Mera Dil Pukaare Tujhe By Farwa Khalid Readelle50115 Last Episode 22
Rate this Novel
Last Episode 22
اِشمل حویلی سے نکل تو آئی تھی لیکن اُس کا دل بہت گھبرا رہا تھا. آہان سے بھی بات نہ ہوپائی تھی اور نہ ہی گھر والوں میں سے کسی کو بتا کر آئی تھی.
گاڑی ابھی ہاسپٹل سے کچھ فاصلے پر تھی. جب اِشمل کو ہاسپٹل کے دوسرے رُخ پر کچھ گاڑیاں کھڑی نظر آئیں.
“ڈرائیور ایک منٹ گاڑی یہیں پر روک دو.”
اِشمل کی بات سنتے ڈرائیور نے فوراً گاڑی روکی تھی. اُن میں سے ایک گاڑی پر نظر پڑتے اِشمل کو یاد آیا تھا کہ اُس دن ملک حسیب جب ہاسپٹل میں اُس سے ملنے آیا تھا تو یہی گاڑی تھی اُس کے پاس.
“یہ تو ملک حسیب کی گاڑی ہے.”
اِشمل کی بات پر ڈرائیور نے بھی اُس طرف غور کیا تھا.
“کہیں مجھے یہاں کسی سازش کے تحت تو نہیں بلایا گیا. لیکن بتول ایسا کیوں کرے گی. کیا پتا واقعی وہ سچ بول رہی ہو اور اُس بچے کی جان خطرے میں ہو. یاخدا میں کیا کروں.”
اِشمل عجیب کشمکش میں مبتلا ہوچکی تھی کیونکہ کال پر بات کرتے بتول کی آواز کافی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی. وہ سمجھ نہیں پارہی تھی وہ گھبراہٹ بچے کی حالت دیکھ کر تھی یا اُس کا کوئی اور ریزن تھا.
اِشمل نے جلدی سے اپنے پرس میں ہاتھ ڈال کر موبائل ڈھونڈنا چاہا تھا.
“اوہ شِٹ موبائل تو لگتا ہے روم میں ہی رہ گیا ہے.”
اِشمل کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا.
“بھائی آپ کے پاس موبائل ہوگا.”
اِشمل نے ایک اُمید کے تحت پوچھا تھا لیکن ڈرائیور کا جواب سن کر وہ بھی جاتی رہی تھی. جس کے مطابق کل ہی اُس کا موبائل گِر کر ٹوٹ گیا تھا.
“بی بی جی اب کیا کرنا ہے. میرے خیال میں واپس چلنا چاہئے اگر یہ گاڑیاں واقعی ملک حسیب کی ہوئیں تو آگے جانا خطرے سے خالی نہیں ہے.”
ڈرائیور نے اُس کی پریشان صورت دیکھ مشورہ دیا تھا.
“نہیں ہمیں پورا یقین بھی تو نہیں ہے نا کہ یہ گاڑی ملک حسیب کی ہی ہے. اگر بتول کی بات سچ ہوئی اور اُس بچے کی جان خطرے میں ہوئی تو.”
ڈرائیور کی بات کے جواب میں اِشمل فکرمندی سے بولی.
“آپ ایک کام کریں ہاسپٹل کے مین گیٹ کے بجائے. گاڑی پیچھے رہائشی کواٹرز کی طرف موڑ دیں.”
اِشمل نے کچھ سوچتے ڈرائیور کو ہدایت دی تھی. جس پر عمل کرتے اُس نے گاڑی کو ریورس کرتے دائیں طرف موڑ دیا تھا. پچھلی سائیڈ ہر بہت سارے درخت تھے جن کے پیچھے گاڑی باآسانی چھپ سکتی تھی.
اِشمل کچھ دن یہاں رہی تھی اِس لیے اِس پچھلے راستے سے واقف تھی.
آہان نے حالات کو دیکھتے ہوئے سب گاڑیوں میں ایمرجنسی صورتحال کے لیے ایک ایک پستول رکھوایا تھا. اِشمل کو گاڑی سے نکلتا دیکھ ڈرائیور سیٹ کے نیچے سے پستول نکالتا اُس کے پیچھے بڑھا تھا.
حسنین رضا میر سخت مزاج کے ہونے کے باوجود اپنے ملازموں کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے. یہی وجہ تھی کہ اُن کے ملازم اُن کے بہت وفادار تھے. اِسی لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وہ اِشمل کے ساتھ جانا مناسب سمجھا تھا.
اِشمل پچھلے گیٹ سے اندر داخل ہوئی اور احتیاط سے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی. جب اُس کی نظر کواٹرز کے سامنے بنے چھوٹے سے صحن میں پڑی کُٹی ہوئی لال مرچوں پر پڑی.
نجانے کس بات کے زیرِ اثر اِشمل نے آگے بڑھ کر اُنہیں کافی مقدار میں اپنے دوپٹے میں بھر لیا تھا.
دبے پاؤں ہاسپٹل کے کوریڈور سے گزرتے ڈرائیور کے ساتھ آگے بڑھی تھی. جب فرنٹ والے کمرے سے اُنہیں رونے کی آواز سنائی دی تھی.
کسی گڑبڑ کو محسوس کرتے اِشمل نے جھک کر آگے ہوتے کھڑکی سے اندر کی طرف جھانکا تھا. سامنے نظر آتے منظر کو دیکھ اُس کے ہوش ہی اُڑ گئے تھے.
ملک حسیب اپنے آدمیوں کے ساتھ اندر موجود تھا. جنہوں نے بتول اور اُس کے دونوں بچوں پر گن تان رکھی تھی. بتول اُس کے سامنے ہاتھ جوڑے روتے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی.
