسی کے پیچھے ایسے اندھوں کی طرح بھاگنا کہ اپنا نفع نقصان کی پروا بھی نہ رہے یہ تو سرا سر بیوقوفی ہے۔
اس لٸے پہلے اسے خود کو بدلنا ہو گا۔
تمہاری بھی اپنی منطق ہے ۔
احان کی بات پر اس نے صرف کندھے اچکاۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احان اور سمیع آج ہمایوںں کو لے کر ہاسپٹل آۓ تھے۔
اور پھر مختلیف ٹیسٹ کروانے کے بعد ڈاکٹر سٹیفن نے ہمایوں کو نیورولوجسٹ کے پاس ریفیر کیا تھا۔

احان تو اس کی بات سن کر ہی پریشان ہو گیا۔
پھر وہ سمیع اسے لے کر نیوروسرجن کے پاس گٸے ۔بہت سارے ٹیسٹ کرنے کے بعد ہمایوں کو ایڈمیٹ کر لیا گیا۔
وہ لوگ سیرت کو گھر چھوڑ آۓ تھے۔اس کی پریشانی کو بھانپتے ہوۓ سمیع گھر سے جا کر سیرت کو بھی لے آیا۔تینوں ساری رات ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگتے رہے۔
دوسرے دن ڈاکٹرز کی ایک ٹیم نے ہمایوں کا مکمل چیک اپ کیا اور اس کے بعد احان اور سمیع ک جوروح فرساں خبر سناٸی گٸی احان کو لگا اس کے قدموں کے نیچے سے زمین سرک گٸی ہے۔اس نے خود کو ہوا میں معلق پایا۔
نہ جانے وہ کب سے یہ تکلیف برداشت کر رہے تھے۔انہیں برین ٹیومر تھا۔وہ بھی آخری سٹیج پر احان بچوں کی طرح بلک بلک کر رو دیا۔
ڈاکٹرز نے انہیں بتا دیا کہ ان کی سرجری تو کر دی جاۓ گی ۔لیکن ہو سکتا ہے سرجری کے دوران ہی ان کی موت واقع ہو جاۓ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