Rate this Novel
Episode 8
اِشمل کو آج تیسرا دن تھا یہاں آئے. اُس کا زیادہ وقت یہاں فارغ ہی گزرتا تھا کیونکہ بہت کم مریض ہی ہاسپٹل آتے تھے. اُس کی گھروالوں سے ایک دو بار ہی بات ہوسکی تھی. اِس وقت بھی وہ بیٹھی اُنہیں سے بات کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی جب کوئی دھاڑ سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا. اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر اِشمل ایک پل کے لیے اپنی جگہ پر ساکت ہوئی تھی.
تم… تم یہاں ..؟
اِشمل حیرت سے سامنے کھڑے آہان رضا میر کی طرف دیکھتے بولی. جب وہ قہر برساتی نظروں سے اُس کی طرف دیکھتا آگے بڑھا تھا.
کیا کہنے آپ کے ڈاکٹر صاحبہ مجھ سے چھپنے کے لیے میرے ہی گاؤں میں میرے ہی ہاسپٹل میں پناہ لیے بیٹھی ہیں امیزنگ.
آہان اُس کے قریب آچکا تھا اُن کے درمیان اب صرف ایک ٹیبل کا فاصلہ رہ گیا تھا.
کیا مطلب…..
اِشمل اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے بولی.
سب مطلب اچھے سے سمجھاتا ہوں میں تمہیں..
آہان جارحانہ انداز میں اُس کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتے باہر کی طرف بڑھا تھا. اِشمل مسلسل اُس سے اپنا بازو چھوڑوانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی. باہر کھڑی بتول نے بھی حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا.
آہان کے خاص آدمی جمال کی بیوی کل ہی اِشمل کے پاس اپنا چیک اپ کروانے آئی تھی. اور اِشمل کے اچھے رویے اور اخلاق سے بہت متاثر ہوئی تھی. اور اپنے شوہر سے بات کرتے سرسری سا گاؤں میں آنے والی نئی ڈاکٹر کا بتایا تھا. جب جمال اِشمل کا نام سن کر چونکہ تھا اور مزید تحقیق کرنے سے پتا چلا تھا کہ یہ وہی ڈاکٹر اِشمل ہے جس کو وہ لوگ پاگلوں کی طرح پورے شہر میں ڈھونڈتے پھر رہے تھے.
آہان نے اُس کو اُسی کے روم میں لاکر بیڈ پر پھینکا تھا. اور دروازہ لاک کرتے اُس کی طرف بڑھا تھا.
کیا بدتمیزی ہے یہ. تم پاگل تو نہیں ہوگئے.
اِشمل بیڈ سے اُٹھتی دوسری طرف بڑھی تھی. جب آہان سامنے پڑے ٹیبل کو پاؤں سے ٹھوکر مارتا اُس تک پہنچا تھا. ٹیبل پر پڑی چیزیں زوردار آواز پیدا کرتی نیچے جاگری تھیں.
میری نرمی کا بہت ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے تم نے لیکن اب اور نہیں. تمہیں ایک دفعہ اپنی بیوی ہونے کا احساس تو دلانا چاہتا ہوں. اپنے حق کو تم پر ثابت کرنے کی چھوٹی سی کوشش کرنی ہے.
آہان نے اُسے بازوؤں سے جکڑ کر بے بس کرتے ہوئے اپنے مقابل کیا اور اُس کی حیران اور خوفزدہ آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھتے بولا.
تم ہوش میں تو ہو. چھوڑو مجھے.
اِشمل اُس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتے بولی. وہ کسی صورت بھی اُس کے سامنے کمزور پڑنا نہیں چاہتی تھی.
میں تو ہوش میں ہوں لیکن اب تمہارے ہوش ٹھکانے لگانے والا ہوں.
