59K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ہاں بولو کچھ پتا چلا….
آہان فون کان سے لگائے اپنے آفس سے نکلتے گاڑی کی طرف بڑھا تھا
واٹ اور تم مجھے اب بتا رہے ہو. کتنے دن ہوگئے ہیں اِس بات کو.
دوسری طرف کی بات سنتے آہان غصے سے بولا.
ہاسپٹل کا ایڈریس سینڈ کرو مجھے.
آہان اُس سے بات کرکے فون بند کرتے گاڑی میں آبیٹھا تھا.
کیا ہوا ہے سلمان صاحب کو.
ہاسپٹل میں پہنچ کر وہ اپنے آدمی جمال کے پاس آتے بولا.
آہان نے دو دن پہلے سلمان صاحب کا فون بند ہونے کی وجہ سے جمال کو اُن کے گھر خیر خبر لینے بھیجا تھا. جس کے بارے میں جمال نے اُسے آج خبر دی تھی.
سر ڈاکٹرز کے مطابق مائینر سا ہارڈ اٹیک آیا ہے. لیکن اب اُن کی طبیعت کافی بہتر ہے. اور آپ کے کہے کے مطابق اُن کو پتا لگے بغیر تمام بل کلیئر کر دیے ہیں.
آہان کو وہاں موجود دیکھ کچھ فاصلے پر کھڑی ہما نے حیرت سے اُس کی باتیں سنی تھیں.
ہممہ گڈ. اُن کے آس پاس ہی رہو. اُنہیں کسی قسم کی کوئی پرابلم نہیں ہونی چاہئے.
آہان اُسے مزید ہدایت دیتا وہاں سے نکل گیا تھا. جب ہما جلدی سے اُس کے پیچھے بڑھی تھی.
پہلے اُس کا ارادہ سلمان صاحب سے ملنے کا تھا لیکن پھر اُن کی طبیعت کے خیال سے اُس نے اُن سے ملنا مناسب نہ سمجھا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اُسے دیکھ سلمان صاحب کی طبیعت مزید خراب ہو.
ایکسکوزمی آہان رضا میر.
آہان ابھی ہاسپٹل کی انٹرنس پر ہی تھا جب ہما نے اُسے پیچھے سے پُکارا تھا. اپنا نام سنتے آہان نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا.
جی فرمائیں….
آہان نے سوالیہ انداز میں ہما کی طرف دیکھا تھا.
میں اِشمل سلمان کی سسٹر ہوں ہما. مجھے میری آپی سے ملنا ہے.
اُس نے ہما کو نکاح والے دن ہی سرسری سا دیکھا تھا اِس لیے اُسے پہچان نہیں پایا تھا.
پہلی بات تو یہ کہ اب وہ اِشمل سلمان نہیں اِشمل آہان ہے. اور جہاں تک رہی ملنے والی بات تو ابھی تو یہ پاسبل نہیں ہے. لیکن بہت جلد ہی آپ کو ملوا دوں گا آپکی سسٹر سے.
آہان اُس کی بات پر سنجیدہ انداز میں بولا.
آپ سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں کیا.
ہما کی بات پر آہان نے اثبات میں سر ہلایا تھا.
آپ نے اُس دن صرف آپی کو ڈرانے کے لیے احد اور بابا کے سر پر بندوق رکھی تھی نا. تاکہ وہ نکاح کے لیے مان جائیں.؟
ہما اُس کی طرف دیکھتی پُر یقین لہجے میں بولی.
آپ اتنے یقین سے یہ بات کیسے کہہ سکتی ہیں.
آہان نے جواب دینے کے بجائے اُس سے سوال کیا تھا.
کیونکہ مجھے لگتا ہے آپ اتنے بُرے نہیں جتنا آپ خود کو شو کرواتے ہیں. اگر آپ واقعی میں ویسے ہوتے تو اُس دن اپنی جان کی پراوہ کیے بغیر احد کو نہ بچاتے اور آج یہ سب جان کر کہ ہمیں اِس ہاسپٹل کا بِل پے کرنے میں پرابلم ہورہی ہے بنا بتائے آپ خود سارا بل پے نہ کرتے.
آہان نے حیرت سے سامنے کھڑی چھوٹی سی لڑکی کی طرف دیکھا تھا.
آپ اپنی آپی سے کافی زیادہ عقلمند لگتی ہیں کیونکہ مجھے لگتا ہے اُسے تو صرف لڑنا ہی آتا ہے.
آہان اِشمل کا ذکر کرتے اُس سے بات کرتے پہلی بار مسکرایا تھا.
جی نہیں میری آپی بہت اچھی ہیں اُن جیسا کوئی نہیں ہے.
ہما اُس کے ایسے جواب پر منہ پھلاتے بولی.
جب اُس کی بات کی تائید آہان رضا میر کے دل نے بھی کی تھی.
