Rate this Novel
Episode 10
بارات کے فنکشن کا انتظام مہندی سے بھی کئی زیادہ شاندار کیا گیا تھا. ہر طرف رنگ اور خوشبو پھیلی ہوئی تھی. آہان رضا میر بلیک کلر کی شیروانی میں کسی ریاست کا شہزادہ معلوم ہو رہا تھا. ہاجرہ بیگم ناجانے کتنی بار اُس کی بلائیں لے چکی تھیں.
اِشمل کو آہان کی ضد پر ریڈ لہنگے کی جگہ گولڈن لہنگا پہنایا گیا تھا. کیونکہ آہان کے مطابق ریڈ ڈریس میں اِشمل کو دیکھنے کا حق صرف اُس کا تھا. بہت مشکل سے اِشمل لہنگا تبدیل کرنے پر مانی تھی. لیکن گولڈن کلر کے لہنگے اور بناؤ سنگھار نے اِشمل کے حسن کو مزید چار چاند لگادیے تھے. کسی کی نظریں دلہن سے ہٹنے کو تیار ہی نہیں تھیں. آہان بھی اِشمل کا اتنا سندر رُوپ دیکھ کر اچھا خاصہ گھائل ہوچکا تھا.
ناجانے کتنی رسمیں کی گئی تھیں جن کے بارے میں اِشمل نے آج پہلی بار سنا تھا. بہت ساری رسموں کے بعد اِشمل کو آہان رضا میر کے بیڈ روم میں لے جایا گیا تھا.
بیڈروم کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا. سجاوٹ میں زیادہ استعمال سُرخ گلابوں کا کیا گیا تھا. جن کی خوشبو پورے کمرے میں پھیل کر ایک مسحور کن سی فضا قائم کررہی تھی. لیکن اِشمل کو اِن سب چیزوں سے کوئی سروکار نہیں تھا. آہان کی کزنز کے روم سے نکلتے ہی اِشمل فوراً بیڈ سے اُٹھی تھی.
آہان رضا میر بہت ہوگئیں تمہاری من مانیاں اب اور نہیں.
بیڈ کے سامنے والی وال پر لگی آہان کی بڑی سی تصویر کی طرف دیکھتے اِشمل اُس سے مخاطب ہوئی تھی. جس میں وہ اپنی دل کو چھو لینے والی مسکراہٹ کے ساتھ موجود تھا.
اِشمل نے سب سے پہلے خود کو بھاری دوپٹے کے بوجھ سے آزاد کیا تھا. پھر ایک ایک کرکے اپنی جیولری اُتارتے وہ الماری سے ایک آرام دہ سوٹ کا انتخاب کرتی واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی. شاور لے کر فریش ہوتے اِشمل واپس بیڈروم میں آئی تھی اور جلدی جلدی بال ڈرائے کرکے وہ بیڈ پر رکھے اپنے پرس کی طرف بڑھی تھی. اور پرس میں سے سلیپنگ پلز نکالی تھی. اِشمل نے ہاتھ میں سلیپنگ پلز کی مناسب مقدار لے کر جو اُس کے لیے نقصان دہ نہ ہوں پانی کے ذریعے اندر لی تھیں.
اِشمل آرام سے پانی کا گلاس واپس رکھتے بیڈ پر موجود کمبل کو سر سے پیر تک اوڑھتے لیٹ گئی تھی. یہ سب کرتے اتنے دنوں بعد مسکراہٹ نے اُس کے چہرے کو چھوا تھا. وہ خوش ہوتے آہان کا غصے بھرے ری ایکشن کا سوچتی تھوڑی ہی دیر میں نیند کی وادیوں میں پہنچ چکی تھی.
آہان جلدی سے سب کو نبٹاتے روم میں داخل ہوا تھا کیونکہ اُسے اپنی پیاری بیوی کے ارادوں کا کچھ حد تک تو علم تھا ہی سہی. لیکن جیسے ہی وہ بیڈروم میں داخل ہوا تھا اُس کی توقع کے عین مطابق اِشمل اپنا کارنامہ سرانجام دے چکی تھی.
