Rate this Novel
Episode 7
میں اپنی بیوی سے کچھ دیر بات کرنا چاہتا ہوں.
آہان کے کہنے پر اُن لوگوں کو کچھ بھی بولنے کا موقعہ دیے بغیر گارڈز نے اُنہیں باہر جانے کا اشارہ کیا تھا. سلمان صاحب مولوی صاحب کے ساتھ پہلے ہی جاچکے تھے.
اِشمل بھی سب کے ساتھ باہر کی طرف جانے لگی تھی جب آہان نے اُس کا بازو پکڑ کر روکا تھا.
چھوڑو مجھے.
اِشمل اُس کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھوڑواتی بولی. اُس نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں سے ابھی سب لوگ باہر گئے تھے اور جلدی سےاُس طرف بڑھی تھی.
جب آہان نے پیچھے سے اُس کا بازو پکڑ کر ایک جھٹکے سے اپنے طرف موڑتے اُسے دروازے سے لگایا تھا. اور ہاتھ بڑھا کر دروازہ لاک کر دیا تھا.
اِشمل نے اُس کے اتنے قریب آنے پر اُس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر پرے کرنا چاہا تھا. جب آہان نے اُس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے پیچھے دروازے کے ساتھ لگایا تھا.
دور رہو مجھ سے انتہائی بُرے انسان ہو تم.جتنی من مانی کرنی تھی کرچکے. اب خدا کے لیے میری جان چھوڑ دو.
اِشمل اُس سے اپنے بازو چھوڑوانے کی کوشش کرتے بولی.
اِتنی بھی کیا جلدی ہے ابھی تمہیں اپنے ہوست پرست ہونے کا ثبوت بھی تو دینا ہے ڈئیر وائف.
آہان اُس کے کان کے نزدیک جھکتے ہوئے بولا تھا اور ہولے سے اُس کے کان کی لوح کو چوما تھا.
اُس کی اِس حرکت پر اِشمل فوراً پیچھے ہوئی تھی. جب پیچھے موجود دروازے سے زور سے اُس کا سر لگا تھا. درد کے احساس سے اُس نے آنکھیں بند کی تھیں. آہان نے فوراً اُس کے سر کی طرف ہاتھ لے جاکر سہلایا تھا. جب اِشمل نے نفرت سے اُس کا ہاتھ جھٹکا تھا.
اُس کی آنکھوں میں نفرت دیکھ آہان نے اپنی اِس بے ساختہ حرکت پر خود کو ہی کوسا تھا. وہ اُس کی محبت نہیں ضد تھی تو پھر کیوں اُس کی تکلیف پر اُسے بُرا لگ تھا. لیکن شاید اِس بات کا جواب اِس وقت اُس کے پاس بھی موجود نہیں تھا.
تم جیسے لوگ صرف نفرت کے قابل ہی ہوسکتے ہیں. جو صرف طاقت کے زور پر اپنے سے کمزور لوگوں کو زیر کرنا جانتے ہیں.
اِشمل نفرت بھرے لہجے میں اُس کی طرف دیکھتے بولی.
جب آہان نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر ایک جھٹکے سے اپنے قریب کیا تھا جس کی وجہ سے وہ اُس کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی تھی. اُس کے اتنے قریب تر ہونے پر اِشمل نے تڑپ کر پیچھے ہونا چاہا تھا. لیکن آہان کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پائی تھی.
تو ہم جیسے لوگوں نے کب کہا کہ ہم سے محبت کی جائے. ہم تو آپ جیسے لوگوں کی نفرت میں بھی خوش ہیں. اور کیا ہوا اب تو میں تمہارا محرم ہوں نا تو اب اِس مزاحمت کا مطلب.
آہان ہاتھ سے اُس کی ٹھوڑی کو اُوپر کرتا بولا تھا. پرپل اور بلیک کمبی نیشن کے سوٹ میں اُس کا صاف رنگ اور بھی دمک رہا تھا. ستواں ناک, لپ سٹک سے سجے ہونٹ, بڑی بڑی آنکھیں اور اُن پر سایہ فگن لمبی پلکیں آہان کا دل بے ایمان کرنے لگی تھیں. آہان نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اُس کے ہونٹوں کو چھوا تھا. جب اِشمل نے اُسکا ہاتھ جھٹکا تھا.
بے انتہا نفرت کرتی ہوں میں تم جیسے گھٹیا شخص سے. تم نے ہر جگہ میرا تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے. تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی میں. مذاق سمجھ رکھا ہے نا تم نے نکاح جیسے پاک رشتے کو. بندوق کے زور پر تم نے یہ نکاح کروایا ہے نہیں مانتی میں تمہیں اپنا شوہر….
