Rate this Novel
Episode 16
آپ کو جو بات بھی کرنی ہے جلدی کریں. میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے.
اِشمل کو اُس کا اِس طرح خود کو گھورنا بہت بُرا لگا تھا. ِاِس لیے وہ اِس بار زرا تیز لہجے میں بولا.
ڈاکٹر اِشمل میرا نام ملک حسیب ہے آہان رضا میر کا بہت ہی گہرا دشمن ہوں. اور جیسے کے دشمنوں کے حوالے سے ہر طرح سے با خبر رہنا چاہئے میں بھی آہان رضا میر کے بارے میں ہر بات جانتا ہوں یہ بھی کہ آپ کے ساتھ اُس نے کس طرح زبردستی شادی کی. میں اچھے سے جانتا ہوں. آپ اِس رشتے سے خوش نہیں ہیں. اور اُس سے الگ ہونا چاہتی ہیں لیکن اُس کی طاقت کے آگے بے بس ہوکر ایسا کچھ نہیں کرسکتیں. میں اِسی سلسلے میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں. آہان رضا میر سے آپ کو طلاق دلوا سکتا ہوں. کیونکہ ویسے بھی وہ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے.
آہان جو اُن دونوں کی طرف بڑھا تھا. لیکن ملک حسیب کی بات کانوں میں پڑتے وہ ایک پل کے لیے وہی رُکا تھا. مقصد صرف اِشمل کا جواب جاننا تھا.
اِشمل کو خاموشی سے اپنی بات سنتے دیکھ حسیب نے کوٹ کی جیب سے طلاق کے پیپرز نکال کر اِشمل کی طرف بڑھائے. جنہیں اِشمل نے اُس کی طرف دیکھتے خاموشی سے پکڑا تھا.
ملک حسیب بہت اچھی پلیننگ کی. بہت ری سرچ کی ہوگی تم نے ہم دونوں پر لیکن افسوس کہ تم مسسز آہان رضا میر کے سامنے بیٹھے ہو. میں اپنے شوہر سے بے انتہا محبت کرتی ہوں اور تمہاری غلط فہمی دور کردوں تاکہ اگلی بار ایسی کوئی گھٹیا حرکت کرنے کا نہ سوچو تم. میں آہان سے الگ ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی. کسی نے تمہیں ہمارے بارے میں یہ غلط انفارمشن دے کر بےوقوف بنایا ہے. شکر مناؤ کے آہان کے متعلق تمہاری اتنی بکواس آرام سے سن لی ہے میں نے ورنہ ابھی گارڈز کو بلوا کر تمہاری عقل ٹھکانے لگوا دوں. پکڑو اِنہیں اور نکلو یہاں سے.
اِشمل اُسکی آخری بات پر غصے میں آتے بولی اُسے اِس شخص کی نظریں ہی بہت بُری لگ رہی تھی. اپنے اور آہان کے ریلیشن کے بارے میں اُس کی بکواس سن کر اِشمل نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہاتھ میں پکڑے پیپرز کو ٹکڑوں میں تقسیم کرتے اُس کے منہ پر دے مارے تھے. اُس دن مہندی کی رات ملک جسیب کی آمد پر اُسے ہاجرہ بیگم اور باقی عورتوں کی باتیں سن کے اتنا تو اندازہ ہوگیا تھا. کہ وہ کتنا گھٹیا شخص ہے.
آہان کے ساتھ اُس کا رویہ جیسا بھی تھا. لیکن آہان کے دشمن سے اِس طرح اپنی پرسنل لائف کا سن کر اُسے بہت بُرا لگا تھا.
یہ تم نے اچھا نہیں کیا اِس کا انجام بہت بُرا ہوگا.
ملک حسیب طیش میں آتے اپنی جگہ سے اُٹھا تھا. جب آہان اُس کے اِشمل پر چلانے سے مزید خود کو وہاں نہ روک پاتے غصے سے آگے بڑھا تھا.
انجام تو اب تمہارا اچھا نہیں ہوگا بزدل انسان ہمت ہے تو مرد بن کر سامنے سے لڑوں.
آہان نے ایک زور دار مکہ ملک حسیب کے منہ پر دے مارا تھا. جب اِس اچانک ہونے والے حملے پر نہ سنبھلتے وہ پیچھے جاگرا تھا.