آہان دروازہ لاک کرتا بیڈ کی طرف بڑھا تھا. اُس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے آہان نے آہستگی سے اُس کے چہرے سے کمبل ہٹایا تھا. جب نظریں اُس کے صبیحہ چہرے پر ٹھہر سی گئی تھیں. وہ گہری نیند میں بے خبر سوئی ہوئی تھی. جاگتے ہوئے ہر وقت اُس پر چیخنے چلانے کو تیار اِس وقت سوئی ہوئی کوئی معصوم سی پری معلوم ہو رہی تھی.
میری معصوم سی ڈاکٹر تم کیا سمجھتی ہو. یہ سب کرکے مجھ سے بچ جاؤ گی.
آہان نے شہادت کی اُنگلی سے اِشمل کی پیشانی کو چھوتے گردن تک ایک لائن کھنچی تھی.
وہ ہمیشہ اُن چیزوں سے دور رہا ہوں جو اُس کی کمزوری کا باعث بنے اور اُن سب میں پہلے نمبر پر محبت تھی. جس کا شکار وہ کبھی نہیں ہونا چاہتا تھا. لیکن جب بھی وہ اِشمل کے قریب آتا تھا اُس کا خود پر سے اختیار ختم ہونے لگتا تھا. اِشمل سے نکاح اُس نے صرف ضد میں آکر کیا تھا. لیکن اب وہ اُس کے معاملے میں خود کو کمزور محسوس کررہا تھا. وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ محبت تھی یا نہیں. پر اب وہ اِشمل کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا. آج اُس کی اِس حرکت پر آہان کو غصہ آنے بجائے اُسکی معصومیت پر ہنسی آئی تھی.
آہان نے ایک ہاتھ سے اِشمل کے نرم گالوں کو چھوا تھا. اور اُس کے ماتھے پر بوسہ دیتا اُٹھ کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حنا تمہیں ہوا کیا ہے. میں نوٹ کر رہی ہوں کل سے تم بہت چپ چپ سی ہو. آج بھی صرف بھیا سے مل کر تم واپس روم میں آگئی تھی. سفیہ پھوپھو کی بات کو اتنا سیریس کیوں لے رہی ہو. وہ تو شروع سے ہمارے ساتھ ایسا کرتی آئی ہیں.
حفصہ حنا کے پاس بیڈ پر بیٹھتی بولی. جو اُسے کل سے بہت پریشان لگ رہی تھی.
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے. بس میری طبیعت نہیں ٹھیک اِس لیے شاید تمہیں فیل ہوا ہو.
حنا اُس سے نگاہیں چُراتے بولی.
تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو کیا.
حفصہ مشکوک نظروں سے اُس کی طرف دیکھتے بولی.
تم سے کچھ چھپ سکتا ہے بھلا. میرے سر میں درد ہے نکلو میرے روم سے تنگ مت کرو مجھے.
حنا اُس سے جان چھوڑواتی بولی. کیونکہ حفصہ اگر تھوڑی دیر مزید وہاں بیٹھتی تو ضرور اُس سے سب اُگلوا لیتی.
اچھا اچھا جارہی ہوں.
حفصہ اُس کی طرف دیکھ کر منہ بناتی وہاں سے اُٹھ گئی تھی.
کاش حفصہ میں بھی تمہاری طرح ایسے ہی ہر ٹینشن سے آزاد ہوتی. لیکن مجھے لگتا ہے میری زندگی کی یہ ساری آزمائشیں کبھی ختم نہیں ہوں گی. اور آہان بھائی وہ کب تک ایسے ہی ڈھال بن کر کھڑے رہیں گے میرے آگے.
حنا نے بیڈ کراؤن سے سر ٹِکاتے سوچا تھا.
اُس گھٹیا انسان کا بھائی اب کیوں آیا ہے حویلی. اگر اُس نے بھیا کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو.
جب سے اُسے ملک حسیب کی آمد کا پتا چلا تھا. وہ یہ بات سوچ سوچ کر پاگل ہوچکی تھی.
