Rate this Novel
Episode 20
حنا بیڈ کے ساتھ نیچے گری ہوئی تھی اور اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی.
ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر وہ دونوں بھاگتے ہوئے حنا کے پاس پہنچی تھیں. بہت مشکل سے اُسے اُٹھا کر بیڈ پر لاتے اِشمل کے کہنے پر حفصہ جلدی سے باہر کی طرف بڑھی تھی. حنا کہ بیڈ پر رکھا دوایوں کا باکس دیکھ کر اِشمل سمجھ گئی تھی کہ حنا بہت بڑی بے وقوفی کر چکی ہے.
گاؤں کے ہاسپٹل سے ڈاکٹر اور نرس کے ساتھ باقی ضروری میڈیکل ایکوپمنٹ منگوائے گئے تھے. کیونکہ حنا کی شہر لے جانے والی حالت نہیں تھی.
تھوڑی ہی دیر میں حویلی میں سب کو پتا چل چکا تھا کہ حنا نے خود کشی کی کوشش کی ہے. سب لوگ ہی شاک میں ہونے کے ساتھ ساتھ اِس بات پر بھی حیرت ذدہ تھے کہ آخر حنا نے اتنا بڑا قدم کیوں اُٹھایا. حنا سے کسی کو بھی اِس بات کی اُمید نہیں تھی. حفصہ اور عاصمہ بیگم کا رو رو کر بُرا حال تھا. ہاجرہ بیگم نے آہان کو بھی اطلاع کردی تھی کہ آکر اپنی لاڈلی بہن کے کارنامے دیکھے.
اِشمل کی بہت کوشش سے کافی دیر بعد جاکر کہیں حنا کی حالت خطرے سے باہر ہوئی تھی.
“حنا تم نے یہ کیا حرکت کی ہے. تم نے ایک بار بھی میرے اور امی کے بارے میں نہیں سوچا. اور بھیا اُن کو کیسا لگے گا تمہاری اِس حرکت کا سن کر.”
حفصہ نے حنا کو ہوش میں آتے دیکھ روتے ہوئے پوچھا.
لیکن حنا ابھی خود کو کسی سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں سمجھ رہی تھی.
ملک ذیشان کی روز کی فون کالز نے اُسے ذہنی طور پر اتنا ٹارچر کردیا تھا کہ خود کو ختم کرنے کے علاوہ اُسے اور کوئی حل سمجھ ہی نہیں آیا تھا.
” اوکے مت بتاؤ مجھے کچھ. ابھی آہان بھائی تھوری دیر میں پہنچ رہے ہیں وہ خود ہی تم سے سب پوچھ لیں گے.”
حفصہ کی بات پر حنا نے بھیگی آنکھیں اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تھا.
“حفصہ اب بس کرو پہلے ہی اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے. تم اُسے مزید پریشان مت کرو. جاؤ یہاں سے آرام کرنے دو اب اُسے.”
اِشمل نے حنا کی حالت دیکھتے حفصہ کو باہر جانے کا کہا تھا. جس پر حفصہ خاموشی سے وہاں سے نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آہان نے جیسے ہی حویلی میں قدم رکھا بغیر کسی سے سلام دعا کیے سیدھا حنا کے کمرے کی طرف بڑھا تھا. اُس کو اتنے غصے میں جاتے دیکھ ہاجرہ بیگم اور باقی سب بھی اُس طرف آئے تھے.
اِشمل جو حنا کو دوا دے کر ہٹی تھی زور سے دروازہ کھلنے کی آواز پر اُدھر متوجہ ہوئی. حنا بھی آہان کو اندر آتا دیکھ فوراً اپنی جگہ سے اُٹھتی سیدھی ہوئی. لیکن آہان نے اُس سے کوئی بھی بات پوچھے بغیر ایک زور دار تھپڑ اُس کی گال پر رسید کیا تھا. حنا اوندھے منہ بیڈ پر جاگری تھی.
آہان یہ آپ کیا کررہے ہیں. اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے.
سب اچھے سے واقف تھے آہان کے غصے سے اِس لیے خاموشی سے اپنی اپنی جگہ کھڑے رہے تھے. لیکن حنا کی حالت کے مدنظر اِشمل خاموش نہیں رہ پائی تھی.
اِشمل تم نہیں جانتی یہ خبر سن کر میری کیا حالت ہوئی ہے. اگر اِس بے وقوف لڑکی کو کچھ ہوجاتا تو. بہت افسوس ہورہا ہے مجھے خود پر کہ میری لاڈلی بہن نے اپنی پریشانی مجھ سے ڈسکس کرنے کے بجائے اپنے آپ کو ختم کرنا بہتر سمجھا. اِسے مجھ پر اتنا بھروسہ نہیں تھا کہ مجھ سے ایک بار ہی اپنی پرابلم شیئر کرتی.”
