59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

آہان سے حنا کی یہ حالت نہیں دیکھی گئی تھی. وہ تو ہمیشہ اپنی بہنوں کو خوش دیکھنا چاہتا تھا. اُن کی خاطر کسی سے بھی لڑ جانے کے لیے تیار تھا. پھر اب کیسے یہ سب برداشت کرسکتا تھا.
“حنا میری گڑیا کل تمہاری حرکت کے بارے میں سن کر جس طرح میں یہاں پہنچا ہوں تمہیں بتا بھی نہیں سکتا. اگر کوئی انہونی ہوجاتی تو.
کیا تمہیں مجھ پر اتنا بھی ٹرسٹ نہیں تھا کہ ایک بار بھی مجھے بتانے کے بجائے یہ حرام فعل کرنا زیادہ مناسب لگا.
اور عارفین والی بات سب کو معلوم تھی صرف مجھے ہی نہیں تم جانتی ہو میں اُن مردوں میں سے نہیں ہوں جو خود تو اپنی پسند کو اہمیت دے لیکن بہن بیٹیوں سے یہ حق چھین لے اور اِن باتوں کو انا کا مسئلہ بنائے. اگر ایک بار بھی میرے سامنے اِس بات کا ذکر کر دیتی تو کبھی اتنی تکلیف برداشت نہ کرنی پڑتی.”
آہان کی بات سن کر حنا کے گلٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا. واقعی وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا. اُس نے ہمیشہ ہر بات میں اُن کی خوشی کو ترجیح دی تھی. ہاجرہ بیگم کی اتنی مخالفت کے باوجود بھی اُنہیں عزیز رکھا تھا.
“ایم سوری بھائی آئندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا.”
حنا آنسوؤں کے درمیان شرمندگی سے کہتی آہان کے سینے سے آلگی تھی.
“بس بہت رو لیا. اب دوبارہ میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں. ہر طرح کے خدشات کو اپنے دل سے نکال دو کسی کی جرأت نہیں ہے. میرے ہوتے تمہارا بال بھی بیکا کرسکے.
عارفین بہت اچھا انسان ہے مجھے پورا یقین ہے تمہیں بہت خوش رکھے گا. اب مجھے تم صرف ہنستی مسکراتی نظر آؤ. اُس جنگلی بلی حفصہ کی طرح.”
آہان نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے محبت سے بولا تھا. جب اُس کی آخری بات پر آنسو صاف کرتی حنا مسکرا دی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“بھابھی کچھ لوگوں کی تو آج مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپ رہی.”
حفصہ نے اِشمل کی طرف دیکھ کر حنا کو چھیڑا تھا.
“ایسی کوئی بات نہیں ہے بدتمیز.”
حنا نے اُس کے بازو پر چٹکی کاٹی تھی. جس نے کب سے اُس کے ناک میں دم کر رکھا تھا.
دوپہر کے وقت حنا اور عارفین کا نکاح ہوچکا تھا. جو بات اُن دونوں کو ناممکن لگ رہی تھی آہان کی وجہ سے اتنی آسانی سے ہوگئی تھی. سب ہی بہت خوش تھے. سفیہ بیگم اور ہاجرہ بیگم نے زندگی میں پہلی بار حنا سے محبت سے بات کی تھی جس پر وہ کافی شاک میں بھی تھی. اِشمل اور حفصہ تو نکاح کے بعد اُن دونوں کی ملاقات کروانے کے موڈ میں تھیں.
جس کے لیے حنا کسی صورت تیار نہیں تھی. بہت مشکل سے اُن کی منت سماجت کرکے اِس عمل سے باز رکھا تھا. وہ شرماتے ہوئے اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ وہ دونوں اُسے چھیڑنے سے خود کو روک نہیں پارہی تھیں.
“ویسے ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی یہ محبت ہوئی کب اور کیسے. کیونکہ عارفین صاحب تو ہماری حنا سے بھی زیادہ شرمیلے ہیں.”
اِشمل کا لہجہ بھی کافی شرارتی تھا.
“بھابھی آپ بھی اِس کے ساتھ شامل ہوگئی ہیں.”
حنا منہ بناتے بولی.
“میں بتاتی ہوں آپ کو بھابھی. اِن کی محبت کی کہانی کافی کمپلیکیٹڈ ہے. آج تک کبھی ڈھنگ سے بات نہیں کی اِنہوں نے. بس نظروں ہی نظروں میں محبت ہوئی. وہیں سے اظہار ہوا اور پھر ظالم سماج کے ڈر سے وہیں سے انکار بھی ہوگیا.”