“کہا ہے تمہاری وہ ڈاکٹر ابھی تک نہیں پہنچی. کہیں تم نے کوئی ہوشیاری تو نہیں کی.”
ملک حسیب بتول کو بالوں سے پکڑ کر اُس کا سر اُوپر کرتا چلایا تھا.
“رحم کریں ملک صاحب. میں نے اُنہیں آپ کے سامنے فون کیا ہے. کوئی ہوشیاری نہیں کی. چھوڑ دیں میرے بچوں کو خدا کا واسطہ آپ کو ہم بے قصور ہیں.”
بتول سسکتے ہوئے بولی.
“اب تم کمی کمین مجھ سے ایسے زبان چلاؤ گے. بہت پَر نکل آئے نا تمہارے اپنے اُن حویلی والوں کی وجہ سے ابھی بتاتا ہوں میں تمہیں.”
ملک حسیب بتول کو دیوار کی طرف زور سے دھکا دیتا اُس کی چودہ سالہ بیٹی کی طرف بڑھا تھا.
“کافی خوبصورت ہے تمہاری بیٹی. ڈری سہمی بچی کے گال پر ہاتھ پھیڑتے وہ بتول کی طرف دیکھتے مکروہ ہنسی ہنسا تھا.
“نہیں میری بیٹی کو کچھ مت کرنا. اُس معصوم کا کیا قصور ہے. نہیں چھوڑ دو اُسے.”
اُس کی غلیظ نظریں اپنی معصوم بچی پر پڑتے دیکھ وہ تڑپ کر آگے بڑھی تھی.جب ملک حسیب کے آدمیوں نے اُسے وہیں دبوچ لیا تھا.
اِس سے پہلے کے وہ اُس بچی کی ساتھ کو نازیبا حرکت کرتا کب سے یہ سب دیکھتے خود پر کنٹرول کھوتے اِشمل نے آگے بڑھنا چاہا تھا.
لیکن اچانک چلنے والی گولی سے اُس کے قدم وہیں تھم گئے تھے. گولی سیدھی ملک حسیب کے بازو میں جا لگی تھی. اِشمل نے چہرا موڑ کر اپنے ساتھ کھڑے ڈرائیور کی طرف دیکھا تھا. جو ملک حسیب پر پستول تانے کھڑا تھا.
وہ اپنی گاؤں کی بچی کے ساتھ آنکھوں کے سامنے اتنا بڑا ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا.
ملک حسیب سمیت اُس کے آدمی بھی اِس اچانک آنے والی افتاد پر سمنبھلتے باہر کی طرف بڑھے تھے.
اور اگلے پانچ منٹ میں وہ دونوں اُن لوگوں کے قبضے میں آچکے تھے.
“تو آخر آگئی تم. کہاں ہے تمہارا وہ شوہر جس کے نام پر اُس دن بہت اُچھل رہی تھی.”
ملک حسیب اِشمل کی طرف ہوس بھری انتقامی نظروں سے دیکھتا آگے بڑھا تھا.
اِس سے پہلے کے آہان اور اُس کے آدمی یہاں پہنچتے ملک حسیب کا ارادہ وہاں سے نکلنے کا تھا. اِشمل کو اپنے قبضے میں دیکھ وہ گولی کا درد بھی بھول چکا تھا. کیونکہ اپنے تصور میں وہ کچھ ہی دیر میں آہان رضا میر کو تڑپتے ہوئے دیکھ رہا تھا.
“میں آج بھی تمہارے سامنے بنا ڈرے کھڑی ہوں. کیونکہ تم جیسے بزدل انسان کے لیے آہان رضا میر کی بیوی ہی کافی ہے.”
اِشمل کی بات پر ملک حسیب نے غصے بھری نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
“تمہارے اُس حرامی شوہر نے میرے بھائی کو اُٹھوالیا ہے. اب میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ وہ تمہاری شکل بھی پہچان نہیں پائے گا.”
ملک حسیب اِشمل کو پکڑنے اُس کی طرف بڑھا ہی تھا. جب اِشمل نے دوپٹے میں لپیٹی سُرخ مرچوں سے مٹھی بھر کر ملک حسیب کے منہ پر اُچھالی تھی.
اِس سے پہلے کے اُس کے آدمی حرکت میں آتے اِشمل نے اُن پر بھی مِرچوں سے حملہ کردیا تھا. وہ سب چہرے پر ہاتھ رکھے کراہ رہے تھے. مرچیں اتنی زہریلی تھیں. کہ اِشمل کو بھی اپنے چہرے اور آنکھوں میں جلن محسوس ہونے لگی تھی.
“کیا ہوا میرا حشر بگاڑنے والے تھے نا تم. اب تو اپنی شکل دیکھنے کے قابل نہیں رہے.”
اِشمل اُن کو حقارت بھری نظروں سے دیکھتی بتول کو باہر نکلنے کا اشارہ کرتی آگے بڑھی تھی.
ملک حسیب اتنی جلدی اُسے اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہتا تھا.
“پیچھا کروں اُس کا سب جلدی یہاں سے بھاگنے نہ پائے وہ. اگر وہ نکل گئی تو میں تم لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں.”
ملک حسیب کپڑے سے آنکھیں پونچھتا اپنے آدمیوں پر چلاتے باہر کی طرف بھاگا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آہان نے حویلی سے نکلتے ہی گاؤں سے باہر جانے والے تینوں راستوں پر اپنے آدمیوں کو پھیل جانے کا حکم دیا تھا.
