59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

سدرہ آج مجھے گھر جلدی جانا ہے. احد کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے. میں نے سر عثمان سے بات کرلی ہے. باہر موسم بھی خراب ہے اِس لیے میں ابھی نکل رہی ہوں.
لیکن تم جاؤ گی کیسے ہاسپٹل کی وین کا ٹائم تو ایک گھنٹے بعد کا ہے.
ہاں جانتی ہوں میں ٹیکسی کر لوں گی.
اِشمل سدرہ کو بتاتے جلدی جلدی اپنی چیزیں لیتی وہاں سے نکل آئی تھی.
اِشمل نے ابھی بلڈنگ سے باہر قدم رکھا ہی تھا جب ہلکی ہلکی بارش شروع ہوچکی تھی. اور نہ ہی قریب کوئی ٹیکسی نظر آرہی تھی. یہاں کھڑے ہوکر ویٹ کرنے سے بہتر اُس نے تھوڑا آگے چل کر ٹیکسی دیکھنے کا سوچا تھا. وہ ہاسپٹل سے تھوڑا سا ہی آگے بڑھی تھی جب ٹیکسی تو نہ ملی لیکن اچانک سے بارش کافی تیز ہوچکی تھی. وہ جلدی جلدی قدم اُٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی جب ایک گاڑی اُس کے پاس آکر رُکی تھی. اُس نے اپنے قدم پھر بھی نہ روکے تھے.
گاڑی میں بیٹھو.
آہان رضا میر گاڑی سے نکل کر اُس کے سامنے آتے بولا.
اُس کے اچانک سامنے آجانے کی وجہ سے اِشمل کو مجبوراً رُکنا پڑا تھا. ورنہ سر ضرور اُس کے چوڑے سینے سے ٹکرا جاتا.
میرے راستے سے ہٹو. میں یوں کسی بھی ایرے غیرے کی گاڑی میں نہیں بیٹھتی.
اِشمل سرد تاثرات کے ساتھ بولی.
ہر بات میں بحث کرنا ضروری ہوتا ہے کیا. خاموشی سے بیٹھو گاڑی میں. سب لوگ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں جو کہ میں کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا.
آہان نے ایک نظر اُس کے بھیگے وجود پر ڈالی تھی. اُس کے کپڑے بلکل گیلے ہوکر جسم سے چپک چکے تھے. آس پاس سے گزرتے لوگوں کی نظریں اِشمل پر پڑتی دیکھ آہان کی کشادہ پیشانی پر موجود سلوٹوں میں مزید اضافہ ہوا تھا. اُسے اپنی جگہ سے نہ ہلتا دیکھ آہان نے آگے بڑھ کر اُس کا بازو پکڑنا چاہا تھا. جب وہ یکدم پیچھے ہوئی تھی.
تم ہوتے کون ہو مجھ پر حق جتانے والے. کس حق سے مجھے چھوتے ہو میرے قریب آتے ہو. ہو تو تم بھی میرے نامحرم نا جیسے یہ باقی سارے لوگ ہیں پھر میں کیوں بیٹھوں تمہارے ساتھ.
اِشمل شدید غصے سے چلاتی بولی.
وہ آہان رضا میر تھا جس کے ایک اشارے سے لوگ اُس کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتے تھے. کسی کی جرأت نہیں تھی اُس کی بات سے انکار کرے. اُس کے سامنے اُونچی آواز میں بولنے والا دوبارہ بولنے کے لائق نہیں بچتا تھا لیکن یہ لڑکی اُس کی کمزوری بن چکی تھی. جس کا اتنا چیخنا چلانا وہ آرام سے برداشت کر لیتا تھا. وہ نہیں جانتا کہ وہ اُس سے محبت کرتا ہے یا نہیں لیکن وہ آہان رضا میر کو پہلی نظر میں بھا گئی تھی. کسی صورت بھی وہ اُسے حاصل کرنا چاہتا تھا.
