Yeh Muhabbatein By Pari Khan Readelle502303 Yeh Muhabbatein (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Yeh Muhabbatein (Episode 4)
Yeh Muhabbatein By Pari Khan
ریحان رات کے دس بجے اپنا سارا کام ختم کئے جب گھر پہنچا تو پورا گھر سنسان پڑا ہوا تھا ۔
پورا گھر صاف ستھرا تھا شاید ملازمہ نے گھر کی ساری صفائ کر دی تھی ۔۔
چھوٹے صاحب آپ کے لیے کھانا لگاو نورین کیچن سے باہر نکلے ادب سے اس کے پاس آئ بولی۔۔
شانزے نے کھانا کھا لیا ۔
نہیں وہ تو دوپہر سے اپنے کمرے میں بند ہے میں نے کتنی بار انہیں بلایا لیکن انہوں نے منع کر دیا ۔
اچھا ٹھیک ہے تم جاوں میں خود کھا لو گا ریحان اسے کہے شانزے کے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔
ایک دو بار کمرہ ناک کرنے سے اسے کوئ رسپونس نہیں ملا ۔۔
ریحان جلدی سے کمرے کی دوسری چابی لے کر آیا اور دروازہ ان لاک کیا ۔۔
پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ریحان کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالے ٹارچ آن کیا ۔۔
کمرے میں روشنی ہوتے ہی اسے بیڈ پر شانزے اوندھے منہ گری پڑی نظر آئ ۔ریحان نے سوئچ ڈھونڈ کر لائٹ آن کی ۔۔
لائٹ آن ہوتے ہی پورا کمرہ روشنی سے بھر گیا ۔۔
پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا تکیے،کوشن ،ڈریسنگ ٹیبل سے تمام چیزیں نیچے پڑی ہوئ تھی کمرے کی حالت دیکھ ریحان اس کے غصے کا اچھے سے اندازہ لگا سکتا تھا ۔۔
اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے ریحان اس کے پاس پہنچا دوپہر والے کپڑوں میں موجود وہ ایسے ہی بیڈ پر پڑی ہوئ تھی ۔۔
ریحان آگے بڑھتے ہوئے اس کے پاس بیٹھے اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے بالوں کو آہستہ سے پیچھے کئے اس کے پاس سے تصویر اٹھائے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھ گیا ۔۔
شانزے جب بھی اداس ہوتی ہے اپنے ماما بابا کی تصویر کو سینے سے لگائے گھنٹوں روتی تھی اور ایسا کبھی کبھی ہی ہوتا تھا کیونکہ ریحان کے علاوہ اس کے گھر کے تمام افراد اس سے بے حد محبت کرتے تھے اسے کبھی اداس ہونے ہی نہیں دیتے تھے ۔۔
شاید آج بھی ریحان یہاں نہ آتا لیکن صائمہ کے یہاں نہ ہونے کی وجہ سے اسے اس کا خیال رکھنا پڑ رہا تھا ۔۔
شانزے اٹھ جاوں ۔کھانا کھا لو ریحان اسے کندھے سے ہلائے بولا ۔۔
شانزے ۔۔شانزے اٹھ جاوں ریحان اسے کندھے سے جھنجوڑتا ہوا تیز آواز میں بولا۔۔
ماما پلیز سونے دیں ۔۔مجھے بہت نیند آ رہی ہے
شانزے اس کے ہاتھ کو جھٹکے دوبارہ سو گئ ۔
حد ہے یار ۔۔کوئ انسان اتنی پکی نیند کیسے سو سکتا ہے ۔
شانزے اٹھ جاوں ریحان اسے کندھے سے پکڑے بیٹھاتے ہوئے چلایا ۔۔
ماما سونے دیں نا۔۔۔شانزے ریحان کو صائمہ سمجھے اس کی گردن میں بازو ڈالے اس کے قریب ہوئے اس کے کندھے پر اپنا سر ٹکا گئ ۔۔
