No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ناول ”اجنبی راھوں کے مسافر “
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٢ سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
محسن میری آنکھ سے اوجھل ہوا نا جب
سورج تھا میرے سر پر مگر رات ہو گٸی
وہ سر تھامے کافی دیر بیٹھا رہا۔بہت کوشش کے باوجود وہ خود میں اتنی سکت نہیں پا رہا تھا کہ وہ اٹھ کر سیرت کے پیچھے جا سکے اور پھر بیٹھے بیٹھے اس کا دماغ غنودگی میں چلا گیا۔
دوبارہ جس وقت اس کی آنکھ کھلی سورج سوا نیزے پر تھا۔
کافی دیر کسلمندی سے وہ بیڈ پر پڑا رہا ۔کھٹ پٹ کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تو سیرت الماری میں سر دٸیے کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔اسے دیکھ کر اس کی ساری حسیات جاگ اٹھی اور وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور اس سے بھی تیزی سےاس سیرت دروازے کی طرف مڑی اور اس کے پہنچنے سے پہلے ہی دروازہ ٹھک کی آواز کے ساتھ بند ہو چکا تھا۔
وہ شاور لےکر چینج کر کے نیچے آیا تو اسے اس کی ایک جھلک کچن کے کھلے دروازے سے نظر آٸی۔
وہ سیدھا کچن کی طرف بڑھا سیڑھیوں سے اترتی مرینہ بیگم نے احان کو اپنے پاس بلایا لیکن وہ ان کی آواز نظر انداز کرتا کچن میں چلا آیا۔جہاں وہ لنچ کی تیاری میں مصروف تھی۔وہ کبرڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
سکینہ بی آپ کے ساتھ جو دوسری ملازمہ ہوتی تھیں نوری وہ کدھر ہیں؟
صاحب وہ بھی ادھر ہی ہیں ۔وہ جی نوری اور شرافت مل کر گھر کی صاف صفاٸی کرتے ہیں۔
ہممم! ٹھیک ہے آپ نوری کو اپنے ساتھ کچن میں کام پہ رکھیں اور شرافت کو بولیں وہ شادی تک اپنے دونوں بھاٸیوں کو بھی لے آۓ کام پر۔
لیکن صاحب بڑی بی بی جی نے منع کیا ہے کہ نوری کچن کے کام نہیں کرے گی۔۔
میں جو آپ سے کہہ رہا ہوں وہ کریں ۔اور ہاں ابھی دو گلاس جوس بنا دیں۔
سیرت بظاہر اپنے کام میں مصروف تھی ۔لیکن اس کا سارا دھیان اس کی باتوں کی طرف تھا۔
اپنی مکمل کر کے وہ آگے بڑھا اور سیرت کا ہاتھ پکڑتا اسے گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ باہر لایا اور پھینکنے کے انداز میں ہال میں موجود صوفے پر اسے بٹھایا۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے وہ اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیتا اسے واپس پہلے والی پوزیشن میں بٹھا چکا تھا۔
ایک ہاتھ سے اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لٸے دوسرے ہاتھ میں موباٸل پکڑے کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔
سیرت سب کی موجودگی میں شرمندہ سی سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔
جبکہ سمیع نے گلا کھنکھار کر احان کو اشارے سے پوچھا ”یہ کیا ہے۔“
اور اس کی بات پر اس نے مسکرا کر سیر ت کو دیکھا جو شرمندہ سی نظر آ رہی تھی۔
مرینہ بیگم کی آنکھوں میں چنگاریاں سی بھری تھیں۔انہوں نے سارہ کو اشارے سے احان کے پاس جانے کو کہا۔
