Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Muhabbatein (Episode 7)

Yeh Muhabbatein By Pari Khan

آج میں نے سب کو ایک خاص مقصد کے لیے یہاں اکھٹا کیا ہے صائمہ ڈرائنگ روم میں پریشان بیٹھے ہوئے ہر ایک فرد پر نظر دوڑائے بولی ۔۔

پروین اگر تمہیں کوئ اعتراض نہ ہو تو میں تم تمہاری بیٹی کو اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہو صائمہ پروین کے پاس بیٹھی اسے کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں رکھے امید بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھنی لگی ۔

سب لوگ خیران تھے سوائے تین لوگوں کے ارشاد ،شانزے اور سلیم کے یہ سب شانزے کا ہی کارنامہ تھا وہ بہت پہلے ہی عروہ کی سلیم کے بارے میں پسندیدگی جان گئ تھی اس لیے اس نے ہی صائمہ کو عروہ کو اپنی بہو بنانے کا مشورہ دیا تھا ۔

اور صائمہ کو بھی اس کا یہ مشورہ اچھا لگا تھا عروہ اس کی اپنی بہن کی بیٹی تھی اپنی آنکھوں کے سامنے پلی بڑھی تھی اس سے اچھی بات اس کے لیے کیا ہو سکتی تھی ۔۔

سلیم کو بھی اس بات سے کوئ اعتراض نہیں تھا عروہ ایک اچھی لڑکی تھی اور سب سے اہم بات اس کی ماں کی پسند تھی اور اس کی ماں کی پسند اس کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی ۔۔

اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے یہ تو میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ میری بیٹی اس گھر کی بہو بنے پروین کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔صائمہ خوشی سے اپنی بہن کو گلے لگا گئ

سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئ ےتھی سوائے عروہ کے اس کے دل کی دھڑکن نارمل سے زیادہ تیز چل رہی تھی شرم کے مارے اس کی پلکیں نیچے زمین پر جھکی ہوئ تھی اس میں اتنی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ چہرہ اوپر کئے سب کو دیکھ سکیں ۔۔

مبارک ہو میرے جگر کے ٹکڑے اب تو ہم دونوں ہمیشہ ساتھ رہی گئ شانزے اسے زور سے اپنے سینے سے لگا گئ۔۔

تم دونوں خود ہی آپس میں رشتے بنانے بیٹھ گئ ہوں کسی نے عروہ بیٹی سے بھی پوچھا ہے کہ وہ کیا چاہتی ہیں وہ ہمارے نکمے بیٹے سے شادی کرنا چاہتی بھی ہے کہ نہیں ارشاد سمیت سب عروہ کی جانب دیکھنے لگے جو شانزے کے ساتھ نظریں جھکائے بیٹھی تھی شرم کے مارے اس کے گال سرخ ہو چکے تھے سلیم بھی بڑے تجسس کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہا تھا وہ اس کا جواب جاننا چاہتا تھا ۔۔

کیوں عروہ بیٹی کیا تم میرے نکمے بیٹے سے شادی کرنا چاہو گی صائمہ اس کی جھکی ہو نظریں دیکھ بولی۔۔

عروہ کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کیا بولے یوں سب کے سامنے کیسے ہاں کرتی وہ تو ہمیشہ سے ہی سلیم سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن اسے امید نہیں تھی کہ اس کی دعا اتنی جلدی قبول ہو جائے گئ عروہ سب کی نظریں خود پر محسوس کئے شرم سے پانی پانی ہوئے وہاں سے بھاگ گئ ۔

سب اس کی اس حرکت سے مسکرا گئے ۔۔

اب تو رشتہ پکا ہو گیا ہے اس بات پر منہ میٹھا کرنا تو بنتا ہے صدام اپنی جگہ سے اٹھا ۔

بلکل منہ میٹھا کرنا تو بنتا ہے میں ابھی لے کر آتی شانزے بھاگتی ہوئے کیچن کی جانب گئ اور فریزر میں سے کیک اٹھا کر لائ جو اس نے آج اسی موقع کے لیے بہت محنت سے بنایا تھا ۔۔

سب سے پہلے لڑکے کا منہ میٹھا ہو گا بعد میں سب کا شانزے کیک کا پیس اٹھائے سلیم کی جانب بڑھی پورے کا پورا پیس اس کے منہ میں ٹھوس گئ

