Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Muhabbatein (Episode 6)

Yeh Muhabbatein By Pari Khan

کیا ۔۔۔

صدام بھائ آپ نے یہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا شانزے شاک سے ایک دم اچھلی۔۔

تم نے بتانا کا مواقع ہی کب دیا میرے بات سنے بغیر ہی شرط منظور کر لی۔۔

میں نے تم سے بولا تھا شانزے لیکن تم نے میری ایک بات نہیں سنی اب کیا ہو گیا اگر وہ لوگ جیت گئے تو اپنی تو عزت کا کچڑا ہو جائے گا عروہ پریشانی سے دانت چبائے یہاں وہاں ٹہلنے لگی۔۔

نہیں ایسا نہیں ہو گا۔۔ ہو گا وہ چپین لیکن اس نے کھیلنا چھوڑ دیا تھا اور صدام بھائ تو اب بھی کھیلتے ہیں مجھے پورا یقین ہے وہ ہمیں ہارنے نہیں دیے گئیں ۔۔

صدام بھائ آپ جیتیں گے ناں۔۔۔

کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن کوشش پوری کرو گا ریحان کو ہم کمزور نہیں سمجھ سکتے۔۔

صدام بھائ کچھ بھی کریں لیکن یہ میچ آپ ہی کو جیتنا ہو گا شانزے کا دل اندر سے تیزی سے دھڑک رہا تھا باہر سے جتنی مرضی مضبوط بن رہی ہو لیکن اندر سے اتنی ہی ڈر رہی تھی ۔۔۔

کیوں کیا ہوا کہی کھیلنے کا ارداہ تو نہیں بدل گیا سلیم تینوں کو کمرے میں کھسر پھسر کرتا دیکھ شرارت سے بولا۔۔

نہیں ہمارا ارادہ کیوں بدلے گا۔۔شانزے مسکرائے بولی

تو پھر ابھی تک یہاں کیا کر رہے ہوں باہر لاون میں سب انتظار کر رہے ۔

ہاں چلو ہم چلتے ہیں تم لوگ بھی جلدی سے آ جاوں صدام سلیم کو لیے باہر کی جانب چلا گیا ۔۔

****

میچ زور شور سے شروع ہو چکا تھا صدام کی ٹیم میں ارشاد اور شانزے تھی جبکہ ریحان کی ٹیم میں سلیم اور عروہ تھے پروین اور صائمہ سائیڈ پہ بیٹھی کیپٹن کا رول ادا کر رہی تھی پہلی باری صدام کی ٹیم کی تھی ۔۔

پہلی باری ارشاد کی تھی ارشاد چار رنز بنائے پہلے اوور میں ہی آوٹ ہو گئے تھے ۔۔

صدام بھائ آپ پلیز میری عزت رکھ لینا شانزے صدام کے ساتھ ہاتھ ملائے واپس اپنی جگہ پر گئ دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دیے بہت اچھا کھیل رہے تھے

اب ریحان کی ٹیم کی باری تھی صدام نے انہیں بہ مشکل ستر رنز کا ٹارگٹ دیا تھا ۔۔

سب سے پہلے باری ریحان کی تھی اور اس کا ساتھ سلیم دے رہا تھا ۔۔

صدام بولنگ کروا رہا تھا شانزے کے ساتھ ساتھ سب لوگ منہ کھولے بس ریحان کو کھیلتا ہو دیکھتے ہی رہ گئے ہر بول میں سیکسر اکیلے ہی ریحان یہ میچ جیت چکا تھا سلیم اور عروہ بیچارے اپنی باری کا انتظار ہی کرتے رہ گئے ۔۔۔

واہ۔۔۔کیا بات ہے بھائ سلیم ریحان کے گلے ملے پرجوشی سے بولا۔۔۔

میں صدقے جاوں میرے بیٹے کو کسی کی نظر نہ لگے صائمہ دور سے ہی ریحان کی نظر اتارنے لگی آج کئ سالوں بعد اس نے ریحان کو کرکٹ کھیلتے ہوئے دیکھا تھا صائمہ کو آج بھی وہ دن یاد تھے کہ کیسے ریحان کرکٹ کے پیچھے پاگل ہوا کرتا تھا ۔۔

آہہ۔۔۔ہم لوگ جیت گئے عروہ خوشی سے ناچتے ہوئے شانزے کو گلے سے لگا گئ ۔۔

بہت خوشی ہو رہی ہے تمہیں شانزے غصے سے لال پیلی ہوئ اسے دیکھنے لگی خوشی تو ہو گئ ناں۔۔ہم لوگ جیت گئے ۔۔۔