حفصہ نے قہقہ لگاتے کہا جس میں اِشمل نے بھی اُس کا پورا ساتھ دیا تھا.
“مجھے بات ہی نہیں کرنی آپ لوگوں سے.”
حنا نے نارضگی سے کہتے چہرا دوسری طرف موڑا تھا.
“حفصہ بس اب بلکل تنگ نہیں کرنا حنا کو.”
اِشمل نے حفصہ کو گھورا.
“کچھ عارفین بھائی کے لیے بھی بچا کر رکھو یار.”
اپنا ساتھ دینے پر حنا مسکرائی لیکن اِشمل کی اگلی بات پر خفگی سے پھر سے چہرا موڑ گئی تھی.
ابھی وہ لوگ مزید اُسے تنگ کرتیں کہ ملازمہ گھبرائی سی اندر داخل ہوئی تھی.
ملازمہ کی بات اُن کے ہوش اُڑانے کے لیے کافی تھی. جب اِشمل کے پیچھے جلدی سے وہ دونوں بھی باہر کی جانب بڑھی تھیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آہان کی گاڑی پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا. جس کے پیچھے ملک حسیب کا ہاتھ تھا. حنا کے نکاح کا سن کر ملک ذیشان پاگل ہورہا تھا. آج تک کبھی اُس کا شکار اُس سے نہ بچ پایا تھا. اُسے لگا تھا حنا بھی باقی لڑکیوں کی طرح اُس کے ہاتھوں بلیک میل ہوجائے گی کیونکہ حویلی تک پہنچ کر حنا کو اُٹھانا اُن کے لیے ناممکن تھا یہی ایک طریقہ تھا اُسے بلیک میل کرکے حویلی سے بھاگنے پر مجبور کر دیں اور آہان رضا میر کا غرور مٹی میں ملا دیں لیکن اپنی چال خود پر ہی اُلٹتے دیکھ اُنہوں نے آہان پر حملہ کیا تھا.
“آہان کو کچھ نہیں ہوا وہ بلکل ٹھیک ہے آپ لوگ پریشان مت ہوں. ڈرائیور اور ایک گارڈ زخمی ہوئے ہیں جنہیں شہر پہنچا دیا گیا ہے.”
حسنین صاحب اُن سب کو تسلی دیتے بولے.
“آہان اگر ٹھیک ہے تو وہ حویلی کیوں نہیں آرہا. ہم جب تک اُسے دیکھ نہ لیں ہمیں سکون کیسے آئے گا.”
ہاجرہ بیگم کو جب سے پتا چلا تھا اُن کے آنسو ہی نہیں رُک رہے تھے اور باقی سب کا بھی یہی حال تھا.
“میں نے اُسے بہت کہا ہے لیکن اُس کا کہنا ہے جب تک اُن لوگوں کو اُن کے انجام تک نہیں پہنچا دیتا حویلی نہیں لوٹوں گا. اور اُس نے سختی سے منع کیا ہے کہ کوئی بھی حویلی سے باہر نہ نکلے.”
فرقان صاحب کی بات سنتے اِشمل کا دل زور سے دھڑکا تھا. وہ آہان کا وہ جلالی رُوپ دیکھ چکی تھی جس میں اُس دن حسیب کو سامنے دیکھ کر وہ آیا تھا.
اُسے ڈر تھا کہ کہیں آہان کے جذباتی پن سے اُسے ہی نہ کوئی نقصان پہنچے. اِشمل کتنی بار اُس کا فون ٹرائی کر چکی تھی لیکن اُس کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں آرہا تھا. اِشمل کو اب پریشانی کے ساتھ ساتھ آہان پر غصہ بھی آرہا تھا.
ساری رات آنکھوں میں گزر گئی تھی لیکن آہان کی فکر میں کسی کو نیند نہیں آئی تھی. ہر ایک کے دل اور زبان سے صرف اُس کی سلامتی کی دعائیں ہی نکل رہی تھیں.
ہاجرہ بیگم نے تو رو رو کر اپنی طبیعت بھی خراب کر لی تھی.
اِشمل کے ساتھ حنا اور حفصہ بھی اُن کی خدمت میں لگی ہوئی تھیں.