یہ ہوئ نہ بات شانزے اس کا غبارے کی طرح پھولا ہوا منہ دیکھ کر مسکرائ سب کو کیک کھلائے شانزے کیک کا پیس لیے صدام کی جانب بڑھی ۔

یہ لے صدام بھائ آپ بھی منہ میٹھا کر لے شانزے نے کیک کا پیس ابھی صدام کے منہ کے آگے کیا ہی تھا کہ اس کے پاس بیٹھا ہوا ریحان جلدی سے آگے بڑھے کیک کا پیس اپنے منہ میں لے گیا ۔پہلے اپنے شوہر کا منہ تو میٹھا کروا لو بعد میں سب کے منہ میٹھے کرواتی رہنا ریحان غصیلی نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے باقی بچہ ہوا کیک زبردستی اسے کھلا گیا ۔۔

شانزے پھٹی آنکھوں سے اسے بس وہاں سے جاتا ہوا دیکھتی ہی رہ گئ اس کی الٹی سیدھی حرکتوں سے شانزے تنگ آ چکی تھی جب بھی شانزے صدام کے قریب ہوتی ہے یہ کوئ بات کر رہی ہوتی ہے ریحان جان بوجھ کر ایسی کوئ حرکت کرتا تھا جس سے شانزے کو صدام کے سامنے کافی شرمندگی اٹھانی پڑتی تھی آج بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا ۔۔

صدام سمیت سلیم بھی شانزے کو ایسے بت بنا دیکھ مسکرا رہے تھے شانزے کے سوا باقی سب ریحان کی دل کی کفیت سے آگاہ ہو چکے تھے صدام ریحان کی جیلسی کو اچھے سے جان گیا تھا اب اتنا بھی بچہ نہیں تھا کہ ریحان کی حرکتوں کو پہچان نہ سکیں زیادہ نہیں لیکن تھوڑی بہت دنیا اس نے بھی دیکھی تھی ۔۔۔۔۔

***

شانزے تم مجھے چھت پر کیوں لے کر آئ ہوں اتنی رات کو عروہ شانزے کو سوالیاں نظروں سے دیکھ رہی تھی جو رات کے بارہ بجے اسے چھت پر لے کر آئ تھی ۔

شانزے اسے بنا کوئ جواب دیے یہاں وہاں دیکھنے لگی جیسے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔

عروہ اس کے ساتھ کھڑی بس اس کی حرکتیں دیکھ رہی تھی ۔

کچھ سکینڈ بعد شانزے کا موبائل بجا شانزے موبائل کھولے میسج ریڈ کئے مسکرائ ۔

شانزے تم کرنا کیا چاہتی ہوں رات کے اس وقت تم مجھے چھت پر لائے بے فضول ہی مسکرائے جا رہی ہوں عروہ شانزے کی بے مطلب کی مسکراہٹ دیکھ بولی۔۔

میں ابھی ایک منٹ میں آتی ہو شانزے مسکرائے اسے چھت پر اکیلے چھوڑے وہاں سے بھاگ گئ ۔

شانزے۔۔۔شانزے عروہ بیچاری اسے آوازیں لگائے اس کے پیچھے بھاگی ہی تھی کہ اسے اپنا ہاتھ کسی کی مضبوط گرفت میں محصوص ہوا عروہ جیسے ہی پیچھے مڑی اپنے سامنے سلیم کو دیکھے وہی منجمند ہو گئ ۔۔

اچانک اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئ ۔

میں نے ہی شانزے کو تمہیں یہاں لانے کے لیے کہاں تھا مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی سلیم عروہ کا ہاتھ چھوڑےاس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا اس کی چھوٹی درمیانی بروان آنکھیں شرم سے جھک گئ تھی

عروہ کی پہلے کبھی ایسی حالت نہیں ہوئ تھی لیکن جب سے اس کے رشتے کی بات ہوئ تھی اس کے جذبات منہ زور ہو رہے تھے لاکھ کوششوں کے باوجود بھی عروہ اپنی حالت چھپا نہیں پا رہی تھی ۔۔