آہان کے ایک جھٹکے پر اِشمل اُچھل کر بیڈ پر گری تھی آہان بھی اُس کے ساتھ ہی تھا. اِشمل اُس سے خود کو چھڑانے کی جبکہ آہان مزید اُس پر تسلط جمانے کی کوشش کررہا تھا اور اپنی طاقت کی وجہ سے چند سیکنڈ میں ہی اُس پر مکمل حاوی ہوچکا تھا.
اِسی ہاتھاپائی کی وجہ سے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا لیمپ اور گلدان زمین بوس ہوئے تھے. باہر کھڑی بتول دم سادھے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ کی آوازیں سنتی وہی کی وہی کھڑی رہ گئی تھی. اُس کی ہمت نہیں تھی باہر سے کسی اور کو بلانے کی یا اندر جاکر اُسے روکنے کی کیونکہ وہ آہان رضا میر کے معاملے میں گھس کر اپنی موت کو دعوت نہیں دینا چاہتی تھی.
آہان اِشمل کو پوری طرح اپنے قابو میں کر چکا تھا. اِشمل مکمل طور پر اُس کی تحویل میں آنے کی وجہ سے ہل بھی نہیں پارہی تھی.
تم میرے ساتھ مزید زبردستی نہیں کرسکتے.
اِشمل اُس کے حصار میں تڑپتی ہوئی بولی تھی.
مجھے ہر طرح کی زبردستی کا مکمل حق حاصل ہے سویٹ ہارٹ.
اُس کے گلے سے دوپٹہ نکالتے وہ اُس کی گردن پر جھک چکا تھا. اُس کے دھکتے لبوں کا لمس محسوس کرکے اِشمل اُس سے دور ہونے کی کوشش کرتی چلائی تھی.
پلیز چھوڑ دو مجھے تم جو کہو گے میں کروں گی. خدا کے لیے ایسا مت کرو.
اِشمل اُس کے آگے التجائی انداز میں کہتی سسکتے ہوئے بولی. آنسو پورا چہرا بھگو چکے تھے. وہ بے بسی اور بے مائیگی کے احساس سے سسکی تھی. جب اُس کے چہرے پر جھکے آہان نے نمی کے احساس پر سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تھا. وہ اُس کی یہی ضد اور اکڑ ہی تو ختم کرنا چاہتا تھا لیکن اُس کو اِس طرح بے بس کرکے دل کو خوشی محسوس کیوں نہیں ہورہی تھی. ہمیشہ یہ آنسو دیکھ کر وہ کیوں بگھل جاتا تھا. آہان اُسے اپنے حصار سے آزاد کرتا پیچھے ہٹا تھا. وہ خود بھی اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا. وہ رُخ موڑے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنے جذبات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا تھا. اتنا چاہنے کے باوجود وہ ہمیشہ کی طرح اِس لڑکی کو تکلیف میں نہیں دیکھ پایا تھا. اِشمل اپنے بکھرے حواسوں کو بحال کرتی سیدھی ہوئی تھی. جب اُس کی اگلی بات سن کر اِشمل کی سانسیں اٹکی تھیں.
آج ہماری مہندی ہے اور کل رخصتی تمہیں ابھی اور اِسی وقت میرے ساتھ میری حویلی چلنا ہوگا اِس کے علاوہ تمہارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے. اگر تم خاموشی سے میرے ساتھ چل کر میری بات مانتی ہوتو ٹھیک ہے. ورنہ دوبارہ تمہارے قریب آنے میں مجھے زیادہ دیر نہیں لگے گی کیونکہ مجھے میرا جائز حق وصول کرنے سے خود تم بھی نہیں روک سکتی. یہ بات میرے خیال میں ابھی تم اچھے سے سمجھ چکی ہوگی.
اِشمل کا دل چاہا تھا اِس شخص کا ابھی اور اِسی وقت اپنے ہاتھوں سے قتل کردے. لیکن باقی بہت سی باتوں کی طرح وہ یہ بات بھی بس سوچ کررہ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آہان اِشمل کو لے کر حویلی میں آچکا تھا. آہان نے ہاجرہ بیگم کو ساری بات بتا کر اُنہیں ہی باقی خاندان والوں سے نبٹنے کا کہا تھا. اور خود مزے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا.