تو پھر آپ کب لارہے آپی کو.
اُس کی خاموشی پر ہما نے ایک بار پھر پوچھا تھا.
جب آہان اُسے جلد ہی اِشمل سے ملوانے کا وعدہ کرتا وہاں سے نکل آیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آہان تم تو مائرہ سے ملنے گئے تھے نا اتنی جلدی کیسے آگئے. یا تم اُس کی طرف گئے ہی نہیں.
آہان ابھی آدھا گھنٹہ پہلے ہی حماد کے بے حد اسرار پر مائرہ سے ملنے گیا تھا. کیونکہ حماد کے مطابق مائرہ نے پچھلے ایک ہفتے سے آہان سے ملنے کے لیے اُس کا سر کھایا ہوا تھا. مائرہ ایک بہت ہی امیر باپ کی بگڑی اولاد تھی . اُس نے حماد کے ساتھ آہان کو ایک پارٹی میں دیکھا تھا. اور تب سے وہ آہان سے دوستی کی خواہش مند تھی.
حماد اُسے اتنی جلدی واپس آتا دیکھ حیرانی سے بولا.
کیا ہوا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا. تم کچھ پریشان سے لگ رہے ہو.
حماد اُس کو خاموشی سے پیشانی مسلتے دیکھ اُٹھ کر اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا.
ہاں یار طبیعت تو ٹھیک ہے. پر لگتا ہے دماغ خراب ہوگیا ہے.
آہان نے اُکتائے ہوئے لہجے میں بولتے سگریٹ جلا کر منہ سے لگایا تھا.
کیا مطلب میں سمجھا نہیں.
حماد اُس کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے بولا.
آج جب میں مائرہ کے پاس بیٹھا تھا تو مجھے اُس کی شکل میں اِشمل نظر آنے لگی. اُس کے چھوٹے چھوٹے بالوں کی میں اِشمل کے لمبے بال سمجھ کر تعریف کرنے لگا…. مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا وہ میرے حواسوں پر اتنا سوار کیوں ہو رہی ہے.
آہان کی بات سن کر حماد سے اپنا قہقہ رُکنا مشکل ہوگیا تھا.
ہاہاہاہا اور مائرہ کا کیا ری ایکشن تھا آگے.
اُس کے ہنسنے پر آہان نے اُسے سخت نظروں سے گھورا تھا.
ری ایکشن کیا ہونا تھا وہ بچاری حیرانی سے مجھے دیکھنے لگی. میں طبیعت خرابی کا بہانہ کرکے وہاں سے اُٹھ آیا.
اوہ مائی گاڈ. یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں.آہان رضا میر اپنی چارمنگ پرسنیلٹی سے اتنی حسیناؤں کو دیوانہ بنانے والا آج خود کسی کا دیوانہ بن چکا ہے. تم ہمیشہ سے یہی کہتے آئے ہو نا کہ آہان رضا میر کو کبھی کسی سے محبت نہیں ہوسکتی تو مان لو میری بات کہ تم بھی اب اِس مرض کا شکار ہوچکے ہو. یہ لو پیوں اِس کو شاید دماغ کچھ جگہ پر آجائے.
حماد اُس کی حالت اُس پر بیان کرتا بولا. اور وائن سے بھرا گلاس اُس کے سامنے رکھا تھا.
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے یہ بس چند دنوں کی اٹریکشن ہے.
آہان اُس کی بات کا انکار کرتے وہاں سے اُٹھا تھا. آج تو اُس کا شراب کو ہاتھ لگانے پر بھی دل نہیں کیا تھا.
کہاں جارہے ہو.
حماد نے اُسے اُٹھتا دیکھ سوال کیا تھا.
گاؤں…
آہان نے رُک کر مختصر سا جواب دیا تھا.
اب اِسی بات سے ہی اندازہ لگا لو تم ہمیشہ مہینے بعد گاؤں کا چکر لگاتے ہو اور اِس بار دو دن بھی نہیں رُکا گیا تم سے.
حماد ہنستے ہوئے بولا جب آہان کچھ بھی بولے بغیر اُسے گھوری سے نوازتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا.
آہان کچھ دیر گاڑی میں بیٹھے گاؤں نہ جانے کا سوچتا رہا تھا لیکن اُس کا دل اِس بات سے انکاری تھا. نا چاہتے ہوئے بھی دل کی ضد پر اُس نے گاڑی گاؤں کی طرف موڑی تھی.
حماد کی بات تو وہ سختی سے مسترد کر آیا تھا لیکن وہ خود بھی کہیں نہ کہیں یہ بات سمجھ چکا تھا. کہ اِشمل اُس کے لیے بہت ضروری ہوچکی تھی. اُس کے بغیر شہر میں یہ دو دن بھی آہان کے بہت مشکل سے گزرے تھے.
