Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Muhabbatein (Episode 11) Last Episode

Yeh Muhabbatein By Pari Khan

پورا بال لائٹوں اور پھولوں سے سجا ہوا تھا پھولوں سے سجے ہوئے سٹیج کے بیچوں بیچ عروہ اور شانزی دولہن بنی بیٹھی تھی – دونوں کا ڈریس ایک جیسا تھا مہندی کلر کی لانگ فیری فراک جو پاوں تک آتی تھی اس کے اوپر پینک ڈوپٹہ رکھے جس کے اوپر شیشے کا کام ہوا تھا بہت پیار لگ رہا تھا پھولوں کی بیندیاں ، جھمکے گجرے ہنے بلکل لائٹ پیک آپ کئے دونوں بہت خوبصورت لگ رہی تھی سب مهمان باری باری مہندی کی رسمیں کئے ان کی نظر اتار رہے تھے میری دونوں بچیاں ہمیشہ خوش رہو آباد رہوں الله تم دونوں کے نصیب اچھے کریں پروین دونوں کو باری باری گلے لگائے رو پڑی عروہ اور شانزے بھی ساتھ رو پڑی شانزے روتے ہوئے پروین کے گال چوم گئ الله نے گر اسے اس کے والدین سے دور کیا تھا تو بدلے میں ڈھیر سارے پیارے کرنے والے لوگ بھی دیے تھے جو اسے اپنے پلکوں پر بیٹھائے ہوئے تھے کبھی
کبھی اسے اپنی قسمت پر رشک ہوتا تھا اللہ نے اسے ہت کچھ عطا کیا تھا ، اتنا پیار کرنے والا باپ اس پر جان نچھاور کرنے والے دو بھائ ، زندگی کے ہر دکھ اور سکھ میں ساتھ دینے والا ایک سچ اور اچھا جیون ساتهی دو دو ماوں کا پیار اور ایک اس کے دل کا ٹکڑا س کے ہر دکھ اور خوشی کی ساتھی اس کی جان سے بھی پیاری بہن الله کا جتنا شکر ادا کریں اتنا کم تھا ایک یتیم کو ان لوگوں نے نہ صرف اپنے گھر میں جگہ دی تھی بلکہ اپنے دل میں بھی جگہ دی تھی – پروین میری بیٹیوں کو کیوں رولا رہی ہوں یہ پرائے گهر تهوڑی جا رہی ہے اپنی دوسری ماں کے گھر جا رہی ہے صائمہ دونوں کو پروین سے جدا کئے خود کے گلے لگائے دونوں کے سر پر باری باری پیارے کئے پیچھے ہوئ – چلو اب چپ کر جاوں ورنہ سارا میک آپ خراب ہو جائے گا اور ساتھ میں تم دونوں کا فوٹو شوٹ بھی خراب ہو جائے گا صائمہ دونوں کے آنسو صاف کئے مسکرا گئ عروه اور شانزے بھی ساتھ مسکرائ .
چلو اب جلدی سے مہندی لگاوا لو مہندی والی کب سے تم دونوں کا انتظار کر رہی ہے ۔ شانزے اور عروہ اپنے آنسو صاف کئے مہندی والی کے پاس گئ ۔ آدھے مہمان تقریبا جا چکے تھے باقی بچے مہمان اور ان کے کزن مل کر فل میوزک لگائے انجوائے کر رہے تھے سب بڑے بیٹھ کر ڈولکی بجا رہی تھی جبکہ سب نوجوان پارٹی میوزک لگائے ڈانس کر رہے تھے * شانزے اور عروہ بہت تھک گئ تھی فل بازوں اور پاوں پر مہندی لگواتے لگواتے ان کی کمر اکڑ گئ تهى عروہ کی مہندی کمپلیٹ ہو گئ تھی اور تقریبا خشک بھی ہو گئ تھی جبکہ شانزے کی ابھی ایک پاوں کی مہندی رہتی تھی .