ریحان کو ایک دم سے شاک لگا اسے شانزے سے اس کی امید نہیں تھی شانزے کے اتنے قریب ہونے سے اس کا دل تیزی سے دھڑکا اس کے دل کی دھڑکن ایک دم سے تیز ہو گئ ۔۔۔
اپنے بیٹے کی طرح آپ بھی مجھے تنگ کرنے لگی ہے اپکا بیٹا بہت بدتمیز ہے مجھے بہت رلاتا ہے شانزے اس کی گردن میں اپنے چہرہ مزید چھپائے اس کے اور قریب ہوئ ۔۔
ریحان تو اپنی جگہ جم سا گیا تھا آج سے پہلے اس نے کبھی شانزے کو چھوا تک نہ تھا اور نہ ہی نکاح کے بعد لیکن آج شانزے کا اس کے آس قدر قریب آنا اس پر بھاری پڑ رہا تھا ۔۔
اس کے دل کی کفیت بدل رہی تھی وہ بھی ایک بار اس کے قریب آنے سے اس کا دل پہلے کبھی نہیں ایسے دھڑکا تھا اس کے دل کی سپیڈ نارمل سے زیادہ چل رہی تھی اس سے پہلے ریحان پاگل ہو جاتا اس نے اسے خود سے دور بیڈ پر پھینکا اور فورا وہاں سے کھڑا ہوا ۔۔
گرنے سے شانزے کی نیند ایک دم سے کھلی اور اپنے سامنے ریحان کو دیکھ جلدی سے اٹھ کر بیٹھی ۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہوں شانزے اسے اپنے کمرے میں دیکھ بیڈ سے نیچے اتری ۔۔
وہ میں تمہیں کھانے کے لیے بلانے آیا تھا ریحان اپنی نظریں ادھر اودھر گھمائے بولا نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔۔
مجھے کھانا نہیں کھانا تم چلے جاوں یہاں سے مجھے تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی ۔۔۔
شانزے منہ پھولائے بولی ۔جسے دیکھ ریحان کو غصہ نہیں آیا اور ایسا آج پہلی بار ہوا تھا ریحان کتنے ہی پل اسے کھڑے دیکھتا رہا جسے خود اسے بھی نہیں اندازہ تھا ۔۔
تم گئے نہیں ابھی تک بولا نہ میں کھانا نہیں کھاو گئ چلے جاوں یہاں سے ۔
ریحان ایک نظر اسے دیکھے جلدی سے وہاں سے نکل گیا اسے خود بھی نہیں پتہ لگ رہا تھا اس کے ساتھ ہو کیا رہا تھا ۔۔۔
کھڑوس ، ہوں ۔۔شانزے اسے جاتا ہوا دیکھے دروازہ اچھے سے بند کئے لائٹ آف کئے بستر پر واپس گر گئ ۔۔۔
****
یا میرے خدا ۔۔مجھے یہ کیا ہو گیا تھا ۔۔
ریحان اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھے دھڑکن کو محسوس کرنے لگا جو اب بلکل نارمل چل رہی تھی ۔۔
یہ اب تو بلکل ٹھیک ہے پھر اس وقت ۔۔اور مجھے اس کی باتوں پر غصہ کیوں نہیں آیا ریحان نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا تو اس کی پیشانی اتنی سردی میں بھی پسینے سے بھیگی ہوئ تھی ۔۔
اللہ ۔۔اللہ مجھے کیا ہو رہا ہے کہی اس لڑکی نے میرے ساتھ کچھ کر تو نہیں دیا ۔۔۔
ریحان پریشان ہوا پانی کا پورا جگ منہ سے لگا گیا اور ایک ہی سانس میں پی گیا ۔۔۔۔
****
اسلام علیکم ماما، اسلام علیکم بابا، کیسے ہے آپ شانزے دونوں سے باری باری گلے لگی ۔۔
