Rate this Novel
Episode 18
آہان فریش ہوکر نیچے جاچکا تھا جب اِشمل بھی ملازمہ کو ناشتے کی ہدایت دیتی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تھی. عارفین اُسے اندر آتے دیکھ سلام دیتے احتراماً اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا. اِشمل خوشدلی سے اُس کے سلام کا جواب دیتے آہان سے کچھ فاصلے پر صوفے پر آبیٹھی تھی.
عارفین آہان کے غصے سے اچھی طرح واقف تھا اِس لیے وہ اِشمل کے سامنے ہی اُس سے بات کرنے آیا تھا تاکہ کیا پتا وہ کچھ کنٹرول میں رہے. لیکن اُسے کہیں نہ کہیں اُمید بھی تھی کہ آہان اُس کے جذبات سمجھے گا. اِسی بنا پر وہ آج یہاں موجود تھا.
“آہان میں یہاں تم سے ایک بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں. جو تمہاری مدد کے بغیر شاید ممکن نہ ہوسکے. پہلے آرام سے میری بات سننا اور اُس کے بعد کوئی بھی فیصلہ کرنا.”
عارفین کے اتنے سنجیدہ انداز پر آہان مکمل طرح سے اُس کی طرف متوجہ ہوا تھا. جس طرح عارفین یہاں خاص طور پر اُس سے بات کرنے آیا تھا آہان کو معاملہ کافی سیریس لگا تھا. آہان کے اشارے پر عارفین دھیمے لہجے میں اُسے اپنی حنا کے لیے پسندیدگی سے لے کر ہاجرہ اور سفیہ بیگم کے اِس رشتے سے انکار اور حنا کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ سب بتاتا چلا گیا تھا.
اُس کی بات سنتے آہان کو اپنے گھروالوں پر بے انتہا غصہ آیا تھا جہاں اتنا کچھ چل رہا تھا اور اُسے کچھ بھی بتانے کے بجائے اُلٹا اُس سے چھپایا جا رہا تھا.
“عارفین تمہیں یہ بات مجھے بہت پہلے ہی بتا دینی چاہئے تھی تو اتنی پریشانی فیس کرنی ہی نہ پڑتی لیکن تم فکر مت کرو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اگر حنا کی بھی اِس رشتے میں رضا.مندی شامل ہوئی تو میں تم لوگوں کا ساتھ ضرور دوں گا.”
آہان کی بات سن عارفین بے حد خوش ہوا تھا وہ اتنا تو جانتا تھا کہ آہان اب کسی بھی صورت یہ ممکن کرکے ہی رہے گا. اُس نے یہاں آنے کا فیصلہ کرکے غلط نہیں کیا تھا.
اِشمل کو عارفین حنا جیسی معصوم اور بےضرر سی لڑکی کے لیے بہت اچھا لگا تھا. اور آہان کا اِس بات پر مثبت ری ایکشن دیکھ اِشمل کے دل میں اُس کا مقام مزید بڑھ گیا تھا. جس نے اِس طرح عارفین سے یہ بات سن کر اُسے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے اپنی بہن کی خوشی کو ترجیح دینے کا سوچا تھا.
عارفین اب نکلنا چاہتا تھا لیکن اُن دونوں کے بھرپور اسرار پر ناشتے کے لیے رُک گیا تھا.
اُس کے جانے کے بعد آہان نے حفصہ کو کال ملائی تھی. اور اُس نے حفصہ سے جو بات پوچھی تھی اُسے سنتے حفصہ اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی.
“حفصہ میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے.”
آہان اُس کی خاموشی ہر زرا تیز لہجے میں بولا.
“بھائی وہ ای..”
حفصہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے.
“مجھ سے جھوٹ بولنے کی کوشش بلکل بھی مت کرنا.”
اُس کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر آہان اُس کی بات کاٹتے ہوئے بولا.
“جی بھائی یہ سب سچ ہے. میں نہیں جانتی آپ کو کیسے پتا چلا لیکن پلیز بھائی اِس سب میں حنا کی کوئی غلطی نہیں ہے.”