اِس بات کا جواب بھی بہت جلد مل جائے گا تمہیں. مگر اِس وقت تو تمہیں میری گاڑی میں بیٹھنا ہی ہوگا.
اِشمل کو مزید کچھ بھی کہنے سننے کا موقعہ دیئے بغیر اُسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا تھا. اور فوراً سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا گاڑی لاک کر چکا تھا.
کوئی فائدہ نہیں ہے. اپنی انرجی ہی ویسٹ کر رہی ہو. یہ دروازہ میری مرضی کے بغیر نہیں کھلے گا.
اُسے مسلسل گاڑی کے دروازے سے زور آزمائی کرتے دیکھ آہان گہری نظر اُس پر ڈالتا پُرسکون لہجے میں بولا تھا.
اِشمل اُس کی گہری بے باک نظریں خود پر محسوس کرکے مزید خود میں سمٹی تھی. اور دوپٹے کو مزید خود پر ٹھیک کرتی دروازے کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی تھی. اُس کی احتیاتی تدابیر پر شدید موڈ خراب ہونے کے باوجود بھی آہان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی. تھوڑی دیر پہلے اُس کی باتوں پر آیا غصہ اب شاید ختم ہو چکا تھا.
آہان اپنی ہی کیفیت پر اُلجھا تھا. وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اِس لڑکی کو سامنے دیکھ کر وہ کیوں ایسا ہوجاتا تھا. اُس کی اِتنی سخت باتوں کے باوجود بھی اُسے کچھ نہیں کہتا تھا. وہ ایسا تو کبھی نہیں تھا.
اپنی سوچوں کو جھٹکتے آہان نے توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کی تھی. شدید بارش کی وجہ سے گاڑی چلانا کافی مشکل ہورہا تھا. جب اچانک سامنے سے ایک گاڑی بہت سپیڈ سے کراس کرتی گزری تھی اگر آہان جلدی سے گاڑی کو لیفٹ سائیڈ پر نہ موڑتا تو ٹکراؤ یقینی تھا. اِس زور دار جھٹکے کی وجہ سے اِشمل کا سر آہان کے کندھے سے ٹکرایا تھا. اور دوسرے ہاتھ سے بے اختیاری میں اِشمل نے اُس کے بازو کو تھامہ تھا. اگر وہ ایسا نہ کرتی تو واپس گاڑی کے ڈور سے سر ٹکرا کر ضرور توڑوا بیٹھتی.
گاڑی کو نارمل پوزیشن میں لاتے آہان نے اپنے ساتھ لگی اِشمل کی طرف دیکھا تھا. جب اِشمل جلدی سے پیچھے ہوتی سیدھی ہوکر بیٹھی تھی.
دیکھ لو ڈاکٹر صاحبہ اب تم خود میرے قریب آئی ہو بعد میں پھر نہ الزام لگانا مجھ پر کہ میں نے کچھ کیا ہے.
آہان اُس کے سُرخ پڑتے چہرے کی طرف دیکھتا معنی خیزی سے بولا.
مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے قریب آنے کا. یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے. اگر گاڑی چلانی نہیں آتی تو مت چلاؤ یوں دوسروں کی جان خطرے میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے. یا پھر اُس دن کی طرح کہیں نشہ تو نہیں کیا ہوا. کیونکہ تم جیسے آوارہ مزاج اور ہوس پرست انسان سے اور اُمید بھی کیا کی جاسکتی ہے.
اِشمل اُس کی بات پر غصے سے طیش میں آتی بولی. جب اُس کی بات سنتے آہان نے زور سے بریک پر پاؤں رکھا تھا. گاڑی سائیڈ پر روکتے وہ اُس کی طرف مڑا تھا.
تمہیں بہت شوق ہے نا مجھ پر الزام لگانے کا تو ہاں ہوں میں اِس وقت نشے میں. جانتی ہو ایک نشئی اور ہوس پرست انسان تو کچھ بھی کر سکتا ہے. ایک تنہا لڑکی کہ ساتھ.