اور اِن دو دنوں میں حماد کے اتنے اسرار پر بھی وہ شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگا پایا تھا. ابھی تو اُس نے اِشمل سے کوئی ایسا رشتہ بھی نہیں بنا پایا تھا لیکن پھر بھی وہ اُس کے بارے میں سوچتے بن پیئے ہی بہک جاتا تھا.
اِشمل کا لڑتا جھگڑتا رُوپ تصور میں آتے ہی ایک خوبصورت مسکراہٹ نے آہان کے چہرے کو چھوا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اشمل ایک جگہ بیٹھے بیٹھے تنگ آچکی تھی اِس لیے وہ پوری حویلی دیکھنے کے لیے کمرے سے نکل آئی تھی.
وہ راہداری سے گزری تھی جب اُس کی نظر دائیں طرف بنی سیڑھیوں پر بیٹھی حنا پر پڑی تھی. حنا بھی اُسے دیکھ چکی تھی. اِس لیے جلدی سے دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرتے اپنی طرف آتی اِشمل کو دیکھ وہ ہولے سے مسکرائی تھی.
کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں.
اِشمل نے اُس اداس آنکھوں والی لڑکی کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا تھا.
جی بھابھی کیوں نہیں بیٹھیں پلیز.
حنا اُس کی بات پر خوشدلی سے بولی.
میں جانتی ہوں یہ بہت پرسنل سوال ہے لیکن اِن کچھ دنوں میں میں نے نوٹ کیا ہے آہان کی مدر کا رویہ آپ لوگوں کے ساتھ بہت توہین آمیز ہے. ایسا کیوں ہے
اِشمل کے سوال پر حنا نے ایک پل کے لیے خاموش نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
میں بتاتی ہوں آپ کو بھابھی اگر اِس پر رہی آپ تو ہوگیا آپ کی معلومات میں اضافہ.
پاس آتی حفصہ اِشمل کی بات سنتے جلدی سے بولی. جب حنا نے اُسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا.
بھابھی اب تو آپ اِس گھر کی بہت اہم فرد ہیں آپ کو خاندان کی ساری باتوں کا علم ہونا چاہئے.
حفصہ حنا کے اشاروں کو اگنور کرتی بولی. اور اِشمل کو اپنے حالات کے اور ہاجرہ بیگم کے رویے کے بارے میں شروع سے لے کر آخر تک بتاتی چلی گئی.
اِشمل کو اُن کے بارے میں سن کر کافی دکھ ہوا تھا. اور ساتھ ہی آہان کی اتنی تعریف اُس سے ہضم نہیں ہوپائی تھی.
لیکن یہ تو سراسر ناانصافی ہوئی نا آپ لوگوں کا بھی اِس سب پر اُتنا ہی حق ہے جتنا اُن کا اور آپ لوگوں کو بھی اُن کے برابر ہی عزت ملنی چاہئے.
اِشمل سے یہ بات کسی صورت برداشت نہیں ہوئی تھی. ہاجرہ بیگم کی خاص ملازمہ اُن تینوں کو وہاں اکٹھا بیٹھا دیکھ چکی تھی اِس کے بتانے پر ہاجرہ بیگم فوراً وہاں پہنچی تھیں اور اِشمل کی آخری بات بھی سنی لی تھی.
موقع ملتے ہی شروع ہوگی تم لوگ میرے خلاف سازشیں تیار کرنے.
ہاجرہ بیگم اُن کے قریب آتے حنا اور حفصہ کو غصے بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں.
آنٹی ایسی بات نہیں آپ غلط سمجھ رہی ہیں.
اِشمل کو اُن کا انداز بلکل پسند نہیں آیا تھا.
بہو تمہیں ابھی صرف دو دن ہوئے ہیں آئے. اِس لیے تم اِن معاملوں سے دور ہی رہو تو اچھا ہے. میں اچھے سے جانتی ہوں کیا صحیح ہے کیا غلط.
ہاجرہ بیگم اِشمل کی طرف دیکھتے سرد لہجے میں بولیں.
اور تم دونوں یہ جو اپنی بھابھی کے آنچل میں چھپ کر میرے خلاف پلیننگ کرنے کی کوشش کررہی ہو. یہ بات مت بھولو کہ یہاں پر ہمیشہ سے میری چلتی آئی ہے اور آگے بھی ایسا ہی ہوگا. چند دنوں کے لیے آئے لوگوں سے اُمیدیں باندھنے کی ضرورت نہیں ہے.
اُن کی طرف دیکھتے ہاجرہ بیگم نے اِشمل پر طنز کرتے ہوئے کہا. کیونکہ اُن سے اِشمل کے تیور کسی صورت برداشت نہیں ہورہے تھے.
دیکھیں میں آپ سے بہت عزت سے بات کررہی ہوں اور آپ سے بھی اِسی کی اُمید رکھتی ہوں.