چلو بچوں اندر آ جاوں اور آ کر کھانا کھا لو صائمہ اور پروین اندر جاتے ہوئے بولی ارشاد بھی ریحان کے گلے لگے ان کے ساتھ اندر چلے گئے ۔۔

***

تو کیسا لگا ہار کر ریحان شانزے کے قریب آیا سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔

شانزے ریحان کے لبوں پر رینگتی ہوئ مسکراہٹ دیکھ کر اندر سے جل اٹھی ۔۔

اب جب میں جیت گیا ہو تو جو میں کہوں گا تمہیں وہی کرنا ہو گا ریحان شانزے کی پیشانی پر بکھرے ہوئے بالوں کو پیچھے کئے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا شانزے ریحان کی اس حرکت سے ایک دم سے گھبرا گئ ریحان کبھی اس کے اتنے قریب نہیں آیا تھا اور آج یو اچانک اس کی اس طرح کی حرکت اسے چونکا گئ ۔۔

بولوں مجھے کیا کرنا ہو گا شانزے اس سے دو قدم پیچھے ہوئے خود اپنے بال پیشانی سے پیچھے کرنے لگی ریحان اس کی گھبراہٹ دیکھ ہلکا سا مسکرا گیا ۔۔

تمہیں دس دن تک روز مجھے ایک کس کرنا ہو گئ ریحان کے الفاظ تھے کہ بم کا گولہ جو شانزے کو اندر تک ہلا گئے تھے ۔۔

کیا۔۔۔ی۔۔۔یہ۔۔۔کیا۔۔۔۔تم بول رہے ہوں ۔۔

میں وہی بول رہا ہو جو تم نے سنا ۔۔

یہ کیا فضول کا کام ہے تمہیں شرم آنی چاہیے تم مجھ سے اس قسم کی بات کر بھی کیسے سکتے ہوں ۔

مجھے کیوں شرم آنی چاہیے تم بیوی ہو میری مجھے تو اس میں کو خرابی نظر نہیں آتی تم میری بات سے انکار نہیں کر سکتی تم نے خود کہا تھا جو میں کہوں گا تم وہ کروں گئ ۔۔

لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں تم مجھے واحیات قسم کی ڈیمانڈ کرو ۔۔

تم جو بھی سمجھو تمہیں وہی کرنا ہو گا جو میں نے کہا ہے اگر تم نے میری بات ماننے سے انکار کیا تو میں خود وہ کام سب کے سامنے روز کرو گا امید ہے تمہیں تب تو کوئ پریشانی نہیں ہو گئ ریحان شانزے کے اڑے ہوئے رنگ کو دیکھے مسکرائے بولا۔۔

شانزے سچ میں اس کی بات سنے بے ہوش ہونے کو تھی اسے ریحان سے اس قسم کی ذرہ بھی امید نہیں تھی وہ تو شاید کچھ اور ہی سوچ کر بیٹھی تھی اس کے خواب و خیالوں میں نہیں تھا کہ ریحان اس سے اس طرح کی بھی کوئ بات کر سکتا ہے ۔۔

کیا ہوا بھائ کیا باتیں چل رہی ہے دونوں میں سلیم ‘صدام ،عروہ ان دونوں کو باتیں کرتا ہوا دیکھ ان کے پاس آئے ۔۔

تو بھائ آپ ہماری پیاری بھابھی جان سے کیا کروانے والے ہیں سلیم خوش ہوئے بولا۔۔

میں نے جو کہنا تھا تمہاری پیاری بھابھی جان کو کہہ دیا ہے دیکھتے ہیں تمہاری پیاری بھابھی جان میں میرا کہا پورا کرنے کا دم ہے بھی ہے کہ بس صرف زبان چلانے میں ہی تیز ہے ریحان ایک آئ برو اچکائے شانزے کی جانب دیکھنے لگا ۔۔

ایسا کیا تم نے کہہ دیا ہے کہ شانزے سوچ میں پڑ گئ ہے صدام گھبرائ ہوئ شانزے کو دیکھنے لگا اس کا رنگ بلکل زرد پر چکا تھا ۔۔

اس سے ہی پوچھ لو ریحان کہے وہاں سے چلا گیا پیچھے تینوں شانزے کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگے ۔۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہو کچھ نہیں بولا اس نے فضول کی بکواس کر کے گیا ہے چلو تم لوگوں کو کوئ کام نہیں ہے چلو جاوں اپنا اپنا کام کرو شانزے ان تینوں کو اپنی طرف گھوڑتے ہوئے دیکھتا دیکھ اپنی جان چھوڑائے وہاں سے بھاگ گئ ۔۔