آہان یہ کیا کررہے ہیں آپ چھوڑیں اُسے.
اِشمل آہان کو اتنے غصے میں دیکھ گھبراتے ہوئے آگے بڑھی لیکن آہان نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے وہیں روکا تھا.
آہان کا اِشمل پر دھیان ہونے کی وجہ سے ملک حسیب نے جلدی سے اُٹھتے اُس کے منہ پر ایک پنچ دے مارا تھا. جس پر آہان مزید غصے میں آتے ملک حسیب پر جھپٹا اور بلیک بیلٹ ہونے کی وجہ سے کچھ ہی دیر ملک حسیب کا حشر بگاڑ دیا تھا. آہان کو اتنا غصے میں بپھڑا دیکھ اِشمل کو اُس سے شدید خوف محسوس ہوا تھا. وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائی.
جب کسی کی اطلاع پر ہاسپٹل کے گارڈ جلدی سے وہاں بھاگتے آئے اور بہت مشکلوں سے آہان کو اُس سے دور کیا تھا. جب آہان ایک طرف سہم کر کھڑی اِشمل کا ہاتھ پکڑے گاڑی میں آبیٹھا اور تیز رفتار سے گاڑی چلاتے گھر پہنچا تھا.
وہ گاڑی سے نکل کر بنا اِشمل سے کوئی بات کیے سیدھا اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
اِشمل نے ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھتے ملازمہ کو جوس لانے کا کہا اور ساتھ ہی آہان کی طرف بھی بھجوانے کو کہا تھا تاکہ اُس کا دماغ کچھ ٹھنڈا ہو.
بیگم صاحبہ سر بہت غصے میں اُوپر گئے ہیں اور اُن کا سختی سے آڈر ہے کہ جب وہ غصے میں ہوں تو کوئی اُن کے پاس نہ آئے.
ملازمہ کی بات پر اِشمل نے اُسے جوس وہی رکھنے کا کہہ کر جانے کا اشارہ کیا تھا اور گہرا سانس ہوا میں خارج کرتے اُس نے خود کو نارمل کیا تھا. اُس نے بہت لوگوں کو غصے میں دیکھا تھا لیکن اتنا شدید غصہ کرتے کبھی کسی کو نہیں دیکھا تھا اُسے اب سمجھ آئی تھی کہ آہان کے اردگرد رہنے والے لوگ اُس کے غصے سے اتنا خائف کیوں تھے.
آہان جتنے غصے میں تھا اِشمل نے ایک بار تو سوچا تھا کہ وہی بیٹھی رہے لیکن پتا نہیں کیوں دل آج اُس شخص کی کچھ زیادہ ہی سائیڈ لے رہا تھا. کیونکہ اِشمل نے آہان کے ہاتھ پر بھی خون دیکھا تھا. ضرور اِس مار پیٹ میں اُسے بھی چوٹ لگی تھی. جس کا سوچتے اِشمل اُس کے غصے میں ہونے کے باوجود دل کے مجبور کرنے پر اُوپر کی طرف بڑھ گئی تھی.
اِشمل ہولے سے دروازہ کھولتےاندر داخل ہوئی . آہان ہاتھ میں سیگریٹ لیے ریوالونگ چیئر پر آنکھیں موندے بیٹھا تھا. اِشمل نے اُس کے پاس رکھے ٹیبل پر جوس کا گلاس رکھتے ایک نظر ایش ٹرے میں پڑے سیگریٹس کی طرف دیکھا تھا. آہان اِشمل کی موجودگی نوٹ کرنے کے باوجود بھی ویسے ہی بیٹھا تھا. اِشمل کی نظر آہان کے ہونٹ سے نکلے خون اور ہاتھ پر پڑی تھی جو ملک حسیب کو پیٹنے کی وجہ سے زخمی ہوا تھا.
وہ الماری سے میڈیکل کِٹ نکالتے اُس کی طرف بڑھی اور آہان کا ہاتھ پکڑ کر سیگریٹ چھیننے کے انداز میں لے کر ایش ٹرے میں پھینکی تھی. جس پر آہان نے آنکھیں کھولتے سخت نظروں سے گھورا. لیکن اِشمل اُس کی نظروں کی پرواہ کیے بغیر اُس کے ہاتھ پر لگے خون کو روئی سے صاف کرنے لگی تھی.
