Rate this Novel
Episode 19
صبح آنکھ کھولتے ہی آہان نے آسودگی سے بانہوں میں سوئی اپنی زندگی کو دیکھا تھا. سوئے ہونے کے باوجود بھی اِشمل کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مُسکان تھی. آہان نے محبت سے اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا. آہان کے لمس اور پرتپش نظروں کا احساس تھا جو اِشمل نے کسمساتے آنکھیں کھول دی تھیں.
صبح بخیر زندگی…
آہان اُسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے بولا تھا جب اِشمل اُس کی بات کا جواب دیتے اُس کی پرشوق نظروں سے گھبراتے چہرا جھکا لیا تھا.
آہان اُس کی ادا پر ایک بار پھر بہکتے اُس پر جھکا تھا.
آہان پلیز….
اِشمل اپنے چہرے پر اُس کے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے سُرخ ہوتے بولی.
“جاناں تمہارے لیے اپنے جذبات پر بندھ باندھنا بہت مشکل ہوگیا ہے. تم نے مجھ جیسے شخص کو اپنے سحر میں جکڑ کر بے بس کرکے رکھ دیا ہے. اب میرے لیے خود پر کنٹرول رکھنا بہت مشکل ہے.”
آہان کی نظریں اِشمل کے ایک ایک نقش کو چھوتیں اُسے بہکنے پر مجبور کر رہی تھیں.
آہان نے اُس کے گردن سے بال سمیٹتے اُس کی شفاف گردن کو چھوا تھا.
اِشمل ابھی اُس کی رات والی شدتوں پر ہی نہ سنبھلی تھی جب اُس کو ایک بار پھر رات والے موڈ میں آتے دیکھ جلدی سے اُس کے حصار سے نکلتے بیڈ سے اُٹھی تھی. جب آہان اُس کی پُھرتی دیکھ قہقہ لگا کر رہ گیا تھا.
“میری ظالم ڈاکٹر.”
اُس کی طرف دیکھتے آہان ہولے سے بڑبڑایا تھا.
“ویسے ایک بہت ضروری بات تو بتانا بھول ہی گیا میں.”
آہان کے اتنے سنجیدہ انداز پر اِشمل نے رُک کر سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
“کونسی بات.”
نظریں آہان کے مسکراتے چہرے پر تھیں.
“جاناں تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ میٹھی ہو.”
آہان اُس کی طرف دیکھتے بےباکی سے بولا. جب اِشمل اُس کی بات کا مفہوم سمجھتی شرم سے لال ہوتی واش روم میں گھس چکی تھی. اپنے پیچھے اُسے آہان کا زوردار قہقہ سنائی دیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“بیٹا کیا مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی. جو تم دونوں اتنے ناراض ہوگئے. دو مہینے ہوگئے میں تم لوگوں کی شکل دیکھنے کو ترس گئی ہوں.”
ہاجرہ بیگم اِشمل کا ہاتھ پکڑتے بولیں.
دو مہینے ہوگئے تھے اُن لوگوں کو گاؤں سے آئے اور یہاں آکر وہ آپس کے مسئلوں میں ایسے اُلجھے تھے کہ دوبارہ گاؤں جا ہی نہ پائے تھے. جس کو ہاجرہ بیگم اُن کی ناراضگی سمجھتے اُن کو منانے شہر آگئی تھیں. وہ بےشک ہر معاملے میں جتنی بھی سخت خاتون تھیں. لیکن آہان کے معاملے میں اُن کا دل عام ماؤں کی طرح موم جیسا نرم تھا. اُس کی خاطر وہ کچھ بھی کرسکتی تھیں. اِسی وجہ سے آج تک اُس کا ہر جائز اور ناجائز خواہش کو پورا کرنے میں ہمیشہ بھرپور ساتھ دیا تھا. اُس دن آہان کی آنکھوں میں اِشمل کے لیے محبت کے جذبات دیکھ کر وہ اِشمل کو دل سے قبول کرچکی تھیں. ویسے بھی اِشمل اُنہیں آج کل کی لڑکیوں کی نسبت کافی سادہ مزاج کی لگی تھی. اُنہیں بعد میں احساس ہوگیا تھا کہ حنا اور حفصہ کا غصہ اِشمل پر نکال کر اُنہوں نے ٹھیک نہیں کیا تھا.
“نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ماں سے بھلا کیسی ناراضگی. وہ کچھ مصروفیات ایسی ہوگئی تھیں. کہ گاؤں کا چکر نہیں لگاپائے لیکن اب انشاءﷲ ضرور آئیں گے.”
اِشمل اُن کے محبت بھرے لہجے پر شرمندگی سے بولی تھی. جبکہ آہان خاموشی سے بیٹھا اُن دونوں کی باتیں ملاحظہ کر رہا تھا.