ہاجرہ بیگم نے آج کے دن اِشمل کے رہنے کا انتظام گیسٹ روم میں کیا تھا اور تین چار ملازماؤں کو اُس کی خاطر مدارت کے لیے بھیج دیا تھا. کیونکہ آہان کا سختی سے آرڈر تھا کہ میری بیوی کو کسی قسم کی کوئی پرابلم نہیں ہونی چاہئے.
اِشمل نے وہاں کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی. اُس کا دل چاہ رہا تھا آہان سمیت اُس کی اِس پوری حویلی کو آگ لگا دے.
ابھی تھوڑی دیر پہلے اُس کی آہان کے موبائل پر اسما بیگم سے بات ہوئی تھی کیونکہ اُس کا موبائل آہان کے قبضے میں تھا. اسما بیگم نے اُسے چپ چاپ آہان کی ہر بات ماننے کا حکم دیا تھا وہ اُن کی بات پر شاک میں آگئی تھی بجائے اُس کا ساتھ دینے کے وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھیں.
ضرور اِس بے ہودہ شخص نے اُنہیں بلیک میل کیا ہوگا. ورنہ ماما ایسا کبھی نہ کہتیں.
آہان رضا میر بہت ہوگئی تمہاری من مانیاں بہت شوق ہورہا ہے نا تمہیں مجھے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا تو دیکھو میں اب کیسے تمہاری زندگی عذاب بناتی ہوں.
جس طرح تم نے مجھے بے بس کیا ہے ویسے تمہیں بھی اسی حال تک پہنچاؤ گی.
اِشمل نے نفرت سے اُس کے بارے میں سوچتے خود سے عہد کیا تھا. جب اُسی وقت دروازہ ہلکے سے ناک کرتے حفصہ نے اندر جھانکا تھا.
بھابھی کیا میں اندر آسکتی ہوں.
حفصہ اِشمل کی طرف دیکھتے مسکرا کر بولی تھی. جب اِشمل نے اُس کے بھابھی کہنے پر غصے سے اُسے گھورا تھا. پر حفصہ کو پہلے کب کسی بات کی پرواہ ہوئی تھی جو اب ہوتی. اِشمل کی گھوری کو نظرانداز کرتے وہ بغیر اُس کی اجازت کا انتظار کرتے اندر آگئی تھی.
واؤ بھابھی آپ تو تصویر سے زیادہ خوبصورت ہیں. میں جانتی تھی میرے بھیا کی پسند شاندار اور لاجواب ہی ہوگی بلکل اُن کی طرح.
حفصہ اُس کے موڈ کی پرواہ کیے بغیر اپنی باتیں شروع ہوچکی تھی.
بھابھی آپ بول کیوں نہیں رہیں. اوہ میں بھی کتنی پاگل ہوں آپ اتنا لمبا سفر کرکے آئی ہیں تھکی ہوئی ہوں گی نا. آپ آرام کریں میں شام کو آپ سے ملتی ہوں.
کافی نجانے کیا کیا باتیں بتاتی اچانک اُس کی خاموشی کا احساس کرتے حفصہ اِشمل کے بجھے ہوئے چہرے کی طرف دیکھتی پیار سے اُس کا گال چھوتی باہر نکل گئی تھی. ایک پل کے لیے اِشمل کو اپنا رویہ بہت بُرا لگا تھا وہ ہمیشہ سے ایک بہت ہی نرم مزاج اور خوش اخلاق کی مالک رہی تھی لیکن پھر اگلے ہی پل آہان رضا میر کا خیال آتے ہی وہ اپنے دل کو سخت کرتے ویسے ہی بیٹھی رہی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہاجرہ بیگم ابھی تھوڑی دیر پہلے اُس کے پاس آئی تھیں اُن کے ساتھ ہاتھوں میں کپڑوں اور زیورات کے تھال اُٹھائے ملازمائیں بھی موجود تھیں. شہر سے مشہور بیوٹیشنز کو بھی بلایا گیا تھا. جنہوں نے اُسے شادی کے تمام فنکشنز کے لیے تیار کرنا تھا.
