Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ناول ””اجنبی راہوں کے مسافر“

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٢

آج سنڈے تھا تو وہ معمول سے لیٹ اٹھی اماں حاجن صحن میں چارپاٸی بچھاۓ دھوپ سینک رہی تھی۔
سیرت نے صحن کے کونے میں موجود نل کے پاس بیٹھ گٸی ۔منہ دھو کر اٹھی تو اماں بھی اٹھ کر چارپاٸی پر بیٹھ گٸیں۔

ارے دھی! آج تو بہت دیر کر دی اٹھنے میں۔
بس اماں نماز پڑھ کر جو سوٸی تو پتہ ہی نہیں چلا کب دن چڑھ گیا۔”آپ کو بھوک لگی ہو گی نہ ؟“
میں آپ کے لٸے ناشتہ بناتی ہوں۔آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟

بیٹا تجھے ایک ہی چھٹی تھی تو میں نے سوچا کہ چلو تمہاری نیند پوری ہو جاۓ۔

آچھا آپ رات کو کہہ رہی تھی کہ کوٸی دواٸی ختم ہو گٸی ہے۔آپ مجھے پرچی دے دیں ۔میں گھر کا کام کر کے لے آتی ہوں۔
جی بیٹا! وہ اٹھ کر کمرے کی طرف چل دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس وقت وہ بازار سے لوٹی تو اس نے اماں حاجن کے ساتھ ایک اور بوڑھی خاتون اور ایک بہت ہی ماڈرن لڑکی کو بیٹھے پایا۔

اسے دیکھ کر وہ لڑکی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گٸی ۔اور جانچتی نظروں سے سیرت کا جاٸزہ لینے لگی۔جبکہ بوڑھی خاتون نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔
بلیک کلر کے عبایا میں ملبوس سیرت جس کی رنگت میں دھوپ کی تمازت کی وجہ سے سرخیاں سی گھلی تھیں ۔اسے اور خوبصورت بنا رہی تھیں۔

تبھی ان بوڑھی عورت نے ہاتھ پکڑ کر سیرت کو اپنے برابر بیٹھا لیا۔
بیٹا تمہارا بڑا تو کوٸی ہے نہیں ۔مجھے ان بہن بتایا ہے۔تو میں تم سے ہی بات کر لیتی ہوں۔میں اپنے پوتے کے لٸے تمہارا ہاتھ مانگنے آٸی ہوں۔
ان کی بات سن کر وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گٸی۔
آپ کو یہاں کس نے بھیجا ہے؟
کیوں بیٹا کیا ہوا؟
آپ میرے بارے میں جانتی ہیں میں کون ہوں؟
ارے بیٹا !میرے پوتے کی پسند ہو تو آچھی ہی ہو گی۔
آپ کے پوتے کی پسند؟
کیا نام ہے آپ کے پوتے کا؟
احان سلمان علی !سلمان انڈسٹریز کا اونر اب کی بار جواب اس لڑکی کی طرف سے آیا تھا۔وہ قدرت نخوت سے بولی تھی۔
آپ کی بڑی مہربانی ہو گی ۔آپ اپنے پوتے کو بھی سمجھاٸیں اور کسی اپنے جیسے بڑے گھر میں اپنے پوتے کا رشتہ لے کر جاٸیں ۔ہم ایسے رشتے افورڈ نہیں کر سکتے۔
لیکن بیٹا!

