Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Muhabbatein (Episode 9)

Yeh Muhabbatein By Pari Khan

ایک مہینے بعد ۔۔۔۔

شانزے بیٹی سب تیاری مکمل ہو گئ ہے کچھ رہ تو نہیں گیا ۔۔

نہیں خالہ سب تیاری مکمل ہو گئ ہے ایک دو کام رہ گئے ہیں وہ میں اور عروہ کر لے گئ آپ پریشان مت ہو ۔۔

ماما آپ ٹینشن کیوں لے رہی ہے آپکے پاس اتنی سمجھدار بچیاں موجود ہے آپکو تو پریشان ہونے کی ضرورت ہی نہیں ہے ہم شادی کا سارا کام سنبھال لے گئ عروہ پروین کے گلے میں بازو ڈالے اس کے گال کو پیار سے چوم گئ ۔۔

بلکل سہی کہہ رہی ہے عروہ آپ بلکل بھی ٹینشن مت لے ہم شادی کا سارا کام دیکھ لے گئے سلیم جو تقریبا ابھی آیا تھا عروہ کی بات سن کے ہاتھ میں پکڑا سامان صوفے پہ رکھے ان کے پاس آ گیا ۔۔

میں صدقے جاوں ۔۔میرا بچہ پروین سلیم کی پیشانی کو چومے اس کے سر پر ہاتھ پھیرے پیچھے ہوئ عروہ سلیم کو دیکھے شرما کر پروین سے تھوڑا دور کھڑی ہو گئ ۔۔

سلیم صاحب آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں آپ جانتے ہیں نہ شادی تک آپ کا یہاں آنا منع ہے شانزے ایک آئ برو اچکائے سلیم کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔

ہاں تو میں کونسا اپنی مرضی آیا ہوں ماما نے کچھ سامان بیجھا تھا تم دونوں کے لیے وہی لایا ہوں ۔

مجھے سب پتہ ہے سامان تو بہانہ ہے اصل وجہ تو کچھ اور ہے شانزے پروین کی موجودگی کا احساس کئے سرگوشی میں بولی مسکرا گئ ۔۔۔

تم لوگ باتیں کروں میں سلیم کے لیے چائے کا بندوبست کرتی ہوں پروین کہے وہاں سے چلی گئ ۔

میں ماما کی ہلیپ کرتی ہوں عروہ ابھی دو قدم آگے بڑھی تھی کہ سلیم بھاگتے ہوئے اس کی کلائ مضبوطی سے تھام گیا ۔۔

تم کہا چلی اتنے دن بعد ملاقات کا موقع ملا ہے اسے ایسے تو جانے نہیں دے سکتے ۔۔

کتنے بے شرم انسان ہو تم میری موجودگی کا تو توڑا خیال کر لیتے بہن کے سامنے ہی شروع ہو گئے ۔

اس میں شرم والی کونسی بات ہے آجکل تو لوگ اپنی منگیتر کے ساتھ پتہ نہیں کہا کہا گھومتے ہیں ساری ساری رات باتیں کرتے ہیں لیکن یہاں تو کچھ بھی ایسا نہیں ہے آج خیر سے ایک موقع ملا ہے اسے بھی شرم سے گنوا دو ۔۔

ویسے تمہارا شوہر بھی باہر تمہارا انتظار کر رہا ہے

کیا۔۔۔وہ یہاں کیا کر رہا ہے شانزے کو شاک لگا ۔۔

خود ہی جا کر پوچھ لو ۔اور ذرہ اختیاط سے جانا شیر بہت غصے میں ہے یہ نہ ہو کہ بلی کا شکار ہو جائے

اور بلی بیچاری کو پتہ بھی نہ چلے سلیم اور عروہ ایک ساتھ ہنس دیے ۔۔

کوئ بہت ہی فضول قسم کے الفاظ تھے شانزے مصنوعی ہنسے فورا باہر کی جانب بڑھی ۔۔

آہا۔۔تم کہا چل دی ۔۔

سلیم ایک بار پھر وہاں سے بھاگتی ہوئی عروہ کو پکڑے اس کے شرم سے لال ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔

وہ میں ماما کے ساتھ مدد کروانے جا رہی تھی ۔

یار کبھی اپنا تھوڑا سا ٹائم اس نا چیز کو بھی دے دیا کرو یہ نا چیز تو ہر وقت تمہارے در پر بیٹھا رہتا ہے تھوڑی سی نظریں کرم ادھر بھی کر دیا کرو سلیم ٹھوڑی سے اس کا چہرہ اوپر کئے اس کے چہرے پر پھوک مارے اس کے چہرے پر لہرا رہے بالوں کو پیچھے کر گیا ۔