بیٹا آپ کو یہ لوگ تیار کر دیتی ہیں مہمان بھی آنا شروع ہوچکے ہیں. پھر کچھ دیر بعد فنکشن شروع ہوجانا ہے.
ہاجرہ بیگم بہت ہی پیار سے اُسے پچکارتے بولیں. وہ پہلے بھی دو تین بار اِشمل کے پاس آچکی تھیں. لیکن اُن کی ہر بات کا جواب اِشمل نے صرف ہوں ہاں میں یا سر ہلا کر ہی دیا تھا وہ اِس وقت کسی سے بھی اچھے سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی. ہاجرہ بیگ اچھے سے جانتی تھیں کہ اُن کا صاجزادہ اُسے یہاں زبردستی لے کر آیا تھا اِس لیے وہ آرام سے اِشمل کا یہ رویہ برداشت کر رہی تھیں. لیکن وہ اِشمل کی خوبصورتی سے بہت خائف بھی تھیں. اُنہیں اتنا تو پتا تھا کہ آہان کی پسند خوبصورت ہی ہوگی. لیکن اِشمل کا بھرپور حسن اور دل کو چھو لینے والی سادگی دیکھ وہ بہت حیران بھی تھیں. کیونکہ وہ اِشمل کی جگہ کوئی تیز طراز ماڈرن سی لڑکی سوچے بیٹھی تھیں.
بیوٹیشن کو اُسے تیار کرنے کا کہہ کر وہ باہر نکل گئی تھیں. جب اِشمل نے خود کو خاموشی سے بیوٹیشنز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا.
آپ تو صرف ڈریس چینج کرکے ہی اتنی پیاری لگ رہی ہیں.
بیوٹیشنز اُس کی نیچرل بیوٹی سے بہت متاثر ہوئی تھیں. دودھیا رنگت اور چہرے پر پھیلی گلابی سے پہلے سے بلش آن لگے ہونے کا گمان ہورہا تھا. پنک ہونٹوں کو جیسے کسی قسم کی لپ سٹک کی ضرورت ہی نہیں تھی.
تھوڑی ہی دیر میں بیوٹیشنز نے اپنی مہارت سے اُس کے حُسن کو مزید نکھار دیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حنا تم ابھی تک یہیں بیٹھی ہو باہر نہیں آنا کیا.
حفصہ تیار ہوکر کمرے میں گھسی بیٹھی حنا کے پاس آتی بولی.
میں گئی تھی باہر لیکن سفیہ پھوپھو اور ہاجرہ امی جن نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں مجھ سے زیادہ دیر وہاں نہیں رُکا گیا مجھے نہیں جانا اب باہر.
حنا بےچارگی سے بولی
اوہو یار وہ تو مجھے بھی ایسے ہی گھور رہی ہیں تو کیا اب اُن لوگوں کی وجہ سے ہم بھیا کی شادی بھی انجوائے نہ کریں. ہمیں اپنی خوشی میں شامل نہ ہوتا دیکھ کر بھیا کو کتنا بُرا لگے گا.
حفصہ اُسے مناتے ہوئے بولی. جب حنا اُس کی بات پر اپنی جگہ سے اُٹھی تھی.
چلو آؤ.
حفصہ اُس کا ہاتھ پکڑتی باہر نکل گئی تھی.