رات بھی کافی ہو چکی تھی رات کے دو بج رہے تھے سب مهمان تقریبا سو چکے تھے ۔ شانزی مجھے بہت نیند آ رہی ہے میں سونے جا رہی بو عروه سرخ نیند سے بھری آنکھوں سے شائزے کی جانب دیکھنے لگی شانزے کو عروہ پر بے حد پیار آیا وہ مہندی لگوانے کے باوجود اس کے پاس اس کا ساتھ دینے کے لیے بیٹھی تھی تاکہ شانزے کو اکیلا پن محسوس نہ ہو عروہ اس کا ساتھ دینے کے لیے بیٹھی تھی لیکن اب اس کی بس ہو گئ تھی تھکاوٹ کی وجہ سے اسے انتہا کی نید آ رہی تھی – جاوں تم جا کر سو جاوں شانزے اس کی حالت دیکھتے بوئ بولی عروه اپنا بھاری بھرکم ڈریس سنبھالے اپنے روم کی طرف بڑھی – شانزے مہندی لگاوائے اس کے خشک ہونے کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کا موبائل بجنے لگا شانزے نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو ریحان کالنگ لکها آ رہا تھا
شانزے ہلکا سا مسکرانے کال پس کئے کان کے ساتھ لگا گئ ۔ تم ابھی تک سونے نہیں شانزے آہستہ آواز میں بولی تم مجھے سونے کہا دیتی ہوں ہر وقت میرے دماغ پہ سوار رہتی ہوں جب بھی آنکھیں بند کرتا ہوں ایک دم سے آنکھوں کہ سامنے آ جاتی ہوں موبائل سے آتی ہوئ ریحان کی آواز شانزے کو شرما نے پر مجبور کر گی – جلدی سے باہر آ جاوں میں تمہارا گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں تم اس وقت باہر کیا کر رہے ہوں شانزے پریشان ہوئ باقی باتیں بعد میں کرنا جلدی سے باہر آو – ریحان میں کیسے باہر آ سکتی میرے پاوں پر مہندی لگی ہوئ ہے اور وہ ابھی تک سہی سے خشک بھی نہیں بوی شانزے اپنے پاوں کی طرف دیکھنے لگی
ایسی بات ہے تو میں خود اندر آ جاتا ہوں اور تمہیں اپنی گود میں اٹھا کر لے جاتا ہوں اس سے تمہاری مہندی بھی خراب نہیں ہو گئ. نہیں تم مت آنا میں خود آجاوں گئی شانزے جلدی سے بولی شانزے موبائل رکھے اپنا ٹریس دونوں ہاتھوں سے پکڑے پاوں سے اوپر گھٹنوں تک اٹھائے آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی باہر کی جانب بڑھی ۔ . شانزے جیسے ہی باہر نکلی ریحان کو گاڑی کی بونٹ کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا دیکھ آہستہ آہستہ پاوں رکھے اس کے پاس پہنچی اس وقت تم یہاں کیوں آئے ہوں۔ ریحان سر لے کر پاوں تک شانزے کو دیکھنے لگا ریحان پورے حق سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ ریحان کہا کھو گئے شانزے اس کے چہرے کے سامنے چٹکی بجائے اسے ہوش میں لائ ۔
گاڑی میں بیٹھوں ریحان اسے بازوں سے پکڑے گاڑی میں بیٹھائے خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شانزے کو سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر ہی گاڑی اڑا کر لے گیا. ریحان ہم کہا جا رہے ہیں صبح کے تین بج گئے ہیں ابھی تھوڑی دیر تک سے اٹھ جائے گئے اور اگر میں گهر پہ نہ ملی تو وہ لوگ پریشان ہو گئے شانزے ریحان کی طرف دیکھنے لگی جو اس کی باتوں کو اگنور کئے ڈرائیونگ کر رہا تھا – شانزے بول بول کر چپ کر گئ ریحان نے اس کے ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد گاڑی ایک سنسان فارم ہاوس کے اندر داخل بوی ریحان گاڑی روکی گاڑی سے باہر نکلے شائزے کی جانب گیا شانزے خیرانگی سے اردگرد نظریں دوڑانے لگی ۔