آہان کی بات اور حرکت پر اِشمل غصے سے دھاڑی تھی. اِشمل کی مسلسل مزاحمت سے اُس کا دوپٹہ لڑھک کر کندھوں پر گر چکا تھا. جب آہان کی نظر اُس کی شفاف گردن پر پڑی تھی. اس کی قربت کے زیرِ اثر بہکتے آہان اُس کی گردن پر جھکا تھا. اور بھر پور انداز میں اپنے جنون کی تحریر رقم کرتاچلا گیا تھا. آہان کی اتنی بے باکی پر اِشمل کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے. سانس جیسے اٹک کر رہ گیا تھا. اِشمل نے اُس کے کندھوں پر دباؤ ڈالتے اُسے پیچھے کرنا چاہا تھا جب آہان اُس کا بازو جکڑتے اُسے مزید قریب کر گیا تھا. اُس کے دھکتے لمس سے اِشمل کو اپنی گردن جلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی.
اُس کے حصار میں تڑپتی وہ اُس سے دور ہونے کی کوشش کررہی تھی. جب آخر کار اُس کی حالت پر ترس کھاتے آہان پیچھے ہٹا تھا لیکن اپنی گرفت سے ابھی بھی آزاد نہیں کیا تھا.
نکاح تو ہمارا ہوچکا ہے اور تم میری بیوی ہو. اب یقین آگیا یا دوبارہ ثبوت چاہئے.
آہان اُس کے شرم اور غصے سے سُرخ پڑتے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا.
پہلے تو میرا یہی اِرادہ تھا کہ میں نکاح کرکے رخصتی کے لیے تھوڑا ٹائم دوں تمہیں لیکن تم اور تمہارے گھر والوں نے یہ جو حرکت کی ہے. اُس کی سزا یہی ہے کہ ہماری رخصتی اِسی ہفتے ہوگی. اور تم دوبارہ کوئی ایسی ویسی حرکت کرکے اپنے لیے مزید مشکلات پیدا مت کرنا یہی تمہارے حق میں بہتر ہوگا.
اُسے وارننگ دیتے لہجے میں کہتے آہان نے استحقاق بھرا لمس اُس کے دونوں گالوں پر چھوڑا تھا. اُس کی مونچھوں کی چُبھن اِشمل کو شدت سے محسوس ہوئی تھی. جب وہ اُسے اپنے حصار سے آزاد کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اِشمل ایسا مت کرو تم جانتی تو ہو اُسے وہ تمہیں وہاں سے بھی ڈھونڈ نکالے گا. یہ سب کرکے تم اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کررہی ہو.
سدرہ کب سے اُسے سمجھانے کی کوشش کررہی تھی. اسما بیگم بھی اُسے کتنی بار منع کرچکی تھیں لیکن وہ کسی کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی. سلمان صاحب کو بہت مشکل سےمنا کر وہ پہلے ہی اجازت لے چکی تھی.
سدرہ تم کیا چاہتی ہو میں اُس شخص کے ساتھ خاموشی سے رُخصت ہوجاؤ.
اِشمل آخرکار اپنی خاموشی توڑتی چلا کر بولی.
لیکن اِشمل تم کب تک اُس سے ایسے ہی چھپ کررہوگی یوں فرار بھی تو اِس مسئلے کا حل نہیں ہے نا.
سدرہ اُس کا ہاتھ پکڑتی نرمی سے بولی.
اُس سے دور رہنے کے لیے جو کچھ کرسکتی ہوں کروں گی. اور جہاں میں جارہی ہوں وہ شخص وہاں تک نہیں پہنچ سکتا.
اِشمل بیگ کی زپ بند کرتے بولی.
تمہیں کیا لگتا ہے اُس نے اِس گھر کے اردگرد اپنے آدمی نہیں پھیلا رکھے ہوں گے. جب وہ اتنے آرام سے حیدرآباد پہنچ سکتا ہے تو اُس گاؤں تک کیسے نہیں پہنچے گا جہاں تم جارہی ہو. جبکہ اب تو تم اُس کے نکاح میں بھی ہو.
سدرہ پلیز میں پہلے ہی بہت ٹینس ہوں تم بس دعا کرو. میں آسانی سے یہاں سے نکل جاؤں. اور اُس کی شکل نہ دیکھنی پڑے دوبارہ.
اِشمل بلیک چادر اوڑھتے بولی. اُس کا ارادہ ابھی رات کو ہی نکلنے کا تھا. کل سے مسلسل کی جانے والی اُسکی کوششوں سے ایک فرینڈ کے تھرو کسی گاؤں کے ہاسپٹل میں اُس کی جاب ہوگئی تھی اِس لیے وہ آج کے آج ہی وہاں کے لیے نکلنا چاہتی تھی. سلمان صاحب نے اُس کے جانے کا بندوبست کروا دیا تھا وہ ویسے ہی اِشمل سے بہت شرمندہ تھے.کہ اِس نکاح کو نہ رکوا پائے تھے. وہ اِس وقت خود کو بہت ہی بے بس اور لاچار محسوس کر رہے تھے. اُن کا سب سے اچھا دوست احمد بھی اُنہیں اور اِشمل کو ہی قصوروار ٹھہرا کر جاچکا تھا.