ملک حسیب کو تو وہ کسی صورت بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا لیکن اِشمل کی فکر میں اُس کا دل پاگل ہورہا تھا اور ساتھ ساتھ پر اُس پر بے پناہ غصہ بھی آرہا تھا. جس نے اتنی بڑی بے وقوفی کرکے خود کو خطرے میں ڈال دیا تھا.
حسنین رضا میر کی اطلاع پر پولیس بھی وہاں پہنچنے ہی والی تھی.
آہان جلد از جلد وہاں پہنچ جانا چاہتا تھا کیونکہ ابھی ابھی اُسے اپنے ایک آدمی سے ہاسپٹل میں گولی چلنے کی خبر ملی تھی. جس بات نے اُس کی بے چینی میں مزید اضافہ کردیا تھا.
ہوا کے دوش پر گاڑی چلاتے وہ وہاں پہنچا تھا. ابھی وہ ہاسپٹل سے کچھ فاصلے پر ہی تھا جب اُسے ہاسپٹل کے گیٹ سے نرس اور ڈرائیور کے ساتھ اِشمل باہر نکلتے دیکھائی دی تھی.
اِشمل کو صحیح سلامت دیکھ آہان کے بے قرار دل کو جیسے قرار سا آگیا تھا.
آہان فوراً گاڑی سے باہر نکلا تھا لیکن تب ہی اُس کی نظر گیٹ کے پاس کھڑے ملک حسیب پر پڑی تھی جس نے ایک ہاتھ آنکھوں پر رکھے دوسرے ہاتھ سے لڑکھڑاتے انداز میں اِشمل پر پستول تانہ تھا.
آہان نے ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر اُس کے بازو پر گولی چلائی تھی. پستول اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گِرا تھا. آہان ملک حسیب کی طرف بھاگتے ہوئے اُس پر جھپٹا تھا.
گولی کی آواز پر اِشمل اور باقی سب نے خوف سے رُک کر پیچھے دیکھا تھا. لیکن ملک حسیب کو آہان کے رحموں کرم پر دیکھ اُن سب کے چہروں پر سکون سا پھیل گیا تھا. کیونکہ اُس کے سارے آدمیوں کو آہان کے آدمی اپنے قبضے میں لے چکے تھے.
آہان بُری طرح ملک حسیب کو پیٹ رہا تھا. جس کی وجہ سے وہ پورا لہوں لہان ہوچکا تھا. اِس بار اِشمل بھی آہان کو روکنے آگے نہیں بڑھی تھی بلکہ ملک حسیب کی ایسی درگت ہوتے دیکھ اطمینان سے اپنی جگہ کھڑی تھی. اور نہ ہی باقی کسی نے ایسا کچھ کرنا چاہا تھا. ملک حسیب نے اُن سب گاؤں والوں کی زندگی عذاب بنا رکھی تھی.
سب کے لیے اُس کا ایسا انجام دلی سکون کا باعث تھا. آہان کے تشدد سے وہ مرنے کے قریب تھا جب پولیس نے وہاں پہنچ کر بہت مشکل سے اُسے آہان سے آزاد کروایا تھا. ملک حسیب کی حالت دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہی تھی جو دھمکی وہ تھوڑی دیر پہلے اِشمل کو دے رہا تھا وہ اُسی پر ہی اُلٹ چکی تھی.
انسان گناہ کرتے کرتے اُوپر بیٹھے پروردگار کو بھول جاتا ہے. لیکن جب اُوپر والا اپنی رسی کھینچتا ہے تو طاقت کے نشے میں چور انسان جو سمجھتا ہے وہ کبھی زوال پزیر نہیں ہوسکتا بے بس ہوکر رہ جاتا ہے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ملک حسیب کو پولیس کے حوالے کرتا آہان اِشمل کی طرف بڑھا تھا.
“اِشمل تم ٹھیک ہو.”
اُس پر بے حد غصے کے باوجود آہان اِشمل کو بازو سے تھامتے فکرمندی سے بولا. جس کا اِشمل نے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا تھا.
” تم جانتی ہو تمہاری یہ بے وقوفی تمہارے لیے کتنی نقصان دہ ثابت ہوسکتی تھی. اگر میں ابھی ٹائم پر نہ پہنچتا تو. یہ بات دماغ میں آتے ہی میرا دل چاہ رہا ہے پتا نہیں کیا کر دوں. اگر تمہیں زرا سی بھی خراش آتی تو میں ساری دنیا کو آگ لگا دیتا.
لیکن اِشمل تم نے جو خود کو نقصان میں ڈال کر غلطی کی ہے. اُس کے لیے میں تمہیں بلکل معاف نہیں کروں گا.”
اِشمل کے بلکل ٹھیک ہونے کی تسلی کرتے اپنے غصے ہر قابو نہ پاتے آہان اُس پر چلایا تھا.
اگر اُسے ایک منٹ کی بھی دیر ہوجاتی تو اِشمل کی جان بھی جا سکتی تھی یہ بات اُسے اتنا پاگل کر رہی تھی کہ اِردگرد کا دھیان کیے بغیر وہ اپنا ضبط کھوتا پہلی بار اِشمل پر چلایا تھا.
اِشمل جانتی تھی آہان اُس کی وجہ سے بہت فکرمند ہے لیکن آہان کا سب کے سامنے اِس طرح چلانا اُسے بہت بُرا لگا تھا.
اُس کی کسی بھی بات کا جواب دیے بغیر اِشمل نے ناراضگی بھری نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا. جن کو نظر انداز کرتے آہان اُس کا ہاتھ پکڑتے گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا.
اُن کو گاڑی کی طرف جاتے دیکھ بتول جلدی سے بھاگ کر اُن کے پاس آئی تھی.