اب انہیں کیا بتاتی کہ اس کھڑوس نے کس قسم کی واحیات بکواس کی ہے اس کی تو سوچ کر ہی جان جا رہی تھی ۔۔۔۔

***

ویسے عجیب بات ہے ریحان بھائ نے تمہیں معاف کیسے کر دیا جتنی تم نے انہیں باتیں سنائ تھی مجھے تو لگا تھا وہ تمہیں کوئ بہت بری سزا دے گئے لیکن انہوں نے تو تمہیں کچھ بھی نہیں کہا عروہ شانزے کے ساتھ بیڈ پر لیٹی اپنا رخ اس کی جانب کئے اسے دیکھنے لگی ۔۔

کیوں تمہیں دکھ ہو رہا ہے کہ مجھے کوئ سزا نہیں ملی ۔۔شانزے جلی بنی بولی ۔۔

مجھے کیوں دکھ ہو گا الٹا مجھے تو بہت خوشی ہوئ ہے کہ ریحان بھائ نے تمہیں کچھ نہیں کہا میں کہتی تھی نہ کہ ریحان بھائ بہت اچھے ہیں لیکن ایک تم تھی کہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھی اب دیکھو تم نے انہیں کتنی باتیں سنائ یہاں تک انہیں چیلنج بھی کر دیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے تمہیں کچھ بھی نہیں بولا۔۔

عروہ یار پلیز تم چپ ہو جاوں شانزے اس کے نان سٹاپ بولنے سے تنگ آئ بولی ۔۔

تمہیں بس اپنے ریحان بھائ کی تعریفیں کرنے کا موقع ملنا چاہیے اب اگر تم نے ایک لفظ بھی اس کے بارے میں بولا تو میں سچ کہہ رہی ہو میں یہاں سے چلی جاوں گئ ۔۔

لیکن ۔۔عروہ کچھ بولتی شانزے اسے بیچ میں ہی چپ کروا گئ تمہارا ریحان بھائ بہت بڑا کمینہ انسان ہے شانزے اس کی واحیات ڈیمانڈ کے بارے میں سوچے بھڑکی ۔۔

اب چپ کر کے سو جاوں اور مجھے بھی سونے دو مجھے بہت نیند آ رہی ہیں شانزے عروہ کی جانب کمر کئے اپنا رخ دوسری طرف پھیر گئ عروہ اس کی کمر کو گورے افسوس سے آنکھیں بند کئے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

****

ریحان آفس کے لیے تیار ہو کر ابھی کمرے سے نکلا تھا کہ سامنے سے آتی ہوئ شانزے سے زور سے ٹکرایا ۔۔

آہ۔۔آہ۔۔۔میرا سر گیا شانزے اپنا سر پکڑے چیخی

تم دھیان سے نہیں چل سکتی جب دیکھوں گرتی پڑتی رہتی ہوں ۔

میں دھیان سے ہی آ رہی تھی تم ہی مجھ سے آ کر ٹکرائے ہوں شانزے اپنے سر پر ہاتھ رکھے ریحان کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔

بیگے بال،نکھرا نکھرا چہرہ سرخ ہونٹ ، بیگی پلکیں

شاید شانزے ابھی شاور لے کر نکلی تھی ۔۔

ریحان آج پہلی دفعہ اسے پوری فرصت سے دیکھ رہا تھا پورے حق سے جب سے اس کے جذبات اس پر عیاں ہوئے تھے تب سے اس کا شانزے کے بارے میں نظریہ بھی بدل گیا تھا ۔۔

او۔۔۔ہیلو۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ہوں شانزے اسے خود کو گھورتا ہوا دیکھ اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجائے اسے ہوش میں لائ۔۔

تمہیں دیکھ رہا ہوں ویسے تم پہلے سے ہی اتنی خوبصورت تھی یہ مجھے اب لگ رہی ہوں ریحان اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے تھوڑا اس کے قریب ہوا

کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔شانزے ایک سکینڈ کے لیے پزل ہوئ ۔

تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے شانزے اس کے بدلے ہوئے انداز سے خیران ہوئ ۔

میں تو ٹھیک ہو لیکن تم ٹھیک نہیں لگ رہی ریحان اس کی پیشانی سے پسینے کی چند بوندیں صاف کئے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔

مجھے۔۔۔ کیا۔۔۔۔ ہونا ہے میں بلکل ٹھیک ہو شانزے اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کئے مسکرا گئ ۔۔