اِشمل میں اِس وقت بہت غصے میں ہوں. تم جاؤ یہاں سے.
آہان نے اُس کی گرفت سے بازو نکالتے ایک اور سگریٹ سلگایا تھا.
ملک حسیب کو اتنا مارنے کے بعد بھی اُسے سکون نہیں مل رہا تھا. کیونکہ جس طرح اُس نے اِشمل پر نظر ڈالی تھی آہان کا دل کر رہا تھا. اُس شخص کو وہیں ختم کر دے.
آہان رضا میر میرے سامنے یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے. خاموشی سے بیٹھے رہو اور مجھے اپنا کام کرنے دو.
اِشمل اُس کا غصہ کم پڑتے دیکھ اُسے گھورتے بولی.
تم اُس کی بات سننے کیوں گئی تھی.
آہان سرد انداز میں اُس کی طرف دیکھتے بولا. لیکن اِشمل اُس کی بات کا جواب دیے بغیر اپنے کام میں مصروف رہی.
میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں اِشمل.
آہان نے پاس کھڑی اِشمل کو بازو سے پکڑ کر اپنے اوپر گرایا تھا. جواب میں اِشمل نے بھی اُس کی حرکت پر غصے سے اُسے گھورا تھا لیکن بولی پھر بھی کچھ نہیں تھی اور ہاتھ بڑھا کر باکس میں سے روئی نکال کر اُس پر ڈیٹول ڈالتے آہان کے ہونٹ کے پاس موجود زخم پر لگا خون صاف کرنے لگی تھی.
اِشمل میں پہلے ہی بہت غصے میں ہوں اور تم اِس طرح خاموش رہ کر مجھے مزید غصہ دلا رہی ہو.
آہان اپنے اُوپر مزے سے بیٹھی جھک کر زخم صاف کرتی اِشمل کو گھور کر بولا.
اچھا مطلب ابھی آہان رضا میر کو مزید غصہ آنا باقی ہے. ویری گڈ. میں وہاں ایک ڈاکٹر ہوں. ہزاروں لوگوں سے اُن کی بیماری کے سلسلے میں ملنا ہوتا ہے بات کرنی ہوتی ہے. مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہے اور کس مقصد سے ملنا چاہتا ہے. اب اُس غریب کی اتنی بُری حالت تو کردی ہے. میرے خیال میں اب تمہارا غصہ کم ہوجانا چاہئے.
اِشمل زخم صاف کر چکی تھی جب اُس کی بات کا جواب دیتے پیچھے ہٹی تھی لیکن آہان نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیا تھا. اِشمل کی بات پر آہان کو اُس ملک حسیب کو دیا اِشمل کا جواب یاد آیا تھا. غصہ تو اُس کا اِشمل کے پاس آنے اور اتنے کیئرنگ انداز سے ویسے ہی دور ہوچکا تھا. لیکن اپنے تنے ہوئے اعصاب کو پرسکون کرنے کے لیے اُسے اِشمل کا قریب رہنا اچھا لگ رہا تھا.
تم نے اُس کو کیا کہا اُس کی گھٹیا باتوں کے جواب میں.
آہان کی بات پر اِشمل نے اُس کی طرف دیکھا تھا. اِشمل خود بھی ابھی تک نہیں سمجھ پارہی تھی کہ ملک حسیب کے منہ سے آہان کے بارے میں غلط الفاظ سن کر اُسے اتنا غصہ کیوں آیا تھا. جو کچھ اُس نے کہا تھا وہ بھی تو کچھ ٹائم پہلے یہی چاہتی تھی نا. تو پھر اتنا بُرا کیوں لگا تھا. اِشمل کو خود بھی اپنی کیفیت کی سمجھ نہیں آرہی تھی.
جب اُس کا سوال سنا ہے تو میرا جواب بھی تو سنا ہی ہوگا نا. اور زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ صرف اُس کی بکواس بند کرنے کے لیے بولا تھا.
اِشمل نے اُس کی خوش فہمی دور کرتے اُٹھنا چاہا تھا لیکن آہان کے اپنے گرد موجود بازوؤں کی وجہ سے ایسا نہیں کر پائی تھی.
تھوڑی دیر کے لیے سکون چاہئے مجھے پلیز.
