Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ناول ” اجنبی راہوں کے مسافر“

از قلم زرش نور
قسط نمبر ٣

سیرت کواپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
کیا جو وہ دیکھ رہی ہے ، وہ سچ ہے یا پھر میں کسی خواب کی کیفیت میں ہوں۔

چاچو ! یہ آپ کی بیٹی ہے ، سیرت۔۔۔۔۔۔۔۔

سیرت نے چشمے کے پیچھے بھی ان کی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھ لٸے۔
احان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے ان کے پاس آنے کے لٸے کہا۔

لیکن وہ الٹے پاٶں دروازے کی جانب بڑھی ، اور باہر کی طرف بھاگی۔

ہمایوں علی خان نے مایوسی سے احان کی طرف دیکھا۔

اس نے آنکھوں کے اشارے سے ان کو حوصلہ دیا ، اور اس کے پیچھے باہر نکل آیا۔

وہ ابھی سیڑھیوں کی طرف بڑھنے والی تھی۔تبھی اسے کسی نے کھینچ لیا۔

اس نے نے دیکھا تو وہ احان تھا۔
سیرت نے غصے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کروانا چاہا ۔لیکن ناکام رہی۔

آپ کے ساتھ کیا مسٸلہ ہے؟ جانے دیں مجھے۔

یہ تمہارے باپ کا گھر ہے ۔اور یہاں سے اب تم کہیں نہیں جا سکتی۔

مجھے جب باپ کی ضرورت تھی ، تب تو وہ میرے پاس نہیں تھے۔

اب مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کون ہوتے ہیں مجھے یہاں لے کر آنے والے یا پھر میرے بارے میں کوٸی فیصلہ کرنے والے۔انہیں آج میری یاد آٸی ہے جب وہ وہیل چٸیر پر بیٹھے ہیں۔چلتے پھرتے انہیں میری یاد نہیں آٸی۔مجھے اس شخص سے کوٸی ہمدردی نہیں ہے۔آپ کی مہربانی ہو گی ۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں۔

میں اپنی بات بار بار دہراتا نہیں ہوں۔ میں نے جو بات ایک بار کہہ دی ہے تو بس کہہ دی ہے۔
تم اب پاتال میں بھی جا کر چھپ جاٶ تو میں تمہیں ڈھونڈ کر لے آٶں گا۔

باقی رہی بات چاچو کی ۔انہیں جب تمہارے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے تمہیں اور چچی کو بہت ڈھونڈا لیکن شاید ان کی یہی سزا تھی کہ وہ چچی سے ان کے زندگی میں کبھی نہیں مل سکے۔

اور اسی ٹینشن میں ایک دن آفس سے گھر آتے ہوۓ ان کا ایکسیڈنٹ ہو ا او ر وہ پچھلے ٢٠ سال سے وہیل چٸیر پر ہیں۔ وہ دونوں ٹانگوں سے مفلوج ہیں۔

انہوں نے تم سے چاہے جو بھی کیا ہو لیکن تمہیں اب ان کا حوصلہ بننا ہو گا۔

مجھے ان سے بہت محبت ہے، لیکن انہیں صرف تمہاری محبت کی ضرورت ہے۔
اگر تم اپنی خوشی سے یہ سب کرو گی تو ٹھیک نہیں تو میں زبردستی بھی کروا سکتا ہوں۔

وہ نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑے اس واپس ان کے پاس لے کر آیا۔اور دونوں کو اکیلے چھوڑ کر خود نیچے آ گیا۔

سیرت اپنی جگہ پر بت بنی کھڑی رہی ۔ہمایوں علی نے ہاتھوں کی مدد سے وہیل چٸیر لے کر اس کے سامنے آۓ اور دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ دٸے۔

ان کے جڑے ہاتھ اور آنسو دیکھ کر اس کا دل پگھلا اور وہ ان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گٸی۔

دونوں کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
ہمایوں خان نے کاکانپتا ہوا ہاتھ اس کے سر پر آ ٹھرا۔

سیرت نے آنکھیں میچ لیں اسے لگا وہ تپتی دھوپ میں ننگے پاٶں چلتی اچانک گھنی چھاٶں میں آ گٸی ہو۔
ساتھ ہی اسے اپنی ماں کو یاد کر کے اس کے رونے میں اور روانی آ گٸی۔
ہمایوں خان نے اسے دونوں بازٶں سے تھام کر کھڑا کیا اور پاس پڑے صوفے پر بیٹھایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احان نیچے آیا تو سب لوگ اس کے منتظر تھے۔
دادی ، ماں ، بابا ، چچی اشعر فاریہ وہ سب کی نظروں کو نظر انداز کرتا ہوا دادی کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔اور ان ہیں اپنے حصار میں لے کر ان کا پیشانی چومی۔

