Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

ناول ” اجنبی راہوں کے مسافر“

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١٠

سیرت چٸیر پر بیٹھی احان کی کارواٸی مطلع کر رہی تھی۔تھی۔جو پچھلے آدھے گھنٹے سے وارڈروب میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد اس نے اپنی مطلوبہ چیز برآمد کی اور اسے لے کر ایک ساٸیڈ پہ رکھے دیوان پر بیٹھ گیا۔
وہ ایک بلیک کلر کی فاٸل تھی۔جس کے باہر جلی حروف میں احان سلمان علی لکھا تھا۔وہ کافی دیر اس کے ورق الٹ پلٹ کر دیکھتا رہا۔
پھر اس نے ایک موباٸل میں کوٸی نمبر ڈاٸل کیا۔

اسلام علیکم ! فاروق صاحب کیسے ہیں آپ ؟ میں نے آپ کو بتانا تھا کہ میں کل اسلام آباد آ رہا ہوں۔
نہیں میٹنگ کوٸی نہیں ہے۔آپ ایسے کریں کے ظفر سے کہٸیے گا کہ وہ اپنی بیوی سے گھر کی صاف صفاٸی کرو ا دے۔
اوکے پھر کل ملتے ہیں۔

کال بند کر کے اس کی نظر سیرت پر پڑی۔
ارے تم ابھی تک یہی بہٹھی ہو؟

جی۔۔۔۔۔۔۔میں جاٶں یہاں سے۔

ارے میرا یہ مطلب نہیں ہے۔

آچھا آٶ میر ے ساتھ ”وہ اسکا ہاتھ پکڑے اسے وارڈروب تک لایا اور اسے کھول کر ایک سادہ سا سوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
تم چٕنج کر لو۔پھر بات کرتے ہیں۔
وہ کپڑے ہاتھ میں لٸیے باتھ روم میں گھس گٸی۔
وہ تھوڑی دیر کے بعد باہر نکلی تو احان نے اس کی طرف ایک مسکراہٹ اچھالی اور بیڈ پر اپنے قریب اس کے لٸے جگہ بناتے ہوۓ اسے بیٹھنے کے لٸے کہا۔

وہ اس کے قریب بیٹھنے میں متامل تھی۔جب اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب بٹھایا۔

دیکھو سیرت مجھے کچھ وقت چاھٸیے۔چاچو کا ایسا اچانک چلے جانا اور پھر گھر والوں کا رویہ میں الجھ کر رہ گیا ہوں۔
تم جانتی ہو مجھے اب کاروبار بھی نٸے سرے سے شروع کرنا پڑے گا۔
سمجھو کہ اب مجھے زیرو سے دوبارہ سٹارٹ کرنا پڑے گا۔
مجھے تم سے شادی کے فیصلے پر کوٸی افسوس نہیں۔
لیکن مجھے کچھ وقت چاٸیے اس نٸے رشتے کو اپنانے کے لٸے۔
تم میرا ساتھ دینااور جہاں تمہیں میری ضرورت ہو گی تم مجھے اپنے ساتھ پاٶ گی۔
صبح ہم اسلام آباد جا رہے ہیں۔وہاں میرا اپنا گھر بھی ہے۔اور پھر میں اب آگے کام وہیں سے شروع کروں گا۔صبح آٹھ بجے کی ہماری فلاٸٹ ہے۔
تم اپنی پیکنگ کر لو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشعر کو لگ رہا تھا اس کی زندگی میں اب سکون ہی سکون ہے۔
وہ پانچ بجے گھر لوٹ آتا تھا۔آج بھی حسب معمول وہ گھر لوٹا تو عنایا اسے کہیں نظر نہ آٸی ۔وہ اس کی بابت پوچھنے کے لٸے کچن میں ماں کے پاس آیا۔تو سامنے کا منظر اس کے لٸے خوشگوار حیرت لٸے تھا۔جہاں عنایا صوفیہ بیگم کی معیت میں روٹی بنا رہی تھی۔اور ساتھ ہی اس کے روٹی ڈالنے کے بعد روٹی کی شکل دیکھ کر دونوں کے قہقے گونج رہے تھے۔
عنایا نے ہنستے ہوۓ دروازے کی طرف دیکھا تو اسی کی ہنسی کو بریک لگ گٸی۔جہاں اشعر کھڑا حیران نظرو ں سے اس کام کرتے دیکھ رہا تھا۔
ماں مجھے بہت بھوک لگی ہے پلیز جلدی سے روٹی دیں۔
عنایا نے جلدی سے اس کے لٸے سالن نکالا اور روٹی اس کے آگے رکھ دی ۔صوفیہ بیگم نماز کے لٸے چلی گٸی اور عنایا اس کے سامنے بیٹھ کر پر شوق نگاہوں سے اسے کھانا شروع کرتے دیکھنے لگی۔
پہلا لقمہ لیتے ہی اشعر کو دل کیا کہ وہ واپس اگل دے ۔لیکن جب نظر عنایا پر پڑی تو مسکرا کر اسے ہاتھ کے اشارے سے بہت آچھا کی نوید دی۔جس پر وہ بہت خوش ہو گٸی اور آگے بڑھ کر اسکی پلیٹ سے ہی ایک نوالا لیا اور اگلے ہی لمحے وہ ڈسٹ بن پہ جھک گٸی تھی۔اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا۔اس نے مڑ کر رغبت سے اشعر کو کھاتے دیکھا اور اس کے آگے سے سالن اٹھا دیا۔
کیا کر رہے ہو ؟یہ کوٸی کھانے کے قابل ہے جو تم کھا رہے ہو؟