اُس کی مزاحمت پر آہان نے اُسے دور ہونے سے روکتے خود میں بھینچا تھا. پہلے کبھی بھی اُس کا غصہ اتنی جلدی ختم نہیں ہوتا تھا. وہ پوری پوری رات سیگریٹ اور شراب کے ساتھ گزار دیتا تھا مگر سکون پھر بھی نہیں ملتا تھا. لیکن آج پہلی دفعہ حیرت انگیز طور پر اتنے شدید غصے کے باوجود وہ اِشمل کے قریب آنے پر اتنی جلدی پرسکون ہوچکا تھا. اِس لڑکی کی تھوڑی سی کیئر اتنی اچھی تھی تو اِس کی محبت کیسی ہوگی.
اِشمل اُس کی بات سنتے چاہنے کے باوجود بھی دوبارہ مزاحمت نہیں کر پائی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
بیگم صاحبہ نیچے کوئی لڑکی آئی ہے اور آپ سے ملنا چاہتی ہے.
ملازمہ کمرے کا دروازہ ناک کرکے اُس کے پاس آتے بولی.
اوکے تم اُنہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھاؤ میں ابھی آتی ہوں.
ملازمہ سرہلاتی وہاں سے نکل گئی تھی.
مجھ سے کون ملنے آسکتا ہے یہاں.
اِشمل حیرانی سے سوچتی نیچے کی طرف بڑھی تھی.
ڈرائنگ روم میں داخل ہوتےاُس کی نظر صوفے پر بیٹھی لڑکی پر پڑی تھی. جو کوئی اور نہیں بلکے مشہور سُپر ماڈل صوفیہ تھی. جو بے حد سٹائلش سی سلیولیس شارٹ شرٹ میں ٹائٹ پینٹ اور بنا دوپٹے کے اپنے بے پناہ حُسن کے ساتھ مغرور انداز میں براجمان تھی. اِشمل اُسے وہاں دیکھ حیرت ذدہ سی آگے بڑھتے اُسے سلام دیتے اپنی طرف متوجہ کیا تھا.
اِشمل پر نظر پڑتے بنا اُس کے سلام کا جواب دیتے اُس نے اپنی جگہ پر ہی بیٹھے سر سے پاؤں تک اِشمل کا گہری نظروں سے جائزہ لیا تھا. اِشمل نے اُس کے انداز پر اُلجھن بھری نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
تو تم ہو آہان رضا میر کی بیوی. مجھے تو ایسا کچھ خاص تعریف کے قابل نظر نہیں آرہا تم میں. جو آہان رضا میر جیسے شخص کو اپنا دیوانہ بنا لے.
صوفیہ اُس کے مقابل آتی حسد بھری نظروں سے اُسے دیکھتے بولی.
ایکسیکوزمی مس یہ کیا طریقہ ہے کسی کے گھر میں جاکر بی ہیو کرنے کا.
اِشمل اُس کے انداز کو سمجھنے کی کوشش کرتے تحمل سے بولی.
ہاہاہا یہ تمہارا نہیں آہان کا گھر ہے اور تم سے پہلے میں اِس گھر میں رہ چکی ہوں. آہان کے اتنے قریب کے تم سوچ بھی نہیں سکتی. تم سے بھی پہلے آہان پر میرا حق ہے. میں یہاں تمہیں صرف اتنا سمجھانے آئی ہوں کہ آہان اور میں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں. ہمارے درمیان کسی بات پر لڑائی ہوگی تھی جس کی وجہ سے آہان نے مجھ سے ناراض ہوکر مجھے سزا دینے کے لیے تم سے نکاح کیا ہے. اُس دن آہان کا ایکسیڈنٹ ہماری لڑائی کے بعد ہوا تھا.
لیکن اب میں واپس آچکی ہوں. اور بہت جلد آہان اور میرے درمیان سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا. اِس لیے تم اپنا بندوبست کر لو.
صوفیہ اُسے آہان سے بدظن کرنے کے لیے اپنی من گھڑت کہانی سناتی وہاں سے نکل گئی تھی. کیونکہ اِشمل کا چہرا دیکھ اُسے اپنا منصوبہ کامیاب ہوتا محسوس ہوا تھا.