ہم تو بلکل ٹھیک ہے ہماری بیٹی کیسی ہے پیپر کیسے ہوئے ہماری بچی کہ ۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں اور پیپر بھی بہت اچھے ہوئے ہیں میں نے آپ لوگوں کو بہت مس کیا ۔۔
شانزے صائمہ کے گلے لگی رو پڑی ۔۔۔۔
میری بچی کو کیا ہو گیا۔۔دیکھو رونے والی کیا بات ہے اب تو ہم تمہارے پاس ہے صائمہ اس کے آنسو صاف کئے اپنے سینے میں بیچ گئ ۔۔۔
آپ مجھے چھوڑ کر کبھی مت جانا ماما میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی شانزے اس کے گالوں کو زور سے چومے دوبارہ اس کے سینے سے لگ گئ ۔۔
ریحان ان کے سامنے صوفے پر بیٹھے یہ سب دیکھ رہا تھا اور آج پہلی بار اسے شانزے کے آنسو اچھے نہیں لگ رہے تھے اور نہ ہی اس کا اپنی ماں سے پیار کرنا اگر رات کو وہ کچھ نہ ہوا ہوتا تو یقینا ریحان کو ماں بیٹی کہ یہ پیار ایک آنکھ نہ بھاتا اور اب تک غصے سے یہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ۔۔
لیکن رات کو اس کے قریب جانے سے اس کی کفیت بدل گئ تھی اس کے جذبات اس کے شانزے کے بارے میں خیالات سب بدل رہے تھے لیکن اس بات کا اندازہ اسے ابھی خود بھی نہیں تھا ۔۔
ماما سلیم کہی نظر نہیں آ رہا ۔۔کہی آپ لوگ اسے کیسی نہر میں تو نہیں پھینک آئے شانزے اپنے آنسو صاف کئے صائمہ سے الگ ہوئ بولی اس کی اس بات پر ارشاد اور صائمہ مسکرا دیے۔۔کچھ بھی شانزے زیادہ دیر اداس نہیں رہ سکتی تھی اور اس بات کو سب لوگ اچھے سے جانتے تھے سوائے ریحان کے ریحان نے کبھی اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی وہ تو بس اسے اپنا دشمن سمجھتا تھا کہ جس نے اس کے ہی گھر اس کی جگہ لے رکھی تھی ۔۔
اس کے مطابق اس کے ماں باپ پر صرف اس کا حق تھا اور ان کے پیار پر بھی جسے وہ کیسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتا تھا۔۔
نہیں ۔۔وہ کل اپنی خالہ کے ساتھ آئے گا ۔۔
پروین خالہ آ رہی ہے پھر تو عروہ بھی آئے گئ یاہو۔۔۔شانزے خوش ہوتی ایک بار پھر صائمہ کے گالوں کو زور سے چوم گئ ۔۔۔
***
ماما مجھے آپ لوگوں کی بہت یاد آ رہی تھی میرا دل کر رہا تھا اڑ کر آپ کے پاس پہنچ جاوں لیکن آپ کے اس کھڑوس بیٹے نے میری ایک بات نہیں سنی اور الٹا مجھے ہی ڈانٹ دیا ۔۔
اور آپکو پتہ ہے اس وجہ سے میں نے کل سے کھانا نہیں کھایا تھا لیکن اب آپ کے ہاتھ کی بریانی کھا کر مجھے بہت مزہ آ رہا ہے۔۔شانزے بریانی کھاتے ہوئے نان سٹاپ بولی جا رہی تھی ۔۔
کیا ریحان نے تمہیں ڈانٹا تھا ۔
جی اس نے مجھے بہت ڈانٹا ۔۔ میں نے اس سے بولا بھی تھا جب آپ آئے گئ تو میں اس کی شکایت لگاوں گئ لیکن اس نے میری ایک بات نہیں مانی ۔۔۔
آنے دو اسے آج میں اس کی خوب کلاس لیتی ہوں اس کی ہمت کیسے ہوئ میری پھول سی بچی کو ڈانٹنے کی ۔۔