آہان کے غصے کی وجہ سے حفصہ ڈرتے ڈرتے بولی. جب آہان نے بنا کچھ کہے فون کاٹ دیا تھا. اُسے کم از کم حفصہ سے تو اِس بات کی اُمید نہیں تھی کہ وہ بھی اُس سے اتنی بڑی بات چھپائے گی. اُس کا اچھا بھلا خوشگوار موڈ بُری طرح غارت ہوچکا تھا. آج اُس کی تھوڑی دیر تک بہت امپورٹنٹ میٹنگ تھی اِس لیے ابھی آفس کے لیے نکلنا تھا. وہ چینج کرنے کی غرض سے بیڈروم کی طرف بڑھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ملازمہ ہاتھ میں باکس لیے اندر داخل ہوئی تھی. اور اِشمل کے اشارے پر بیڈ پہ رکھتی باہر نکل گئی تھی. ابھی تھوڑی دیر پہلے اُسے آہان کا میسج ملا تھا. آج رات اُنہیں کسی پارٹی میں جانا تھا اور آہان نے اُس پارٹی میں پہننے کے لیے اُس کو ڈریس بھیجوایا تھا.
اِشمل صوفے سے اُٹھتی بیڈ پر رکھے باکس کی طرف بڑھی تھی. پیکنگ کھولتے اندر موجود بلیک کلر کی ساڑھی دیکھ کر اُس کا دماغ گھوم گیا تھا. اُس نے کبھی ساڑھی نہیں باندھی تھی. اور نہ ہی اُسے باندھنی آتی تھی. اُس نے موبائل اُٹھاتے آہان سے بات کرنی چاہی تھی لیکن پھر یہ سوچ کر کہ آہان نے پہلی دفعہ اُس سے اپنی پسند کا ڈریس پہنے کی فرمائش کی تھی. اُسے انکار کرنا بھی مناسب نہیں لگا تھا.
آہان کو کافی دنوں سے سب دوست اور خاص کر تانیہ اُس کی شادی کی خوشی میں پارٹی کا کہہ رہے تھے لیکن وہ اِشمل کے رویے کی وجہ سے مسلسل انکاری تھا. لیکن آج اُن کی ضد پر ہار مانتے اُس نے ہامی بھرلی تھی. اور کچھ دنوں سے اُسے اِشمل کے رویے میں بھی کافی بہتری محسوس ہورہی تھی. جو آہان کے لیے بہت خوشی کا باعث تھی. آٹھ بجے کے قریب میٹنگ ختم ہوتے ہی وہ آفس سے نکل آیا تھا.
گھر پہنچ کر جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا سامنے کا منظر دیکھ اُس کے ہوش اُڑ چکے تھے.
اِشمل بلیک کلر کی ساڑھی میں ملبوس آہان کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کرچکی تھی. بلیک کلر میں اُس کی دودھیا رنگت مزید دھمک رہی تھی. لمبے گھنے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے. ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھے وہ جھک کر اپنے نازک سے پاؤں کو سینڈل میں مقید کرنے کی کوشش کررہی تھی. جب جھکے ہونے کی وجہ سے بال بار بار پھسل کر چہرے پر آجانے کی وجہ سے اُسے ڈسٹرب کررہے تھے. آہان بے خود سا آگے بڑھا اور اُس کے پاس پہنچتے نیچے جھک کر اُس کے ہاتھ سے سٹریپس لیتے اُنہیں باندھنے لگا تھا. اِشمل اُس کو اِس طرح اچانک دیکھ جلدی سے سیدھی ہوئی تھی اور اپنا پاؤں پیچھے کھینچنا چاہا تھا لیکن آہان نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیا تھا. اُس کے ہاتھ پیچھے کرتے ہی اِشمل فوراً وہاں سے اُٹھی تھی. جب آہان نے کھڑے ہوتے اُس کا بازو اپنی قید میں لیا تھا. اِشمل کی کمر میں بازو لپیٹتے آہان نے اُسے اپنے بے حد قریب کیا تھا. اِشمل ساڑھی میں ویسے ہی کمفرٹیبل فیل نہیں کررہی تھی اوپر سے آہان کی حرکت پر مزید خود میں سمٹی تھی.