آہان غصے, پریشانی اور دکھ کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بولا.
“بھیا پلیز مجھے معاف کر دیں. میں جانتی ہوں میں نے بہت غلط کیا. لیکن مجھے اور کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا. آپ نہیں جانتے میری زندگی میں آپ کا کیا مقام ہے میں کسی صورت آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی.”
حنا بیڈ پر سرجھکا کر بیٹھی روتے ہوئے بولی. جب آہان سمیت باقی سب بھی اُس کی بات پر چونکے.
“کیا مطلب ہے تمہاری اِس بات کا.”
آہان کڑے تیوروں سے اُسے گھورتے ہوئے بولا. جب حنا اپنے ہی کہے الفاظ پر گڑبڑائی تھی. اُس کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے.
حنا ایک سیکنڈ کے اندر بولو. تمہاری اِس حرکت کی اصل وجہ کیا ہے اور اگر مزید کوئی جھوٹ بولنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا.”
آہان کی سرد آواز پر حنا نے کانپتے ہاتھوں سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا تھا. اور ایک نظر کمرے میں موجود تمام نفوس پر ڈالی تھی.
“ملک ذیشان مجھے کچھ ٹائم سے فون کرکے دھمکیاں دے رہا ہے. وہ کہتا ہے میں …کہ میں کسی کو بھی بتائے بغیر حویلی سے فرار ہوکر اُس کے پاس چلی جاؤ اور اگر میں نے آپ کو یا کسی کو بھی بتایا تو وہ آپ کو جان سے مار دے گا. اِس لیے مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں وہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے اِس لیے میں نے خود کو ہی ختم کرنا چاہا.”
حنا کی بات سن کر آہان کے علاوہ وہاں موجود تمام افراد کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا.
“اُس بے غیرت شخص کی اتنی ہمت میری بہن کو ٹارچر کرے گا. پچھلی بار تو بچ گیا تھا لیکن اِس بار زندہ نہیں چھوڑوں گا میں اُسے.”
آہان کا دل چاہا تھا اُن دونوں بھائیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کتوں کے آگے ڈال دے. وہ حنا کی مزید کوئی بات سنے بغیر باہر کی طرف بڑھا تھا.
“آہان رُکو اِس طرح کرنے سے نقصان کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا.”
سب سے پہلے ہاجرہ بیگم ہی ہوش میں آتیں آہان کے پیچھے بھاگی تھیں.
“آہان رُک جاؤ. “
حسنین رضا میر کے سامنے آتے بولے.
“بابا آپ کے اِس صُلہ صفائی والے طریقوں نے ہی اُنہیں اتنا سر پر چڑھا دیا ہے. کہ وہ اب اِس حد تک پہنچ چکے ہیں.”
آہان اُن کی کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں تھا.
“میں جانتا ہوں آہان مجھے اِس معاملے میں اتنی لاپرواہی نہیں برتنی چاہئے تھی. لیکن اب بھی کچھ نہیں بگڑا اُن کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے. لیکن اب یہ جو تم کرنے جارہے ہو وہ غلط ہے وہ لوگ یہی تو چاہتے ہیں کہ ہم جذبات میں آکر کوئی ایسا قدم اُٹھائیں.”
حسنین صاحب اُس کو اِس طرح ملکوں کے ڈیرے پر نہیں جانے دینا چاہتے تھے. ہاجرہ بیگم بھی پاس کھڑی مسلسل روئے جارہی تھیں. وہ اپنے بیٹے کو کھونے کی ہمت نہیں رکھتی تھیں. اور جانتی تھیں اگر آہان اِس طرح وہاں گیا تو وہ لوگ اُسے نقصان پہنچا سکتے تھے.
“آہان بھائی صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں. ایک دفعہ ٹھنڈے دماغ سے سوچوں. تم اُن کے گھٹیا پلیننگ کا شکار کیوں ہورہے ہو. “
فرقان صاحب نے بھی آگے بڑھتے اُس کے غصے کو کم کرنا چاہا تھا.
باقی سب پریشانی کے عالم میں خاموش کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے. کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ آہان اِس طرح وہاں جائے. لیکن آہان کا غصہ دیکھ اُس کا رُکنا ناممکن ہی لگ رہا تھا.