ہاں اچھے سے کلاس لینا اور خوب ڈانٹنا اسے شانزے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے بہت خوش ہوئ وہ یہی تو چاہتی تھی اب اسے بس ریحان کے آنے کا انتظار تھا اور اس کا اترا ہوا منہ دیکھنے کا اس لمحے کے بارے میں سوچ کر ہی اسے اتنی خوشی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
***
ریحان جو ابھی آفس سے آیا تھا اندر داخل ہوتے ساتھ ہی شانزے سے ٹکرایا دونوں کا سر ایک دوسرے سے اتنی زور کا ٹکرایا کہ شانزے اپنا سر دونوں ہاتھ میں تھام گئ۔۔
کیا تم کبھی دیکھ کر نہیں چل سکتی جب دیکھو ٹکراتی ہی رہتی ہوں ریحان اپنا سر ہاتھ سے رگڑتے ہوئے اس کی جانب دیکھے تقریبا چلایا ۔
تم دیکھ کر اندر داخل نہیں ہوئے میں تو دیکھ کر ہی چل رہی تھی اور زیادہ مجھے پر چلانا کی ضرورت نہیں اب میں اکیلی نہیں ہوں ۔
میرا سر پھوڑ دیا چلو اب پیچھے ہٹو مجھے جانا ہے شانزے اپنے سر رگڑتے ہوئ بولی۔۔
ریحان آج اس کے رنگ ڈھنگ دیکھ کے خیران ہوا ۔
کہا جا رہی ہوں ریحان اس کے سامنے سے ہٹے بغیر بولا ۔۔
کہی بھی جاوں تم سے مطلب ؟
اس دن میں نے مطلب سمجھایا تھا امید ہے دوبارہ سمجھانے کہ ضرورت نہیں پڑی گئ ۔
مجھے نہیں یاد کیا بولا تھا تم نے اور نہ ہی مجھے یاد رکھنا ہے میں نے ماما سے اجازت لے لی ہے
اب پیچھے ہٹو ۔۔
تم کہی نہیں جاوں گی چلو اندر جاوں واپس۔ اور اتنا تیار ہو کر کون جاتا ہے اندر جاوں اور اپنا چہرہ صاف کرو آج کے بعد تم کہی لیپسٹک لگا کر نہیں جاوں گئ ریحان اس کے سرخ لیپسٹک سے رنگے ہوئے ہونٹوں دیکھ بولا۔۔۔
ماما۔۔۔۔شانزے اسے دیکھتے ہوئے زور سے چلائ ۔۔پیچھے ہٹ جاوں اگر ماما آ گئ تو بہت برا ہو گا ۔۔۔۔
ماما آ کر کیا کر لے گئ جب میں نے بول دیا ہے کہ تم کہی نہیں جاوں گئ تو کہی نہیں جاوں گئ ۔
کیا ہوا شانزے کیوں چلا رہی ہو صائمہ اس کی چیخ سنے بھاگتے ہوئے آئ ۔
ماما ریحان مجھے میری فرینڈ کے گھر نہیں جانے دے رہا میں نے بولا بھی کہ میں نے آپ سے اجازت لی ہے پھر بھی نہیں جانے دے رہا ۔۔۔
ریحان کیا مسلہ ہے کیوں نہیں جانے دے رہے بچی کو ۔ماما یہ باہر نہیں جائے گئ اپنی فرینڈز کے پاس بھی نہیں ۔
لیکن کیوں صائمہ اپنے بیٹے کی بات سے خیران ہوئ ۔۔
کیونکہ میں نے کہا ہے میں اس کا شوہر ہو میری بات ماننا اس کا فرض ہے اور میں نہیں چاہتا یہ کہی باہر جائے ۔۔
کیا بے مطلب کی باتیں کر رہے ہوں پیچھے ہٹو اور جانے دو اسے میں دیکھ رہی آجکل تم کچھ زیادہ ہی عجیب حرکتیں کرنے لگے ہو ۔۔۔
ماما میں نے جو کہہ دیا ہے وہی ہو گا یہ باہر نہیں جائے گئ ۔
اچھا اب اپنی ماں کے آگے زبان چلائے گا ۔
شانزے کے ساتھ تیرا نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں اس لیے جب تک رخصتی نہیں ہو جاتی اس کے بارے میں فیصلے کرنا کا تجھے کوئ حق نہیں ۔
چل اب پیچھے ہٹ جا ہمخوا بچی کا موڈ خراب کر دیا ۔۔۔۔
شانزے تم جاوں میں دیکھ لو گئ اسے ۔۔
