Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ناول ”اجنبی راھوں کے مسافر“

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١١

وہ کافی کا کپ ہاتھ میں لٸے صحن میں چلی آٸی۔ اس نے کرسی گھسیٹ کر چھاٶں میں رکھی اور بوگن ویلیا کے نیچے کے بیٹھ گٸی۔کہیں پھول شاخوں سے الگ ہو کر اس پر آ گرے۔ اسے اس گوشے میں بیٹھنا بہت آچھا لگتا تھا۔اور جب پھول اس پر آ کر گرتے تو وہ اسے اپنی زندگی کی طرح خوبصورت لگتے۔
پچھلے ایک سال سے اس کی زندگی اتنی خوب تھی کہ اس کی پچھلی تمام محرومیوں کا خاتمہ ہو گیا تھا۔احان نے اس کی ہر خواہش پوری کی تھی ۔اسے کبھی زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
برینڈڈ کپڑے ، بیگ ، جوتے ، واچ ، گولڈ کی ڈیر ساری جیولری اس سب کی تو اس نے کبھی خواہش کی ہی نہیں تھی۔اس نے تو بس ایک خوبصورت اور خوشحال زندگی کی خواہش کی تھی۔ایسی آساٸشات کی اسے کوٸی خواہش نہیں تھی۔لیکن اللہ نے اس کی وہ حسرتیں بھی پوری کی تھی جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔

موف کلر کابرینڈڈ سوٹ جس میں نیوی بلیو دھاگے کا کام کیا ہوا تھا۔کلاٸیوں میں کنگن ، ناک میں ڈاٸمنڈ نوز پن ، ہاتھوں میں بیش قیمت انگوٹھیاں اور پاٶں میں برینڈڈ جوتی پہنے وہ کہیں سے بھی پہلے والی سیرت نہیں لگ رہی تھی۔
اس نے چاۓ چھوڑ کر کافی پینی شروع کر دی تھی اور احان نے چاۓ پینی شروع کر دی تھی۔دونوں ایک دوسرے کی پسند میں ڈھل گٸے تھے۔
اسے لگتا تھا احان کے بغیر اس کی زندگی کچھ بھی نہیں ۔اس کی ذات اس کے ساتھ کے بغیر نامکمل ہے۔
تبھی اس کی گاڑی کا مخصوص
ہارن بجا اور وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گٸی۔
اس کی گاڑی اندر داخل ہوٸی ،گاڑی پارک کر کے وہ مسکراتا ہوا اس کے قریب چلا آیا۔اسے بانہوں کے گھیرے میں لے کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے۔
وہ روزانہ صبح جب گھر سے نکلتا اور شام کو گھر لوٹتا تو یہ اس کا معمول تھا۔وہ سیرت کو اپنی زندگی میں اس کی اہمیت کا احساس دلاتا تھا۔اور وہ آنکھیں بند کر کے اس احساس کو آب حیات کی طرح اپنے اندر اتارتی۔
ڈٸیر واٸفی !کیاکیا آج سارا دن ؟

کچھ بھی نہیں !صرف آرام کیا اور آپ کے لٸے اپنے ہاتھوں سے ڈنر تیار کیا ہے۔

آچھا بہت بھوک لگی ہے ۔میں فریش ہو کر آتا ہوں ،تم کھانا لگواٶ۔
اوکے ۔
کھانے کے بعد وہ دونوں لان میں چہل قدمی کرتے تھے۔اور یہ انکا معمول تھا۔دونوں ایک دوسرے کو سارے دن کی چھوٹی چھوٹی باتیں شٸیر کرتے اس لان میں لگے پھول پودے ان کی باتیں سن کر مسکرا دیتے۔

آج بھی وہ حسب معمول صحن میں نکل آۓ ۔سیرت آج میں بہت خوش ہوں۔
آچھا وہ کیوں؟
جانتی ہو آج پاپا کی کال آٸی تھی۔
آچھا یہ تو واقعی خوشی کی بات ہے۔
انہوں نے ہم دونوں کو لاہور بلایا ہے اگلے ہفتے سمیع کی شادی ہے۔

یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔

کل نہیں تو پرسوں تم تیار رہنا ہم چل کے شادی کے لٸے شاپنگ کریں گے۔

اس کی ایکساٸمنٹ دیکھ کر وہ بھی خوشی سے مسکرا دی۔لیکن دل میں گرا سی تھی ۔نہ جانے اس کے ساتھ سب کا رویہ کیسا ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احان ان دنوں بہت خوش تھا اور اس کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ وہ آج کل سیرت کو بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔
اس کی ہر بات اپنے گھر سے شروع ہو کر اپنے گھر پر ختم ہوتی تھی۔اور تب سیرت کو احساس ہوا کہ شاید ان دونوں کی شادی نہیں ہونی چاٸیے تھی۔
وہ اس کے ساتھ خوش تو تھا لیکن وہ اپنے گھر والوں کو بہت مس کرتا ہے۔
وہ دونوں شاپنگ پر گٸے اور پہلی بار احان نے اسے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ وہ بھی کچھ لے گی۔اس نے گھر کے ہر فردکے لٸے شاپنگ کی تھی۔

اور سیرت کو اس کا خود کو نظر انداز کرنا بہت برا لگ رہا تھا۔لیکن وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔
اسے لگا شاید وہ اس کی محبت اور توجہ کی اتنی عادی ہو گٸی ہے کہ اسے اس کا اپنا گھر والوں کے لٸے فکر کرنا اسے برا لگ رہا ہے۔
اور آج کی رات پہلی بار وہ دونوں ایک دوسرے سے منہ موڑے سو رہے تھے۔یہ ان کے رشتے میں پہلی خلیج تھی۔اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ خلیج گھٹنے کی بجاۓ بڑھنے والی تھی۔
گھر سے نکلتے ہوۓ سیرت کو نہ جانے کیوں رونا آ رہاتھا۔ اسے لگا شاید وہ اب دوبارہ کبھی یہاں نہ آ سکے۔ یہ گجر اس کے لٸے اس کی جنت تھا۔اور یہ جنت اس سے چھیننےوالی تھی۔سیرت نے گھر سے نکلنے سے پہلے ظفر اور اسکی بیوی کو گھر کا بہت سا خیال رکھنے کی تاکید کرتی ہوٸی نکلی۔

احان نے بزنس کا سارا کام۔فاروق صاحب کے حوالے کر کہ وہ دونوں وہاں سے روانہ ہو گٸے۔
جس وقت وہ لوگ لاہور پہنچے رات کے نو بج رہے تھے۔ٹیکسی سےاتر کراحان اسےباہر ہی چھوڑ کربھاگنے کے انداز میں اندر داخل ہو گیا۔ سیرت مرے مرے قدموں سے اس کے پیچھے اندر داخل ہوٸی ۔سب لوگ اس سے بہت خوشدلی سے ملے تھے۔سیرت کے ساتھ سب کا رویہ بس لیا دیا سا تھا۔
سب احان کے گرد جمع تھے۔اسے کسی نے بیٹھنے کے لٸے بھی نہیں کہا وہ خود ایک صوفے پر ٹک گٸی۔اس نےاحان کی طرف دیکھنے سے گریز کیا۔ کیونکہ وہ برداشت کی آخری حدوں پر تھی۔
کھانا لگا تو فاریہ اور مرینہ بیگم نے احان کو دونوں بازٶں سے تھام کر کھانےکی ٹیبل تک لے گٸیں۔
سیرت سب کے بیٹھنے کے بعد بھی انتظار کرتی رہی کہ شاید احان کو اس کی یاد آ جاۓ۔لیکن وہ تو اپنوں میں گم تھا۔اسے سیرت ہمایوں کہاں سے یاد آتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیرت کے لٸے یہ دن کسی امتحان سے کم نہ تھے۔
کچن کا سارا کام اسے سونپا گیا تھا۔احان صبح اس کےجاگنے سے پہلے گھر سے نکل جاتا اور رات گٸے جب وہ اپنے کام کر کہ آتی تو وہ سو چکا ہوتا۔