“میں جوش میں ہوش بھلانے والوں میں سے نہیں ہوں چچا جان. اور مجھے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے. لیکن اُن دونوں بھائیوں کو تو میں کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا.”
آہان اُن لوگوں سے بازو چھوڑواتے باہر کی طرف بڑھا تھا.
یہ سب خاموشی سے دیکھتی اِشمل کو لگا تھا کہ بڑے اُسے روک لیں گے لیکن آہان اِس وقت ایک زخمی شیر سے کم نہیں لگ رہا تھا. آہان کے خطرے کی طرف بڑھتے قدم دیکھ اِشمل خود کو نہ روک پائی تھی اور بھاگتے قدموں سے آہان کے پیچھے گئی تھی.
آہان رُک جائیں پلیز آپ غلط کر رہے ہیں.آرام سے بیٹھ کر مسئلے کا کوئی اور حل بھی نکالاجاسکتا ہے.
آہان ہال کے دروازے سے باہر قدم رکھنے ہی والا تھا جب اِشمل نے اُس کے پاس پہنچتے اُس کو بازو سے تھاما تھا.
آہان نے بنا اِشمل کی طرف دیکھتے اُس کے بازو کو ہاتھ سے پیچھے جھٹکا تھا. جس پر جان بوجھ کر آہان کو روکنے کے لیے اِشمل پاس پڑی ٹیبل پر جاگری تھی. اُس کا ماتھا ٹیبل کے کونے سے ٹکراتے بُری طرح زخمی ہوا تھا. اِشمل کی چیخ پر آہان فوراً پلٹا تھا. اور اِشمل کے سر سے نکلتے خون کو دیکھ بےتابی سے اُس کی طرف بڑھا تھا. سب سمجھ چکے تھے کہ اِشمل نے آہان کو روکنے کے لیے جان بوجھ کر ٹیبل سے سر ٹکرایا ہے. آہان کو پلٹتا دیکھ خوش ہونے کے ساتھ ساتھ اِشمل کا اتنا خون بہتا دیکھ سب فکرمندی سے اُس کی طرف بڑھے تھے. جو آہان کو اپنے قریب آتا دیکھ اِشمل پرسکون انداز میں مسکراتی اپنے حواس کھو چکی تھی. آہان اپنے آپ کو اِشمل کی حالت کا ذمہ دار سمجھتا خود کو لعنت ملامت کرتا اُسے بانہوں میں اُٹھائے کمرے کی طرف بڑھا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“آہان تم پرامس کرو اِس طرح غصے میں وہاں نہیں جاؤ گے.”
اِشمل ہوش میں آتے اپنے درد کی پرواہ کیے بغیر اپنے قریب بیٹھے آہان کی طرف دیکھتے بولی.
” تم سب پاگل ہوچکے ہو یا مجھے کوئی کمزور سا ڈرپوک انسان سمجھ رکھا ہے جو میری خاطر خود کو تکلیف دے رہی ہو. تم نے صرف مجھے روکنے کے لیے خود کو جان بوجھ کر زخمی کیا نا.”
آہان جانتا تھا اُس نے اِشمل کو اتنے زور سے نہیں جھٹکا تھا کہ وہ اِس طرح گر جاتی.
“ہاں تو اور کیا کرتی آہان رضا میر تم جس طرح سے جارہے تھے آرام سے دیکھتی رہتی. تمہیں اپنی زندگی کی ضرورت نہیں ہوگی لیکن ہمیں ہے. غصے میں تم اتنے پاگل ہوجاتے ہو کہ کسی بات کی کوئی پرواہ ہی نہیں رہتی. جانتی ہوں تم اکیلے بھی جا کر اُن دونوں کو ختم کر دیتے لیکن اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں بھی مرجاتی.”
اِشمل آنسوؤں کے درمیان اُس کی طرف دیکھتے غصے سے چلائی تھی. جب اتنی سیریس سچویشن میں بھی اِشمل کا اتنا خوبصورت اظہار سن کر ایک دلکش مسکراہٹ آہان کے لبوں پر کھیل گئی تھی.
“اوکے جاناں وعدہ کرتا ہوں تم سے آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گا. اب پلیز تم رو نہیں اور تھوڑی دیر آرام کرو. میں زرا ایک بہت ضروری کام کرکے آتا ہوں.”
آہان اُس کی پیشانی پر لب رکھتا اُسے تھوڑی دیر میں آنے کا کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ماں میں کسی قسم کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا. آپ صرف مجھے اتنا بتائیں کہ آپ دونوں میرے ساتھ سفیہ پھوپھو کے گھر آرہے ہیں یا نہیں.”