“مجھے معاف کردیں بی بی جی اپنی خودغرضی میں. میں نے آپ کی جان خطرے میں ڈال دی لیکن آپ بہت بڑے اور نیک دل کی مالک ہیں آپ آرام سے وہاں سے نکل سکتی تھیں.
لیکن آپ نے میری مدد کی. بی بی جی بہت بہت شکریہ آپ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گی. اگر آپ وقت پر نہ پہنچتی تو یہ درندہ پتا نہیں میری بیٹی کے ساتھ کیا کرتا.”
بتول کی بات پر آہان کی غصے سے اِشمل کی کلائی پر گرفت مزید مظبوط ہوئی تھی جس پر بتول کو تسلی دیتے اِشمل نے کن اکھیوں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
جو سُرخ آنکھوں سے اُسے گھور رہا تھا.
“نہیں تم نے غلط نہیں کیا. تمہاری جگہ وہاں جو بھی ہوتا یہی کرتا. تمہیں شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے.”
نرمی سے اُسے کہتے اِشمل آہان کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی.
آہان کا ارادہ بھی پہلے بتول کی حرکت پر اُسے سبق سیکھانے کا تھا. مگر اُس کی قابلِ رحم حالت دیکھ کر خاموش ہی رہا تھا.
لیکن اُس کی بات سن کر اِشمل پر غصے میں مزید اضافہ ہوچکا تھا. جس نے جان بوجھ کر خود کو خطرے میں ڈالا تھا.
سارے راستے اُن دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی. آہان اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا. اور اِشمل نے اتنے غصے میں دیکھ کر اُسے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا تھا. غصہ تو اُسے بھی آہان پر تھا. جس نے اُس کی اتنی کالز کی جواب میں اُسے ایک بار بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا وہ بھی تو ایسے ہی فکرمند تھی نا اُس کے لیے.
لیکن یہ بھی مانتی تھی کہ اُس کی اپنی غلطی آہان کی غلطی سے کہیں بڑی تھی.
آہان اِشمل کو حویلی میں چھوڑ کر باہر چلا گیا تھا.
گھر میں سب اُن دونوں کے خیر خیریت پر واپس آجانے پر بہت خوش تھے.
حسنین رضا میر نے اتنی بڑی مصیبت ٹل جانے کی وجہ سے سب کا صدقہ خیرات کیا تھا. بہت سارے بکرے ذبح کرکے غریبوں میں تقسیم کیے گئے تھے.
ہاجرہ بیگم بہت خوش تھیں اور ﷲ کے حضور اپنے پچھلے گناہوں پر معافی مانگتے آئندہ کبھی بھی دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنے سے توبہ کرلی تھی. اُن کا رویہ گھر میں سب سے بہت اچھا ہوچکا تھا.
حویلی میں حنا اور عارفین کی شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں. اور سب لوگ اُس میں زور و شور سے حصہ لے رہے تھے. کیونکہ دن کم تھے اور کام زیادہ تھا. اِشمل بلکل بڑی بہو کی طرح ہر کام میں پیش پیش تھی.
آہان اُسے چھوڑنے کے بعد گھر واپس نہیں آیا تھا. بلکہ وہیں سے شہر کے لیے نکل گیا تھا. اُس کی واپسی مہندی والے دن صبح ہوئی تھی. اِشمل کا آہان پر اب پارہ کچھ زیادہ ہی چڑھ چکا تھا جس نے ایک بار بھی اُسے فون کرنے کی زحمت نہیں تھی.
اِس لیے آہان کے آنے کا سن کر وہ ایک بار بھی اُس کے سامنے نہیں گئی تھی. آہان اُسے کتنی بار بلوا چکا تھا لیکن اِشمل بھی مکمل طور پر اُسے اگنور کرتے اپنے کام میں مصروف تھی.
گھر میں باقی سب بھی دونوں کی ناراضگی نوٹ کرچکے تھے. لیکن آہان کے معاملے میں کوئی بھی بول کر اپنا بینڈ نہیں بجوانا چاہتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“بھابھی آپ نے تیار نہیں ہونا جلدی کریں نا.”
حفصہ کمرے میں داخل ہوتے اِشمل کو ابھی ایسے ہی بیٹھا دیکھ عجلت میں بولی.
حنا کو تیار کرنے بھی بس بیوٹیشن پہنچنے والی تھیں.
“ہوتی ہوں تیار یار ابھی تو بہت ٹائم ہے.”
اِشمل نے بے دلی سے جواب دیا.
وہ آہان کے ہوتے کمرے میں بلکل نہیں جانا چاہتی تھی. اِس لیے اُس کے تیار ہوکر نکلنے کا ویٹ کررہی تھی. ایک ملازمہ کو اُس نے اِس کام پر لگا رکھا تھا.
“بھابھی اتنے دنوں سے ایک بات آپ سے کرنی تھی. سمجھ نہیں آرہا کیسے کروں آپ سے لیکن آج آہان بھائی کی بات سن کر مجھے لگا آپ کو اِس بارے میں علم تو ضرور ہونا چاہئے.”
حفصہ حد درجہ سنجیدہ انداز میں کہتی اِشمل کے پاس صوفے پر آبیٹھی.
اِشمل کے ساتھ ساتھ حنا نے بھی چونک کر اُس کے اتنے سنجیدہ انداز کی طرف دیکھا تھا.
“کیا بات ہے حفصہ سب ٹھیک ہے. ایسا کیا کہا آہان نے.”
اِشمل نے کبھی اُسے اتنا سنجیدہ نہیں دیکھا تھا. اور آہان کی ایسی کیا بات تھی.