ابھی ہی تو اُس نے آہان کے بارے میں سوچنا شروع کیا تھا. دل اُس کی پچھلی غلطیوں کو معاف کرنے پر آمادہ ہوا تھا. آہان کے بھی تو ہر عمل سے اُس کے لیے محبت ہی جھلکتی تھی. اِشمل اُس کی بات پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن ایک لڑکی اپنے بارے میں اتنی بڑی بات کیسے کرسکتی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آہان ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تھا جب اُس کی نظر ہاتھ پر چہرا ٹکا کر بیٹھی اِشمل پر پڑی تھی. جو ناجانے کِن خیالوں میں گم تھی کہ آہان کے اندر آنے پر بھی متوجہ نہ ہوئی تھی. آہان اُس کے انداز پر غور کرتے اُس کے قریب آکر بیٹھا تھا جس پر اِشمل نے چونک کر اجنبی نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
کیا ہوا کوئی پرابلم ہے.
آہان کو اُس کے انداز سے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا. لیکن اِشمل اُس کی بات کا جواب دیے بغیر وہاں سے اُٹھی تھی. اور کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی.
اِشمل یہ کیا طریقہ ہوا تم ایسے اُٹھ کر کیوں آگئی وہاں سے. کیا مسئلہ ہے.
آہان اپنے اِس طرح سے اگنور کیے جانے پر کمرے میں آکر اُس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف رُخ موڑتے بولا.
مسئلہ میرے ساتھ نہیں آہان رضا میر تمہارے ساتھ ہے.
اِشمل اُس سے اپنا بازو چھڑواتے چلاکر بولی. آہان کے لیے اِشمل کا یہ انداز سمجھ سے بالاتر تھا.
مجھے بلکل سمجھ نہیں آرہا تم میرے سامنے اتنا اچھا بننے کا ناٹک کیوں کررہے ہو. یہ شراب چھوڑنے اور محبت کا جھوٹا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے. یہ اتنا اچھا بن کر تمہارے وہ تمام گناہ نہیں چھپ جائیں گے جو تم نے نجانے کتنی نامحرم لڑکیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرکے کیے ہیں. آج وہ صوفیہ آئی ہے کل کو باقی بھی آئیں گی. مجھے رہنا ہی نہیں ہے تم جیسے شخص کے ساتھ.
اِشمل آنسوؤں بھری آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھتے چلا کر بولی تھی. آہان نے دُکھ سے اُسے بدگمانی کی انتہا پر دیکھا تھا. اِس لڑکی کو اُس نے خود سے بڑھ کر چاہا تھا. اور وہ اُس کی محبت کا جواب محبت سے دینے کے بجائے اُسے ڈرامہ کہہ رہی تھی.
خاموش کیوں ہو آہان رضا میر آج تمہاری سچائی سامنے آنے کے بعد الفاظ ختم ہوگئے کیا.
اِشمل کے طنز پر آہان نے سُرخ آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھا تھا. اور اُسے دونوں بازوؤں سے جکڑتے اپنے بے حد قریب کیا تھا.
اِشمل تمہیں پہلے بھی کہا تھا میں نے کہ اپنے بارے میں آج تک میں نے کبھی کسی کے سامنے صفائی نہیں دی. تم مجھ پر جتنے الزام لگاتی مجھے فرق نہ پڑتا لیکن میری محبت کو جھوٹا کہہ کر تم نے اچھا نہیں کیا.
ہاں مانتا ہوں میں بہت بُرا ہوں میں. بہت لڑکیوں سے دوستی رہی ہے میری لیکن کبھی اپنی حد کراس نہیں کی. میں اپنی لمٹس سے اچھے سے واقف تھا. صوفیہ بھی خود میری طرف بڑھی تھی. لیکن میرا خدا گواہ ہے کبھی اُس کو اپنے قریب نہیں آنے دیا. اُس کے مطابق وہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھی. اور ہمیشہ کے لیے میرا ہونا چاہتی تھی. لیکن میں جانتا تھا اُسے مجھ سے نہیں میری ظاہری شخصیت اور میری شان و شوکت سے پیار تھا. میں نہ کبھی محبت پر یقین رکھتا تھا اور نا ہی اِس جذبے کے زیرِ اثر ہونا چاہتا تھا. میں نے اُسے صاف لفظوں میں انکار کر دیا تھا. ہزاروں لوگوں سے سہرانے جانے کے بعد اُسے میرا ریجیکٹ کرنا برداشت نہیں ہوپایا تھا.