اِشمل کے گلابی پھولے پھولے گال اور شہد آگیں ہونٹ ہمیشہ سے آہان کی کمزوری رہے تھے اُسے اپنی طرف کھینچتے تھے. اور آج تو وہ مکمل ہتھیاروں سے لیس تھی. وہ کیسے نہ بہکتا. وہ بھول چکا تھا کہ اُنہوں نے کسی پارٹی میں جانا ہے یاد تھا تو بس اتنا کہ اُس کی زندگی اُس کی محبت اُس کی بانہوں میں تھی. آہان نے جھک کر اِشمل کے رُخسار پر اپنا شدت بھرا لمس بخشا تھا. اُس کے ہونٹوں کے ساتھ مونچھوں کی چُھبن پر اِشمل اُس کے حصار میں کسمسائی تھی. جب دوسرے گال پر بھی ویسا ہی لمس محسوس ہوتے دل کی دھڑکنیں بُری طرح سے منتشر ہوئی تھیں.
آہان….ہم ہمیں پارٹی میں جانا ہے.
اِشمل اُس کو مزید بہکتے دیکھ لڑکھڑآتے بولی.
کونسی پارٹی جاناں.
آہان کی نظریں اب ریڈ لیپسٹک سے سجے اُس کے نرم ہونٹوں پر تھیں.
آہان نہیں پلیز میری لیپسٹک.
اِس سے پہلے کے وہ اُن پر جھکتا اِشمل نے جلدی سے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر ایسا کرنے سے باز رکھا تھا.
جاناں اِن کی خوبصورتی کو ویسے بھی اِس مصنوعی آرائش کی ضرورت نہیں.
آہان اُس کا ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹاتے معنی خیزی سے بولتے اُس کے ہونٹوں پر اپنے دھکتے لب رکھ چکا تھا. اُس کی شدتوں پر بےحال ہوتے اِشمل نے گر جانے کے ڈر سے جلدی سے اُس کے کالر کو مٹھی میں جکڑا تھا. اُس کی ٹانگیں بُری طرح کانپ رہی تھیں لیکن آہان ابھی اُسے آزاد کرنے کو تیار نہیں تھا. اور اُسے مزید قریب کرتے سہارا دیا تھا. کافی دیر بعد خود کو سیراب کرتے آہان پیچھے ہٹا تھا. اِشمل نے اُس کے سینے پر سر رکھے بہت مشکل سے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی.
جاناں یہ تو صرف آغاز ہے. ابھی سے اتنا گھبرا رہی ہو ابھی تو جو تم نے اتنے دن مجھے تڑپایا ہے. اُن دنوں کی بےتابیوں کا حساب بھی دینا ہے.
آہان کی گھمبیر سرگوشیوں پر اِشمل کانپ کررہ گئی تھی. جب کافی دیر بعد اپنی سانسوں کو اعتدال پر لاتے آہان کے سینے سے سر اُتارتے اِشمل نے اُسے اپنی ساری تیاری برباد کرنے پر گھورا تھا. لیکن زیادہ دیر اُس کی جذبے لوٹاتی آنکھوں میں نہ دیکھ پائی تھی.
آہان اُس کو مسکراتی نظروں سے دیکھتا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اِشمل کافی نروس تھی کیونکہ پہلے کبھی بھی اِس طرح کی پارٹیز میں شرکت نہیں کی تھی لیکن آہان جس طرح اُسے ڈیل کررہا تھا وہ کافی حد تک نارمل ہوچکی تھی.
پارٹی میں آہان کے بزنس پاٹنرز کے علاوہ اُس کے بہت سارے فرینڈز بھی موجود تھے. جن میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں شامل تھے. سب نے اُنہیں ہاتھوں ہاتھ لیا تھا اور اُن کے کپل کو بے حد سراہا تھا.
آہان کی بیسٹ فرینڈ تانیہ بھی اِشمل کو بہت محبت سے ملی تھی. جس پر اِشمل کافی حیران بھی تھی کیونکہ اُس کے خیال میں تو یہ آہان کی گرل فرینڈ تھی.