“وہ اُس دن میں نے ہاجرہ امی کو بابا سے آہان بھائی کی دوسری شادی کروانے کے بارے میں بات کرتے سنا تھا. آپ کو شاید علم نہیں اِس بات کا لیکن جیسے ہر خاندان کی اپنی روایات ہوتی ہیں. ویسے ہی ہمارے خاندان کی روایت ہے کہ مرد کو ہر حال میں دو شادیاں کرنی ہوتی ہیں.
دادا جان نے بھی دو شادیاں کی. بابا اور فرقان چچا کی مثال تو آپ کے سامنے ہے. ویسے ہی آہان بھائی کو بھی دوسری شادی کرنی ہوگی.”
حفصہ نے ایک پل ٹھہر کر اِشمل کا دھواں ہوتا چہرا دیکھا تھا. حنا کو آنکھوں ہی آنکھوں میں چپ رہنے کی دھمکی دیتی حفصہ ہمت کرکے پھر بولی تھی.
“پہلے تو بھیا اِس بات کے حق میں نہیں تھے لیکن آج صبح ہی اُن کے حویلی واپس آنے کے بعد میں نے اُنہیں ہاجرہ امی سے بات کرتے سنا. جس میں وہ بسمہ سے دوسری شادی پر رضامندی دے رہے تھے.”
حفصہ کی بات ختم ہوتے ہی مشکل سے خود پر کنٹرول کھوتے اِشمل غصے سے اپنی جگہ سے اُٹھی تھی. یہ بات سن کر اُس کے اندر جیسے آگ لگ چکی تھی.
” آہان رضا میر میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں.”
اِشمل بنا حفصہ کے ایکسپریشنز پر غور کیے جلدی سے دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی.
جب اندر آتی ملازمہ نے اُسے آہان کے بلانے کا بتایا تھا. جس کا کوئی بھی جواب دیے بغیر اِشمل اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی.
“بدتمیز حفصہ یہ کیا بکواس کی تم نے بھابھی سے. کب ایسی کوئی روایت ہے ہمارے خاندان میں. اور آہان بھائی بھابھی سے کتنا پیار کرتے ایسی کوئی بات ہوتی بھی تو اُنہوں نے نہیں ماننی تھی.”
حنا حفصہ کی کلاس لیتے بولی. کیونکہ اِشمل جتنے غصے میں گئی تھی اُسے تو ڈر ہی لگ رہا تھا.
“تو اور کیا کرتی. ایک دوسرے سے کتنا پیار کرتے دونوں. اور ایک دوسرے سے ناراض الگ الگ بلکل بھی اچھے نہیں لگ رہے. بھیا بے چارے صبح سے بھابھی کو کتنی بار بلا چکے لیکن بھابھی اُن کے ہاتھ لگنے کو تیار ہی نہیں. میں نے تو بس اپنے بھیا کی مدد کرنے کی کوششں کی ہے.”
حفصہ ہنستے ہوئے بولی.
“اور اگر جو اِس بات سے صُلہ ہونے کے بجائے بات اور بگڑ گئی تو دونوں ہی غصے والے ہیں. مجھے تو بہت ٹینشن ہورہی. تمہیں اتنی بڑی بات بھابھی کو نہیں کہنی چاہئے تھی.”
حنا کو اُن دونوں کی بہت فکر ہورہی تھی آہان کے غصے سے تو وہ واقف ہی تھی اور اِشمل بھی ابھی بہت غصے میں گئی تھی.
“تمہیں تو بس ٹینشن لینے کا بہانہ چاہئے. یقین رکھو مجھ پر کچھ نہیں ہوگا.”
حفصہ کی بات پر حنا اُسے گھور کررہ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اِشمل جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے آہان رضا میر پر نظر پڑی تھی.
بلیک کُرتا شلوار میں اُس کی مردانہ وجاہت مزید نمایاں ہو رہی تھی. دروازے کھلنے کی آواز پر آہان نے پلٹ کر اُس کی سمت دیکھا تھا. جب اِشمل غصے سے اُس کی طرف بڑھی تھی.
“آہان رضا میر کیا سمجھتے ہو تم خود کو. جب جو دل میں آئے گا کرو گے. کسی کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں ہے تمہیں.”
اِشمل آہان کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر اُس کو گریبان سے پکڑ کر اپنے قریب کرتے چلائی تھی.
“غصہ مجھے تم پر کرنا چاہئے. اور اپنی اتنی بڑی غلطی ماننے کے بجائے اُلٹا تم مجھ پر غصہ کر رہی ہو.”
اتنے دنوں بعد اِشمل کو سامنے دیکھ آہان کا مزاج کافی خوشگوار ہوچکا تھا. لیکن اِشمل کے اِس انداز پر حیرت سے اُسے دیکھا تھا.
جو اُس کے بے حد قریب کھڑے اُس کے کالر کو اپنے دونوں ہاتھوں میں دبوچے اُسے گھور رہی تھی.
آہان ناراضگی کے باوجود بھی اُس کی حرکت پر ہولے سے مسکرایا تھا. کیونکہ اگر اِشمل کی جگہ کوئی اور یہ حرکت کرتا تو اب تک اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا.
“تو اور کیا تمہاری دوسری شادی کا سُن کر تمہیں پھولوں کے ہار پہناؤں.”
اِشمل کی بات پر آہان نے اچھنبے سے اُس کی طرف دیکھا.
“کس نے کہی یہ بات تم سے.”
آہان نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرتے پوچھا. جب اِشمل کی پوری بات سنتے حفصہ کی شرارت پر مسکرائے بنا نہ رہ سکا تھا.
“بات تو سچ ہے یہ میں کیا کروں. خاندان کی روایت سے انکار تو نہیں کرسکتا. “
آہان سنجیدہ انداز میں اُس کی طرف دیکھتا دنیا کا جیسے سب سے بے بس انسان معلوم ہورہا تھا.
