59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ویسے ڈسچارج کب ہونا ہے اُس نے.
سدرہ اُس کی اُکتائی ہوئی شکل دیکھ کر بولی.
ابھی تو اُس کے بازو کا زخم کافی گہرا ہے شاید کچھ دن لگ جائیں.
اِشمل صوفے پر بیٹھ کر سامنے پڑی فائل اُٹھاتے بولی.
ڈاکٹر صاحبہ وہ روم نمبر 27 کے پیشنٹ میڈیسن نہیں لے رہے کہہ رہے ہیں مجھے بازو میں درد ہورہا ہے ڈاکٹر کو بلاؤ.
نرس اُس کو پیغام سناتے بولی.
اِس بندے کے ساتھ مسئلہ کیا ہے آخر. چلو تم میں آرہی ہوں.
اِشمل نے زور سےفائل واپس ٹیبل پر پٹخی تھی. کیونکہ کل سے اِس پیشنٹ نے ایسے ہی اُس کی ناک میں دم کرکے رکھا ہوا تھا. جب سدرہ نے اُس کے چِڑنے پر اپنی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کی تھی.
ہاں ہنس لو تم. ﷲ کرے تمہیں بھی کوئی ایسا پیشنٹ ملے تو سمجھ آئے تمہیں بھی. اور لگتا ہے یہ تو پہلی بار کسی ہاسپٹل میں آیا ہے جس کو یہ نہیں پتا کہ ڈاکٹر فل ٹائم کسی ایک پیشنٹ کے پاس کھڑے ہوکر اُسے انٹرٹین نہیں کر سکتی.
اِشمل ناچار اُٹھتے ہوئے بولی.
آہان رضا میر کو جب ایکسیڈنٹ کے بعد لایا گیا تھا تو وہ نشے میں تھا. جس سے اِشمل کو اُس کے بارے میں کافی حد تک یہ تو سمجھ آچکا تھا کہ وہ کس طبیعت کا مالک ہے. اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ اُس سے دور رہنا چاہتی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

دیکھئے میر صاحب آپ میڈیسن کیوں نہیں لے رہے ہیں. اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کا زخم کیسے ٹھیک ہوگا.
اِشمل اُس کے روم میں آتی چہرے پر اپنی مخصوص پروفیشنل مسکراہٹ سجا کر بولی.
میں نے یہ کب کہا مجھے میڈیسن نہیں لینی. لینی ہیں لیکن اِس نرس سے نہیں تم سے ڈاکٹر اور چیک اپ بھی کرو میرے بازو کا اِس میں صبح سے بہت درد ہے.
آہان رضا میر اِشمل کے چہرے پر نظریں گاڑھے بولا.
بےبی پنک کلر کے کپڑوں پر سفید کوٹ پہنے سوٹ کے ہمرنگ دوپٹے کو سلیقے سے اوڑھے وہ سادگی میں بھی غضب ڈھارہی تھی. آہان کی نظریں بار بار دوپٹے کے ہالے میں موجود اُس کے چہرے پر پھسل رہی تھیں. جسے محسوس کرکے اِشمل نے ناگواری سے پہلو بدلا تھا.
نرس میڈیسن دیں مجھے.
نرس سے میڈیسن اور پانی کا گلاس لیتی وہ اُس کی طرف بڑھی تھی. ایک دن میں وہ اتنا تو جان ہی گئی تھی کہ یہ شخص حد درجہ ضدی تھا اپنی بات منوائے بغیر نہیں رہے گا.
گلاس پکڑاتے اِشمل کا ہاتھ اُس کے ہاتھ سے ٹچ ہوا تھا. جس پر اِشمل نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچا تھا.
میرا زخم بھی چیک کرو.
میڈیسن لینے کے بعد اگلا آرڈر جاری ہوا تھا.
میں نے صبح ہی آپ کے بازو کی ڈریسنگ چینج کی ہے. اِس طرح بار بار کھولنے سے آپ کا زخم ٹھیک نہیں ہوگا. آپ پلیز سمجھے میری بات کو.