اماں ٹھیک تو کہہ رہی ہے وہ اس لڑکی نے انہیں کچھ کہنے سے پہلے ہی ٹوک دیا۔
وہ مایوس سی ہو کر وہاں سے اٹھ کر چلی گٸیں۔

ان کے نکلتے ہی اس نے دروازہ بند کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم دادی کیسی ہیں آپ؟۔
ٹھیک ہوں۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوٸی تھیں۔
دادی کیا ہوا؟
انہوں نے ایک سرد آہ بھر کر اپنے پوتے کے چہرے پر نظر ڈالی۔
بیٹا اس نے منع کر دیا ہے کہ وہ ایسے رشتے افورڈ نہیں کر سکتی۔
آچھا تو آپ اس لٸے پریشان ہیں۔

تو کیا نہیں ہونا چاہٸے ؟
بالکل بھی نہیں۔
کیونکہ آپ کی بہو تو وہی لڑکی بنے گی۔آپ بس دیکھتی جاٸیں۔

یہ کہہ کر وہ ان کے آگے جھکتا ہوا ان سے پیار لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ آفس سے لوٹی تو سامنے ڈھیر ساری پھل اور مٹھاٸی کے ٹوکرے دیکھ کر حیران رہ گٸی۔
اماں یہ کیا ہے؟
مجھے نہیں پتہ بیٹا صبح ایک آدمی آیا تھا۔
اور یہ سب چیزیں اندر رکھ کر یہ کچھ پھول تمہارے لٸے دے گیا۔اماں حاجن نے اس کی طرف سرخ گلابوں کا ایک خوبصورت بکے اس کی طرف بڑھایا۔

اس نے پھول ہاتھ میں لے کر نام پڑھا۔اور انہی قدموں واپس لوٹ گٸی۔
راستے میں سے ہانی کو اپنے ساتھ لے کر وہ سلمان انڈسٹریز چلی آٸی۔وہ بکے ابھی اس کے ہاتھ میں تھا۔
ریسپشن پر اس نے اپنا نام بتایا تو ریسپشنسٹ بولی سوری میم آپ کا نام تو یہاں موجود ہے ۔بٹ سر اس وقت آفس میں نہیں ہیں۔
وہ حیران ہوٸی”میرا نام کون سی لسٹ میں شامل ہے؟“

میم سر سے آپ نے آج کی اپاٸمنٹ لی ہوٸی تھی نہ۔

اس نے تھوک نگل کر سر اثبات میں ہلایا۔آپ کے سر آٸیں تو انہیں یہ بکے دے دیجیے گا۔
یہ کہہ کر وہ بیرونی دروازے کی طرف مڑ گٸی۔

ہانی وہ ایڈوانس میں جانتا تھا کہ میں یہاں آٶں گی۔
تم جانتی ہو میں یہاں جاب کرتی ہوں۔
کیا!تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟

تمہیں میں سارے راستے پوچھتی رہی کہ کہاں جانا ہے؟ لیکن تمہارے منہ کو تو تالے لگے تھے نہ۔
سیرت یہ بہت خطرناک شخص ہے۔یہ تو اپنے دوستوں کو بھی معاف نہیں کرتا۔تو دشمنوں کے ساتھ کیا کرتا ہو گا۔اس سے دشمنی نہ مول لینا۔
ہم چھوٹے لوگ ہیں اور یہ بہت پاور والے لوگ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم جانتی ہو کس کو انکار کر کے آ رہی ہو۔
احان سلمان علی کو جس کے ایک اشارے پر ہمارے جیسے لوگ چینٹیوں کی طرح مسلے جاتے ہیں۔

ہاں دیکھ کر آ رہی ہوں اسے بھی اور اس کے کھڑے کیے گٸے اس ایمپاٸر کو بھی جس کے بل بوتے پر اس نے سب کے دلوں میں اپنی دھاک بٹھا رکھی ہے۔

آچھا کیا دیکھا ہے تم نے میں بھی جاننا چاہوں گا مس سیرت ہمایوں۔

بلیک تھری پیس میں ملبوس اپنی بھرپور وجاہت اور چھا جانے والی شخصیت کے ساتھ وہ ٹانگ پہ ٹانگ جماۓ اس کے گھر میں موجود تھا۔