“میں تمہارے ساتھ ساتھ اُس چڑیل کا بھی قتل کر دوں گی. اگر تم نے ایسا کچھ سوچا بھی تو.”
اِشمل اُس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت پر غور کرتے بغیر چلائی تھی.
“تم صرف میرے ہو تم پر صرف اور صرف میرا حق ہے. خبردار جو کسی کو بھی میرا حق دینے کے بارے میں سوچا. اِس بار میں کہہ رہی ہوں آہان رضا میر مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا.”
بات کرتے اِشمل کی آنکھوں سے کئی آنسو بہہ نکلے تھے. جن کو دیکھ آہان کا دل بے چین ہوا تھا.
“میں مذاق کررہا ہوں ایسا کچھ نہیں ہے. اور حفصہ نے بھی صرف تمہیں میرے پاس بھیجنے کے لیے ایسا کہا ہوگا. میں ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا. تمہارے علاوہ میری زندگی میں کسی کی کوئی گنجائش نہیں. میری جان میری محبت کو بس اتنا ہی سمجھی ہو کیا.”
آہان اُسے اپنے سینے میں بھینچتا بھرپور جذبات کے ساتھ بولا. جب اُس کی بات سنتے اِشمل کے اندر تک سکون اُتر گیا تھا.
“میں نے اُس دن تمہیں بہت کالز کی تھیں لیکن تم نے کسی ایک کا بھی جواب نہیں دیا. میں اتنی پریشان تھی. سب کے سامنے مجھ پر غصہ بھی کیا اور پھر اتنے دن دور رہے ایک بار بھی بات نہیں کی.”
اِشمل نے اُس کے سینے پر سر رکھے سارے قصور گِنوائے تھے.
“تمہارا حویلی سے باہر ہونے کا سن کر میرا خود پر سے کنٹرول ختم ہوچکا تھا. وہ گھٹیا شخص تمہیں نقصان پہنچا سکتا تھا. اِس لیے اُس وقت سب کے سامنے تمہیں ڈانٹ دیا جس پر میں بہت شرمندہ ہوں.
اور جہاں تک رہی اتنے دن دور رہنے کی بات تو وہ میں جلدی جلدی اپنے تمام اہم کام نبٹا کر آیا ہوں تا کہ حنا اور عارفین کی شادی کے بعد ہم آرام سے اپنے ہنی مون پر جا سکیں.”
آہان کی بات سنتے اُس کی آخری بات ہر شرم سُرخ ہوتے اِشمل اُس کے سینے سے سر ہٹاتے پیچھے ہٹی تھی.
“مجھے دیر ہورہی ہے. ابھی تیار بھی ہونا ہے.”
اِشمل دوبارہ اپنی کلائی آہان کے قبضے میں دیکھ کر دھیرے سے بولی.
“جاناں اپنی شادی پر تو میں تمہیں مہندی اور بارات کی دلہن کے رُوپ میں محسوس نہیں کرپایا تھا. لیکن اپنا حق تو میں کسی صورت نہیں چھوڑتا. اِس لیے آج اور کل میرا حق سود سمیت دینے کے لیے تیار رہنا. الماری چیک کر لو تمہارے لیے کچھ موجود ہے وہاں.”
اُس کی گال پر اپنے جذبات کی شدت بخشتے وہ کمرے سے نکل گیا تھا. لیکن اُس کی بات پر اِشمل کے دل میں ہلچل سی مچ چکی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“واؤ بھابھی کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں آپ.”
اِشمل کو حنا کے روم میں داخل ہوتا دیکھ حفصہ چہکتے ہوئے بولی.
“واؤ کی کچھ لگتی. شرم نہیں آتی زرا بھی تمہیں.”
اِشمل کے گھورنے پر حفصہ ڈھیٹ بن کر مسکرائی تھی.
“آپ کے چہرے کی شادابی سے لگ رہا صُلہ ہوچکی ہے. ماشاءﷲ بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ.”
محبت سے اِشمل کے جگمگاتے رُوپ کی طرف دیکھتے وہ بولی.
اِشمل آہان کے لائے ہوئے خوبصورت سے ییلو اور اورنج کلر کنٹراسٹ کے لانگ فراک میں پھولوں کا زیور پہنے بے حد حسین لگ رہی تھی.
“نہیں بھئ آج تو سب سے زیادہ ہماری حنا غضب ڈھا رہی ہیں.”
اِشمل پیار سے حنا کے سجے سنورے شرمیلے رُوپ کی طرف دیکھتے بولی.
جو ییلو اور گرین شرارے میں ملبوس ہلکے سے میک اپ سر پر دوپٹہ لیے مہندی کی دلہن کے رُوپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی.
تھوڑی ہی دیر میں اِشمل اور حنا اُسے تھام کر نیچے لے آئی تھیں. حنا کو اِس طرح سب کی نگاہوں کا مرکز بننا بہت کنفیوز کررہا تھا. جب اِشمل نے اُس کا ہاتھ تھام کر حوصلہ دیتے سٹیج پر بیٹھے عارفین کے ساتھ بیٹھایا تھا. آج تو عارفین کی چُھب بھی نرالی تھی.
آہان کی نظریں تو اِشمل کے حسین رُوپ میں اٹک کر رہ گئی تھیں. جو اُسے سب کے سامنے ہی بہکنے پر مجبور کررہا تھا.
حنا کو تسلی دیتے اِشمل اب خود ہی آہان کی بولتی نظروں سے کنفیوز ہوچکی تھی.