“تو ٹھیک ہے پھر آج ہی چلو تم لوگ میرے ساتھ گاؤں.”
اِشمل کی بات سنتے ہاجرہ بیگم فوراً بولیں.
“نہیں آج نہیں آسکتے کل صبح میری ایک بہت امپورٹنٹ ڈیلنگ ہے. پرسوں آجائیں گے وہاں.”
آہان نے سپاٹ سے لہجے میں اُنہیں جواب دیا تھا. کیونکہ وہ حویلی کے سب لوگوں سے ہی خفا تھا. عارفین کی بات کے بعد گاؤں جانے کا ارادہ تو وہ ویسے بھی کرچکا تھا.
“تمہاری میٹنگ ہے بیٹا. لیکن اِشمل تو میر ساتھ چل سکتی ہے نا. “
ہاجرہ بیگم کسی بھی طرح آہان کو آنے کے لیے راضی کرنا چاہتی تھیں. اُن کی بات پر اِشمل نے آہان کی طرف دیکھا تھا جو اُس کے جانے کے حق میں نہیں تھا. اب ہی تو اُن کے درمیان سب ٹھیک ہوا تھا وہ اِشمل کو ایک دن تو کیا ایک منٹ کے لیے بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں کرنا چاہتا تھا.
“بولو بیٹا آؤ گی نا میرے ساتھ.”
اِشمل بےچاری دونوں ماں بیٹے کے درمیان بُری پھنسی تھی. لیکن ہاجرہ بیگم کہ اتنے مان بھرے انداز پر اُسے اُن کو انکار کرنا اچھا نہیں لگا تھا.
“جی آنٹی میں چلوں گی آپ کے ساتھ.”
اُس کی بات سن کر ہاجرہ بیگم بہت خوش ہوئی تھیں. آہان انکار کرنے ہی والا تھا جب اِشمل کے اشارے پر ناراضگی بھری نظروں سے اُسے دیکھتا وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“آہان ہاجرہ آنٹی کتنی محبت سے ہمیں لینے آئی ہیں اب اِس طرح انکار کرنا اچھا تو نہیں لگتا نا. اور ایک دن کی تو بات ہے تم نے بھی تو کل آجانا ہےنا.”
اِشمل کمرے میں داخل ہوکر آہان کا خراب موڈ دیکھ کر بولی.
“تو میں نے منع کیا تمہیں جاؤ تم.”
آہان سنجیدہ انداز میں کہتے ٹائی لگانے لگا.
“لیکن مجھے تو کچھ لوگ ناراض لگ رہے ہیں.”
اِشمل اُس کی ٹائی ہاتھ میں لیتی بولی.
“تمہیں کونسا پرواہ ہے لوگوں کی ناراضگی کی.”
آہان کو اِشمل کا یہ انداز اچھا لگ رہا تھا اِس لیے جان بوجھ کر اُسے مزید تنگ کرتے بولا.
“آہان رضا میر مجھے پرواہ نہیں ہوگی تو اور کسے ہوگی.”
اِشمل نے ٹائی کی ناٹ لگاتے اُسے گھورا تھا.
“اوکے تو پھر مناؤ مجھے.”
اِشمل کے پلٹنے پر آہان اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرتے بولا.
“کل مناؤ گی نا ابھی جانے دیں. آنٹی میرا ویٹ کررہی ہیں.”
اِشمل نے اُس کے تیور دیکھ حصار سے نکلنے کی کوشش کی تھی.
“چلی جانا. لیکن پہلے اُن کے بیٹے کو تو راضی کر لو.”
آہان اُس کے بالوں سے کیچڑ نکالتے اُس کی گھنی زلفوں میں چہرا چھپا چکا تھا.
“آہان اب تم کچھ زیادہ فری ہورہے ہو.”
اِشمل ہمیشہ ایسے ہی آہان کی شدتوں سے حواس باختہ ہوجاتی تھی.
“جاناں تم سے فری ہونے کا مکمل حق رکھتا ہوں میں.”
آہان اُسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا.
“ویسے ایک بات کی مجھے بلکل سمجھ نہیں آتی تمہاری.”
آہان کی بات پر اپنے بال سمیٹتی اِشمل نے سوالیہ انداز میں اُس کی طرف دیکھا.
“یہ سب کے سامنے مجھے اتنی عزت آپ کہہ کر پُکارنا اور روم میں ایسا انداز.”
آہان کی بات پر اِشمل کھلکھلائی تھی.
“وہ ماما کا سختی سے آڈر تھا کہ شوہر کو عزت دے کر آپ کہہ کر بلانا چاہئے. اِس لیے سب کے سامنے عزت سے بلاتی ہوں. اور اکیلے میں تو پھر..”