” آہان اور میری دوستی بہت پُرانی ہے. میں بہت اچھے سے سمجھتی ہوں آہان کو. بظاہر وہ جتنا پراؤڈی, ضدی اور غصے والا ہے. اندر سے وہ اُس سے کہیں زیادہ پیارا انسان ہے. شاید آپ کو میری بات بُری لگے لیکن آہان کے ساتھ رہتے میں چاہنے کے باوجود بھی اُس جیسے شاندار انسان سے محبت کرنے سے نہ روک پائی خود کو لیکن آہان کا رویہ ہمیشہ میرے ساتھ ایک اچھے دوست جیسا ہی رہا. اور جیسے ہی اُسے میرے جذبات کا پتا چلا اُس نے بہت ہی نرمی اور بغیر میری دِل آزاری کے سمجھایا کہ وہ مجھے اپنی ایک اچھی دوست سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا. وقتی طور پر تو میں بہت ہرٹ ہوئی لیکن پھر بہت جلد خود کو سنبھال لیا کیونکہ میں اپنے اتنے اچھے دوست کو کھونا نہیں چاہتی تھی. جس نے میرے ہر اچھے بُرے وقت میں میرا ساتھ دیا.
اُس دن ہاسپٹل میں آہان نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا. آج تک کبھی کسی کے ذکر پر بھی آہان کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں دیکھی میں نے. جو آپ کے ذکر پر اُس کی آنکھوں میں در آئی تھی. میں سمجھ چکی تھی کہ آہان کے دل تک کسی کی رسائی ہوچکی ہے. آہان آپ سے بے انتہا محبت کرتا ہے. ہمیشہ اُس کی قدر کیجئے گا کیونکہ ایسے لوگ کچھ ہی قسمت والوں کو ہی ملتے ہیں.
اور ہاں ایک آخری بات اُس دن آپ نے مجھے اور آہان کو جس طرح دیکھا. وہ ویسا نہیں تھا جیسا آپ نے سمجھا تھا. “
اُس دن اِشمل کی آنکھوں میں موجود ناگواری دیکھ اور آج بھی اِشمل کو خود سے کھنچا کھنچا محسوس کرتے.تانیہ نے آہان کی ایک مخلص دوست ہونے کا ثبوت دیتے اِشمل کو سب کلیئر کردیا تھا. جب تانیہ کی بات سنتے اِشمل کے دل میں آہان کے لیے موجود آخری پھانس بھی نکل چکی تھی.
“تم کس ٹائم سے میری بیوی کو کونسی پٹیا پڑھا رہی ہو.”
آہان اُن دونوں کے قریب آتا تانیہ کو گھورتے بولا.
“زیادہ نہیں بس تمہاری گذشتہ تیس چالیس گرل فرینڈ کا ہی بتارہی تھی اِشمل کو.”
تانیہ بھی اُسے چھیڑتے مسکراتے ہوئے بولی. اِشمل بھی اُس کی بات پر ہولے سے مسکرائی تھی.
“خدا کو مانو یار پہلے ہی اتنی مشکل سے صلہ ہوئی ہے. تم پھر سے لڑائی کروانا چاہتی ہو.”
آہان اِشمل کو محبت پاش نظروں سے دیکھتا ہوا بولا.
“ہاہاہا تو اور کیا پہلی بار آہان رضا میر کی کوئی کمزوری ہاتھ آئی ہے.”
تانیہ کے جواب پر آہان مسکرا کر رہ گیا تھا.
اِشمل کو وہاں سب سے مل کر بہت اچھا لگا تھا. اور سب سے زیادہ اچھا آہان کی اپنے لیے حد سے زیادہ عزت اور پیار بھرا کیئرنگ انداز دیکھ کر لگا تھا. بہت اچھا وقت گزار کر وہ رات گئے واپس لوٹے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آہان واش روم سے فریش ہوکر نکلا تو اِشمل ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی جیولری اُتار رہی تھی. آہان کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کانوں کی طرف بڑھتے اِشمل کے ہاتھ کانپے تھے. اُس کی گھبراہٹ محسوس کرتے آہان کے لب ہولے سے مسکرائے تھے.