ہاجرہ بیگم کے کسی کام سے ملازمہ کو ہدایت دینے وہ اندر کی طرف بڑھی تھی. ابھی وہ راہداری سے گزر رہی تھی. جب کسی نے اُسے بازو سے پکڑ کر قدرے تاریک کونے کی طرف کھینچا تھا.
اِس سے پہلے کے اِشمل لی چیخ نکلتی آہان نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا.
آہان کے ایسا کرنے سے اِشمل کی آنکھیں باہر کو نکلی تھیں.
“کیا ہوا.”
آہان نے حیرت سے اُس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹاتے پوچھا.
“آہان یہ کیا طریقہ ہوا میری لپ سٹک خراب ہوگئی ہوئی تو.”
اِشمل کے منہ بسورنے پر آہان مسکرایا تھا.
“وہ تو میں ویسے بھی خراب کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں.”
آہان معنی حیزی سے کہتا اُس پر جھکا تھا.
“نہیں آہان پلیز.”
اِشمل نے اُس کے سینے پر ہاتھ رکھے اُسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی تھی. لیکن آہان اُس کے دونوں ہاتھ گرفت میں لیتے پیچھے موجود دیوار کے ساتھ ٹکا چکا تھا.
آہان نے جھک کر اُس سے اُٹھتی مہندی اور موتیے کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں بسایا تھا. اور اُس کی ماتھے پر سجی بندیا پر ہونٹ رکھ دیے تھے.
“آہان آپ کیا کررہے ہیں ملازم سب اندر ہی ہیں کوئی بھی اِس طرف آسکتا ہے.”
اِشمل ہمیشہ کی طرح اُس کے جذبات کی شدت سے گھبراتے ہوئے بولی.
“تو چلو پھر بیڈ روم میں چلتے ہیں.”
آہان شرارتی انداز میں کہتے اُسے اُٹھانے جھکا تھا. جب اِشمل دھیرے سے چلائی تھی کیونکہ آہان سے کوئی بعید نہیں تھی وہ واقعی اُسے سب کے سامنے اُٹھا کر بیڈ روم میں لے جاتا.
“جاناں ابھی کے لیے تو چھوڑ رہا ہوں لیکن کل رات کسی
قسم کی کوئی مہلت نہیں ملنے والی.”
اِشمل کے ہونٹوں کو ہلکے سے چھوتے گھمبیر سرگوشی میں اُسے باور کرواتے آہان وہاں سے نکل گیا تھا.
اِشمل دل پر ہاتھ رکھ کر خود کو نارمل کرتے چہرے پر پیاری سی مُسکان سجائے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی.
وہ بہت خوش تھی اور دل سے اپنے رب کی شکر گزار تھی جس نے اتنی محبت اور عزت کرنے والے شوہر سے اُس کو نوازا تھا. آہان رضا میر کے بغیر اب وہ جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بارات کا فنکشن بھی خیرو آفیت سے انجام پاچکا تھا. اِشمل کے گھروالوں نے بھی بارات میں شرکت کی تھی. اسما بیگم اور سلمان صاحب اپنی بیٹی کو اپنے گھر میں خوش اور آباد دیکھ کر مطمیئن ہوچکے تھے.
حنا پر دلہن بن کر بہت رُوپ آیا تھا لیکن عارفین بھی کچھ کم نہیں لگ رہا تھا.
حنا کو تھوڑی ہی دیر پہلے حفصہ اور اِشمل باقی کزنز کے ساتھ عارفین کے روم میں بیٹھا کر گئی تھیں. حنا کا دل بُری طرح دھڑک رہا تھا.
اُسے ابھی انتظار کرتے تھوڑا سا ٹائم ہی گزرا تھا جب دروازہ کھول کر عارفین اندر داخل ہوا تھا. حنا ویسے ہی سرجھکائے بیٹھی رہی تھی.
عارفین بیڈ پر اُس کے سامنے آبیٹھا تھا. عارفین کو قریب دیکھ حنا کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا. اُس کے ہاتھ پسینے سے بلکل گیلے ہوچکے تھے.
عارفین اُس کی گھبراہٹ محسوس کرکے ہولے سے مسکرایا تھا.
حنا ریڈ کلر کے لہنگے میں بے انتہا حسین لگ رہی تھی. اُس کی شرماتے و گھبراتے انداز نے اُس کے حسن میں مزید اضافہ کر رہے تھے. اِس لڑکی کی اُس نے بچپن سے خواہش کی تھی.
اپنی ماں کا برتاؤ دیکھ کر تو اُسے اپنی یہ خواہش پوری ہوتی ناممکن ہی لگی تھی. لیکن جب جذبے سچے ہوں تو منزل مل ہی جاتی ہے.
عارفین نے ہاتھ بڑھا کر حنا کا کانپتا ہاتھ تھاما تھا.
“حنا میں جانتا ہوں تم نے اپنی زندگی میں بہت دکھ اور محرومیاں دیکھی ہیں. لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں آنے والی زندگی میں اِن سب چیزوں کو تمہارے قریب بھی نہیں آنے دوں گا.
پہلے سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تھا کیونکہ اُس وقت تمہارے معاملے میں بولنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا تھا. مگر اب آنے والی زندگی میں ایسا بلکل نہیں ہوگا. تم زندگی کے ہر قدم پر مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی.”
عارفین کے دل میں اپنا مقام دیکھ کر حنا کے دل میں اِس رشتے کے حوالے سے موجود خدشات جاتے رہے تھے.
حنا نے نگاہیں اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تھا. لیکن اُس کی جذبے لُٹاتی آنکھوں میں دیکھنا اُس کے بس کی بات نہیں تھی.