اِشمل اُن کی بات پر ضبط سے کام لیتی آرام سے بولی.
عزت بہو میں اچھے سے جانتی ہوں تمہیں میرا بیٹا کیسے لایا ہے اور تم کسی طرح بھی ہمارے خاندان کی شان و شوکت کے قابل نہیں ہو. یہ ایک دو دن کی ملی اہمیت نے لگتا ہے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے. تم جیسی کتنی آئی اور کتنی گئی ہیں اُس کی زندگی سے. بہت جلد ہی اُس کا دل تم سے بھی بھر جائے گا تو اُس کے ساتھ زندگی گزارنے کے اتنے بڑے بڑے خواب سجانے کی ضرورت نہیں ہے.
ہاجرہ بیگم نخوت سے اِشمل کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں. جب اُسی وقت آہان نے اندر قدم رکھا تھا.
کیا ہورہا ہے یہاں.
ہاجرہ بیگم کی آخری بات سنتے ہوئے وہ سخت تاثرات سے بولا تھا. اُسے اُن سے ایسی بات کی اُمید بلکل نہیں تھی.
سب نے مڑ کر اُس کی طرف دیکھا تھا. آہان کی نظریں ضبط سے سُرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کھڑی اِشمل پر تھیں.
آہان بیٹا تم….
اُسے اِس طرح اچانک وہاں دیکھ ہاجرہ بیگم ایک پل کے لیے بوکھلا سی گئی تھیں.
اِشمل کچھ بھی بولے بغیر نفرت بھری نظروں سے آہان کی طرف دیکھتی وہاں سے نکل گئی تھی.
ماں آپ سے مجھے اِس بات کی اُمید بلکل نہیں تھی. اگر آپ کو ساری باتوں کا پتا ہے تو اِس کا مطلب یہ نہیں کے آپ اِس طرح اِشمل کو بے عزت کریں گی جس کی اِس سب میں کوئی غلطی بھی نہیں ہے. میری لائف میں اُس کی کتنی امپورٹنس ہے آپ کبھی جان ہی نہیں سکتیں.
آہان ہاجرہ بیگم کو سخت لہجے میں سمجھاتے بولا.
آہان تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو. میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا.
آپ کی بات کا مطلب جو بھی تھا لیکن میری بات بھی اچھے سے سن لیں اِشمل میری بیوی میری عزت ہے میں کسی صورت اُس کی انسلٹ برداشت نہیں کرسکتا. اور ہاں میں نے اُس سے شادی چند دنوں کے لیے نہیں کی. وہ میری محبت ہے اور ہمیشہ میری زندگی میں رہے گی. آپ کو اِس بارے میں جو بھی غلط فہمی ہے اُسے دور کر لیں.
آہان اُنہیں اچھے سے باور کرواتا وہاں سے نکل گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

تم رو رہی ہو.
آہان کمرے میں آتے اِشمل کی سُرخ آنکھیں دیکھ اُس کی طرف بڑھا تھا.
تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی باتوں کی ویلیو میرے نزدیک اتنی نہیں ہے کہ میں اُن پر آنسو بہاؤں. نفرت کرتی ہوں میں تم سے اور ہر اُس شخص سے جو تم سے منسلک ہے.
اِشمل غصے سے آہان پر چلاتے بولی.
اِشمل بی ہیو یور لینگویج اگر میں تمہاری ہر فضول بات اور حرکت برداشت کرتا ہوں تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ تم کچھ بھی بولوں.
آہان اُس کی بات سنتے ضبط سے بولا.
تو کس نے کہا ہے مجھے برداشت کرو. تمہارے نزدیک لڑکیوں کی اہمیت اتنی ہی ہے نا کہ تم اُن کو یوز کرکے پھینک دیتے ہو اور پھر کوئی نئی پسند آجاتی ہے. اور تم مجھے بھی تو یہاں صرف اور صرف اپنی ضد اور انا میں اپنے نفس کی پیاس بجھانے لائے ہونا تو ٹھیک ہے. میں خود کو تمہارے سامنے پیش کررہی ہوں. اپنا مطلب پورا کرو اور طلاق دو مجھے.
اِشمل بلکل آہان کے سامنے کھڑے ہوتے بولی.
اِشمل…..
کب سے اُس کی باتوں پر ضبط کرتے غصے سے آہان کا ہاتھ اُٹھا تھا لیکن اِشمل تک پہنچنے سے پہلے ہی اُس نے خود کو ایسا کرنے سے روک لیا تھا.
مارو نا رُک کیوں گئے. تم جیسے کمزور مرد سے اور توقع ہی کیا کی جاسکتی ہے.
اِشمل اِس وقت غصے میں جو منہ میں آیا بولتی گئی تھی.

جاری ہے.