آہان بازو سے پکڑ کر اِشمل کو اپنے بے حد قریب کرتے بولا. اُس کی گرم سانسوں سے اِشمل کو اپنا چہرا جُھلستہ ہوا محسوس ہوا تھا. اِشمل کو شدت سے اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس ہوا تھا.
چھوڑو مجھے. درد ہورہا ہے.
اِشمل اُسے پیچھے دھکیلتی بولی. اُس کی سخت گرفت سے اِشمل کو اپنا بازو ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا.
کیا ہوا اب لگاؤ مجھ پر کوئی نیا الزام.
اِشمل کو اُس سے آج پہلی بار خوف محسوس ہوا تھا. واقعی وہ اُس کے ساتھ کچھ بھی کرسکتا تھا.
اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ آہان اُس کا بازو چھوڑتا سیدھا ہوا تھا. اور گاڑی کو ہوا کی سپیڈ پر بھگاتے اُس کے گھر کے سامنے روکی تھی. کیونکہ جتنے غصے میں اِس وقت تھا. وہ زیادہ دیر خود پر کنٹرول نہیں رکھ سکتا تھا. اِشمل شکر ادا کرتی جلدی سے باہر نکلی تھی.
اُس کے اُترتے ہی آہان نے پہلے سے بھی زیادہ تیز سپیڈ میں گاڑی آگے بڑھائی تھی. جب اِشمل اُس کے جنونی انداز پر گھبراتی گھر کے اندر داخل ہوگئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اِتنی اُداس کیوں بیٹھی ہو تم. میرا مشورہ مانوں اور بتادو بھیا کو کہ تم عارفین بھائی کو لائیک کرتی ہو.
حفصہ حنا کے پاس ٹیرس پر آتی بولی.
حفصہ آہستہ بولو. کبھی تو کوئی کام سوچ سمجھ کے کرلیا کرو. کسی نے سُن لیا تو نئی مصیبت آجائے گی.
حنا اُسے گھورتے ہوئے بولی. جو کبھی بھی کچھ بھی بول دیتی تھی.
بھئ مجھے تو اب کسی بات کی کوئی ٹینشن نہیں ہے. میرے پیارے آہان بھیا ہے نا سب سنبھال لیں گے. اِسی لیے تمہارے لیے بھی مشورہ ہے میرا اِس بار آئیں تو اُنہیں سب بتادو. منٹوں میں سب ٹھیک کر دیں گے. جیسے ابھی سب ٹھیک کر کے گئے ہیں..
حفصہ محبت سے آہان کا ذکر کرتی بےفکری سے بولی.
میں پسند کرتی ہوں نا. وہ تو نہیں کرتے مجھے اگر کرتے ہوتے تو یوں خاموشی اختیار نہ کرتے میں نے خود پھوپھو کو کہتے سنا ہے. وہ عارفین کا رشتہ اپنی نند کی بیٹی سے کرنے کی بات کررہی تھیں.
حنا اپنے آنسو صاف کرتے بولی.
چلو جی کیا بنے گا تم لوگوں کا. ہم دونوں اچھے سے جانتی ہیں کہ عارفین بھائی تمہیں کتنا لائیک کرتے ہیں اور تم اُنہیں. لیکن تم جیسے ڈرپوک لوگوں کو محبت کرنی ہی نہیں چاہئے. وہ اُدھر اپنی اماں جان سے ڈر کر بیٹھے ہیں اور تم اِدھر اپنی سے.
حفصہ اُن دونوں کی عقل پر ماتم کرتے بولی.
اِس سے پہلے کے وقت تم دونوں کے ہاتھ سے نکل جائے کچھ کرلو. ورنہ پھر دونوں بعد میں روتے رہنا.
حفصہ اُسے سمجھاتے ہوئے بولی.