اِشمل نہایت تحمل سے بولی تھی کیونکہ جانتی تھی وہ جان بوجھ کر اُسے تنگ کر رہا ہے.
تو میں چاہتا ہی کب ہوں کے زخم ٹھیک ہو.
وہ اِشمل کی طرف دیکھتا نرس کی بھی پرواہ کیے بغیر ڈھٹائی سے بولا.
آپ اب ریسٹ کریں میں باقی پیشنٹ کو دیکھ لوں.
اُس کی بات کو یکسر نظر انداز کرتے وہ مزید اُس کی کوئی بھی بات سنے بغیر وہاں سے نکل گئی تھی. .
اِنٹرسٹنگ مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ اِس بورنگ ہاسپٹل میں کوئی اتنی انٹرسٹنگ چیز بھی موجود ہوگی. ورنہ بہت پہلے ہی ایکسیڈنٹ کروا کر آجاتا یہاں. ڈاکٹر اِشمل تم جتنا مجھ سے بھاگو گی میں اُتنا تمہیں پاس بلاؤ گا اپنے.
اُس کی اِتنی عجلت پر آہان رضا میر دل میں سوچتے مسکرایا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ایکسکیوزمی آہان رضا میر اِس ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں مجھے اُن کا روم نمبر بتا دیں.
اِشمل ریسپشن کے پاس سے گزر رہی تھی جب اُسے وہاں ایک بہت ہی ماڈرن سی لڑکی کھڑی نظر آئی تھی جو آہان رضا میر سے ملنے آئی تھی شاید.
اُس کے حلیے سے وہ اتنا اندازہ تو لگا ہی چکی تھی کہ ضرور یہ اُس چھیچورے کی کوئی گرل فرینڈ ہی ہوسکتی ہے. اِشمل سر جھٹکتی وارڈ کی طرف بڑھ گئی تھی.
ڈاکٹر اِشمل وہ روم نمبر 27 کے پیشنٹ آپ کو دو تین دفعہ بلاچکے ہیں. آپ پلیز ….
ابھی وارڈ میں وہ پہلے مریض کی طرف ہی بڑھی تھی جب نرس نے اُسے پھر سے آہان رضا میر کا پیغام دیتے بےچارگی سے کہا تھا.
میں ابھی اِن مریضوں کو دیکھ لوں پھر جاتی ہوں. ویسے بھی ابھی میر صاحب کی خاص مہمان آچکی ہے فلحال بزی ہوں گے وہ.
وہ نرس کو جواب دیتی بولی.
وارڈ کے مریضوں کو چیک کرتے اُسے تقریباً ایک گھنٹا تو ہوچکا تھا. یہی سوچ کر وہ آہان کے روم کی طرف بڑھی تھی کہ اب تک اُس کی وہ گرل فرینڈ جاچکی ہوگی. اب ویسے بھی اُسکا ڈیوٹی ٹائم ختم ہونے والا تھا اور پھر اُسے گھر کے لیے نکلنا تھا.
روم میں قدم رکھتے سامنے کا منظر دیکھ کر اِشمل نے فوراً سے نظریں نیچے کی تھیں. وہ لڑکی آہان کے پاس بیڈ پر بیٹھی بلکل اُس کے اُوپر جھکی نہ جانے کیا کررہی تھی. اِشمل اِس بے حیائی پر شرم سے سُرخ ہوتی پلٹنے ہی لگی تھی جب آہٹ پر اُن دونوں نے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا تھا.
ارے ڈاکٹر صاحبہ واپس کہاں جارہی ہیں اندر آئیں نا.
اُسے وہاں سے پلٹتے دیکھ آہان جلدی سے بولا تھا.
جب نا چاہتے ہوئے بھی اِشمل اندر کی طرف بڑھی تھی. وہ لڑکی ابھی بھی ویسے ہی اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھی تھی.
تانیہ اِن سے ملو یہ ہیں ڈاکٹر اِشمل اتنے دنوں سے میرا بہت اچھے سے خیال رکھ رہی ہیں.