سیرت کے ساتھ کھڑٕی ہانی نے کانپتے ہوۓ اپنے ساتھ کھڑی سیرت پر ایک نظر ڈالی۔جو بہت اعتماد سے سینے پر ہاتھ بندھے سلمان علی پر اپنی نظریں گاڑھے ہوۓ تھی۔جیسے آنکھوں سے ہی نگل لے گی۔

سلمان علی نے اس کے انداز پر سر جھٹکا اور اپنی ہیزل آنکھیں اس کی براٶن آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اس کے قریب آیا۔اور اس کے کان کے قریب جھکتے ہوۓ گمبھیر لہجے میں بولا۔

مجھے عورت کا یہ انداز پسند نہیں اس لٸے میرے گھر آنے سے پہلے اپنا یہ انداز بدل لو۔

یہ کہہ کر وہ رکا نہیں اور آنکھوں پر سن گاسز چڑھاۓ کوٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔

اس کے جاتے ہی سیرت نے اپنا رکاسانس بحال کیا۔
یار یہ میں بیٹھے بٹھاۓ کس مشکل میں پھنس گٸی ہوں؟

دیکھو سیرت اگر عزت سے تمہارے گھر رشتہ بھیجا ہے تو چپ چاپ مان جاٶ۔
لیکن ایک بات سمجھ نہیں آٸی ۔یہ تم سے شادی کیوں کرنا چاہتا ہے،جبکہ لڑکیاں تو اس کے ارد گرد تتلیوں کی طرح منڈلاتی رہتی ہیں۔ہانی نے ایک انگلی پیشانی پر رکھتے ہوۓ پرسوچ نظریں سیرت کے چہرے پر ٹکا دیں۔
کہیں لو ایٹ فرسٹ ساٸیڈ والا معاملہ تو نہیں ہے۔اس نے شوخی سے سیرت کو چھیڑا۔

جبکہ سیرت گھٹنوں میں منہ چھپا کر رونے لگی۔اس کے رونے پر ہانی گڑبڑا گٸی۔
ارے رو کیوں رہی ہوں؟
تو او ر کیا کروں اللہ اللہ کر کے میری زندگی میں سکون آیا تھا۔
لیکن اب وہ بھی جاتا رہا۔

نہ جانے یہ مصیبتیں کب میرا پیچھا چھوڑیں گی۔
آچھا تم پریشان نہ ہو کچھ سوچتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی ساری رات جاگتے ہوۓ گزری۔اگلی صبح وہ اٹھی تو اس کا سر بھاری ہو رہا تھا۔
وہ ناشتہ کیے بغیر گھر سے نکل آٸی اور سیدھی سلمان انڈسٹریز پہنچی۔
اس نے ریسپشن پر اپنا نام بتایا ۔تو وہاں موجود لڑکی اسے اپنے ساتھ آنے کے لٸے کہا اور مختلف راہداریاں گزر کر ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتی ہوٸی مڑ گٸی۔

سیرت نے نیم پلیٹ پر نام پڑا ”احان سلمان علی “ تھوڑی دیر کھڑے ہو کر اس نے ہمت مجتمع کی اور دستک دے کر اندر داخل ہو گٸی۔

سامنے سربراہی کرسی پر اپنی چھا جانے والی پرسنالٹی کے ساتھ وہ موجود تھا۔اندر داخل ہوتے ہی خوشبو کا ایک جھونکا اس کی ناک سے ٹکرایا۔
یہ ایک وسیع وعریض آفس تھا۔جیسے بہت خوبصورتی سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔

وہ احتراماً کھڑا ہوا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

چاۓ یا کافی۔

کچھ بھی نہیں ۔”اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ جواب دیا۔“

میں ڈاٸریکٹ اپنی بات پر آتی ہوں۔آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟

کیونکہ مجھے ایک بہت ہی شریف اور پردےدار لڑکی چاہٸے ہے۔اور آپ میں مجھے وہ دونوں چیزیں نظر آٸی ہیں۔