اسے لگا وہ اسے بھول رہا ہے۔ کراچی سے صفیہ چچی اور انکی بیٹی سارہ بھی آ گٸی تھی۔وہ انہیں لینے اٸیرپورٹ گیا تھا۔
جس وقت وہ انہیں لٸے گھر کے اندر داخل ہوا ۔تو اس کی نظر ڈاٸننگ پر کھانا لگاتی سیرت پر پڑی اور اسے یاد آیا کہ آج اس نے کہا تھا کہ اسے کچھ شاپنگ کرنی ہے ۔اور وہ گھر سے نکل کر اس کی بات کو سرے سے بھول ہی گیا۔وہ ایکسکیوز کرنے کے لٸے اس کی طرف بڑھا لیکن اس سے پہلے ہی مرینہ بیگم اس کے راستے میں آ گٸیں۔
احان بیٹا آ ٶ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔
وہ اس سے بعد میں بات کرنے کی سوچتا ہوا ماں کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
سیرت نے اپنی پلکوں پر اٹکے آنسو کو دوپٹے کے کونے سے صاف کیا اور بوجھل دل سے باقی کے کام نبٹانے لگی۔
کھانے کے ٹیبل پر آج بہت دنوں کے بعد احان کو محسوس ہوا کہ سیرت کہیں نہیں ہے۔وہ اسے ڈھونڈتا ہوا کچن میں آیا جہاں وہ دادی کے لٸے پرہیزہ کھانا بنا رہی تھی۔
تم کیا کر رہی ہو ؟یہاں چلو چل کے کھانا کھا لو۔
”اس نے اپنے شوہر کی معصومیت پر غصہ آیا جسے اتنے دنوں میں یہ بھی نہیں پتہ چل سکا کہ اسکی بیوی کو تو سارا وقت کچن میں ہی گزرتا ہے۔
آپ کھاٸیں میں دادی کو کھانا دے کر آتی ہوں۔
وہ تھوڑی دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا لیکن اسے اپنے کام میں مگن دیکھ کر وہ باہر نکل گیا۔اس کے بعد اس کا سارا دھیان اس کی طرف ہی رہا۔لیکن وہ اسے نظر نہیں آٸی۔
کمرے میں آکر وہ اس کا انتظار کرنے لگا۔نیند کا سخت غلبہ ہونے کے باوجود وہ سر جھٹک کر جاگنے کی کوشش کرنے لگا۔
اسے ان دنوں نہ جانے کیا تھا وہ کمرے میں آتے ہی سو جاتا۔بہت کوشش کے باوجود وہ جاگ نہیں سکتا تھا۔

دروازے کے باہر کھٹ پٹ کی آواز سن کر وہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوۓ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
دروازے سے اندر داخل ہوتی سیرت کو اسے جاگتے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوٸی۔
تم اتنی دیر سے کیوں آٸی ہو کمرے میں؟
میں تو روز ہی اسی وقت آتی ہوں ”وہ اکھڑے انداز میں بولی۔“
تم مجھ سے ناراض ہو؟
تو کیا نہیں ہونا چاہٸیے؟
یار آٸی نو ان دنوں میں تمہیں وقت نہیں دے سکا ۔لیکن تم بھی تو سوچو میں کتنے عرصے کے بعد گھر والوں سے ملا ہوں۔

اوکے !لاٸٹ بند کر دیں ۔مجھے نیند آ رہی ہے۔

سیرت میری بات ابھی مکمل نہیں ہوٸی ہے۔
مجھے ابھی نیند آ رہی ہے احان آپ اپنی وکالت پھر کبھی سناٸیے گا۔
تم مجھ سے یہ کس لہجے میں بات کر رہی ہو؟
”اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوۓ اس نے اٹھا کر بیٹھا دیا تھا۔
تو کس لہجے میں بات کروں؟۔

تم میرے گھر والوں سے اس قدر جیلس ہوتی ہو سیرت کے تمہیں میرا ان سے دو دن ہنس کر بولنا بھی ناگوار گزر گیا ہے۔
”اس کے الزام پر وہ ششدر اسے دیکھنے لگی۔“
جانتی ہو تمہارٕ لٸے میں ان سب کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
غلط کیا تھا آپ نے ،نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔اور میرے لٸے تو الکل بھی نہیں۔
تم سے شادی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
تو وہ غلطی اب سدھار لیں۔
ایک زوردار طمانچہ سیرت کے منہ پر پڑا تھا۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے ہکا بکا اسے دیکھنے لگی۔
احان نے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور اپنا ہاتھ زور سے دیوار پر دے مارا۔
اس میں سیرت کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

آٸی ایم سوری سیرت مجھے تمہاری بات پر ایسے ری ایکٹ نہیں کرنا چاٸیے تھا۔بس یہ شادی ختم ہونے دوہم لوگ اپنے گھر لوٹ چلیں گے۔سب کچھ ٹھیک ہوجاۓ گا۔”وہ اپنی بات مکمل کر کے مڑا تو کمرا خالی تھا ۔وہ نہ جانے کب وہاں سے جا چکی تھی۔
وہ دونوں ہاتھ بالوں میں پھنساۓ بیڈ پر بیٹھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