احان مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے پلیز مجھے لے چلو۔ ”سارہ نے بڑی لجاجت سے احان کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ اسے کہا۔“
سارہ تم ایسا کرو مما کی گاڑی لے جاٶ اور ساتھ فاریہ کو لے کر جاٶ۔
میں نے آج اپنی واٸفی کو شاپنگ کروانی ہے۔
یہاں آ کر پہلی بار اسے سیرت کے لٸے اس طرح پوزیسیو دیکھ کر فاریہ اور مرینہ بیگم حیران تھی۔ان کا خیال تھا کہ وہ ان دونوں میں تعلقات نہ ہونے کے برابر ہے۔
احان کا اس کے حوالے سے لاپروا سا انداز اور سیرت کا بھی اس سے کھیچا کھیچا سے رویے سے ان دونوں نے کچھ اور ہی اخذ کیا تھا۔
آچھا چلو میں تم دونوں کے ساتھ ہی چلی چلتی ہوں۔
نہیں یار ہمیں پراٸیویسی چاٸیے تم کسی اور کے ساتھ چلی جاٶ۔
اور اس کی اس بات پر سب کا منہ کھل گیا۔
وہ تو بہت کٸیرنگ تھا سب کا دل رکھنے والا اور آج تو اس نے حد ہی کر دی تھی ۔اور یہ بات سب کو چبھ رہی تھی۔
جبکہ ایک طرف یہ سب کچھ دیکھتی دادی مطمٸن ہو گٸی تھی۔کیونکہ جس طرح رات کو سیرت روتے ہوۓ ان کے کمرے میں آٸی تھی۔وہ تو بہت پریشان ہو گٸیں تھی۔”گو کہ اس نے انہیں رونے کی وجہ پوچھنٕے پر ایک لفظ بھی نہیں بتایا تھا۔
جاٶ چینج کر کے آٶ میں گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔احان نے سیرت کا ہاتھ چھوڑتے ہوۓ اسے جانے کے لٸے کہا۔
لیکن مجھے کچھ نہیں چاٸیے آپ سارہ کو لے جاٸیں۔
تمہیں جو کہا ہے وہ کرو اس بار وہ سخت لہجے میں بولا۔
اسے بھیج کر وہ سب سے ایکسکیوز کرتا ہوا باہر نکل آیا۔جہاں سمیع کھڑا اس کا ہی انتظار کر رہا تھا۔
آچھا کیا ہے تم نے میں بہت دنوں سے سب دیکھ رہا تھا۔تم دونوں ایک دوسرے سے کافی دور دور سے نظر آتے تھے۔
کیا تم نے اس سے شادی صرف وعدہ چاچو سے وعدہ نبھانے کے لٸے کی ہے۔
بھاٸی اگر تم نے ایسا کیا ہے تو یہ تم نے اس کے ساتھ اور اپنے ساتھ بھی غلط کیا ہے۔احان نے کچھ کہنے کے لٸے منہ کھولا ہی تھا۔جب اسے سمیع کے پیچھے وہ کھڑی نظر آٸی کاسنی کلر کے کپڑے پہنے ساتھ کندھوں پر سفید چادر ڈالے وہ بہت ڈل لگ رہی تھی۔
چلیں۔احان نے اس سے پوچھا اور اسے لٸے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سیرت کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور اس کے مرجھاۓ چہرے کی وجہ اس نے اپنےرات کے رویے کی وجہ جانا۔
شام میں مہندی تھی۔اس لٸے اسے شاپنگ کروا کر اسے پارلر چھوڑ کر وہ گھر آ گیا ۔اور ڈراٸیور کو ٹھیک نو بجے سیرت کو پارلر سے پک کر کے ہال میس پہنچانے کا کہا۔
وہ ہال میں پہنچا تو دس بج چکے تھے۔فاروق صاحب سےوڈیو کالنگ میں ایک میٹنگ کی وجہ سے وہ لیٹ ہو گیا تھا۔
بلیو کلر کے قمیض شلوار میں ملبوس وہ اپنی ازلی مغرور انداز میں محفل کی جان لگ رہا تھا۔ ہر لڑکی کی نظر اس پر تھی اور وہ جسے ڈھونڈ رہا تھا ۔وہ ایک کونے میں چھپ کر بیٹھ کر اسے دیکھ رہی تھی۔
ہم کو معلوم نہیں محبت کے تقاضےلیکن
ہم نے تیری باتوں کے علاوہ ہر بات بھلا رکھی ہے
احان نے قریب سے گزرتی عنایا کو روک کر سیرت کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ابھی تو ادھر ہی تھی۔