ہاجرہ بیگم نجانے کتنی بار عاصمہ بیگم, حنا اور حفصہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ چکی تھیں. وہ نہیں چاہتی تھیں کہ اُن کے گناہوں کی سزا اُن کے بیٹے کو ملے. ہاجرہ بیگم کی بات سن کر وہ لوگ تڑپ اُٹھی تھیں. آہان کے لیے تو وہ مرکر بھی بُرا نہیں سوچ سکتی تھیں. اُن تینوں نے اُنہیں کھلے دل سے معاف کر دیا تھا. اِشمل اُن سب کو ایک ہوتا دیکھ بہت خوش ہوئی تھی. آہان بھی تو یہی چاہتا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“کون ہو تم لوگ کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر.”
ملک ذیشان بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ چِلا رہا تھا. اُسے ایک چھوٹے سے تاریک کمرے میں رکھا گیا تھا. پاس کھڑے دو ہٹے کٹے آدمی بلکل خاموش تھے جیسے اُنہیں کچھ بھی بولنے کی اجازت نہ ہو.
ملک ذیشان کو بلکل سمجھ نہیں آرہا تھا وہ یہاں پہنچا کیسے وہ تو اپنے ڈیرے پر سویا تھا.
جہاں اُس کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا تو پھر اُسے وہاں سے اُٹھا کر لانے کی ہمت کس نے کی تھی.
کون تھا ایسا مائی کا لال جسے اپنی زندگی پیاری نہیں تھی.
جب اچانک اُس کے دماغ میں آہان رضا میر کا خیال آیا تھا.
ابھی وہ مزید کچھ سوچتا جب دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی. اُس کی نظریں اندر وارد ہونے والے شخص پر تھیں. لیکن جیسے ہی سامنے والے کا چہرا واضح ہوا ملک ذیشان کے رنگت متغیر ہوئی تھی.
آہان کے قریب آتے دیکھ اُسے اپنی موت بھی قریب آتی نظر آرہی تھی.
“کیا ہوا…..اوہ ہو یہ کیا دیکھ رہا ہوں میں ملک ذیشان ڈر رہا ہے. لیکن جہاں تک میں نے سنا ہے ملک ذیشان تو کسی سے نہیں ڈرتا.”
آہان اُس کے ہوائیاں اُڑاتے چہرے کی طرف دیکھتا استہزایہ انداز میں ہنسا تھا.
“تم یہ ٹھیک نہیں کررہے. میرا بھائی تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو چھوڑے گا نہیں.”
ملک ذیشان نے اُسے دھمکانا چاہا تھا. جب آہان کا ایک زور دار تھپڑ اُس کے چودہ طبق روشن کر گیا تھا.
“اپنی گندی زبان سے میرے گھروالوں کا نام بھی مت لینا. اور تمہارے اُس بے غیرت بھائی کو بھی دیکھ لوں گا میں.”
آہان غصے سے دھارا تھا. اُس کے اشارے پر پاس کھڑے آدمی نے ہاتھ میں پکڑی لوہے کی راڈ اُس کے بازو پر دے ماری تھی. جسے برداشت نہ کرتے ملک ذیشان درد سے بلبلا اُٹھا تھا.
“اُس دن اپنی دونوں ٹانگوں سے ہاتھ دھو کر مجھے لگا تھا تمہیں کچھ عقل آگئی ہوگی.
لیکن نہیں تم جیسے بے ضمیر لوگ دوسروں پر ظلم کرنے کے اتنے عادی ہوجاتے ہو کہ خود کو فرعون سمجھ بیٹھتے ہو اور یہ بھول جاتے ہو کہ برائی کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہی ہوتا ہے.”
آہان کی بات پر درد سے تڑپتے ملک ذیشان نے خوفزدہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
” چھوڑ دو مجھے میں آئندہ کبھی تمہارے گاؤں کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھوں گا. معاف کر دو مجھے.”
وہ آہان کے آگے گڑگڑیا تھا.
اُس کی آنکھوں کے سامنے اُن تمام لوگوں کے چہرے گھوم رہے تھے. جن پر اُس نے ظلم کے پہاڑ ڈھائے تھے. اُن کی بے بسی اور لاچاری کا فائدہ اُٹھایا تھا.
نجانے کتنے ہی غریب مِزاروں سے اُن کا واحد سرمایہ اُن کی عزت چھینی تھی. وہ بھی تو اُس کے سامنے ایسے ہی گِڑ گڑائے تھے. لیکن اُس نے کسی کی فریاد نہیں سُنی تھی. پھر اُسکی کیسے سنی جاتی.
“میں تمہیں اِس قابل چھوڑوں گا تب تم کچھ کر پاؤ گے نا.”