میر خاندان اور ملک خاندان کی ناجانے کتنے سالوں سے آپس میں دشمنی چلتی آرہی تھی. دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کو نیچا دیکھانے کا موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے. ملک خاندان کتنی بار اُن کے گاؤں کے لوگوں اور اُن کی عزتوں پر حملہ آور ہوچکے تھے. لیکن میر خاندان نے کبھی بھی اپنے مرتبے سے گر کر ایسی کوئی اوچھی حرکت کبھی نہیں کی تھی. ملک خاندان کے اُن کے گاؤں میں آنے پر پابندی لگا دی گئی تھی. آہان رضا میر کو بہت بعد میں اِن باتوں کا پتا چلا تھا جب وہ لندن سے اپنی تعلیم مکمل کرکے لوٹا تھا. لیکن حسنین رضا میر کے سمجھانے پر کے اب وہ لوگ پیچھے ہٹ چکے ہیں آہان نے اُن کے یقین دلانے پر خاموشی اختیار کرلی تھی.
لیکن ایک سال پہلے ملک حسیب کے بڑے بھائی ملک ذیشان نے حنا کو شادی کی ایک تقریب میں دیکھا تھا. عورتوں کو باہر کی طرف آنے کی اجازت نہیں تھی لیکن حنا ساتھی لڑکیوں کی شرارت میں آکر اُس طرف آنے کی غلطی کر چکی تھی. حنا کو دیکھ کر اُس کی نیت ویسے ہی خراب ہوگئی تھی اور یہ جان کر کے وہ میر خاندان کی بیٹی ہے اُن کو سبق سکھانے کے لیے اُس کا دماغ اپنی گھٹیا پلینگ شروع کرچکا تھا. وہ موقع کی تلاش میں تھا کہ جیسے ہی حنا اُسے کہیں اکیلی ملے وہ اُسے اغوا کروا لے گا. اور بہت جلدی ہی اُسے ایسا موقعہ مل بھی گیا تھا.
حنا آہان کے شہر والے گھر سے واپس حویلی آرہی تھی. ڈرائیور اور ایک گارڈ بھی گاڑی میں موجود تھے جیسے ہی ملک ذیشان کو اِس بات کی خبر ملی تھی وہ اتنا اچھا موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا اِس لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہ پہلے ہی اُس راستے پر پہنچ چکا تھا. جیسے ہی گاڑی وہاں سے گزری تھی . ملک ذیشان کے آدمیوں نے اُس پر فائرنگ کر کے ڈرائیور اور گارڈ کو ہلاک کردیا تھا. اور حنا کو لے کر وہاں سے نکلنے ہی لگے تھے جب ایک مخبر کی اطلاع پر آہان اپنے ساتھیوں کے ساتھ بروقت وہاں پہنچا تھا. اور سیدھے اُن پر فائر کھول دیے تھے. ملک ذیشان اِس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا بوکھلاہٹ میں وہ کچھ سمجھ ہی نہ پایا تھا. اور آہان اُس کے سر پر پہنچ چکا تھا. آہان نے اُس کی دونوں ٹانگوں پر فائر کیا تھا. ملک ذیشان سمیت اُس کے دو آدمی زخمی اور تین ہلاک ہوچکے تھے. حنا کی کنڈیشن اُسے حویلی لے جانے والی نہیں تھی اِس لیے آہان اُسے واپس اپنے شہر والے گھر لے آیا تھا. حنا اُس واقعے سے بھی زیادہ آہان سے ڈری ہوئی تھی. کہ وہ اِس ساری بات کا ذمہ دار اُسے ٹھہرائے گا. جیسے کے ہمیشہ سے اِس معاشرے میں ہوتا آیا تھا بے قصور ہوتے ہوئے بھی لڑکی کو قصور وار ٹھہرایا جاتا تھا لیکن اِس بار بھی آہان اُس کی ڈھال بن گیا تھا. اُس نے حسنین صاحب اور باقی سب کو یہی بتایا تھا کہ ملکوں نے اُس پر حملہ کیا تھا. جس کا اُس نے صرف جواب دیا ہے. اور کسی کے سامنے بھی حنا کا کسی قسم کا کوئی ذکر نہیں آنے دیا تھا. یہاں تک کے یہ بات آج تک حفصہ اور عاصمہ بیگم کو بھی پتا نہیں تھی.