اِشمل کو بازو سے تھامتے آہان نے اُسے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا. اور اُس کے کانوں کو جھمکوں کے بوجھ سے آزاد کرتے لبوں سے چھوا تھا.
“اِشمل تم میری زندگی ہو میری روح کا حصہ ہو. تمہیں پہلی نظر دیکھ کر ہی میں اپنا دل ہار چکا تھا. میں جانتا ہوں میری ضد اور جنون نے تمہیں بہت ہرٹ کیا لیکن میں نے تمہیں اپنانے کے لیے جو قدم اُٹھایا مجھے اُس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے. کیونکہ تمہیں اپنی زندگی میں لانے کے لیے اگر اِس سے بھی زیادہ انتہائی قدم اُٹھانا پڑتا تو میں ضرور اُٹھاتا. تم نے مجھے اپنے ساتھ ایسا باندھ دیا ہے کہ میں کسی اور طرف دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہا. تمہارے پاس ہونے سے مجھے جو سکون ملتا ہے. وہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں حاصل کر پایا.”
آہان نے کندھے سے اُس کے بال ہٹاتے لب رکھ چکا تھا. اُس کے اِس بے باک عمل پر اِشمل نے زور سے آنکھیں میچی تھیں.
” میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں. بے حد, بے پناہ, بے شمار جسے شاید میں الفاظ میں کبھی بیان نہ کر پاؤں لیکن آگے کی زندگی میں تمہیں خود ہی اپنے لیے میرے جنون دیکھ کر اندازہ ہوجائے گا کہ تم میرے لیے کیا ہو.
تم میرے دل کا سکون ہو. اور یہ سکون میں اب کبھی نہیں کھونا چاہتا. تمہارے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں کسی بھی حد تک جاسکتا ہوں. تم وعدہ کرو مجھ سے کبھی بھی زندگی کے کسی موڑ پر مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گی اور ہمیشہ مجھ پر بھروسہ کرو گی میرا یقین کرو گی.”
آہان کے اتنے خوبصورت اظہار پر اِشمل نے خوشی سے نم ہوتی آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھتے اثبات میں سر ہلایا تھا. اور سر اُس کے کشادہ سینے پر دھر دیا تھا. آہان اُس کی اِس خودسپردگی کے انداز پر محبت سے اُسے بانہوں میں بھرتے بیڈ کی طرف بڑھ گیا تھا.
اِشمل آہان کے ہر لفظ پر ایمان لے آئی تھی. اُس شخص نے اِشمل پر اپنا جائز حق رکھنے کے باوجود کبھی بھی اُسے زبردستی تعلق بنانے کی کوشش نہیں کی تھی. جس سے اُس کی نفس کی مظبوطی ظاہر ہوتی تھی. ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اِشمل کے دل میں آہان کے لیے محبت اور عزت میں مزید اضافہ ہورہا تھا.
اِشمل کو نرمی سے بیڈ پر لیٹاتے وہ اُس پر جھکتے اُس کے چہرے اور گردن پر اپنی محبت کے پھول کھلاتا چلا گیا تھا.
اِشمل نے اُس کی حُدتیں اور شدتیں سہتے بےحال ہوتے اُسے بازو سے تھاما تھا.
آہان…
نہایت دھڑکتے دل کے ساتھ اُس نے کچھ کہنا چاہا تھا.
جب آہان لائٹ آف کرتے اُس کے ہاتھوں کو پکڑ کر تکیے سے لگاتے ساڑھی کا پلو گرا چکا تھا. اُس کی گھنی زلفوں میں چہرا چھپائے آہان اپنی بےتابیوں کی داستان بیان کرتا چلا گیا تھا.
اُس رات آہان نے اُسے اپنی محبت اور والہانہ چاہت میں اِس قدر بھگویا تھا کہ اِشمل کو خود پر فخر ہونے لگا تھا.
خود کو مکمل طور پر اُس کے حوالے کرتے اِشمل اُس کے سینے میں چہرا چھپائے آنکھیں میچ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے.