سوری اشعر میں کوشش کر رہی ہوں لیکن پھر بھی روز کچھ نہ کچھ الٹا ہو جاتا ہے ۔
تم نے آج سالن میں نمک ڈالا ہے یا نمک میں سالن بنایا ہے۔
اس کو پہلے ہی رونا آ رہا تھا۔اشعر کی اس بات پر بن برسات بارش ہونے لگی۔
ارٕے پلیز پلیز رونا نہیں ۔میں تو بس مزاق کر رہا تھا۔یار پلیز چپ ہو جاٶ دیکھو کوٸی بات نہیں تم چھوڑو یہ کھا نا وانا بنانا میں روز باہر سے لے آٶں گا۔لیکن پلیز رونا نہیں۔
اسے روتے دیکھ کر اس کی اپنی شکل رونے والی ہو گٸی ۔
اس کی حالت دیکھ کر عنایا روتے ہوۓ ہنسنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت کی آنکھ سات بجے کے قریب کھلی تو کمرا خالی تھا وہ ہڑبڑا کر اٹھی ۔اس کا اور احان کا سامان کمرے میں نہیں تھا۔
وہ اپنے کپڑے لے کر واش روم میں گھس گٸی۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آٸی تو وہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ صوفے پر بیٹھا تھا۔سیر ت کو دیکھ کر اس نے کلاٸی میں بندھی گھڑی پر نظر دوڑاٸی۔
کتنا ٹاٸم اور لگے گا تمہیں ”وہ نارمل انداز میں بولا۔
بس دس منٹ ۔

اوکے میں نیچے تمہارا ویٹ کر تا ہوں جلدی آنا۔
اس نے صرف اثبات میں سر ہلایا۔اور تیز تیز ہاتھ چلانے لگی۔

بال سلجھا کر انہیں پونی میں مقید کیا اور بڑی سی واٸٹ کلر کی۔چادر لے کر بیگ کندھے پر ڈالتی ہوٸی بیرونی دروازے کی طرف مڑ گٸ۔
اسے سیڑھیوں سے اترتے دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

احان کے سامنے کھڑی مرینہ نے سیرت پر ایک سلگتی نظر ڈالی۔
اور احان سے مخاطب ہوٸیں۔

احان اگلے ہفتے سمیع اور زارا کی منگنی ہے ۔تب تک ر ک جاتے بیٹا۔
نہیں ماں مجھے وہاں بہت سا کام ہے ۔
لیکن احان۔۔۔۔۔۔
مرینہ جانے دو اس کو۔سلمان علی کی آواز کسی بھی احساس سے خالی تھی۔
وہ ماں کی پیشانی پر لب رکھے اور بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔

سیرت نے دونوں کو اللہ حافظ کہا تو دونوں نے ہی منہ موڑ لیا۔

وہ بوجھل دل سے باہر نکل آٸی۔

سامنے احان اسے گیٹ سے باہر جاتا دکھاٸی دیا۔
وہ اس کی معیت میں باہر نکلی تو وہ ٹیکسی کا دروازہ وا کیے اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔

اس کے بیٹھنے کے بعد وہ بھی اسکے مقابل بیٹھا اور دونوں نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھا۔اورڈراٸیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

تمہارا بیٹا کچھ زیادہ ہی خدار ہے اس گھر کی گاڑی میں اٸیرپورٹ تک جانا بھی گوارہ نہیں کیا۔ونڈو سے دیکھتے سلمان علی نے اپنی زوجہ کو مخاطب کیا ۔جو اس کے جانے پر سر جھکاۓ آنسو بہا رہی تھی۔
یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے۔نہ جانے وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جب یہ لڑکی ہماری زندگیوں میں شامل ہوٸی تھی۔میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی،کبھی نہیں۔