ریحان شانزے کی طرف کا ڈور کھولے اسے اپنی گود میں اٹھائے اندر کی جانب بڑھا ۔ ریحان یہ کیا کر رہے ہو مجھے نیچے اتاروں میں خود چل سکتی ہوں شانزے ریحان کی گردن کے گرد مضبوطی سے اپنے بازوں کا حصار بنا گئ اسے بہت ڈر لگ رہا تھا – میں جانتا ہوں تم چل سکتی ہوں لیکن اگر ابھی تم چلو گی تو تمہارے پاوں کی مہندی خراب ہو جائے گی تمہارے پاوں کی مہندی خراب ہو ایسا میں ہرگز نہیں چاہوں گا ریحان مسکرائے شانزے کی چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ لیکن ریحان ہم یہاں کیوں آئے ہیں شائزے تجسس سے اس جگہ کو دیکھتے ہوئے بولی … ابھی پتہ لگ جائے گا ریحان شانزے کو اپنی گود میں اٹھائے پول والی سائیڈ میں داخل ہوا سامنے کا نظارہ دیکھ شانزے کی آنکھیں کھل گئ پورا پول سائیڈ لانتوں ، پھولوں سے ڈیکوریٹ ہوا بہت خوبصورت لگ رہا تھا پول سے تھوڑا سا پیچھے ایک ٹیبل سیٹ کیا گیا تھا شانزے خیرانگی سے سب دیکھنے لگی ۔
کیسا لگا سرپرائز ریحان شانزے کے کان پر جھکا سرگوشی سے بولا شانزے اس کی جانب دیکھے مسکرا گئی اسے واقعی میں ہی بہت پسند آیا تھا ریحان شانزے کو چئیر پر بیٹھائے سیٹی بجائے پیچھے ہوا شانزے خیرانگی سے ریحان کو ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ اوپر سے گلاب کے پھولوں کی بارش ہوئے لگی شانزے مسکرائے اپنے دونوں ہاتھ کھولے ریحان کی جانب دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا – پھولوں کی بارش ختم ہوتے ہی شانزے بھاگتی ہوئ ریحان کے گلے لگ گئ اسے آج ریحان پر بہت پیار آ رہا تھا اسے یقین نہیں تھا کہ ریحان کبھی بھی اس کے لیے ایسا کچھ کرے گا ۔ یہ سب بہت اچھا ہے مجھے بہت پسند آیا شانزے ریحان سے الگ ہوئ اسے دیکھنے لگی ریحان نے دوباره سیتی ماری تو بیک گراؤنڈ میوزک چلنا شروع ہو گیا کیا تم میرے ساتھ ڈانس کرنا پسند کرو گی . ریحان ایک گھتنے پر نیچے بیٹھے ایک ہاتھ اپنا شانزے کے آگے پھیلائے اس کی آنکھوں میں دیکھے بولا –
شانزے کو آج شاک پہ شاک لگ رہے تھے اسے امید نہیں تھی ریحان اس کے لیے ایسا کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ شانزی گهبرای گهبرای سی اپنا ہاتھ نیچے بیٹھے ہوئے ریحان کے ہاتھ میں رکھے اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھنے لگی ریحان اس کے ہاتھ کی پوشت کو اپنے لبوں سے لگائے کھڑا ہوئے اس کی کمر میں ایک ہاتھ ڈالے اسے گھول گھول گھومانے لگا شانزے اپنا آپ ریحان کے سپرد کئے جیسے جیسے وہ کر رہا تھا بس اس کا ساتھ دینے لگی – ریحان اسے اپنے بے حد قریب کئے اس کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھے دوسرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پھسائے اس کی پیشانی پر اپنی پیشانی رکھے پاوں سے آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگا دونوں ایک دوسرے کی بھاری ہوئ سانسیں اچھے سے محسوس کر سکتے تھے ۔ ، جو تم نہ ہووووووو تو ہم بھی ہم نہیں ۔
جو تم نہ ہوووووووو تو ہم بھی ہم نہیں۔ نہ چاہیے کچھ تم سے زیادہ تم سے کم نہیں۔ گانے کے لیرکس پر دونوں آنکھیں بند کئے ایک دوسرے کو بس محسوس کئے آہستہ آہستہ حرکت کر رہے تھے گانا ختم ہونے پر دونوں ہوش میں آئے ۔ میں ابھی ایک منٹ میں آیا ریحان کچھ یاد آنے پر شانزے سے الگ ہوا باہر کی جانب بھاگا تقریبا پانج منٹ کے بعد بھاگتا ہوا واپس آیا ریحان تم کہا گئے تھے شانزے پریشان ہوئ بولی ۔ شانزے میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ریحان شانزے کے بلکل سامنے کھڑے ہوئے اس کی گہری کالی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے شانزے کو کنفیوز کر گیا ۔ آئ لو یو مائے لائف کیا تم مجھ سے شادی کرو گی ریحان اس کے دونوں گھٹنوں پر جھکے رنگ کا بوکس کھولے شائزے کے سامنے کئے بولا۔ شانزے خیرانگی سے ریحان کی طرف دیکھنے لگی اس کی آنکھوں سے خودبخود آنسو بہہ نکلے ۔