جب وہ مرد ہوکر کوئی سٹینڈ نہیں لے رہے تو میں کیسے کچھ کروں. اور بھیا پہلے ہی ہمارے لیے اتنا کچھ کرچکے ہیں میں اُن کو اِس معاملے میں انوالو کرکے بابا اور ہاجرہ امی کی ساتھ اُن کا رشتہ مزید خراب نہیں کرنا چاہتی. اور تمہیں بھی میری قسم بھیا کو اِس بارے میں کچھ نہیں بتاؤ گی.
حنا کی بات پر حفصہ بھی خاموش ہوگئی تھی. اُسے بھی کسی حد تک حنا کی بات مناسب لگی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ایک ہفتے گزر چکا تھا لیکن اُس دن کے بعد سے آہان نے اُس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا. جس وجہ سے وہ بہت خوش تھی. لیکن وہ نہیں جانتی تھی. یہ خاموشی اُس کے لیے کتنا بڑا طوفان لانے والی تھی.
سلمان صاحب نے اُس کا رشتہ اپنے دوست احمد کے بیٹے ارسلان سے طے کر دیا تھا. اُسے ارسلان کے بارے میں کچھ خاص نہیں پتا تھا. سلام دعا کے علاوہ اُن کی آپس میں کبھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی. لیکن اِشمل اِتنا جانتی تھی کہ وہ ایک شریف اور اچھا انسان ہے اِس لیے اُسے اِس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا.
آج ہاسپٹل سے لوٹتے اُسے تھوڑی دیر ہوگئی تھی. جب گھر میں غیر معمولی خاموشی سے اُسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا. چاروں طرف نظر دوڑاتی وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تھی.
یہ یہ سب کیا ہے ماما. یہ کون لایا اور آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں.
اِشمل نے حیرت سے ٹیبل اور صوفوں پر پڑے بہت سارے سجے تھال کی طرف دیکھا تھا. اور قریب ہی دونوں ہاتھوں پر سر جھکائے بیٹھی اسما بیگم کی طرف بڑھی تھی. جب اُس کی آواز پر اسما بیگم نے پریشان نظروں سے اُس کی طرف دیکھا.
تمہارے بابا نے کہا ہے جیسے ہی تم واپس آؤ اُن کے کمرے میں بھیجا جائے.
اُسے کہتے وہ وہاں سے اُٹھ گیئں تھیں.
اسما بیگم کے لہجے سے اُسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا.
بابا آپ نے بلایا مجھے.
اِشمل دروازے پر ہلکا سا ناک کرتی اندر داخل ہوئی تھی.
ہممہ بیٹا بیٹھو یہاں.
سلمان صاحب سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کرتے بولے.
آج کچھ لوگ تمہارا رشتہ لے کر آئے تھے. جدی پشتی رئیس اور ہماری حیثیت سے بہت اُونچے ہیں وہ لوگ. ہمارا اور اُن کا کوئی میل نہیں. ابھی اُن کو گئے کچھ گھنٹے نہیں گزرے کے بیسوں لوگ آکر پوچھ چکے ہیں ہم سے. اور ناجانے کیا کیا باتیں بنائی جارہی ہیں. کیونکہ میر خاندان کو ہر کوئی جانتا ہے. اتنے بڑے لوگوں کا ہمارے گھر آنا سب کے لیے حیرانی کا باعث تو ہوگا ہی.
تمہیں یہ سب بتانے کامقصد صرف یہی ہے کہ. تم پر میں اپنے حالات واضع کردوں. کیونکہ جس طرح وہ لوگ رشتہ لے کر آئیں ہیں اُس سے تو صاف ظاہر ہے کہ اِس سب میں تمہاری بھی رضامندی شامل ہے.
سلمان صاحب کی آخری بات پر اِشمل نے تڑپ کر اُن کی طرف دیکھا تھا.
بابا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں. ایسا کچھ نہیں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں.