آہان اُن کی طرف دیکھتے دوٹوک انداز میں بولا.
حسنین رضا میر تو ویسے ہی بہت شرمندہ تھے آج تک اپنی بیٹیوں سے خود کو غافل رکھا تھا جس کا نتیجہ آج دیکھ رہے تھے. اگر حنا کو کچھ ہوجاتا تو وہ خود کو کبھی معاف نہ کرپاتے.
آہان کی بات پر سر اثبات میں ہلاتے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے.
ہاجرہ بیگم کے دل میں آج پہلی بار حنا کے لیے ہمدردی پیدا ہوئی تھی. جس نے آہان پر کوئی آنچ آنے کے ڈر سے اپنے آپ کو ختم کرنا چاہا تھا. اور یہ بات تو وہ سوچ کر ہی کانپ اُٹھتی تھیں کہ آہان اگر واقعی چلا جاتا تو کتنی بڑی انہونی ہوسکتی تھی. وہ اِشمل کی آہان کو روکنے کے لیے کی گئی کوشش پر دل سے اُس کی شکر گزار تھیں.
“اگر آپ دونوں نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو مجھے بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے. میں چلوں گی آپ لوگوں کے ساتھ.”
اُن کی بات پر آہان ساتھ آنے کا کہتے آہان باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
آہان اُن دونوں کے ساتھ ساتھ عاصمہ بیگم کو بھی لے کر سفیہ بیگم کے گھر پہنچا تھا. سفیہ بیگم ہاجرہ بیگم کے منہ سے حنا اور عارفین کے رشتے کی بات سن کر حیران رہ گئی تھیں. حویلی میں جو کچھ ہوا تھا اُس کی خبر اُنہیں مل چکی تھی. لیکن ہاجرہ بیگم کی ایسی کایا پلٹ پر اُن کے لیے یقین کرنا کافی مشکل تھا. جو سب سے زیادہ اِس رشتے کے خلاف تھیں آج وہی خود اُس کو جوڑنے کی بات کر رہی تھیں. سفیہ بیگم کے ہزبینڈ کو تو ویسے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا اور عارفین کی مرضی جان کر وہ اِس رشتے سے خوش تھے. سب کو راضی دیکھ سفیہ بیگم کے پاس انکار کی کوئی وجہ ہی نہیں بچی تھی وہ ہمیشہ ہاجرہ بیگم کی باتوں میں آکر اُن سے بُرا سلوک کرتی آئیں تھیں. اور آج جب وہی اِس بات کے حق میں تھیں. تو اُن کے نہ ماننے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا تھا.
عارفین سب کے اتنی جلدی مان جانے پر بے انتہا خوش تھا. آہان جلدی سے اِس طرف سے فارغ ہوکر ملکوں سے نبٹنا چاہتا تھا اِس لیے اُس نے کل ہی نکاح رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور ایک ہفتے بعد شادی کی ڈیٹ فائنل کی گئی تھی. سب کو اتنی جلدی پر بہت اعتراض ہوا تھا لیکن آہان نے بہت مشکلوں سے سب کی رضامندی حاصل کر ہی لی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“حنا کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت تک اِس نکاح کے لیے رضامندی نہیں دے گی جب تک آپ اُسے اُس کی حرکت پر معاف نہیں کر دیتے.”
حفصہ کی بات سنتے آہان نے طویل سانس ہوا میں خارج کیا تھا.
“آہان اب پلیز معاف کر دیں بچاری کو. رو رو کے ہلکان ہورہی ہے وہ. اور مجھے پورا یقین ہے جب تک آپ اُس سے بات نہیں کریں گے وہ نکاح کے لیے ہاں نہیں کرے گی. کیونکہ آپ کی بہن ماشاءﷲ سے ضد میں آپ پر ہی گئی ہے.”
اِشمل آہان کی طرف دیکھتے آخری بات شرارتی انداز میں بولی. جس پر آہان نے اُسے بھرپور گھوری سے نوازا تھا. حفصہ نے بھی اِشمل کی بات پر اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی.
“حنا کیا مسئلہ ہے. لگتا ہے ایک تھپڑ کھا کر تمہارا دماغ جگہ پر نہیں آیا. جو اِس طرح ضد لگا کر بیٹھی ہو.”
آہان حنا کے روم میں داخل ہوتا بولا
“بھیا پلیز جتنے چاہے تھپڑ مار لیں. ڈانٹ لیں لیکن یوں ناراض نہ ہوں.”
حنا آنسو بھری آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی.
جاری ہے.