شانزے اپنے آنسو صاف کئے ہاں میں سر ہلائے اپنا دائیں ہاتھ ریحان کے سامنے کر گئ ۔ شانزے کا دل تیزی سے دھڑکا رہا تھا آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اس کا جسم ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا الله کا جتنا شکر ادا کریں اتنا کم تھا اس نے اسے بہت نوازہ تھا ریحان اسے انگوٹھی پہنائے اس کے ہاتھ کو لبوں سے چومے کھڑے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا گیا ۔ شانزے بھی زور سے اس کے گلے سے لگ گئ ایک سکون سا اس کے اندر اترا تھا کئ لمحوں تک دونوں ایسے ہی ایک دوسرے کے گلے لگے رہے ہیں تھوڑی دیر بعد ریحان اسے خود سے جدا کئے اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا رونے سے اس کا کاجل آنکھوں سے باہر پھیل گیا تھا ۔ میں نے تو اپنی محبت کا اظہار کر دیا اب تم بھی کر دو ریحان اس کے لیپستک سے سجے لبوں کو انگوٹھے سے سہلائے بولا۔
تمہیں کس نے کہہ دیا مجھے تم سے محبت ہے شانزے واپس اپنی ٹون میں آئ ریحان کے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے پڑے جھٹک گئی ۔ ریحان آنکھیں بڑی کئے اس فریبی لڑکی کو دیکھنے لگا ابھی کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ ایسی چیپکی ہوئ تھی جیسے دنیا میں سب سے زیادہ محبت اسی سے کرتی ہوں ریحان شانزے کے چہرے کو گھورنے لگا ایسے کیا دیکھ رہے ہوں شانزے اسے خود کو گھورتے ہوئے دیکھتا دیکھ بولی – میں دیکھ رہا ہوں تم کتنی جلدی اپنا رنگ بدلتی ہوں اری گرگٹ بھی اتنی جلدی رنگ نہیں بدلتا جتنی جلدی تم بدلتی ہوں ۔ میں نے کیا رنگ بدلہ ہے جو سچ ہے وہی کہا ہے اچھا تو تم مجھے سے محبت نہیں کرتی ریحان اسے ایک بار پھر کمر سے پکڑے اپنے بے حد قریب کر گیا
اگر تم مجھ سے محبت نہیں کرتی تو میرے نزدیک آنے سے تمہاری دل کی دھڑکن کیوں تیز ہو جاتی ہے تمہاری سانسیں کیوں بھاری ہو جاتی ہے ریحان اس کے اتنے قریب تھا کہ بات کرتے ہوئے اس کے ہونٹ شانزے کے ہونٹوں کو چھو رہے تھے ریحان کی گرفت اس پر اتنی مضبوط تھی کہ شانزے چاہ کر بھی پیچھے نہیں ہو پا رہی تھی . ریحان شانزے مشکل سے ہی بول پائ تھی کہ ریحان اس کے نرم ملائم ہونٹوں پر جھکا انہیں اپنی دسترس میں لے گیا شانزے زور سے اپنی آنکھیں بند کئے اس کے کالر کو مضبوطی سے تھام کی آہستہ آہستہ ریحان کی شدت بڑھتی جا رہی تھی کافی دیر سے ریحان اس کے ہونٹوں پر جھکا اپنی لیوں کی پیاس بجا رہا تھا شانزے کا سانس بند ہونے کو تها شانزے کو ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی اس کی سانسیں بند ہو جائ گئ تھوڑی دیر بعد ریحان اپنی پیاس بجھائے اس کے نیچلے ہونٹ کو ہلکا سا کانے پیچھے ہوا .
شانزے گہرے گہرے سانس بھرے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔ اب شاید تمہیں محبت کا احساس ہو گیا ہو اگر ابھی بھی نہیں ہوا تو بتا دینا اس سے ہیوی ڈوز بھی میرے پاس موجود ہے ریحان مسکرائے اس کی ناک کو ہلکا سے کات گیا – ریحان تم بہت بدتمیز ہو مجھے نہیں یہاں رہنا مجھے گهر واپس جانا ہے شانزے ریحان کو خود سے دور کئے پیچھے ہٹی۔ گهر تو ہم اب صبح ہی چلے گئے ابھی یہ وقت تمہارا اور میرا ہے ابھی تو ہم نے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہے کچھ اپنے دل کی کرنی ہے کچھ تمہارے دل کی سننی بے ریحان شانزے کا ہاتھ پکڑے اسے چئیر پر بیٹھائے بولا لیکن یہ سب باتیں ہم کل بھی تو کر سکتے ہیں ویسے بھی کل میں آپ کے پاس آ جاوں گی ابھی گھر چلتے ہیں سب مہمان گھر پر ہی ہے اگر میں صبح گھر نہ ہوئ تو سب کیا سوچے گئے عروہ اور خالہ بھی پریشان ہو گئ شانزے فکر مندی سے بولی۔