. پوری حویلی کو دلہنوں کی طرح سجایا گیا تھا. حویلی کے وسیع و عریض احاطے میں بہت اعلٰی پیمانے پر مہندی کا فنکشن ارینج کیا گیا تھا. اردگرد کے بہت سارے گاؤں کے معزز لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا. مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ انتظام کیا گیا تھا. صرف خاندان کے مردوں کو ہی عورتوں کے سائیڈ پر آنے کی اجازت تھی. خاندان کی تقریباً سبھی عورتیں شدت سے آہان رضا میر کی بیوی دیکھنے کی خواہش مند تھیں. وہاں موجود بہت سی لڑکیاں جو آہان سے شادی کی خواہش مند تھیں. اُن کا تو اِس فنکشن میں شرکت کرنے کا اصل مقصد ہی یہی تھا. سب لوگ اُس خوش قسمت لڑکی کو دیکھنا چاہتے تھے جو آہان رضا میر کی چاہت تھی.
آہان بلیک کُرتا شلوار پہنے بھرپور مردانہ وجاہت کے ساتھ پوری محفل پر چھایا ہوا تھا. ابھی ہی وہ تھوڑی دیر پہلے باقی کزنز کے ساتھ وہاں داخل ہوا تھا. کتنی ہی حسرت بھری نظریں اُس پر اُٹھ رہی تھیں جن کی اُسے زرا بھی پرواہ نہیں تھی. عارفین اور چچازاد عاقب کی باتوں پر مسکراتے اُس نے سامنے کی طرف دیکھا تھا لیکن سامنے کے منظر میں اُس کی نظریں اٹک کر رہ گئی تھیں.
مختلف رنگوں سے سجے خوبصورت سے آنچل کی چھاؤں میں اُس کی کزنز کے درمیان چلتی وہ آہان رضا میر کے دل کی دنیا ہلا گئی تھی.
اُس نے ہر جگہ بہت حسن دیکھا تھا. ایک سے ایک بڑھ کر خوبصورت لڑکیاں دیوانی تھی اُس کی جن میں بہت ساری اُس کی دوست بھی رہی تھیں پر کوئی بھی کبھی اُسے اٹریکٹ نہیں کر پائی تھی. لیکن اِشمل میں نہ جانے ایسی کیا کشش تھی کہ جس دن سے اُسے دیکھا تھا وہ کسی اور طرف دیکھ ہی نہیں پایا تھا.
اِشمل یلو کلر کے پیروں تک آتے سٹائلش سے فراک میں جس کے کناروں پر گرین کلر کے موتیوں اور کڑاہی سے نفیس ساکام کیا گیا تھا. پھولوں کا زیور پہنے وہ آہان رضا میر کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی. اُسے لے جاکر سٹیج پر بیٹھایا گیا تھا.
ہاجرہ بیگم کی آواز پر آہان ہوش کی دنیا میں لوٹتا اِشمل کی طرف بڑھا تھا.
لگتا ہے مجھ سے بدلہ لینے کی تیاری سٹارٹ ہوچکی ہے. اِس طرح ہتھاروں سے لیس ہوکر تم مجھے اپنا دیوانہ بنانا چاہتی ہو کیا.
اُس کے پاس بیٹھتے آہان اُس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے بولا.
میرا منہ مت کھولواؤ آہان رضا میر ورنہ جیسے تم نے میرے خاندان والوں کے سامنے میرا تماشہ بنایا ہے ویسا ہی میں تمہارے ساتھ بھی کر دوں گی.
اِشمل مشکل سے اُس کی بات ہضم کرتی جھکے سر کے ساتھ بولی.
امپریسو میری بیوی بنتے ہی کچھ زیادہ بہادری نہیں آگئی تم میں. ویسے یہ ساری بہادری دن ٹائم کہاں چلی گئی تھی.
آہان مسکراتے ہوئے سامنے کی طرف دیکھتا اُس کو مزید چھیڑتے ہوئے بولا. اُس کی بات پر اِشمل غصے سے اُسے گھور بھی نہ سکی تھی کیونکہ وہاں سب لوگ اُنہیں کی طرف متوجہ تھے.
جاری ہے.