اور مجھ سے بدلہ لینے کے لیے ہماری ایک پارٹی میں لی گئی پہلے کی تصویر کو غلط رنگ دے کر میڈیا کے سامنے لانا چاہتی تھی. اُس کامقصد مجھے سب کے سامنے بدنام کرنا تھا. لیکن میری خوش قسمتی سے جس چینل میں اُس نے وہ پکچرز دی تھیں وہاں کا ہیڈ میرا بہت اچھا دوست تھا. اُس نے ساری بات مجھے بتا دی تھی. جس پر میں نے صوفیہ کو اُس کی حرکت پر بے عزت کرنے کے ساتھ ساتھ اُس سے مکمل بائیکاٹ کر دیا تھا.
وہ آج تک مجھ سے اپنی غلطی پر معافی مانگتی پھر رہی ہے اور یہ جان کرکے میری شادی ہو چکی ہے. اُس سے برداشت نہیں ہوا جس وجہ سے تمہیں مجھ سے بدظن کرنے یہاں پہنچ گئی. اور شاید اِس کام میں اُسے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی.
آہان اُس کی آنکھوں میں دیکھتا افسوس سے بولا تھا.
اِشمل تم سوچ بھی نہیں سکتی میرے دل میں تمہارے لیں کتنی محبت اور شدتیں ہیں. اور شاید نہ ہی کبھی تم اِس پر یقین کر پاؤ.
تمہاری ہر بات سر آنکھوں پر لیکن میری محبت پر الزام لگا کر اچھا نہیں کیا تم نے. جس کے لیے میں تمہیں بلکل معاف نہیں کروں گا.
آہان اُس کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کرتے کمرے سے ہی نہیں گھر سے بھی نکل گیا تھا.
اِشمل خاموشی سے بیڈ پر آبیٹھی تھی. آہان کی بات سن کر اُسے اپنی کہی گئی باتوں پر شدت سے پچھتاوا ہوا تھا. اُس نے آہان کی آنکھوں میں سچائی دیکھی تھی. آہان کا اقرار سنتے اُس کے دل کو ایک انجانی خوشی محسوس ہو رہی تھی.
اِشمل اتنی بکواس کرنے کی کیا ضرورت تھی. آرام سے بھی تو پوچھ سکتی تھی نا تم اُس سے.
اُس کے اِس طرح غصے سے جانے پر اِشمل خود کو دل ہی دل میں کوستی اُس کا انتظار کرنے لگی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے.
عارفین سفیہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوتا بولا.
آجاؤ بیٹھو بولو کیا بات ہے.
سفیہ بیگم عارفین کی طرف دیکھتے بولیں.
مجھے ثوبیہ سے شادی نہیں کرنی آپ پلیز اِس بات کو یہیں ختم کردیں.
عارفین سفیہ بیگم کی طرف دیکھتا دوٹوک انداز میں بولا. اب مزید برداشت کرنا اُس کے بس میں نہیں رہا تھا. اِس لیے آج اُس نے اُن سے بات کلیئر کرنے کا فیصلہ کیا تھا.
تم جانتے بھی ہو تم کیا کہہ رہے ہو اپنی ماں کو انکار کررہے ہو.
سفیہ بیگم اُس کی بات سنتے غصے سے بولیں.
جی میں اچھے سے جانتا ہوں کہ کیا کہہ رہا ہوں آپ کو میری بات سمجھنی ہوگی.
عارفین دھیمے لہجے میں بولا.
ایسا نہیں ہوسکتا. میں تمہاری پھوپھو کو زبان دے چکی ہوں.
سفیہ بیگم نے بات ختم کرنی چاہی تھی.
تو آپ انکار کردیں کیونکہ میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ آپ اِس طرح مجھ سے پوچھے بغیر نہیں کرسکتیں.
عارفین میں اچھے سے سمجھ رہی ہوں تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو. اُس لڑکی کا خیال اپنے دل سے نکال دو. میں اُس کے ساتھ تمہاری شادی کبھی نہیں ہونے دوں گی.
سفیہ بیگم حنا کی بات کرتے نخوت سے بولیں.
تو آپ بھی میری بات یاد رکھیے گا اگر میری شادی حنا سے نہ ہوئی تو کسی سے بھی نہیں ہوگی. اور نہ ہی آپ مجھے اِس کے لیے مجبور کر پائیں گی.