آہان نے ہاتھ میں پکڑی گرم سلاخ سے اُس کے دائیں بازو پر ضرب لگائی تھی.
پورا کمرا ملک ذیشان کی چیخوں سے گونج اُٹھا تھا.
“رحم کرو مجھ پر. آئندہ کبھی کسی کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا.”
آہان کو اپنے دوسرے بازو کی طرف بڑھتے دیکھ وہ روتے ہوئے بولا.
“رحم تم ایک ایسا انسان بتا دو جس پر رحم کرکے تم نے اُسے بخشا ہو. تمہارے گاؤں کا کوئی ایک شخص تمہارے شر سے محفوظ نہیں.میں ایک بار تم ہر رحم کرنے کی غلطی کر چکا ہوں لیکن اب دوبارہ میں ویسی غلطی نہیں کرنا چاہتا. کیونکہ تم جیسے لوگ کبھی اپنی فطرت نہیں بدل سکتے.”
آہان کے اگلے وار سے اُس کا دوسرا بازو بھی ناکارا ہوچکا تھا. ابھی وہ اِس درد سے نہ سنبھلا تھا کہ دوسرے آدمی کو تیز دھار آلہ لیے اپنی طرف بڑھتے دیکھا تھا.
“تمہیں اتنی آسان موت دے کر میں اُن مظلوموں کے ساتھ ناانصافی نہیں کرسکتا جن پر نجانے تم نے کتنے ظلم ڈھائے ہیں.
بلکہ تمہیں ہمیشہ کے لیے زندہ لاش بنا کر رکھ دوں گا. تاکہ تمہاری آنے والی نسلیں بھی تمہارے انجام سے سبق سیکھیں.”
“اور ہاں”
آہان جاتے جاتے پلٹا تھا. اِسی زبان سے ٹارچر کیا تھا نا میری بہن کے ساتھ ساتھ نجانے کتنی بہن بیٹیوں کو. کتنے مزے کی بات ہے نا اگر اِسے ہی ختم کردیا جائے.”
آہان نفرت بھری نظروں سے اُس کی طرف دیکھتا اپنے آدمی کو اشارہ کرتا وہاں سے نکل آیا تھا.
پیچھے سے اُسے ملک ذیشان کی دلدوز چیخوں کی آوازیں سنائی دی تھیں.
آہان کے آدمیوں نے اُس کی زبان کاٹ دی تھی.
آہان نے اُسے جان سے نہیں مارا تھا بلکہ ہاتھوں اور زبان سے معذور کرکے اپنے آدمیوں کو اُسے دوبارہ وہیں چھوڑ کر آنے کا حکم دیا تھا جہاں سے اُسے لایا گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اِشمل کل سے آہان کو کال کر کر کے ہلکان ہوچکی تھی. لیکن اُس کا فون مسلسل بند جارہا تھا.
“انتہا کا کھڑوس شخص ہے یہ اتنا بھی خیال نہیں آرہا گھر میں سب کتنے پریشان ہو رہے ہیں ایک بار کال ہی کرکے اپنی خیریت بتا دوں.”
اِشمل نے روم میں چکر کاٹتے فکرمندی سے سوچا تھا.
خداناخواستہ ملک حسیب کے اُس حملے میں آہان کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا جو نہ وہ گھر آرہا ہے نہ ہی فون اُٹھا رہا ہے. یا ﷲ جی پلیز آہان کو کچھ نہیں ہونا چاہئے.”
وہ اپنی ہی سوچوں میں ناجانے کب تک اُلجھی رہتی جب موبائل کی آواز پر جلدی سے اُس کی طرف بڑھی تھی.
سکرین پر جگمگاتا انجان نمبر دیکھ کر کسی خیال کے تحت فون اٹینڈ کیا تھا.
“جی فرمائیں کون بات کر رہی ہیں.”
کسی عورت کی آواز سنتے اِشمل نے اُس سے پوچھا.
“ڈاکٹر اِشمل میں نرس بتول بات کررہی ہوں. آپ کی مدد کی ضرورت ہی پلیز. ابھی ابھی ہاسپٹل میں ایک زخمی بچے کو لایا گیا ہے اُس کی حالت بہت خراب ہے. ڈاکٹر زیبا بھی گاؤں میں نہیں ہیں. آپ جلدی سے آجائیں اگر زرا سی بھی دیر ہوئی تو یہ بچا مر جائے گا. “
بتول کی گھبرائی آواز سن کر اِشمل اُسی وقت ہاسپٹل کے لیے اُٹھی تھی لیکن پھر آہان کی حویلی سے نہ نکلنے والی ہدایت پر اُس کے قدم ڈھیلے پڑے تھے.