ہمارے والدین نے ہمارے لیے جو بھی فیصلہ کیا ہو لیکن میں پھر بھی تمہاری مرضی جاننا چاہوں میرے لیے تمہاری رضا مندی جاننا بہت ضروری ہے اگر تم اس رشتے یہ خوش ہو تبھی یہ رشتہ ہو گا اگر نہیں تو تم انکار کر سکتی ہوں مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے ۔۔

کیا تم میرے ساتھ اپنی ساری زندگی گزارنے کے لیے تیار ہو سلیم ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کے چہرے کو اوپر کئے اس کی جھکی ہوئ آنکھوں کی طرف دیکھنے لگا عروہ کا شرم سے برا حال ہو رہا تھا ۔

اس کی ہتھلیاں پسینے سے بھیگ گئ تھی ۔۔

ٹھیک ہے میں تمہاری خاموشی کو پھر نہ ہی سمجھو سلیم اسے خاموش دیکھ بولا۔۔۔

نہیں ۔۔۔عروہ جھٹ سے پلکیں اٹھائے اس کی جانب دیکھنے لگی ایک پل کو دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے ملی کیا کچھ نہیں تھا عروہ کی آنکھوں میں پیار محبت ،احساس اس سب سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھی اس کی آنکھیں اس کے دل کا حال بیان کر رہی تھی سلیم ان آنکھوں میں اپنے لیے پیار اچھے سے دیکھ سکتا تھا ۔۔

تو پھر میں تمہاری ہاں سمجھو سلیم شرارت سے اس کے کان میں سرگوشی کئے بولا۔عروہ بنا کچھ بولے شرما کر وہاں سے بھاگ گئ ۔۔

سلیم اسے یوں شرما کر بھاگتے ہوئے دیکھ مسکرا گیا ۔۔

اس نے کبھی عروہ کو غلط نگاہ سے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اسے اندازہ تھا کہ عروہ اس سے اتنی محبت کرتی ہے

***

بھائ تم لوگ کی تو زندگی سیٹ ہو گئ ایک میں ہی اکیلا رہ گیا ہوں تم دونوں کو دیکھ کر اب مجھے اپنے کنواریں ہونے پر افسوس ہو رہا ہے صدام ریحان اور سلیم کو تیار ہوتے دیکھ افسوس سے بولا ۔آج سلیم کے ساتھ ساتھ ریحان اور شانزے کی بھی منگنی کی رسم تھی اور یہ انوکھی فرمائش بھی شانزے کی تھی ۔۔

بھائ تمہیں کس نے کہا ہے کنوارا رہنے کے لیے تم بھی منگنی کروا لو سلیم صدام کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے مسکرایا ۔

منگنی کے لیے ایک عدد لڑکی کی ضرورت ہوتی ہے ریحان کہے مسکرایا

اڑا لو جتنا مذاق اڑانا ہے اپنا بھی ٹائم آیا گا صدام کہے خود ہنسنے لگے ریحان اور سلیم بھی اس کے ساتھ ہنسنے لگے ۔۔۔

***

ماشا اللہ میری دونوں بیٹیاں بہت پیاری لگ رہی ہے پروین باری باری دونوں کی پیشانی چومے انہیں سینے سے لگا گئ ۔

پالر والی دونوں کو تیار کئے جا چکی تھی دونوں نے ایک جیسا ٹی پینک کالر کا ڈریس پہنا ہوا تھا فل فیری فراک اس کے اوپر پینک ہیوی سٹون کا کام ہوا تھا لائٹ میک اپ کئے بالوں کو ڈھیلے جوڑے میں قید کئے دونوں بہت ہی پیاری لگ رہی تھی ۔

اگر دونوں تیار ہو تو میرے ساتھ باہر چلو خالہ میں ابھی سینڈل ڈال کر آئ تب تک آپ عروہ کو اپنے ساتھ لے جائے میں ابھی ایک منٹ میں آتی ہو ۔

ٹھیک ہے بیٹا جلدی آنا پروین عروہ کو ساتھ لیے باہر کی جانب بڑھی ۔۔

شانزے جلدی میں سینڈل پہنے کے لیے نیچے جھکی ہی تھی کہ پیچھے سے اس کے فراک کی زپ اچانک سے کھل گئ۔