ہمایوں خود تو چلا گیا اس منحوس کو میرے بیٹے کے سر تھوپ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد اٸیر پورٹ سے گھر تک پہنچتے پہنچتے لگ بھگ دو گھنٹے لگ گٸے تھے۔
سیرت کا خیال تھا کوٸی چھوٹا موٹا فلیٹ ہو گا ۔لیکن پوش علاقے میں ایک بہت ہی خوبصورت اور بڑا گھر تھا۔احان کے لاہور والے گھر جتنا بڑا ویسا ہی خوبصورت ، وہ ٹیکسی سے اترے تو چوکیدار بھاگ کر آگے آیا اور احان کے ہاتھ سے سامان لیا اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔

گھر کے اندر داخل ہوۓ تو ایک ساٸیڈ پہ گیراج تھا جس میں دو گاڑیاں کھڑی تھی۔جبکہ دوسری طرف بہت ہی خوبصورت گارڈن تھا جس میں رنگ برنگے پھول لگے تھے۔ ایک ساٸیڈ پہ بوگن ویلیا گھر کے دوسرے پورشن تک جا رہی تھی۔جابجا بوگن ویلیا کے پھول گرے پڑے تھے۔

احان نے اس کے چہرے پر خوشی اور اشتیاق کی مل جلی کیفیت دیکھی تومسکرا دیا۔

کیسا لگاگھر ؟
بہت خوبصورت میرے خوابوں جیسا۔
کیا یہ ہمارا گھر ہے؟
اس کے اس معصوم سوال پر وہ مسکرا دیا ۔”ہاں ہمارا گھر ہے تمہارا اور میرا۔“

اب وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اندرونی طرف لے گیا اور سیرت نے گھوم پھر کر اگلے دس منٹ میں پورا گھر دیکھ چکی تھی۔

میڈم گھر دیکھ لیا ہے نہ اب میرے لٸے آچھی سی کافی بنا کر لاٶ۔
کافی ۔۔۔۔۔۔
جی کافی۔۔۔۔
وہ کچن کی طرف بڑھ گٸی اور ٹھیک دس منٹ کے بعد دو کپ ٹرے میں رکھے باہر آٸی۔ایک کپ اس نے خود لیا اور دوسرا کپ احان کے آگے رکھ دیا۔
اسے تجسس ہوا وہ اتنی آسانی سے مان گٸی اور اتنی جلدی کافی بنا کے بھی لے آٸی۔اس نے آگے ہو کر کپ اٹھایا تو دیکھ کر ایک نظر کپ پر ڈالی اور دوسری سیرت پر جو مزے سے کپ لبوں سے لگاۓ اسے دیکھ رہی تھی۔
یہ کیا ہے؟ احان نے کپ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا۔

یہ وہ آگے بڑھی اور جھک کر اس کے کپ میں دیکھا۔اسے چاۓ کہتے ہیں۔
جی وہ مجھ نظر آ رہا ہے۔
تو پھر پوچھ کیوں رہے ہیں؟”بڑی معصومیت سے آگے سے پھر سے سوال آیا تھا۔
دس از ناٹ فٸیر تم جانتی ہو مجھے چاۓ آچھی نہیں لگتی۔

آچھا یہ تو تب سوچنا تھا نہ جب مجھے کہہ کر گٸے تھے۔
کہ میں تم سے پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں، شام کو ہمارا نکاح ہے۔
سیرت مجھے کافی چاٸیے۔
کچن اس ساٸیڈ پہ ہے۔وہ انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔
اور وہ اسے گھورتے ہوۓ چاۓ کے چھوٹے چھوٹے سپ لینے لگا اور آج اسے چاۓ اتنی بری نہیں لگ رہی تھی۔
اسے چاۓ پیتے دیکھ کر وہ اٹھی اور کچن کی طرف بڑھ گٸی اور واپس لوٹی تو اس کے ہاتھ میں ایک اور کپ تھا۔
وہ احان کے قریب آٸی اور اس کے ہاتھ سے چاۓ کا کپ لے کر اس کے ہاتھ کافی کا کپ دیا۔

اور وہ حیرن اسے دیکھ رہا تھا۔

یہ کیا تھا؟
یہ آپ کا ٹیسٹ تھا۔کہ کیا آپ کبھی میری پسند کو بھی اپنا سکتے ہیں۔
آچھا ابھی بھی کوٸی شک ہے کیا۔
جی نہیں شک تو پہلے بھی نہیں تھا۔
احان نے اسے بازٶں کے حصار میں لیتے ہوۓ اپنے قریب کیا۔

آچھا ایسی بات ہے تو پھر یہ چاۓ کا کپ میرا اور یہ کافی تمہاری۔
کیا۔
جی کیا کیا نہیں ابھی یہ کافی کا کپ پورا تم پیو گی۔

وہ اس کے ہاتھ سے کپ لے کر برے برے منہ بنانے لگی۔
اس کی شرارت اسی پہ بھاری پڑ گٸی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