مجھے چھوڑ کر تمہیں ہر ایک کی پرواہ ہے اور ویسے بھی کل رات کون کمبخت باتیں کرے گا کل کی رات تو ہماری سہاگ رات ہے ریحان شانزے کہے شرما گئ ریحان اس کے سرخ ہوئے گالوں کو دیکھے مسکرا گیا – * تم دونوں ابھی تک تیار نہیں ہوئی بارات آ چکی ہے پروین ہڑبڑاتی ہوئ برائیڈل روم میں داخل ہوئ ۔ ہم تیار ہے ماما عروہ اپنا ڈریس ٹھیک کئے کھڑی ہوئ پروین کو اپنا آپ دیکھانے لگی دونوں مہرون فیری لہنگے پہنے ہوئے تھی لہنگوں پر گولڈن موتیوں اور بڑے سٹون کا کام ہوا تھا دونوں ہی بہت خوبصورت لگ رہی تھی – ماشا الله الله تم دونوں کو بری نظر سے بچائے پروین دونوں کو گلے سے لگائے دعائیں دیتے ہوئے پیچھے بوئ –
نکاح کی رسم شروع ہو چکی تھی سلیم نکاح نامے پر دستخط کئے دعائیں مانگے سب سے مبارکباد وصول کرنے لگا ۔ دونوں بھائ میرون گولڈن شیروانی پہنے بہت ہینڈسم لگ رہے تھے ۔ عروہ کے نکاح پر سائن کرنے کے بعد چاروں کو ایک ساتھ سٹیج پر بیٹھایا گیا عروہ اور شانزے کے چہرے پر نیٹ کے ڈوپٹے کا گھونگھٹ تھا ساری رسمیں کرنے کے بعد تھوڑا سا فوٹو شوٹ کرنے کے بعد رخصتی کا شور برپا ہو گیا ….. دونوں پروین کے گلے لگ کر خوب روئ تهی سب سے زیادہ عروہ رو رہی تھی یہ دنیا کا دستور تھا بیٹی کو ایک دن اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر جانا ہی ہوتا ہے چاہے وہ کتنے ہی سال کیوں نہ گزار لے ان کے ساتھ لیکن ان کا اصل گھر اس کے شوہر کا گھر ہی ہوتا ہے
میری بہنوں کا دھیان رکھنا اگر انہیں ذرہ سی بھی تکیلف پہنچائ تو تم دونوں کا وہ حال کروں گا کہ ساری زندگی بستر سے نہیں اٹھ پاوں گئے صدام ریحان اور سلیم کو گلے سے لگائے ان کان میں سرگوشی سے بولا ۔ ریحان اور سلیم اس کی بات سنے مسکرا گئے وہ اچھے سے اس کی فیلنگ سمجھ رہے تھے ایک بھائ کا اپنی بہن کے ساتھ پیار شاید ایسا ہی ہوتا ہے بھائ کبھی بھی اپنی بہن کے ساتھ غلط ہوتا نہیں دیکھ سکتا بھائ ہی بہنوں کے موخافظ ہوتے ہیں عروہ کو سلیم کی گاڑی میں بیٹھایا جبکہ شائزے کو ریحان کی گاڑی میں بیٹھایا گیا تھا دونوں ڈرئیوانگ سیٹ پر بیٹھے خود گاڑی ڈرائیو کئے وہاں سے نکل گئے
*
عروه یار چپ کر جاوں ہم کونسا اتنی دور جا رہے ہیں یہ دس منٹ کا تو راستہ ہیں جب تمہارا دل کریں اپنے گھر آ جانا سلیم عروه کو مسلسل روتا دیکھ تنگ آئے بولا اگر میری جگہ آپ اپنا گھر چھوڑتے تو میں تب آپ سے پوچھتی آپ بھی میری طرح ہی رو رہے ہوتے كتنا سارا وقت گزارا ہے میں نے اس گھر میں میرا سارا بچپن وہی گزرا ہے ہر خوشی اور غمی میں نے اس گھر میں دیکھی ہے اب اچانک سے سب کچھ چھوڑنا آپکو تو یہ سب مذاق لگتا ہے ایک تو شوہر کے لیے لڑکیاں اپنا سب کچھ چھوڑ کر اسے کے ساتھ آتی ہے اس کا گھر بسانے کے لیے اوپر سے وہی شوہر ہمیں باتیں کرتے ہیں عروہ غصے سے سلیم کی جانب دیکھنے لگی ۔ ارے بابا میرے وہ کہنے کا مطلب نہیں تھا میں تو اس لیے کہہ رہا تھا کہ تمہارا میک اپ خراب نہ ہو جائے اگر رونے سے تمہارا میک آپ پھیل گیا تو بھوتنی لگنے لگوں گی سلیم اسے دیکھ مسکرا گیا ۔