عارفین سفیہ بیگم کو اپنا فیصلہ سناتا اُن کی مزید کوئی بھی بات سنے بغیر کمرے سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آہان نے دو دن سے اِشمل سے کوئی بات نہیں کی تھی. اِشمل نے اُس سے اپنے رویے کی معافی مانگنی چاہی تھی لیکن آہان کے سرد انداز ہر کچھ بھی نہ بول پائی تھی.
کچھ دنوں میں سدرہ کی منگنی تھی اور وہ اِشمل کو ہاسپٹل سے آف ہوتے ہی اپنے ساتھ شاپنگ پر لے آئی تھی. اِشمل کا بلکل موڈ نہیں تھا لیکن سدرہ کے اسرار پر خاموشی سے اُس کے ساتھ آگئی تھی. ہما نے بھی کچھ شاپنگ کرنی تھی جس وجہ سے اُسے بھی پِک کر لیا تھا.
یہ کیسا ڈریس ہے اِشمل.
سدرہ کتنے ہی ڈریسز دیکھ چکی تھی لیکن اُس کو ابھی تک کوئی پسند نہیں آرہا تھا. جب اچانک ایک لائٹ پرپل کلر کا شرارا سوٹ پر نظر پڑتے وہ اُس طرف بڑھی تھی.
واؤ آپی بہت خوبصورت ہے آپ پر یہ کلر سوٹ بھی بہت کرے گا.
اِشمل کے ساتھ ساتھ ہما کو بھی وہ سوٹ سدرہ کے لیے اچھا لگا تھا.
تھینک گارڈ تم لوگوں کی شاپنگ کمپلیٹ ہوئی چلو اب چل کر کچھ کھا لیں. مجھے بہت بھوک لگی ہے.
اِشمل اُن کے ساتھ سیکنڈ فلور کی طرف بڑھی.
اوہ نو میرا ڈریس والا شاپر تو نیچے شاپ پر ہی رہ گیا. کیفے میں داخل ہوتے ہما یاد آنے پر منہ پر ہاتھ رکھتے بولی.
تمہارا دھیان کہاں ہوتا ہے ہما.
اِشمل اُکتائے ہوئے لہجے میں بولی.
اچھا کوئی بات نہیں اِشمل تم کچھ آڈر کرو ہم لوگ اتنی دیر میں جلدی سے جاکر لے آتے ہیں.
سدرہ اِشمل سے کہتی ہما کے ساتھ نیچے کی طرف بڑھ گئی تھی.
اِشمل کیفے میں بیٹھی اُن لوگوں کا انتظار کر رہی تھی جنہیں گئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے. جب اُسے وہاں ایک عجیب سی سمیل فیل ہوئی تھی. اور تھوڑی ہی دیر بعد لوگوں کے شور کے ساتھ ہر طرف دھواں پھیلتا دیکھائی دیا تھا. اِشمل بھی اپنی چیئر سے اُٹھتی فکرمندی سے آگے بڑھی تھی.
سدرہ آپی یہ کیا ہورہا ہے سب لوگ بھاگ کیوں رہے ہیں. ہما نے سدرہ کے ساتھ شاپ سے نکلتے حیرانی سے لوگوں کو باہر کی طرف بھاگتے دیکھا تھا.
جب سیکنڈ فلور پر نظر پڑتے ہی دونوں اپنی جگہ ساکت ہوئی تھیں. سیکنڈ فلور پر آگ پھیل چکی تھی. ہر طرف سے دھواں اور آگ کے شعلے نکل رہے تھے جو سیکنڈ فلور کو اپنی لپیٹ میں لینے کے ساتھ ساتھ اب گراؤنڈ فلور کی طرف بڑھ رہے تھے.
اِشمل تو سیکنڈ فلور پر ہی تھی نا.
سدرہ ہولے سے بڑبڑائی تھی. اردگرد سے لوگ اندھا دھند بھاگتے اپنی جان بچاتے باہر کی طرف جارہے تھے. جب سیکیورٹی گارڈ نے اُنہیں بھی باہر کی طرف جانے کا اشارہ کیا تھا.
اُنہوں نے بسی سے سیکنڈ فلور کی طرف دیکھا تھا جہاں آگ پوری طرح پھیل چکی تھی. دل میں اِشمل کے نیچے آجانے کی دعا کرتے وہ لوگ باہر کی طرف بڑھی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