عروہ زور سے اپنی آنکھیں میچ گئ اس کی سانس بھاری ہو گئ جب جب سلیم اس کے نزدیک آتا تھا اس کا یہی حال ہوتا تھا شرم سے اس کا چہرہ ٹماٹر کی طرح سرخ ہو جاتا تھا اس کے الفاظ اس کی زبان کا ساتھ نہیں دیتے تھے ۔۔۔

یار تم مجھ سے بات کرنے میں اتنا شرماتی ہو تو ہماری فرسٹ نائٹ کو تمہارا کیا بنے گا سلیم اس کے کانوں میں سرگوشی کئے مسکرا گیا عروہ اس کی بات سنے شرم سے پانی پانی ہوئ اپنا سر جھکا گئ اس کا دل کیا اپنے آپ کو کہی پر چھپا دیے ۔۔۔۔

***

شانزے باہر کھڑی ریحان کے گاڑی کے پاس آئ ۔لیکن اسے ریحان کہی نظر نہیں آ رہا تھا شانزے گاڑی کے آگے دیکھتی ہوئے پیچھے کی طرف گئ کہ اچانک اسے کمر سے کیسی نے زور سے اپنی طرف کھینچا اس سے پہلے شانزے کی ڈر سے چیخ بلند ہوتی کیسی کا بھاری مضبوط ہاتھ اس کی آواز کو دبا گیا ۔۔

شانزے پوری طرح ریحان کے قبضے میں تھی ریحان ایک ہاتھ سے اسے کمر سے پکڑے دوسرا ہاتھ اس کے لبوں پر رکھے اس کی آواز کو دبائے اس کے کان پر جھکا۔۔

لڑکی جو کچھ بھی ہے نکال دو ورنہ گولی سے تمہارا سر اڑا دو گا ریحان ہاتھ اس کے لبوں سے ہٹائے دو انگلیوں کو اس کے سر کے پیچھلے حصے پر رکھے بھری بھرکم آواز میں بولا۔۔۔

پلیز مجھے مت مارنا میری تو ابھی شادی ہی نہیں ہوئ پلیز مجھے چھوڑ دو میرے پاس کچھ نہیں ہے آپ کو دینے کے لیے لیکن میرے شوہر کے پاس بہت کچھ ہے آپ مجھے چھوڑ کر اسے پکڑ لے شانزے ایک سانس میں بولی ۔۔۔اس کا دل اندر سے کانپ رہا تھا اس کی ٹانگیں ڈر سے کانپ رہی تھی تقریبا اس کا پورا جسم ہی ڈر سے ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا ۔۔۔

شانزے آنکھیں بند کئے کھڑی دل میں آیت الکرسی کا ورد کر رہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے سے ہنسے کی آواز آئ ۔۔

ریحان اسے چھوڑے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنستے جا رہا تھا ۔

تم ۔۔گھٹیاں، بدتمیز ،انسان اکڑو، بندر ،کھڑوس چھوڑوں گئ نہیں میں تمہیں شانزے ریحان کو دیکھ مارنے کے لیے اس کی جانب لپکی اسے اس وقت ریحان پر بہت غصہ آ رہا تھا شانزے اس کے سینے پر مکے برسائے اپنے اندر کا سارا غصہ اس پر نکال رہی تھی ۔۔

یار تم اتنی ڈرپوک ہوں مجھے تو لگا تھا جس طرح میرے سامنے شیرنی بنی پھیرتی سب کے ساتھ ویسے ہی ہو گئ لیکن تم تو ڈرپوک چویا نکلی ریحان کی ہنسی کنڑول ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔

میں کوئ ڈرپوک چویا نہیں ہوں ۔۔وہ۔۔۔تو یہ سب اتنی اچانک ہوا تو میں گھبرا گئ ۔۔۔

اب تم جتنے مرضی بہانے بنا لو جو سچ تھا وہ سامنے آ گیا ہے ۔

تم یہ سب کرنے کے لیے آئے تھے مجھے تنگ کر کے بہت مزہ آتا ہے نہ تمہیں شانزے منہ پھولائے اس کی طرف دیکھنے لگی جو ابھی بھی مسکرا رہا تھا ۔۔۔

کرنے تو کچھ اور آیا تھا لیکن تمہیں دیکھ کر پتہ نہیں میرے دماغ میں اس طرح کے خیال کیوں آ جاتے ہیں ۔