اتنا بھی سستا میک اپ نہیں ہوا جو تھوڑے سے آنسو سے خراب ہو جائے عروہ اسے دیکھ اپنا چہرے کا رخ دوسری طرف پھیر گئی – سلیم خاموشی سے اسے دیکھنے لگا جو منہ پھیلائے بیٹھ گئ تھی سلیم اسے گھر جا کر منانے کا اراده ركهتا تها – * ریحان یہ تم مجھے کہا لے کر جا رہے شانزے انجان راستے دیکھ پریشانی سے ریحان سے مخاطب ہوئ یہ گھر کا راستہ تو نہیں ہے ۔ بلکل سہی۔ یہ گھر کا راستہ نہیں ہے ہم گھر نہیں جا رہے ہم کہی اور جا رہے ہیں ۔ ہم کہا جا رہے ہیں گھر میں سب لوگ ہمارا انتظار کر رہے ہو گئے شانزے پریشان ہوئ – اس لیے تو گھر نہیں جا رہے وہاں پر موجود سب لوگ ہمیں پریشان ہی کرتے اور میں آج کسی قسم کی
پریشانی نہیں چاہتا گھر میں میں نے انفارم کر دیا ہے اس لیے ٹینشن کی کوئ بات نہیں. ریحان تم مجھے کہا لے کر جا رہے ہوں شانزے کا دل اندر سے کانپنے لگا تھا آنے والے وقت کا سوچ سوچ کر ہی اس کا برا حال ہو رہا تھا – یہ سرپرائز ہے تمہارے لیے ریحان شانزے کی جانب دیکھے مسکرا گیا ۔ شانزی کافی نروس ہو رہی تھی ریحان اس کے حالت سے جان بوجھ کر انجان بنا گاڑی چلا رہا تھا * سلیم سب سے لڑتے لڑاتے رات کے تقریبا بارہ بجے کمرے میں داخل ہوا سامنے بیڈ پر پھولوں کے بیچوں بیچ بڑا سا گھونگھٹ نکالی عروہ بیٹھی اسی کا ہی انتظار کر رہی تھی
سلیم کو کمرے میں آتا دیکھ عروہ خود میں سمٹ گئ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا گھبراہٹ حد سے زیادہ ہو رہی تھی – سلیم عروہ کے پاس بیڈ پر بیٹھے اس کے لمبے گھونگھٹ کو دیکھ مسکرا گیا ۔ کیا مجھے گھونگھٹ اٹھانے کی اجازت ہے سلیم نہایت ادب سے بولا عروہ کا دل دھڑکا گیا . عروه گھونگھٹ کے اندر سے ہی ہاں میں سر ہلائے اپنے لہنگے کو دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام گی اسے عام حالات میں سلیم سے اتنی شرم آتی تھی آج تو شاید شرم سے مر ہی نہ جائے ۔ سلیم آہستہ آہستہ سے اس کا گھونگھٹ اٹھائے ڈوپٹہ اس کے سر پر ٹکا گیا ۔۔ عروه نروس ہوئ آنکھیں نیچے جھکائیں بیٹھی تھی ۔ سليم عروہ کی حالت اچھے سے سمجھ رہا تھا اس لیے وہ کوئ جلد بازی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔

تمہیں مجھ سے اپنی منہ دیکھائ نہیں چاہیے سلیم ٹھوڑی سے اس کا چہرہ اوپر کئے اس کی جھکی ہوئ آنکھوں کی طرف دیکھے بولا . چاہیے عروہ نظریں جھکائے بولی سلیم کے دل کو دھڑکا گئ اس پل سلیم کو عروہ پر بے پناہ پیار آیا ۔ اگر منہ دیکھائ چاہیے تو پہلے مجھے ناگن ڈانس کر کے دیکھانا ہو گا عروه خیرانگی سے نظریں اٹھائے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔ اس دن پارٹی پر جیسا ڈانس کر رہی تھی بلکل ویسا ہی۔ آپ کو کس نے کہا کہ میں نے پارٹی پر ڈانس کیا تھا عروہ کا شاک لگا مجھے ڈانس نہیں آتا میری جان جهوٹ بولنے کا کوئ فائدہ نہیں ہے میں نے خود ان گنہگار آنکھوں سے تمہیں ڈانس کرتے دیکھا ہے جھوٹ بولنا بے کار ہیں سلیم عروہ کے گال سہلانے پیارے سے بولا
عروه سلیم کی بات سنے شرم سے نظریں جھکا گئی چلو اٹھو اگر منہ دیکھائ چاہیے ڈانس تو کرنا پڑے گا نہیں چاہیے مجھے منہ دیکھای عروہ کہے شرم سے سلیم کے سینے میں منہ چھپا گئ سلیم بھی مسکرائے اس کے گرد مضبوط حصار بنا گیا . – عروہ کو سینے سے لگائے ہی سلیم گولڈ کی چین اس کے گلے میں پہنائے وہاں پر اپنے لب رکھ گیا عروه زور سے اپنی آنکھیں بند کر گئ – میں نے تو منہ دیکھائ دے دی اب تمہاری باری سلیم عروه کو خود سے جدا کئے اس کے چہرے کو اپنے چہرے کے بلکل قریب کئے اس کے سرخ گلاب کی پتیوں جیسے ہونٹوں کو دیکھے اس سے اجازت طلب کرنے لگا ۔ عروه شرم سے اپنی آنکھیں جھکا گی سلیم اس کی جھکی ہوئی آنکھوں کو دیکھ مسکرائے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اپنے مزید قریب کر گیا عروه اس کی جان لیوا قربت کو برداشت کرتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر گئ ۔