اِشمل اُس کی طرف دیکھتے شرارتی انداز میں بات ادھوری چھوڑتی دروازے کی طرف بڑھی.
“اِشمل بات پوری کرکے جاؤ ورنہ میں گاؤں جانے نہیں دوں گا تمہیں.”
اِشمل کو باہر جاتے دیکھ آہان مصنوعی دھمکی دیتے بولا لیکن آگے پراوہ کسے تھی اِشمل اُس کو اپنی طرف آتا دیکھ روم سے باہر بھاگی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ہاہاہاہا اِس دفعہ جو پلیننگ ہم نے کی ہے آہان رضا میر کچھ نہیں کرسکے گا. ایک بار پھر مجھے بے عزت کرکے اُس نے ٹھیک نہیں کیا. اور اُس کی وہ بیوی بہت اُچھل رہی تھی نا اپنے شوہر کے بل بوتے پر ایسا سبق سیکھاؤ گا کہ یاد رکھے گی ساری زندگی.”
ملک حسیب نفرت سے لبریز لہجے میں بولا.
“ایک نہیں دو دو جھٹکے لگنے والے ہیں آہان رضا میر کو بہت غیرت مند بنتا پھرتا ہے نا. اب دیکھنا تم کیسے اُس کی بہن میری بات مان کر اُس کی عزت کو دو کوڑی کا کرے گی.”
ملک ذیشان کے انداز میں بھی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی جو صرف آہان رضا میر کو ختم کرکے ہی بجھنی تھی.
“بھائی جو بھی ہوجائے مجھے اُس کی بیوی ہر قیمت پر چاہئے میں اُس لڑکی کا غرور مٹی میں ملانا چاہتا ہوں. بہت دعوے سے ذکر کر رہی تھی نا اپنی محبت کا اُس محبت کو اپنی بدلے کی آگ میں جلتے دیکھناچاہتا ہوں. “
ملک حسیب کا اُس دن ہاسپٹل والے واقعے کے بعد سے غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اُس کا دل چاہ رہا تھا. وہ اُن دونوں کا اتنا بُرا حال کرے کے اُس کے اندر لگی آگ ٹھنڈی ہوجائے.
“ایسا ہی ہوگا بہت جلد. بہت ہوگیا آہان رضا میر کا اب ہماری باری ہے.”
ملک ذیشان اپنی پلیننگ کا سوچتے شیطانیت سے مسکرایا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اِشمل ہاجرہ بیگم کے ساتھ مغرب کے قریب حویلی پہنچی تھی. سب بہت ہی محبت سے ملے تھے. لیکن حنا کا بجھا بجھا چہرا دیکھ اِشمل کو اُس کی فکر ہوئی تھی. اُس ٹائم سب کی موجودگی میں وہ اُس سے کوئی بات نہیں کرپائی تھی لیکن صبح تفصیل سے حنا سے بات کرنے کا ارادہ کرچکی تھی.
“بھابھی کیا بھیا بہت غصے میں ہیں.”
حفصہ اِشمل کی طرف دیکھتے پریشانی سے بولی تھی. کیونکہ آہان نے کال کاٹنے کے بعد اُس سے ایک بار بھی بات نہیں کی تھی.
“ہاں غصہ تو بہت ہے آہان کو لیکن پریشان نہ ہو کل آنا ہے نا. منا لینا پھر.”
اِشمل اُس کی پریشان صورت دیکھ مسکرا کر بولی.
“بھیا کو منانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے. وہ کسی سے اتنی جلدی ناراض ہوتے نہیں لیکن اگر ہوجائیں تو پھر راضی بہت مشکل سے ہوتے.”
حفصہ اُس کی معلومات میں اضافہ کرتے بولی.
“حنا نظر نہیں آرہی کہاں ہے وہ.”
اِشمل کو ناشتے کے ٹیبل پر بھی حنا نظر نہیں آئی تھی.
“اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی شاید اِس لیے نماز پڑھ کر دوبارہ سوگئی. ویسے پہلے کبھی اتنی دیر تک سوئی نہیں وہ.”
حفصہ اِشمل کو جواب دیتے کچھ سوچتے بولی.
” چلو پھر چل کر اُس کے کمرے میں دیکھ لیتے ہیں کہیں زیادہ طبیعت خراب نہ ہو اُس کی.”
اِشمل کے کہنے پر حفصہ بھی اُس کی بات پر سرہلاتے حنا کے روم کی طرف بڑھی تھیں. لیکن کمرے میں قدم رکھتے ہی جو منظر اُنہوں نے دیکھا تھا اُنہیں لگا حویلی کی چھت اُن کے سر پر آگری ہو..
جاری ہے.