اِشمل اُن کی بے اعتباری پر نم آنکھوں سے اُن کی طرف دیکھتے بولی. جب سلمان صاحب نے اُسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا.
تم اُس لڑکے کو جانتی ہو؟ مل چکی ہو اُس سے؟
اُن کی بات پر اِشمل نے اثبات میں سر ہلایا تھا.
اگر ایسا تھا تو تم نے ارسلان سے رشتے پر رضا مندی کیوں دی.
سلمان صاحب بے تاثُر چہرے کے ساتھ اُس کی طرف دیکھتے بولے. جب اِشمل مزید اُن کی بے اعتباری برداشت نہ کرتے ہوئے اُن کے قدموں کے قریب آبیٹھی تھی.
بابا آپ نے ہمیشہ اپنی بیٹی پر اتنا اعتبار کیا ہے پلیز ایک بار اب بھی میری پوری بات سن لیں.
اِشمل اُن کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے بولی تھی.
جب سلمان صاحب نے اُسے کندھوں سے پکڑ کے کر اُوپر اپنے پاس بیٹھایا تھا.
بولو بیٹا میں سن رہا ہوں.
اِشمل گود میں رکھے ہاتھوں کو مسلتی اُنہیں آہان کے ہاسپٹل آنے سے لے کر آگے کی ساری بات بتاتی چلی گئی تھی.
بیٹا تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے یہ سب.
سلمان صاحب اُس کے آنسو صاف کرتے بولے.
میرے لیے تمہاری خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے. تمہاری خوشی کے خیال سے میں اُن لوگوں سے میل نہ ہوتے ہوئے کسی حد تک اِس رشتے کے لیے خود کو رضا مند کر چکا تھا. لیکن اب تمہاری مرضی جان کر میں بہت مطمیئن ہوگیا ہوں.
سلمان صاحب پر سکون لہجے میں بولے.
بابا وہ شخص بہت پاور فل ہے. اتنی آسانی سے خاموش نہیں بیٹھے گا.
اِشمل اُنہیں آہان رضا میر کے بارے میں آگاہ کرتے بولی.
جو ہوگا دیکھا جائے گا بیٹا. زیادہ سوچ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے. جاؤ جاکر ریسٹ کرو.
اُن کی بات پر اِشمل سر ہلاتی وہاں سے اُٹھ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

کیسا لگا پھر میرا سرپرائز ڈاکٹر اِشمل سلمان.
اِشمل ابھی اپنے روم میں پہنچی ہی تھی جب موبائل پر بجتے انجان نمبر کو دیکھا تھا. وہ جانتی تھی یہ کون ہوسکتا ہے. اور اِشمل کے اندازے کے مطابق کال اُٹھاتے ہی آگے سے اُسی کی آواز سنائی دی تھی.
تم نے یہ سب کرکے اچھا نہیں کیا. آج تمہاری وجہ سے پہلی بار میں نے اپنے بابا کی آنکھوں میں اپنے لیے بے اعتباری دیکھی ہے. اِس کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی.
اِشمل اُس کی آواز سنتے شدید غصے سے بولی تھی.
تم سے معافی مانگ بھی کون رہا ہے ڈاکٹر صاحبہ. بلکہ ابھی تو آگے میں اور بھی بہت کچھ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں. تمہیں ابھی کال کرنے کا مقصد یہی بتانا تھا. میں اپنے مزاج سے ہٹ کر بہت اچھے سے پیش آرہا تھا تم سے لیکن شاید تمہیں وہ سب راس نہیں آیا اب تم آہان رضا میر کا اصلی رُوپ دیکھو گی.
آہان نے کہتے ساتھ ہی فون بند کر دیا تھا. جب اِشمل موبائل وہی پھینکتی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رونا شروع ہوچکی تھی. اِس شخص نے اُس کی اچھی بھلی زندگی کا سکون برباد کرکے رکھ دیا تھا. اور اب مزید پتا نہیں کیا کرنے والا تھا.