سلیم اسے بیڈ پر لٹانے کمرے کی تمام لائٹ آف کئے ایک بار پھر عروه پر جھکا اپنی شدتیں لٹانے لگا کمرے کی لائٹ بند ہونے سے عروہ کی شرم اور جھجک کی حد تک کم ہو گئ تھی – * ریحان مجھے نیچے اتاروں لوگ دیکھ رہے ہیں شانزی ریحان کی گود میں مچلتی ہوئ غصے سے بڑی آنکھوں سے اس کی جان دیکھنے لگی جو دنیا کی پرواہ کئے بنا اسے گود میں اٹھائے روم کی جانب بڑھ ربا تها . ہوٹل میں موجود سب لوگ آنکھیں پھاڑے پھاڑے انہیں بی دیکھ رہے تھے ریحان کو تو کوئ فرق نہیں پر ربا تھا لیکن شانزے شرم سے اپنی نظریں نہیں اٹھا پا ربی تهی
ریحان شانزے کی باتوں کو اگنور کئے روم کا لاک کھولے روم کے اندر داخل ہوئے روم دوباره لاک کر گیا ۔ ریحان شانزے کو گود سے نیچے اتارے دروازے کے بلکل ساتھ لگے ہوئے سوئچ بورڈ سے لائٹ آن کر گیا جیسے ہی پورا کمرہ روشن ہوا شانزے خیرانگی سے پورے کمرے کو دیکھنے لگی پورا کمرہ گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا یہاں تک کمرے کا پورا فلور بھی پھولوں سے سجا ہوا شانزے ساری باتیں بولائے کمرے کی خوبصورتی میں کھو گئ ۔ کیسا لگا ہمارا روم ریحان اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اس کی پوشت کو اپنے سینے سے لگائے اس کے کان میں سرگوشی کئے اس کا دل دھڑکا گیا ۔ شانزی خاموشی سے سر جھکا گئ اس کے پاس کچھ کہنے کے لیے الفاظ ہی نہیں تھے ریحان اس کے سر سے ڈوپٹہ نکالے اس کی گردن کو اپنی ناک سے سہلائے وہاں پر اپنے لب رکھ گیا ۔ ریحان – شانزے آنکھیں بند کئے اسے پکار گئ ۔
آج تم مجھے نہیں روک سکتی آج کی رات ہماری ہے آج ہم سب کچھ بولائے بس ایک دوسرے کو محسوس کرے گئے ریحان اس کا رخ اپنی طرف کئے اس کے لبوں پر پوری شدت سے جھکے قطره قطره اس کی سانسوں کو پینے لگا شانزے بھی اس کے سر میں ہاتھ چلائے اس کا بھر پور ساتھ دینے لگی ریحان شانزے سے جدا ہوئے بنا ہی اسے اپنی گود میں اٹھائے ایسے ہی بیڈ پر لٹانے اس سے جدا ہوئے اس کی بند آنکھیں اور خوبصورت چہرے کو دیکھنے لگا ریحان کے دور ہوتے ہی شانزے گہرے گہرے سانس بھرتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ریحان کو دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ریحان اپنے کپڑے اتارے لائٹ بند کئے ایک بار پھر شانزے پر جھکا اس کی گردن کو اپنے لبوں سے چھوئے ایک ایک کر کے اس کی ساری جیولری اتارے وہاں پر اپنے لب رکھا گیا شانزے کوئ مزاحمت نہیں کر رہی تھی آنکھیں بند کئے بس ریحان کی قربت محسوس کئے اس کا ساتھ دے رہی تھی ریحان اس کے
لبوں کو چھونے اس کی گردن پر اپنا لمس چھوڑے اس کے سینے کی جانب بڑھا اس کے بلاوز کی ہوک کھولے اسے شانزے کے جسم سے جدا کئے وہاں اپنے لب رکھ گیا شانزے اس کی قربت کو برداشت کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں میں تکیے کو زور سے دبوچ گئ ۔ آج دونوں دو جسم اور ایک روح ہو گئے تھے ریحان شانزے کا پور پور اپنی شدتوں سے مہکا گیا تھا ۔ ای لو یو مائے لائف ریحان اس کے کان میں سرگوشی کئے اس کے ہونٹوں پر جھکے انہیں اپنی دسترس میں لے گیا ۔

ایک سال بعد …