تھینک یو سو مچ ماما آئ لو یو شانزے صائمہ کے گالوں کو چومے کودتی ہوئ ریحان کو زبان دیکھائے باہر بھاگ گئ ۔۔
ریحان آنکھوں میں غصہ لیے ایک نظر جاتی ہوئ شانزے پر اور ایک نظر اپنی ماں پر ڈالے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
***
یہ لو تمہاری چائے صائمہ چائے ٹیبل پر رکھے ریحان کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔
بیٹا تو کیوں شانزے کو تنگ کرتا ہے کیوں ہر وقت اس پر غصہ کرتا ہے کیا بگاڑا ہے تیرا اس معصوم لڑکی نے ۔۔
آج تو نے حد ہی کر دی اس کا گھر سے جانا بند کر رہا تھا اگر تمہارے بابا کو یہ سب پتہ چلا تو اچھا نہیں ہو گا ۔۔۔
ماما آپ مجھے سمجھانے سے اچھا اپنی اس بیٹی کو سمجھائے اپ کو صرف میری غلطیاں نظر آتی ہے اس کی کوئ غلطی نظر نہیں آتی ۔۔
اس نے کیا کیا ہے اتنی معصوم تو ہے وہ بھلا تمہیں کیا کہہ سکتی ہے ۔۔
واہ۔۔۔کوئ معصوم نہیں ہے وہ گز جتنی لمبی اس کی زبان ہے جو میرے سامنے کبھی بند نہیں ہوتی ۔۔۔
وہ ابھی بچی ہے ناسمجھ ہے لیکن تم تو سمجھ دار ہوں تم کیوں ایسا کر رہے ہوں ۔
دیکھو تم دونوں نے آگے ساری زندگی ساتھ گزارنی ہے اگر تم دونوں ایسے جھگڑوں گئے تو آنے والی زندگی ایک ساتھ کیسے گزاروں گئے ۔۔
ماما یہ بات آپ اسے سمجھائے تو زیادہ بہتر ہے میں دونوں کو سمجھاتی ہوں لیکن لگتا ہے تم دونوں یہ بات سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔۔
ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاوں ورنہ تمہارے بابا کو پتہ چل گیا تو بہت برا ہو گا ۔۔۔
صائمہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرے وہاں سے چلی گئ ۔۔
ریحان صوفے سے ٹیک لگائے اپنی آنکھیں موند گیا
چاہ کر بھی وہ اپنے جذبات کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا اس کا دماغ یہ سچ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ اسے شانزے سے محبت ہو گی وہ بھی شدت والی ۔۔لیکن اس بات پر اسے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ ایک ہی دن میں وہ کیسے اس سے پیار کر سکتا ہے ابھی کچھ دن پہلے اس کے دل اور دماغ میں اس کے لیے بس نفرت تھی اور اب اچانک وہ نفرت پیار میں کیسے بدل گئ ۔۔
ریحان کا دماغ پھٹنے کو تھا ریحان ٹیبل پر جھکے چائے کا کپ منہ سے لگائے دماغ کو تھوڑا سکون پہنچانا چاہتا تھا ۔۔۔
اسے تو اب کسی اور کا ہی نشہ ہونے لگا تھا اس رات کے بعد جب بھی ریحان شانزے کے قریب جاتا تھا اس کی دھڑکن کی سپیڈ ایک دم سے بڑھ جاتی تھی اسے اس کی کالی بڑی آنکھوں سے پیار ہو گیا تھا اس کے ریڈ ہونٹوں سے اس کے گلابی گالوں سے اس کے ریشمی کالے لمبے بالوں سے اس کی خوشبو سے اس کی ہر ایک چیز سے اسے شدت والی بہت ہو گئ تھی ۔۔لیکن دماغ تھا کہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔
***