تبھی دلہا اور دلہن کو سٹیج پر لا کر بٹھایا گیا۔
زارا کے لبوں پر دھیمی مسکان تھی ۔اپنی چاہت کو پا لینے کی الوہی چمک جو اس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔وہ جب تک اسے کے پیچھے بھاگتی رہی وہ اس سے دور بھاگتا رہا ۔اور جب اس نے سب کچھ چھوڑ کر اللہ سے لولگاٸی تو وہ بھی اس کی طرف لوٹ آیا۔
کھانے کے بعد سب لوگ سٹیج پر جمع ہو گٸے ۔احان سیرت کو ڈھونڈتا سٹیج میں موجود ہر چہرے میں اسے تلاشنے لگا اور پھر اس کی تلاش ختم ہوٸی اسے سامنے لگے قدآور شیشے میں وہ نظر آٸی دادی کی اوٹ میں سے چھپ کر اسے دیکھ رہی تھی۔
احان کے چہر ے پر ایک جاندار مسکراہٹ دوڑ گٸی۔
گرین کلر کے لہنگے اور گولڈن کلر کی کام والی شرٹ پہ بڑا سا گرین دوپٹہ شانوں پہ پھیلاۓ بالوں کی فرنچ چٹیا بناۓ ہاتھوں میں بھر بھر کر کانچ کی چوڑیا ں ڈالی گٸی تھیں۔
احان نے آٸینے میں اس کا تفصیلی جاٸزہ لے کر اپنے باٸیں جانب بیٹھی دادی کی طرف مڑا اور ان کے پاس پہنچ کر ان کے گلے لگ گیا۔
ان کے کندھے پہ سر رکھے سیرت کے چہرے کو اپنی نظروں کی گرفت میں لیتے ہوۓ اس نے ایک آنکھ دبا ٸی تو وہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
جبکہ وہ سیدھا ہوتا ہوا اس کے سامنے موجود چٸیر پر بیٹھ گیا۔
سٹیج پر لڑکیوں اور لڑکوں میں شعر وشاعری کا مقابلہ جاری تھا۔
جبکہ احان سیرت کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لٸے کہیں اور ہی کھویا ہوا تھا۔اسے کچھ ہوش نہیں تھا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔
سب کی ہوٹنگ پر اس نے مڑ کر دیکھا جہاں لڑکے مقابلے میں ہار رہے تھے۔
احان نے ان کا ساتھ دیتے ہوۓ ایک شعر پڑھا۔
مجھ سے نفرت واجب ہے
ناکرو گے تو محبت ہو جاۓ گی
اب کی بار لڑکوں کی طرف ہوٹنگ ہو رہی تھی۔
تبھی احان کے ہاتھ سے ماٸیک سیرت نے لیا۔
مجھے لہجے سمجھ آتے ہیں
اپنے الفاظ کو ترتیب نہ دے
اس کے شعر پڑھنے پر لڑکیاں اسے کھینچتی ہوٸی اپنی طرف لے گٸی ۔جبکہ احان لڑکوں کو جواٸن کر چکا تھا۔
وہ نہیں بھولتا جہاں جاٶں
ہاۓ میں کیا کروں،کہاں جاٶں
احان اپنے جزبات کو الفاظ کا روپ دے رہا تھا۔
لوگ مطلب سے پاس آتے ہیں
ہم نہیں کسی کے مطلب کے
سیرت کے اس شعر کے بعد احان تھوڑی دیر کے لٸے چپ سا ہو گیا۔سب لڑکوں کی نظریں اس پر ٹکی تھیں۔
کچھ پل کا ساتھ دے کر
تم نے پل پل کے لٸے بےچین رکھا
سیرت کو اس اب اس پر غصہ آ رہا تھا۔
یاد آٸیں گی غفلتیں تم کو
تمہیں دکھ نہ ہونے کا بڑا دکھ ہو گا۔
دھیان رہے روٹھی ہوٸی خاموشی سے
بولتی ہوٸی شکایتیں آچھی ہوتی ہیں
ان دونوں کے ہر شعر کے بعد دونوں طرف سے زبردست ہوٹنگ ہو رہی تھی۔
میں وہاں ہوں جہاں جہاں تم ہو
تم کرو گے کہاں کہاں سے گریز
سیرت کو خاموش دیکھ احان کی طرف سے ایک اور شعر آیا تھا۔
میرا سوچنا تیری ذات تک
میری گفتگو تیری بات تک!!
نہ تم ملو مجھے جو کبھی
میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک!!
کبھی فرصتیں جو ملیں توآ
میری زندگی کے حصار تک
میں نے جانا کہ میں تو کچھ بھی نہیں
تیرے پہلے سے تیرے بعد تک!!