ريحان اٹهو شانزے گھوڑے بیچ کر سو رہے ریحان کو زور زور سے پکارتے ہوئے اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی ۔ شانزی یار کیا مسئلہ ہے ابھی تو سویا تها ريحان آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھا ۔ تمہارے پیارے بیٹے پھر سے اٹھ گئے ہیں شائزے ایک ہاتھ میں بلاج کو اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں غازیان کو اٹھائے کھڑی ریحان کو گھورتے ہوئے بولی یار یہ سوتے کیوں نہیں ریحان دونوں کو روتا ہوا دیکھ اپنا سر پکڑ گیا ۔ پتہ نہیں مجھے لگتا ہے شاید انہیں کہی درد ہو رہا ہے شانزے پریشانی سے دونوں کی جانب دیکھنے لگی جو مسلسل روئے جا رہے تھے شائزے کے چپ کروانے پر بھی چپ نہیں ہو رہے تھے ۔ ريحان وہاں بیٹھے کیا دیکھ رہے ہو چپ کرواو انہیں یہاں اگر شانزے ریحان کو بیٹھ کر تماشا دیکھتے دیکھ کر بھڑکی
یار انہیں ماما کے پاس لے جاوں مجھے صبح آفس جانا ہے ۔ اچھا ماما نے پیدا کرنے کو کہا تھا تمہیں ہی جڑواں بچے چاہیے تھے۔ اب جب ہو گئے ہیں تو سنبھالے نہیں جا رہے ۔ یار مجھے کیا پتہ تھا اللہ میری اتنی جلدی سن لے گا اور مجھے دو تحفے دے دیں گا ریحان شانزے سے ایک بے بی لیتے اسے چپ کروائے بولا۔ دونوں ایک ایک بے بی اٹھائے کمرے میں ٹہلتے ہوئے انہیں چپ کروا رہے تھے ۔ دن کو صائمہ اور عروہ انہیں سنبھالتی تھی اور رات کو شانزے اور ریحان پورے گھر والوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا دونوں نے نہ خود سوتے تھے اور نہ کسی کو سونے دیتے تھے ۔
نور میری بہن ہے نہیں نور میری بہن ہے تینوں نور کو بازوں سے پکڑے اپنی اپنی طرف کیهچنے کی کوشش کر رہے تھے نور بیچاری ان تینوں کے درمیان پهنسی اونچی اونچی رو رہی تھی – نور کی رونے کی آواز سن کر صدام انعم اور ان کے ساتھ سارے بھاگتے ہوئے ہال میں آئے ۔ کیا ہوا نور بیٹا صدام بھاگتے ہوئے اپنی چار سالہ نور کو اپنے سینے سے لگا گیا ۔ باقی سب بھی پریشان ہوئے ان تینوں کی جانب دیکھنے لگے جو آپس میں لڑ رہے تھے ۔ کیا ہوا تم تینوں کیوں لڑ رہے ہوں سلیم تینوں کو الگ کئے ان کی جانب دیکھنے لگا ۔ چاچو ان دونوں کو بتا دے کہ نور میری بہن ہے اور وہ صرف میرے ساتھ کھیلے گئ غازیان غصے سے چلایا ..
نہیں پاپا نور میری بہن ہے اور وہ صرف میرے ساتھ کھیلے گئ سلیم کا پانچ سالہ بیٹا عمر غازیان کو دھکا مارے بولا نور تم دونوں کی نہیں صرف میری بہن ہے تینوں ان کے سامنے ہی آپس میں لڑنے لگے تینوں پر چیز شئیر کر سکتے تھے لیکن نور کو شئیر نہیں کر سکتے تھے یہ تینوں جتنا نور کے ساتھ ساتھ رہنے کی کوشش کرتے تھے نور اتنا ہی ان تینوں سے دور بهاگتی تھی کبھی کبھی ان تینوں کے ہاتھ آ جائے تو یہ نور بیچاری کو رلا کر ہی چھوڑتے تھے غازیان، بلاج ، عمر ادهر أو تم تینوں صدام تینوں کو آواز لگائے اپنے پاس بلانے لگا صدام صوفے پر بیٹھتے ہوئے نور کو اپنی گود میں بیٹھائے تینوں کو بھی اپنے ساتھ بیٹھا گیا دیکھوں نور تم تینوں کی بہن ہے آپس میں لڑنے کی بجائے تینوں مل کر اس کے ساتھ کھیلوں اگر تم تینوں بی نور کے لیے جھگڑا کرو گئے تو اس کی حفاظت کون کرے گا آج بھی تم تینوں نے اس کو چوٹ پہنچائ
ہے دیکھو تم لوگوں کی بہن کیسے رو رہی ہے صدام موٹی گول مول سے نور کو دیکھتے ہوئے بولا – نور چپ ہو جا دیکھ آج کے بعد ہم تمہیں کبھی چوٹ نہیں پہنچائے گئے بلکہ ہم آج کے بعد تمہاری حفاظت کرے گئیں بلاج نور کے آنسو صاف کئے اس کے گول مول گالوں کو چوم گیا – ہم بھی نور کی حفاظت کرے گئے تینوں ایک ساتھ نور کے گلے لگے ۔ ان کا پیار دیکھے وہاں موجود سب لوگ مسکرا گئے ۔
ختم شده