حنا کل پھر ملک حسیب کی اِس حویلی میں آمد کا سن کر بُری طرح ڈر چکی تھی. کیونکہ وہ جانتی تھی وہ لوگ آہان سے اُس بات کا بدلا لینے کے لیے پھر کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے. اُسے اُس کا بھائی دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھا جو اُن کی خاطر ہر ایک سے لڑ جاتا تھا. لیکن وہ اُس کی سلامتی کی دعا کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اِشمل کی جیسے ہی آنکھ کھولی اُسے خود پر کوئی بوجھ سا محسوس ہوا تھا. انجان جگہ پر خو کو دیکھ کر پہلے تو وہ کچھ سمجھ ہی نہ پائی تھی لیکن جیسے ہی دماغ نیند سے بیدار ہوا اور اپنا رات والا کارنامہ یاد آیا تو اُس نے جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھنا چاہا تھا لیکن آہان کے کسرتی بازوں ک حصار میں ہونے کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر پائی تھی. اُس نے گھبرا کر آہان کی طرف دیکھا تھا جو بغیر شرٹ کے اُس کے بے انتہا قریب سویا ہوا تھا. اُس کے ایک بازو پر اِشمل کا سر دھرا ہوا تھا. جبکہ دوسرا اِشمل کے گرد لپٹا ہوا تھا. اِشمل نے بغیر شرٹ کے اُس کے اتنے قریب ہونے پر حیا سے سُرخ پڑتے جلدی سے اُس کا حصار توڑ کر نکلنا چاہا تھا. جب آہان نے اُسے مزید خود میں بھینچ کر ایسا کرنے سے روکا تھا.
یہ کیا کر رہے ہو تم. چھوڑو مجھے.
اِشمل اُس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کرتی چلائی تھی.
یار بیوی قسم سے کچھ نہیں کررہا. سو رہا ہوں صرف.
آہان اُس کے کھلے بالوں میں چہرا چھپاتے خمار آلود لہجے میں بولا.
یہ کیا بے ہودگی ہے آہان رضا میر. دور رہو مجھ سے.
اِشمل ایک بار پھر چلاتے ہوئے بولی. جب آہان ایک جھٹکے سے اُسے اپنے قریب تر کرتے کروٹ لے کر اُس کے بلکل اُوپر جھکا تھا.
ابھی تم نے میری بے ہودگیاں دیکھی ہی کہاں ہیں ورنہ یہ سوال کبھی نہ کرتی مجھ سے.
آہان اُس کے ہونٹوں کو چھوتے اُن پر جھکا تھا جب اِشمل نے جلدی سے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر ایسا کرنے سے باز رکھا تھا.
سویٹ ہارٹ اب تم مکمل طور پر میرے قبضے میں تمہارے وجود پر تم سے بھی زیادہ میرا حق ہے. پھر کب تک یہ سب کرکے خود کو مجھ سے بچاتی رہو گی. ابھی تو تمہاری رات والی حرکت کا بھی بدلہ لینا ہے.
آہان اُس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیتے شوخ نظروں سے اُس کے کپکپاتے ہونٹوں کی طرف دیکھتے بولا.
پلیز مجھے اِس رشتے کو قبول کرنے کے لیے کچھ وقت چاہئے. میں اِس سب کے لیے ذہنی طور پر بلکل تیار نہیں ہوں. تم نے میرے ساتھ ہمیشہ ہر معاملے میں زبردستی ہی کی ہے. لیکن پلیز مجھے اب کچھ وقت چاہئے.
اِشمل کو اُس کی گہری نظریں خود میں سمٹنے پر مجبور کررہی تھی.
کتنا وقت چاہئے تمہیں.
آہان ہاتھ اُس کی گردن میں پھنسے بالوں کو نکالتے ہوئے بولا.
کم از کم دو مہینے تو چاہئے ہی.
اِشمل بہت مشکل سے بولی تھی.
میں دو دن تم سے دور رہنے کو تیار نہیں اور تمہیں دو مہینے چاپئیں. یار یہ تو ظلم ہے مجھ بے چارے پر. اور یہ دو مہینے تمہیں اِس رشتے کو سمجھنے کے لیے چاہئے یا اِس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ترکیبیں ڈھونڈنے کے لیے.
آہان اُس کی بات پر ہنستے ہوئے بولا. جب اِشمل اُس کے بلکل ٹھیک گیس کرنے پر اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل رکھتے ہوئے بولی
تم جو بات بھی کہو گے میں مانوں گی پلیز.