سلمان صاحب اپنے بارے میں تو سب کچھ برداشت کر گئے تھے لیکن اپنی بیٹی کے کردار پر کچھ بھی برداشت نہیں کر پائے تھے. اور کافی تلخ کلامی کے بعد سلمان صاحب نے اُن سے ہر تعلق توڑ دیا تھا.
اِشمل سب سے ملتی گاڑی میں آبیٹھی تھی. اُس نے سدرہ سے وعدہ لیا تھا کہ وہ اُس کے گھروالوں کا خیال رکھے گی. اور روز سلمان صاحب کا چیک اپ کرنے آئے گی کیونکہ اُن کی طبیعت کچھ دنوں سے ٹھیک نہیں تھی. سدرہ نے اُسے اُن کا ہر طرح سے خیال رکھنے کی بھرپور یقین دہانی کروائی تھی.
اِشمل کو آہان سے پہلے سے بھی کہیں زیادہ نفرت محسوس ہوئی تھی. جس کی وجہ سے اُسے اِس طرح اپنوں کو چھوڑ کر اپنے ہی گھر سے یوں چھپ کر رات کے اندھیرے میں نکلنا پڑا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پانچ گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد وہ اُس گاؤں میں پہنچی تھی. وہاں موجود واحد ڈاکٹر اور نرس کو شاید اُس کے آنے کی اطلاع مل چکی تھی اِس لیے وہ پہلے سے ہی اُس کے انتظار میں موجود تھیں.
ہاسپٹل کی بلڈنگ زیادہ بڑی تو نہیں تھی لیکن کافی خوبصورت تھی. اِشمل کو وہ لوگ بہت اچھے سے ملی تھیں. اُن کی رہائش ہاسپٹل کی پچھلی طرف تھی اِشمل کو بھی وہیں اُن کے ساتھ رہنا تھا. نرس اُسی گاؤں کی رہائشی تھی لیکن ڈاکٹر زیبا کی تنہائی کی وجہ سے اُس کے پاس رہتی تھی. تھوڑی دیر اُن سے باتیں کرکے اِشمل اپنے روم میں آگئی تھی. کمرہ اتنا بڑا نہیں تھا لیکن ایک انسان کے آرام سے رہنے کے لیے کافی تھا. پچھلی تین راتوں سے نہ سونے اور مسلسل ذہینی تناؤ کی وجہ سے اِشمل کو اِس وقت اپنا سر پھٹتا ہوا محسوس ہورہا تھا.
گھروالوں کی وجہ سے وہ ابھی بھی بہت فکرمند تھی کہ کہیں وہ اُنہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے کیونکہ اُس شخص سے کسی بات کی بھی اُمید کی جاسکتی تھی. ایسے تو اُسے نیند آنی نہیں تھی اِس لیے اُس نے پرس سے سلیپنگ پلز نکال کر پانی سے اُنہیں اندر نگلا تھا. اور کمبل خود پر اوڑھتے لیٹ گئی تھی.
اسلام و علیکم!
اِشمل ڈاکٹر زیبا کے آفس میں داخل ہوتے بولی.
وعلیکم اسلام کیسی رہی پہلی رات آپ کی یہاں نیند تو ٹھیک سے آئی نا آپ کو.
ڈاکٹر زیبا اپنی سیٹ سے کھڑے ہوتے اُس کے پاس آتی بولی.
جی صحیح رہا سب. آپ پلیز مجھے میرا آفس دیکھا دیں.
اِشمل مختصر سا جواب دیتے بولی.
اوکے آئیں میرے ساتھ میں نے بتول سے کہہ کر کل ہی آپ کا آفس سیٹ کروا دیا تھا.
ڈاکٹر زیبا اُس کے ساتھ آفس سے نکلتے بولی.
یہ رہا آپ کا آفس اگر مزید کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دیجیئے گا.
ڈاکٹر زیبا کے کہنے پر اِشمل اثبات میں سر ہلا کر اُسے شکریہ کہتے اپنی آفس کے اندر آگئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کیا بکواس کر رہے ہو تم. تم لوگوں کو میں نے وہاں اپنی نیندیں پوری کرنے کے لیے بیٹھایا ہوا ہے کیا. جاؤ اور ڈھونڈو اُسے. جلد سے جلد اُس کا پتا لگنا چاہئے مجھے ورنہ میں تم لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا یاد رکھنا میری بات.