اس کی بات پر سیرت نے ہونٹ بھینچ لٸے۔

پھر تو میں آپ کو اپنے بارے میں جو بتانا چاہتی ہوں اس کے بعد آپ یقیناً اپنا فیصلہ بدل دیں گے۔

احان نے گہری نظریں اس کے چہرے پر ٹکاۓ بس خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

میں انار کلی بازار کی ایک رقاصہ خدیجہ خانم کی بیٹی ہوں ۔میری نانی کا تعلق بھی اسی بازار سے ہے ۔
ہاں میرا باپ کوٸی بہت بڑا رٸیس زادہ تھا۔لیکن وہ میرے وجود سے ہی بے خبر ہے۔وہ تلخی سے مسکراٸی۔

جبکہ سامنے والے کی پوزیشن میں زرہ برابر بھی فرق نہیں آیا۔

اس کی بات سن کر احان نے ٹیبل سے گاڑی کی چابی اور اپنا موباٸل اٹھایا۔

چلیں۔
اس کی بات پر سیرت حیران سی اسے دیکھنے لگی۔

نہیں میں چلی جاٶں گی۔

کہاں جاٸیں گی؟
اپنے گھر۔

آپ ابھی میرے ساتھ میرے گھر چل رہی ہیں۔
”اس کی بات پر اعانت سے اس نے ہونٹ بھینچ لٸے۔“
آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں ۔میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔

اس کی بات سمجھتے احان کے ہاتھ ایک پل کے لٸے رکے اور وہ پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔
اس کے کھڑے ہوتے ہی وہ بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گٸی۔

وہ دونوں ساتھ ہی لفٹ میں داخل ہوۓ۔لفٹ کے رکتے ہی وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھی ۔لیکن اس سے پہلے اس کی کلاٸی احان کے مضبوط گرفت میں تھی۔وہ اسے کھینچتے ہوۓ لا کر گاڑی میں بٹھایا ۔
جبکہ سیرت کی آہ بکا جاری تھی۔اس کے آنسو تواتر سے گر رہے تھے۔ اور وہ بے حس بنا گاڑی ڈراٸیو کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احان اسے لے کر جس وقت گھر پہنچا سامنے لاٶنج میں سب لوگ موجود تھے۔اسے کے ساتھ روتی دھوتی لڑکی کو دیکھ کر سب کے منہ حیرت سے کھل گٸے۔

لیکن کسی میں اس سے کچھ پوچھنے کی ہمت نہ تھی۔
وہ اس لڑکی کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوۓ اوپر کی طرف لے کر گیا۔

ایک کمرے کے باہر رک کر اس نے سیرت کا ہاتھ چھوڑا اسے اپنا حلیہ درست کرنے کے لٸے کہا۔”اس کے لہجہ بالکل سرد تھا۔“
سیرت نے جلدی سے اس کے حکم کی تعمیل کی۔
اپنا سٹالر جلدی سے آچھی طرح سے لپیٹ کر اپنے آنسو صاف کیے اور اس کی تقلید میں اس روم میں داخل ہوۓگٸی۔

وہ ایک سٹڈی روم تھا۔اندھیرا ہونے کی وجہ سے کچھ بھی واضح نظر نہیں آ رہا تھا۔

احان نے آگے بڑھ کر لاٸٹ آن کی تو روم میں موجود ایک اور وجود نظر آیا۔

چاچو ! دیکھیں میں کس کو لایا ہوں۔

انہوں نے چشمہ لگایا اور سیرت کی طرف دیکھ کر سوالیہ نظروں سے احان کی طرف دیکھا۔
جبکہ دوسری طرف موجود سیرت جیسے پتھر کی ہو گٸی۔
بالوں میں کہیں کہیں سفیدی جھلک رہی تھی۔ تھوڑے کمزور بھی لگ رہے تھے۔لیکن سیرت نے ایک پل میں اس شخص کو پہچان لیا تھا۔