آہان اِشمل کے لال پڑتے چہرے کو بغور دیکھتے تانیہ کو بتاتے بولا تھا.
او اب میں سمجھی آہان رضا میر کا ہاسپٹل سے ڈسچارج ہونے پر دل کیوں نہیں چاہ رہا.
تانیہ بھی اِشمل کا سر سے پیر تک جائزہ لیتی بولی.
اُسے اِس ڈاکٹر کی خوبصورتی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی. تانیہ آہان کی سب سے قریبی دوست تھی. اور اُسے بے حد پسند کرتی تھی کچھ دنوں سے آوٹ آف کنٹری ہونے کی وجہ سے وہ آہان سے مل نہیں پائی تھی. اِس لیے آج واپس آتے ہی سب سے پہلے آہان کے پاس آئی تھی.
ویسے کافی عقل مند ہو تم اتنی جلدی سمجھ گئی.
آہان اُس کی بات پر معنی خیزی سے مسکراتا بولا تھا.
اُس کا جواب تانیہ کو بلکل اچھا نہیں لگا تھا. اُسے اِس ڈاکٹر سے عجیب سی جیلسی محسوس ہوئی تھی.
اوکے آہان اب میں چلتی ہوں. جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ. تم اِس طرح بیڈ پر لیٹے بلکل اچھے نہیں لگ رہے.
اِس سے پہلے کے اِشمل اُن کی باتوں پر اُنہیں ٹوکتی تانیہ اپنی بات کہتی اُٹھی تھی اور ایک بار پھر جھک کر آہان کے چہرے پر بوسہ دیتی وہاں سے چلی گئی تھی. جبکہ اِشمل دل ہی دل میں اِس کی حرکت پر استغفرﷲ پڑھ کر رہ گئی تھی. لیکن مغرب کی پیروی کرتے وہ لوگ اتنے آگے نکل چکے تھے کہ اُن لوگوں کے لیے شاید اب یہ عام سی بات تھی.
اِشمل خود بھی جلدی سے اُس کا چیک اپ کرتی وہاں سے نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

بیٹا میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں ڈسچارج کرنے کی. تمہاری ماں بہت پریشان ہے تمہارے لیے وہ دیکھنا چاہتی ہے تمہیں.
حسنیں رضا میر آج پھر اُسے ساتھ آنے کے لیے راضی کر رہے تھے جو پچھلے ایک ہفتے سے اُن کے اتنا کہنے کے باوجود بھی ڈسچارج ہونے کے لیے تیار نہیں تھا. اُن کی سمجھ سے بالاتر تھی یہ بات کہ پہلے ہاسپٹل کے نام سے چڑہنے والا اب وہاں سے نکلنے کو تیار ہی نہیں تھا.
بابا بولا نا میں نے آپ کو. جب تک میرا زخم بلکل ٹھیک نہیں ہو جاتا میں یہیں رہوں گا. اب اِس بارے میں میں مزید کوئی بات نہیں سننا چاہتا.
آہان کے دوٹوک لہجے پر حسنین رضا میر نے ہمیشہ کی طرح خاموشی اختیار کر لی تھی. ہر ایک پر اپنا حکم چلانے والے اپنے لاڈلے کے سامنے آکر بے بس ہو جاتے تھے. جو ضد اور غصے میں اُن سے بھی بہت آگے تھا.
پاس کھڑی نرس کو ہدایت دیتی اِشمل نے اُس کی بات پر دل ہی دل میں اُسے کوسا تھا. جو کسی صورت یہاں سے جانے کے لیے تیار نہیں تھا. اور پچھلے ایک ہفتے سے اُس کی جان عذاب میں ڈالی ہوئی تھی. اُس کا زخم اب کافی بہتر ہوچکا تھا.
ڈاکٹر صاحبہ میرے بیٹے کا اچھے سے خیال رکھا جانا چاہئے اِس کے معاملے میں میں کسی قسم کی کوہتاہی برداشت نہیں کروں گا.