اِشمل کسی طرح بھی اُسے خود سے دور رکھنے کی کوشش کررہی تھی. وہ جانتی تھی اگر اُس سے غصے سے بات کی تو اُس نے ضد میں آکر کچھ نہیں ماننا اِس لیے اُس کی حرکتوں کو برداشت کرتے ہر لحاظ سے اپنے لہجے کو نرم رکھتے بولی.
پکا وعدہ میں جو کہوں گا تم مانوگی.
آہان اُس کی طرف دیکھتا معنی خیزی سے بولا.
ہاں پکا وعدہ.
اِشمل اُس کے لہجے پر غور کیے بغیر جلدی سے بولی.
اوکے کِس می.
آہان چہرا اُس کے قریب کرتا بولا.
کیا لیکن یہ…
اِشمل کو اُس سے ویسے بھی کسی اچھی بات کی اُمید تو تھی نہیں لیکن اُس کی ایسی فرمائش پر دل کیا تھا اُس کے یہ ہنستے دانت توڑ دے.
دیکھو تم مکر نہیں سکتی ابھی تم نے مجھ سے وعدہ کیا ہے.
آہان اُس کی حیران پریشان سی صورت دیکھتا بولا.
یہ غلط ہے ایسا کوئی وعدہ نہیں ہوا میرا تم سے.
اِشمل مکمل اِنکاری ہوئی تھی.
مطلب تم وعدہ توڑ رہی ہو. اوکے مجھے تو کوئی پرابلم نہیں ہے.
آہان اُس کی حالت سے لُطف اندوز ہوتا دوبارہ اُس پر جھکا تھا.
نہیں رکو پلیز…
اِشمل فوراً بولی تھی. قریب تو اُس شخص نے ویسے ہی اُس کے آنا تھا. تو یہ ڈیل اُس لحاظ سے بُری نہیں تھی. آہان نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا. جب اِشمل نے دل پر پتھر رکھتے تکیہ سے زرا سا سر اُوپر اُٹھاتے اُس کے رُخسار پر اپنے کپکپاتے ہونٹ رکھے تھے. اُس کے نازک ہونٹوں کے لمس نے آہان کے اندر ایک ہلچل سی پیدا کر دی تھی.
اب میں نے تمہاری بات مانی ہے تم بھی میری بات مانو گے.
اِشمل دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں جھکائے بولی.
لیکن میں نے کِس یہاں تو نہیں یہاں بولی تھی.
آہان اپنے ہونٹوں کی طرف اشارہ کرتے بولا. جب کب سے اُس کی باتیں برداشت کرتے اِشمل کو اپنا ضبط جواب دیتا محسوس ہوا تھا.
اُس نے غصے سے اِس بے ایمان شخص کو گھورا تھا اور کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا. جب آہان اُس کے ہونٹوں پر جھکتا اُس کے الفاظ اپنے ہونٹوں میں دبا گیا تھا. اُس کی حرکت پر اِشمل کی آنکھوں کی پتلیاں سائز میں کئی گنا بڑھ گئی تھیں. اِشمل نے اُس کے بازو کو سختی سے جکڑا تھا اور خود سے دور کرنا چاہا تھا. لیکن آہان ابھی اُس سے دور ہونے کے لیے تیار ہی نہیں تھا.
کافی دیر بعد آہان اُس کے ہونٹوں کو آزاد کرتا پیچھے ہٹا تھا. اور اِشمل کی طرف دیکھا تھا جو گہرے گہرے سانس لیتے اپنی سانسوں بحال کرنے کی کوشش کررہی تھی.
دو ہفتوں کا ٹائم ہے تمہارے پاس اِس رشتے کو سمجھنے کے لیے اُس کے بعد کسی قسم کی مہلت کی اُمید مت رکھنا مجھ سے. اور ہاں یہ چھوٹی موٹی گستاخیاں تو ہوتی ہی رہیں گی اِن سے تم مجھے نہیں روک سکتی.
آہان اُس کی ٹھوڑی چومتا کر اُس کے اُوپر سے اُٹھتا واش روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
اِشمل اپنے دل پر ہاتھ رکھے دھڑکنوں کو قابو میں لانے کی کوشش کرتی رہ گئی تھی. اور دل ہی دل میں اُسے اچھی خاصی گالیوں سے بھی نوازہ تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