احان بھیا یہ لڑکی آپ کو کہاں ملی ہے۔جانتے ہیں یہ کون ہے۔

فاریہ کی بات پر اس نے رخ موڑ کر سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

یہ میری کلاس فیلو ہے ، اور آپ جانتے ہیں یہ ایک طوا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہمایوں چچا کی بیٹی ہے۔

اس نے فاریہ کو بات پوری کرنے کا موقعہ نہیں دیا۔

لیکن احان بھیا۔۔۔۔۔۔

فاریہ بس اور کچھ نہیں ۔۔۔”اس نے تنبیہی نظروں سے گھورا۔“

خدیجہ چچی اور ہمایوں چچا کی بیٹی ہے ۔
وہ ملی ہے ہمایوں سے ؟

احان نے ماں کی طرف دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا۔

چلو شکر ہے شاید اب وہ زندگی کی طرف لوٹ آۓ۔
اور ان کی بات پر سب نے ہی یک زبان ہو کر انشا ٕاللہ کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیرت کی نظریں ان کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔اور وہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ اس بوڑھاپے میں اتنے خوبصورت ہیں تو جوانی میں کیا ہوۓ ہوں گے۔

اور ان کی نظریں بیٹی کے چہرے میں خدیجہ کے نقش ڈھونڈ رہے تھے۔لیکن ناکام رہے ۔کیونکہ وہ ہوبہو ان کی کاپی تھی۔بس رنگت ماں پہ گٸی ۔

بیٹا اپنی دادی سے ملی ہو ؟

نہیں بابا۔

اسکے بابا کہنے پر ان کی آنکھیں پھر سے نم ہوٸیں۔

جاٶ ان سے مل لو۔
وہ کچھ دیر تنہاٸی چاہتے تھے۔

وہ بھی خاموشی سے اٹھ گٸی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احان فون پہ بات کر رہا تھا۔تبھی اسکی نظر سیڑھیوں کی طرف اٹھی جہاں سے وہ اپنا گاٶن سنبھالتی نیچے آ رہی تھی۔
اسے دیکھ کر سبھی لوگ کھڑے ہو گٸے اور فاریہ کے علاوہ سب ہی بہت خوشدلی سے ملے۔ وہ دادی اور سلمان علی کے درمیان میں بیٹھ گٸی۔
اسے سب لوگ بہت آچھے لگے ۔بس تھوڑے ماڈرن زیادہ تھے۔فاریہ کو تو وہ کالج سے ہی جانتی تھی۔

اور اس کے پہناوے سے اسے اس کے سٹیٹس کا اندازہ ہوتا تھا۔
اس کی چچی اور تاٸی کی سلیویس لیس بازو والے کپڑے دیکھ کر وہ اپنی نظریں شرم سے جھکا لیں۔

احان غور سے اس کے بدلتے رنگ دیکھ رہا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔وہ ماں اور چچی کو دیکھ کر بار بار نظریں کو کیوں پھیر رہی تھی۔

وہ کال بند کرتا ہوا اسکے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ۔تو سیرت نے بےساختہ اس کی طرف دیکھا۔

جس کے جواب میں اس نے ابرو اچکا کر پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلاتی رخ موڑ گٸی۔

وہ اٹھ کر جانے لگا تو وہ بھی کھڑی ہو گٸی۔

مجھے بھی چھوڑ دیں۔

کہاں؟

سب کی سوالیہ نظریں اس پر ٹکی تھی۔

میں شام تک واپس آ جاٶں گی۔

لیکن جانا کیوں ہے؟

میں گھر میں کسی کواکیلا چھوڑ کر آٸی ہوں۔

اوکے چاچو کو بتا آٶ۔

وہ تیزی سے اوپر کی طر ف بڑھ گٸی۔

احا ن یہ واپس آۓ گی۔

اپنے خدشات کو زبان دیتے ہوۓ دادی نے احان سے پوچھا۔

انہیں لگا شاید جو کچھ اس کے ساتھ ہوا ہے ۔وہ یہاں واپس نہ آۓ۔

دادی آپ پریشان نہ ہوں میں اسے ساتھ لے کر آٶں گا۔

اس نے فون پر اپنی سیکریٹری کو کچھ ہدایات دیں اور باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے جس وقت گاڑی اس کے گھر کے باہر روکی بہت سے گھروں کے دروازے وا ہوۓ اور عورتیں عجیب نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔ احان نے نوٹ کیا وہ بے پرواٸی سے اندر کی طرف بڑھ گٸی۔