اِشمل کو اپنے رُعب دار لہجے میں ہدایت دیتے وہ آہان سے مل کر گارڈز کے ساتھ وہاں سے نکل گئے تھے.
ڈاکٹر صاحبہ تم کہاں جارہی ہیں شاید تم نے سنا نہیں ابھی میرے والد محترم کیا کہہ کر گئے ہیں.
اِشمل باہر کی طرف بڑھی ہی تھی جب آہان کی بات پر پلٹ کر اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا.
میڈیسن تو دے دی ہیں آپ کو اِس سے زیادہ آپ کا اور کیسے خیال رکھا جائے.
اُس کی طرف دیکھتے اِشمل لفظوں کو چبا چبا کر بولی تھی. اُس کا دل کرتا تھا اِس شخص کی آنکھیں نوچ لے جن سے وہ اُسے بے باکی سے گھورتا تھا.
قریب تو آؤ بتاتا ہوں کہ کیسے خیال رکھا جاتا ہے. اب اتنے دور سے کیسے سمجھ آئے گی.
اُسے پاس آنے کا اِشارہ کرتے وہ معنی خیزی سے بولا تھا.
واٹ ربش آپ کی اتنے دنوں سے فضول حرکتیں میں خاموشی سے برداشت کر رہی ہوں اِس کا یہ مطلب نہیں آپ کچھ بھی بولیں گے. وہ اور لڑکیاں ہوتی ہوں گی جن کو یہ سب پسند ہوگا لیکن میں ویسی نہیں ہوں تو آپ اُنہی پر ہی یہ سب ٹرائی کریں. مجھے اُن جیسا سمجھنے کی غلطی مت کیجئے گا.
اُس کی بات اور لہجے پر اِشمل غصے سے لال ہوتی بولی.
جب اِشمل کی بات سن کر آہان رضا میر نے قہقہ لگایا تھا.
ابھی تو میں نے کوئی فضول حرکت کی بھی نہیں ڈاکٹر تم ابھی سے تنگ آگئی. آگے کیا ہوگا تمہارا. جب میں نے سچ میں کوئی حرکت کر دی تو. اور میں اچھے سے جانتا ہوں کہ تم اُن سب جیسی نہیں ہو. جو میرے ایک اشارے پر میری بانہوں میں ہوتی ہیں. لیکن ہاں تم پر کچھ زیادہ محنت کرنی پڑے گئی پر آنا تو تمہیں بھی یہیں ہوگا.
شٹ اپ بہت ہوگئی تمہاری فضول بکواس اب میں کسی صورت مزید اِس روم میں ڈیوٹی نہیں کروں گی.
اِشمل غصے سے کہتی وہاں سے نکل گئی تھی.
معصوم سی ڈاکٹر صاحبہ تم سوچ بھی نہیں سکتی تمہارا یہ مجھ پر چلانا تمہیں کتنا مہنگا پڑے گا.
اِشمل کے یوں غصے سے جانے پر آہان رضا میر آگے کا سوچتے ہوئے بولا تھا.
پہلی نظر میں ہی ڈاکٹر اِشمل اُسے بہت پسند آئی تھی. اور اُوپر سے اُس کا ایٹی ٹیوڈ جس طرح وہ آہان رضا میر جیسے شاندار شخص کو اِگنور کرتی تھی یہ بات آہان کو مزید اُس کی طرف متوجہ کر گئی تھی.
ہر جگہ کی طرح یہاں پر بھی اُس نے بہت سی ڈاکٹرز کو اُس کے سٹیٹس اور پرسنیلٹی سے مرعوب ہوتے دیکھا تھا. لیکن ڈاکٹر اِشمل اُسے سب سے مختلف لگی تھی. وہ اُس کی نظروں میں بھی باقیوں کی طرح اپنے لیے ستائش دیکھنا چاہتا تھا لیکن اُس کی نگاہوں میں اپنے لیے ناگواری دیکھ وہ اُسے مزید زِچ کرتا رہتا تھا.