“بتول لیکن میں..”
“ڈاکٹر صاحبہ پلیز انکار مت کیجئے گا. “
اِشمل کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بتول اُس کی بات کاٹتے فوراً بولی. جیسے اُسے یقین ہو کہ اِشمل انکار ہی کرنے والی ہے.
“اوکے تم فکر مت کرو میں ابھی پہنچتی ہوں وہاں.”
اِشمل نے کال کاٹتے ایک بار پھر آہان کا نمبر ڈائل کیا تھا. لیکن پہلے کی طرح کوئی رسپانس نہیں ملا تھا.
اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے. لیکن ایسے ڈر کر اپنی جان کی خاطر کسی اور کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی اور نہ ہی اپنے پیشے سے بد دیانتی کرسکتی تھی.
ایک فیصلہ کرتے وہ باہر کی طرف بڑھی تھی. سب لوگ شاید اُوپر ہاجرہ بیگم کے کمرے میں موجود تھیں. اِس لیے نیچے ہال خالی تھا. اِشمل پاس سے گزرتی ملازمہ کو ہاجرہ بیگم کو انفارم کرنے کا کہتے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا حکم دیا تھا.
اِس سے پہلے کے گھروالوں کو اُس کے جانے کی اطلاع ملتی یا کوئی نیچے آکر اُسے روکتا وہ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل چکی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آہان جانتا تھا گھر میں سب بہت پریشان ہوں گے اِس لیے ملک حسیب کا کام تمام کرنے سے پہلے گھر جانے کا ارادہ کرتے ڈرائیور کو گاڑی حویلی کی طرف موڑنے کا حکم دیا تھا.
وہ جانتا تھا اُس پر حملے کا سن کر سب بہت فکرمند ہوں گے. کل بھی ملک ذیشان والے معاملے کی وجہ سے وہ گھر نہیں جا پایا تھا.
آہان نے جیسے ہی حویلی میں قدم رکھا آگے سے ملنے والی خبر نے اُس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی. اِشمل محفوظ نہیں تھی.
“آپ سب لوگ گھر میں موجود تھے کسی نے بھی اُسے روکا نہیں. “
آہان غصے سے سب کی طرف دیکھتا دہاڑا تھا. اور کسی کی بھی کوئی صفائی سنے بغیر اُلٹے پاؤں حویلی سے واپس بھاگا تھا.
گھروالوں میں سے کسی کا بھی باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں تھا خاص کرکے اِشمل کا تو بلکل نہیں. آہان کا دل انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا.
ہاجرہ بیگم اور باقی سب ملازمہ کی اطلاع پر جیسے ہی نیچے آئے. اِشمل وہاں سے نکل چکی تھی. اُنہوں نے اُسی وقت حسنین اور فرقان رضا میر کو فون کرکے ڈیرے سے بلوایا تھا. گارڈ سے اِشمل کے ساتھ جانے والے ڈرائیور کا نمبر لے کر اُسے کال کی گئی تھی لیکن وہ اُس کا نمبر بند دیکھ سب کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا.
اُن کے آنے کے کچھ دیر بعد آہان بھی وہاں پہنچا تھا.
آہان سمجھ چکا تھا کہ ملک حسیب پاگلوں کی طرح اپنے بھائی کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے اِشمل کو اِس طرح ٹریپ کرکے بلانا بھی ضرور اُسی کی کوئی چال ہوگی.
“یہ کس کی نظر لگ گئی میرے گھر کو ایک مصیبت ختم نہیں ہورہی جو دوسری آجاتی.
یاﷲ میرے بیٹے اور بہو کو اپنی حفاظت میں رکھنا. اُنہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنا.”
ہاجرہ بیگم روتے ہوئے وہیں صوفے پر گری تھیں.
وہ خود کو ہمیشہ ایک مظبوط اور سخت دل خاتون کہتی آئیں تھیں. جنہیں کبھی کسی کی کوئی پرواہ نہیں رہی تھی. ہمیشہ غرور سے سر اُٹھا کر رہتی تھیں. لیکن آج اُن کے اندر کی ممتا نے اُن کا سارا غرور ختم کردیا تھا. اُنہیں آج عاصمہ بیگم کے درد کا احساس ہورہا تھا جن کی اولاد کو وہ ہمیشہ سے تکلیف ہی دیتی آئی تھیں.

جاری ہے