“تم میری اولین چاہت ہو. یہ دل ہمیشہ تمہارے لیے دھڑکا ہے. اور جب تک سانسیں ہیں. یہ تمہارے لیے ہی دھڑکتا رہے گا.”
عارفین حنا کو قریب کرتے محبت سے بولا.
اُس کے عمل پر حنا کی دھڑکنے سپیڈ پکڑ چکا تھا.
“یار میں ہی کب سے بولی جا رہا ہوں. تم بھی کچھ بولو. میرے کان تمہارے اظہار کے منتظر ہیں.”
عارفین کی محبت بھری سرگوشی پر حنا نے شرماتے ہوئے اُس کے سینے میں سر چھپا لیا تھا.
اُس کی معصوم حرکت پر عارفین دل سے مسکرایا تھا. کیونکہ جانتا تھا حنا کبھی بھی زبان سے اپنی محبت کا اقرار نہیں کرے گی.
عارفین اُس کے گرد حصار کھینچتے اُسے اپنی محبت کی حسین وادی میں لے جاچکا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آہان ڈرائنگ روم میں بیٹھا حسنین رضا میر اور باقی سب کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا. جب اُس کی نظر ڈرائنگ روم کے باہر سے گزرتی اِشمل پر پڑی تھی.
بارات میں اپنے ہوش رُبا حُسن کے ساتھ اُس نے آہان کو اچھا خاصہ گھائل کیا تھا.
ابھی تو اُس کو اِشمل کو ٹھیک سے دیکھنے کا موقع بھی نہیں مل پایا تھا. لیکن اِس وقت اُس کو چینج کرکے بلکل سادہ حلیے میں دیکھ آہان کو بہت بُرا فیل ہوا تھا.
دل ہی دل میں اِشمل سے اُس کی اِس گستاخی کا بدلہ لینے کا سوچتے آہان مسکرا کر واپس سب کے ساتھ باتوں میں شامل ہوچکا تھا.
کافی دیر بعد سب کے اُٹھنے کے ساتھ وہ بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا. لیکن خالی کمرہ دیکھ آہان کی کشادہ پیشانی پر سلوٹیں نمایہ ہوئی تھیں.
کل رات اِشمل کے اسرار پر اُس نے اُسے حنا کے روم میں سونے کی پرمیشن دے دی تھی لیکن لگتا تھا اُس کی بیوی کچھ زیادہ ہی فری ہوگئی تھی.
آہان ابھی اِشمل کو بلانے پلٹا ہی تھا جب اُس کی نظر ٹیرس سے آتی روشنی پر پڑی تھی. جیسے ہی اُس نے ٹیرس میں قدم رکھا سامنے کا منظر دیکھ مبہوت رہ گیا تھا.
ریڈ اور وائٹ گلاب سے بہت خوبصورت ڈیکوریشن کی گئی تھی. پورے ٹیرس پر چھوٹے چھوٹے بہت سارے خوبصورت دیے روشن کیے گئے تھے. جو اندھیرے میں بہت ہی دلکش منظر پیش کررہے تھے.
اُن سب پر سے ہوتے آہان کی نظریں ایک منظر پر جم چکی تھیں. جہاں ٹیرس کے بلکل سینٹر میں پھولوں سے سجے تخت پر اِشمل اُس کے لائے ریڈ لہنگے میں سجی سنوری چہرے پر گھوگھنٹ کیے بیٹھی تھی.
آہان اتنے خوبصورت سرپرائز پر دل سے مسکرایا تھا. پچھلے دنوں اُسے اندازہ ہوچکا تھا کہ اِشمل اُس سے ویسی ہی محبت کرنے لگی ہے جیسی اُس نے خواہش کی تھی.
لیکن آج اُس کے اِس دلفریب اظہار پر آہان کا دل خوشی سے جھوم اُٹھا تھا.
وہ مدہوش سی چال چلتے آگے بڑھا تھا. اِشمل کے بے حد قریب بیٹھتے آہان نے اُس کا گھوگھنٹ اُلٹ دیا تھا.
لیکن اِشمل کے بے پناہ حُسن پر نظر پڑتے ہی وہ خود کو بہکنے سے نہ روک پایا تھا.
سولہ سنگھار کیے وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کے سامنے تھی.آہان کی نظر اُس کی ناک میں پہنی نازک سی نتھ میں اٹک کر رہ گئی تھی.
اُس نے ہاتھ بڑھا کر محبت سے اُس کی نتھ کو چھوا تھا. اِشمل اُس کے لمس پر کسمسا کر رہ گئی تھی. آہان کی جذبے لُٹاتی نظروں پر وہ خود میں سمٹی تھی.
” میری زندگی میں آنے اور اِسے رونق بخشنے کا بہت بہت شکریہ میری جان.
آج جو سرپرائز دیا ہے تم نے اِس کا شکریہ میں لفظوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے ادا کروں گا. اور آج ریڈ لباس پہن کر تو تم نے میرے جذبات کو مزید بھڑکا دیا ہے. اب میری شدتیں برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجاؤ میری جان.”
آہان کہتے ساتھ اُس کی نتھ کھولتا اِشمل کے چہرے پر جھکا تھا. آہان کے لیے اب اپنے جذبات پر بند باندھنا بہت مشکل ہورہا تھا.
اُس کے چہرے اور گردن پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتے آہان اپنی بانہوں میں اُسے نرمی سے بھرے اندر کی طرف بڑھ گیا تھا.
آج حویلی کا ہر شخص اپنی جگہ خوش اور مطمئن تھا.کیونکہ دکھ اور مصیبتوں کے بادل چھٹ چکےتھے اور اُنہیں خوش حال اور خوش و خرم زندگی کی نوید مل چکی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