اگر تم بلکل ٹھیک ہو تو پھر جلدی سے مجھے ایک کس کر دو مجھے آفس کے لیے دیر ہو رہی ہیں ریحان شانزے اور اپنے درمیان فاصلہ مٹائے اس کے بے حد نزدیک ہوا۔

یہ کیا بیہودگی ہے میں ایسا کچھ نہیں کرو گی شانزے اس سے دو قدم پیچھے ہوئ شانزے کو ریحان کی کل کی بات مذاق لگی تھی اس کے مطابق وہ اسے بس تنگ کر رہا تھا لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ ریحان میاں تو سر سے لے کر پاوں تک اس کے محبت میں ڈوب چکا تھا ۔۔

شانزے کے یوں دور ہونے سے ریحان کو غصہ آیا تھا ریحان اسے کمر سے پکڑے اس کے پیچھے موجود دیور سے لگا گیا شانزے اپنی جگہ منجمند ہو گی اسے ریحان سے اس سب کی ہر گز امید نہیں تھی

جب بھی دونوں لڑتے تھے ریحان اس پر غصہ کئے وہاں سے چلا جاتا تھا اس طرح کی حرکت آج تک اس نے کبھی نہیں کی تھی اور نہ ہی اس طرح کی ڈیمانڈ ریحان کہ اس طرح قریب آنے سے شانزے شرم سے پانی پانی ہو گئ تھی ریحان اس کی کمر کو مضبوطی سے اپنے بازوں میں پکڑے ہوئے تھا ۔۔

تمہیں کیا یہ سب مذاق لگتا ہے ۔۔ ریحان کی سانسوں کی تپش شانزے کو اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی شانزے ڈر کے مارے اپنے خشک ہوئے ہلک کو تر کئے ریحان کی باتیں سننے لگی ۔

تم اچھے سے جانتی ہوں مجھے مذاق کرنے کی عادت نہیں ہے اور ویسے بھی شرط تم نے لگائ تھی میں نے نہیں اب جو بولا ہے اسے پورا کرو ورنہ میں خود پورا کر لو گا۔

ریحان پلیز اس کے علاوہ تم جو بولے گئے وہ میں کرنے کو تیار ہوں میں روز تمہارے کپڑے پریس کر دیا کرو گئ تمہارے لیے ناشتہ بنا دو گی اگر تم کہوں گئے تو تمہارے کپڑے دھو بھی دیا کرو گئ لیکن پلیز یہ مجھ سے نہیں ہو گا شانزے تقریبا رونے والی تھی آج پہلی بار اس نے ریحان کا یہ روپ دیکھا اور اسے اس روپ سے بہت خوف آ رہا تھا ۔

ریحان کچھ سکینڈ اسکے خوف سے بھرے ہوئے چہرے کو دیکھے اس کے نرم ملائم ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرے ان کی نرماہٹ کو محسوس کئے خوف سے اپنی طرف دیکھ رہی شانزے کی آنکھوں میں ایک نظر دیکھے ٹھوڑی سے اس کے چہرے کو اوپر کئے اس کے ہونٹوں پر جھکا شانزے خوف سے اپنی آنکھیں زور سے بند کئے اپنی قمیض کو زور سے اپنے دونوں ہاتھوں میں دبوچ گئ ۔

ریحان اس کے ہونٹوں کو چومے پیچھے ہوا شانزے کے چہرے کی جانب دیکھنے لگا جو خوف سے پیلا پڑ چکا تھا ۔۔

میں نے سوچا تمہاری باتوں کی طرح تم بھی اتنی ہی کڑوی ہو گئ لیکن تم تو میٹھی نکلی ویسے مجھے میٹھا پسند تو نہیں ہے لیکن آج پہلی بار میٹھا اچھا لگا شانزے اس کے باتیں سنے اپنی بڑی آنکھیں مزید پھیلائے اس گھورنے لگی ۔

تم بہت۔۔۔ برے ۔۔۔ہو ۔۔۔بہت۔۔ گندے ۔۔ہوں شانزے کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے وہ تو میں ہوں اور ویسے بھی مجھے اچھا بننے کا کوئ شوق نہیں ہے میں برا ہی ٹھیک ہو اب اگر تم نے میرا کہا پورا نہ کیا تو جو اب اکیلے میں ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہو گا ۔۔اب کی بار میری بات کو مذاق مت سمجھنا ریحان اس کے گالوں سے آنسو صاف کئے بولا۔۔

امید کرتا ہو میری بات اچھے سے سمجھ آ گئ ہو گی ۔۔

ریحان اس کا گال تھپتپائے پیچھے ہوا ۔

اپنا خیال رکھنا چلتا ہو ریحان مسکرائے وہاں سے چلا گیا ۔۔

****