احان کے اس شعر کے ساتھ ہی محفل برخاست ہو چکی تھی۔لڑکے یہ مقابلہ جیت چکے تھے۔
احان سٹیج سےاتر کر اشعر کے ساتھ ایک ٹیبل پر آ کر بیٹھ گیا۔
اشعر کافی دیر اس پر نظریں جماۓ دیکھتا رہا۔
احان نے اسے ایسے تکتے دیکھا تو جنجھلا گیا۔
کیا ہے یار ایسے کیوں دیکھ رہے ہو۔
آچھا چل اب جلدی سے بول یہ کیاتھا۔تیرے اورسیرت کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہےنہ ۔
گدھے بھابھی ہے تیری سیرت سیرت کیا لگا رکھی ہے۔
پہلے وہ میری بہن ہے بھابھی بعد میں بنی ہے۔
آچھا میں تیرا دوست پہلے بنا ہوں اور وہ تیری بہن بعد میں بنی ہے۔
آچھا مجھے باتوں میں لگا کر تو اصل بات چھپا نہیں سکتا۔
کچھ بھی نہیں یار سب کچھ ٹھیک ہے۔
احان میں تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں ،چلو شاباش جلدی سے بتاٶ کیا ہوا ہے؟
احان نے اس کی طرف دیکھا اور اسے رات ہونے والی ساری بات بتا دی۔
احان تم نے اس پر ہاتھ اٹھا کر بہت غلط کیا ہے۔
ہاں جانتا ہوں غلط کیا ہے۔لیکن یار میرے منہ میں غصے سے اگر کچھ نکل بھی گیا تھا۔
تو اسے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ میں اپنی غلطی اب سدھار سکتا ہوں۔میں اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
وہ بے چارگی سے کہتا اٹھ کر وہاں سے چل دیا۔
گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔وہ بہت تھک چکی تھی ۔صبح سے پہلے شاپنگ اور پھر پارلر والی کے آگے سٹیچو بن کر ڈیڈھ گھنٹا بیٹھنا پھر اب رات کے دو بج رہے تھے۔وہ دن کو ہی اپنے رات کے کپڑے دادی کے کمرے میں رکھ گٸی تھی۔اس لٸے اپنے کمرے میں جانے کی بجاۓ وہ دادی کے روم میں آ گٸی۔
جہاں اس وقت دادی موجود نہیں تھیں۔وہ شاید تہجد کے لٸے اٹھی تھیں۔
اسے کمرے میں ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب زور زور سے دروازہ دھڑ دھڑایا گیا۔
اس نے ڈور کھولا تو سامنے مرینہ بیگم موجود تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پچھلے ایک گھنٹے سے روم میں اس کا انتظار کر رہا تھا لیکن وہ نہیں آٸی۔وہ اسے ڈھونڈتا ہوا کچن اور لاٶنج سے ہوتا ہوا دادی کے کمرے کی طرف بڑا لیکن کمرے سے آتی آوازوں پر اس کے قدم رک گٸے۔دروازے کی طرف جاتا اس کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق ہو گیا۔
میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میرے بیٹے کا پیچھا چھوڑ دو ۔کہاں میرا بیٹا اور کہاں تم۔
تم ایک طواٸف کی بیٹی ہو میرے بیٹے کی معاشرے میں ایک عزت اور مقام ہے۔وہ لاکھوں لوگوں میں کھڑا ہوتا ہے تو نظر اس پر ہی ٹکتی ہے۔وہ تم سے مجبوری کا رشتہ نبھا رہا ہے۔
تمہارے باپ کااحسان اتارا رہا ہے ۔تم تو نہیں جانتی ہو گی احسان کے بارے میں۔
میں تمہیں بتاتی ہوں تمہارے باپ نےاحان کو اپنی کڈنی دی تھی اور ساری زندگی اس کا خراج حاصل کرتا رہا ۔تمہارے باپ مرنے سے پہلے میرے بیٹے کو پابند کر گیا کہ وہ تم جیسی حرافہ سے شادی کر لے۔”انہوں نے جھوٹ کی آمیزش شامل کی۔
باہر سنتا احان اپنی ماں کی باتیں سن کر حیران تھا۔
نہیں میرے بابا ایسا نہیں کر سکتے۔احان کو سیرت کی آواز میں واضح کپکپی محسوس ہوٸی تھی۔
وہ وہیں سے لوٹ آیا اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ جو کچھ سن کر آ رہا ہے وہ اس کی ماں کہہ رہی تھی۔وہ کیسے ایسا کہہ سکتی ہیں وہ خود بھی تو ایک عورت ہیں۔
ایک عورت کی دوسری عورت سے نفرت اس نے پہلی بار دیکھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر لاسٹ ایپیسوڈ عید سے پہلے چاٸیے ہے تو جلدی سے لاٸک کریں۔