آہان اپنے آدمی کی بات سنتا بیڈ سے اُٹھتا اُس پر چلاتے ہوئے بولا تھا.
جی….جی سر ہم پتا لگاتے ہیں ہمیں بس تھوڑا سا ٹائم دے دیں.
آہان نے فون بند کرتے غصے سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا.
اِشمل آہان میں جتنا تم سے نرمی سے پیش آنے کی کوشش کرتا ہوں تم ہر بار کچھ ایسی حرکت کرکے میرے اندر کے وحشی انسان کو جگا دیتی ہو. ہمیشہ تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے سے خود کو باز رکھا ہے میں نے لیکن اِس بار جو تم نے حرکت کی ہے اُس کی سزا تو ہر حال میں تمہیں بھگتنی ہوگی.
آہان مٹھیاں بھینچتا غصے کے عالم میں بولا تھا.
اُس نے پاس پڑا سگریٹ سلگھاتے ابھی اُس کا ایک کش ہی لیا تھا. جب ایک بار پھر اُس کا فون بجا تھا. گھر کا نمبر دیکھ کر اُسے نے کال ریسیو کرتے موبائل کان سے لگایا تھا.
بھیا آپ سے میں بہت سخت ناراض ہوں اتنی بڑی نیوز آپ نے ابھی تک مجھے نہیں بتائی پورا خاندان اکٹھا ہو چکا ہے لیکن آپ نے ہمیں ابھی تک اپنی شادی میں انوائٹ کرنا تو دور بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا.
حفصہ اُس کے کال اٹینڈ کرتے ہی بغیر اُسے کچھ بولنے کا موقع دیے بغیر اپنا ہی شروع ہوچکی تھی.
گھر والوں کو بھلا کون انوائٹ کرتا ہے اپنے ہی گھر کی شادی میں. اور بہت زیادہ بزی ہونے کی وجہ سے میں بتا نہیں پایا جو کہ میں نے غلط کیا. اپنی غلطی میں تسلیم کرتا ہوں اور آپ اِس کے بدلے جو سزا دینا چاہیں مجھے قبول ہے.
آہان اپنے خراب موڈ کو بحال کرتا نرمی سے اُس کی بات کا جواب دیتے بولا.
اوکے. تو آپ کی سزا یہ ہے کہ ابھی کے ابھی مجھے میری بھابھی کی پکچرز سینڈ کریں مجھے دیکھنا ہے اُنہیں ویٹ نہیں ہورہا مجھ سے.
اِشمل کے ذکر پر آہان کے تاثرات ایک بار پھر سخت ہوئے تھے.
بھیا بولے نا آپ خاموش کیوں ہوگئے بھیج رہے ہیں نا آپ.
اُس کی خاموشی پر حفصہ ایک بار پھر بولی تھی.
اوکے بھیج رہا ہوں.
آہان نے گیلری سے اِشمل کی نکاح والی پکچر نکال کر اُسے سینڈ کی تھی اور موبائل وہی پھینکتے فریش ہونے واش روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
دودن گزر چکے تھے اُسے ڈھونڈتے لیکن ابھی تک اِشمل کا کچھ پتا نہیں چلا تھا. اُس کے گھروالوں کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ کچھ نہیں جانتے وہ کہاں گئی ہے.
آہان رضا میر اچھے سے جانتا تھا کہ وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن اب وہ اُن کو مزید ٹارچر کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا. اُس کا پرابلم صرف اِشمل سے تھا تو اِس سب کی سزا بھی صرف اُسے ہی بھگتنی تھی.
وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ہاتھ میں سگریٹ لیے بیٹھا تھا. وہ دو دنوں سے ناجانے کتنے سگریٹ پھونک چکا تھا.
اِس وقت بھی گاڑی میں دھواں پھیلا ہوا تھا. جب موبائل کی آواز پر وہ اُس طرف متوجہ ہوا تھا.
دوسری طرف کی بات سن کر اُس کے چہرے پر جلا دینے والی مسکراہٹ بکھری تھی. کچھ دیر اُس کی بات سن کر آہان نے فون رکھتے ڈرائیور کو گاڑی دوسری طرف موڑنے کی ہدایت دی تھی.
تمہاری مجھ سے فرار کے لیے کی گئی اتنی کوششیں بھی کسی کام نہیں آئیں. اب تمہیں مجھ سے آزادی کسی صورت نہیں مل سکتی. تیار ہوجاؤ میرے اندر لگی اُس آگ کو بجھانے کے لیے جو تمہاری اپنی ہی لگائی گئی ہے.
سگریٹ کا گہرا کش لیتے دل ہی دل میں وہ اُس سے مخاطب تھا.
جاری ہے.