سیرت کے گھر کے اندر جاتے ہی وہ قریب ہی موجود کچھ بزرگ حضرات کے پاس آیا اور ان سے مصحافہ کرنے کے بعد اس نے اپنا تعارف کروایا اور سیرت کے متعلق انہیں آگاہ کیا کہ وہ اس کے چچا کی بیٹی ہے اور وہ اب یہاں نہیں رہے گی۔

سب لوگ تو اس کی وضع قطع سے ہی متاثر ہو گٸے تھے۔

وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو وہ مزے سے کرسی پر بیٹھی ٹانگیں اماں حاجن کی چارپاٸی پر رکھے ان سے خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔

اسے دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹی اور ٹانگیں نیچے کر کے اس کے لٸے کرسی خالی کر دی۔

اسےلگا تھاوہ چلا گیا ہے۔

جلدی کر و تمہیں واپس گھر چھوڑ کر میں نے آفس بھی جانا ہے۔

لیکن میں نے تو بابا کو رات رکنے کے لٸے کہا تھا۔

نہیں وہ پھر آٶ گی تو رہ لینا۔

تم ایسا کرو اماں جی کے بیٹے اور بہو کو کہو وہ بھی یہی تمہارے گھر پر آ جاٸیں۔
ٹھیک ہے۔

اماں آپ کے پاس اپنے بیٹے کا نمبر ہو تو مجھے دیں۔

میرے پاس ہے میں دیتی ہوں۔
سیرت کہہ کراندر کمرے کی طرف بڑھ گٸی۔

اسے نمبر دے کر وہ وہیں کھڑی ہو گٸی تو وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔

اس کے دیکھنے پر وہ گڑبڑا گٸی۔

تم جاٶ نہ اپنی پیکنگ کرو زیادہ کچھ لے کے چلنے کی ضرورت نہیں ہے بس جو ضروری چیزیں وہ لے چلو۔
وہ سر ہلاتی دوبارہ سے اندر کی طرف مڑ گٸی ۔جبکہ وہ فون پر مصروف ہو گیا۔

أیک گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی جب وہ واپس نہ آٸی تو وہ دروازے کی طرف دیکھتا ہوا الجھن سے پہلو بدلنے لگا۔

تبھی وہ بڑے بڑے دو بیگ اٹھاٸی باہر آٸی۔جنہیں دیکھ کر احان نے کچھ کہنے کے لٸے منہ کھولا اور پھر کچھ سوچ کر خاموش ہو گیا۔
چلیں۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔آپ یہ گاڑی میں رکھیں میں باقی سامان لے کر آتی ہوں۔

کیا مطلب ابھی اور بھی سامان ہے؟

جی ہاں ۔کیوں؟

نہیں ویسے ہی ۔۔۔جاٶ لے آٶ ۔
وہ اماں حاجن سے رخصت لے کر باہر نکل آیا۔

وہ گاڑی میں بیگ رکھ رہا تھا ، تبھی وہ ایک بڑی سی پیٹی اٹھاۓ اندر سے نمودار ہوٸی اس کے پیچھے دو چھوٹے چھوٹے لڑکے بھی تھے۔جنہوں نے دو پیٹیاں اور اٹھا رکھی تھی۔

وہ سخت بیزار ہوا۔
اب ان میں کیا ہے؟

ان میں میری کتابیں ہیں۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پیٹیاں سیٹ کر کے اس کی طرف مڑا ۔

بس اب چلیں یا ابھی کچھ اور رہتا ہے۔

نہیں بس اب چلیں۔
اوکے بیٹھو۔
یہ کہہ کر اس نے گاڑی کی فرنٹ سیٹ سنبھالی اور دو اجنبی ایک سفر کی طرف روانہ ہوۓ۔

اب وقت ہی بتاۓ گا کہ وہ ایک راہ کے مسافر رہتے ہیں یا نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاٸک کرنے میں کنجوسی نہ کریں۔