تمہارا دماغ نہ خراب ہو گیا اس کی مرمت ہونے والی ہے ۔کسی اچھے سے میکانیک سے اس کا علاج کرواوں ۔۔

تم سے اچھا اس کا علاج کوئ نہیں کر سکتا ریحان اسے بازوں سے پکڑے اپنے قریب کئے گاڑی کے بونٹ سے لگا گیا ۔۔

چھوڑوں مجھے دور ہٹو شانزے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔

دور رہنے کے لیے نہیں میں تو تمہارے پاس رہنے کے لیے آیا ہوں بے حد پاس ریحان اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے اس کی کمر سے لگائے اس کی غصیلی آنکھوں میں دیکھنے لگا جو غصے سے پھیلی ہوئ تھی ۔۔۔۔

تم دونوں بھائی نہ خود سکون سے رہتے ہو اور نہ ہمیں سکون سے رہنے دیتے ہوں ماما نے تم دونوں کو یہاں آنے سے منع کیا تھا نا ۔۔

ماما نے منع کیا تھا اس لیے تم سے اتنے دن دور تھا ورنہ میرے بس چلے تو میں تمہیں ایک سکینڈ کے لیے بھی خود سے دور نہ کرو ریحان شانزے کی ناک کو لبوں سے چھوئے پیچھے ہوا ۔۔

ریحان ۔۔۔شانزے ریحان کی اس حرکت سے گھبرائے یہاں وہاں دیکھے خود کو اس کی گرفت سے چھوڑانے لگی ۔۔۔

ریحان چھوڑوں مجھے اگر کسی نہ ہمیں دیکھ لیا تو کیا سوچے گا ہمارے بارے میں۔۔

جس کو جو سوچنا ہے سوچنے دو میں تو نہیں چھوڑنے والا تمہیں ۔۔

ریحان تم پاگل ہو گئے ہوں چھوڑوں مجھے اور اندر چلو تمہیں اپنی عزت کا خیال نہیں کم سہ کم میری عزت کا تو خیال کرو اگر کسی نے ہمیں ایسے دیکھ لیا تو اس کی نظر میں میری کیا عزت رہ جائے گئ ۔۔

ایک شرط پر چھوڑ سکتا ہوں ۔

ریحان میں اب تمہاری کوئ فضول کی شرط نہیں ماننے والی ۔۔

بلکل میری بہن اب تمہاری کوئ فضول کی شرط نہیں مانے گئ صدام مسکراتے ہوئے چلتا ہوا ان کے قریب آیا ۔۔

ریحان صدام کو دیکھ شانزے کو اپنی گرفت سے آزاد کئے سیدھا ہوا ۔

صدام بھائ آپ ۔۔آپ کب آئے ۔

بس ابھی ۔۔لیکن مجھے لگ رہا ہے میں بلکل سہی وقت پر آیا ہوں ۔

کیوں ریحان ٹھیک کہا رہا ہو نا تم میرے گھر میں گھس کر میری بہن کو تنگ کر رہے ہوں ۔۔

تمہاری بہن میری بیوی ہے میرا جب دل کرے گا میں اس سے ملو گا ۔۔

نانانا۔۔یہاں ایسا نہیں ہو گا یہاں تمہاری نہیں چلے گئ جب تک شانزے یہاں ہے تب تک جو ہم چاہیے گئے وہی ہو گا اور ہم سب یہی چاہتے کہ جب تک شادی نہیں ہو جاتی تم اس سے ملنے تو دور اسے دیکھ بھی نہیں سکتے صدام لبوں پر گہری مسکراہٹ سجائے ریحان کے سامنے شانزے کا ہاتھ پکڑے اسے اندر کی جانب لے جانے لگا صدام ابھی دو قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اندر سے سلیم باہر آیا ۔۔

ماشااللہ ۔۔آپ جناب بھی یہی پر ہے مجھے تو لگا تھا صرف ایک بھائ ہی پاگل ہے لیکن یہاں تو دونوں بھائ ہی پاگل ہے تھوڑے دن صبر نہیں ہوتا تم دونوں سے ۔

یہ تو ہم آپ سے تب پوچھے گئے جب آپکی شادی ہو گئ تب ہم آپ سے پوچھے گئے کہ انتظار کس چڑیا کا نام ہے سلیم مسکراتے ہوئے ریحان کی جانب بڑھا ۔۔

اب تم دونوں بارات لے کر ہی آنا اس سے پہلے آئے تو سہی سلامت واپس نہیں جاوں گئے ۔۔۔

***