یا اللہ یہ کیا ہو گیا شانزے جلدی سے سیدھی ہوئ ڈریس کو آگے سے ایک ہاتھ سے تھامے دوسرے ہاتھ سے زپ بند کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن زپ تھی کہ بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اور کمرے میں اس کے علاوہ کوئ موجود بھی نہیں تھا جس سے مدد لے سکتی شانزے ابھی زپ بند کرنے کی کشمکش میں لگی ہوئ تھی کہ اسے دروازہ کھولنے کی آواز آئ شانزے دونوں ہاتھوں سے فراک تھامے پیچھے مڑی ۔۔

تم۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہوں شانزے ریحان کو یہاں دیکھ کر گھبراتے ہوئے اپنے پیچھے موجود الماری سے جا لگی ۔۔

کیا ہوا ہے تم ٹھیک تو ہوں ریحان اسے یوں گھبراتا ہوا دیکھ پریشان ہوا ریحان اپنی خالہ اور عروہ کو کمرے سے اکیلا جاتا دیکھ شانزے کو دیکھنے کے خیال سے کمرے میں چلا آیا تھا۔

ہاں میں ٹھیک ہوں تم جاوں یہاں سے شانزے اچھے سے ڈریس کو پکڑے ریحان کی جانب دیکھنے لگی جو اسے ہی گور کر دیکھ رہا تھا ۔۔

کیا ہوا ہے تم اتنی گھبرائ ہوئ کیوں ہو ریحان پریشانی سے اس کی جانب بڑھا ۔۔وہی پہ رک جاوں میرے نزدیک مت آنا شانزے خود میں سمٹ گئ ۔۔

آج پہلی بار اسے ریحان کے سامنے شرم محسوس ہو رہی تھی ۔

بات کیا ہے جب تک تم بات نہیں بتاوں گئ میں نہیں جانے والا ریحان بھی بات جاننے کے لیے بضبد ہوا

شانزے کچھ دیر ریحان کو خاموشی سے دیکھتی رہی پھر کچھ سوچتے ہوئ بولی۔۔

تم پلیز باہر سے کسی کو بھیج دو گئے میری فراک کی زپ کھول گئ ہے شانزے انتہائ شرمندگی سے بولی ۔۔

اس میں کسی کو بلوانے کی کیا ضرورت ہے میں ہوں نہ میں بند کر دیتا ہو ریحان الماری کے ساتھ لگی ہوئ شانزے کی جانب بڑھا ۔۔

نہیں۔۔۔ تم رہنے دو تم باہر سے ماما کو بھیج دو گی میں ان سے کروا لو گئ شانزے اسے بتانے پر پانی پانی ہو رہی تھی اور یہاں تو ریحان خود زپ بند کرنے کی بات کر رہا تھا ۔۔

ماما کو کیوں بھیجوں میں یہاں موجود ہو تو کسی تیسرے کی کیا ضرورت میں خود بند کر دیتا ہو ریحان اسے کمرے سے پکڑے اپنے بلکل نزدیک کر گیا شانزے زور سے اپنی آنکھیں بند کر گئ ریحان کو اس کی اس حرکت پر بے حد پیار آیا ریحان اس کے تیار ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا آنکھوں پر ہوا میک اپ اس کی آنکھوں کو اور خوبصورت بنا رہا تھا لائٹ پینک لیپسٹک سے سجے ہوئے اس کے ہونٹ اس کے جذباتوں کو ہوا دے رہے تھے ۔۔

ریحان اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا آہستہ آہستہ اس کی زپ کو اوپر کرنے لگا جیسے جیسے ریحان کا ہاتھ اس کی کمرے سے ٹچ ہو رہا تھا شانزے کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا شانزے زور سے آنکھیں بند کئے سختی سے ریحان کے بازوں کو تھام گئ ۔

ریحان اس کے چہرے کے ہر ایک ایکسپریشن کو دیکھ کر مسکرا گیا ۔۔

اس کے سامنے مضبوط بننے والی لڑکی اس کی اتنی سی قربت پر اتنی مچل اٹھی تھی ۔۔

ریحان زپ بند کئے اس کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرے اوپر کئے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔

تمہارا کام ہو گیا اب تم اپنی آنکھیں کھول سکتی ہوں شانزے ایک دم سے آنکھیں کھولے ریحان کو دیکھنے لگی ریحان اس کے بے حد قریب کھڑا تھا چند سکینڈ اس کی آنکھوں میں دیکھنے کے بعد شانزے ریحان کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے خود سے دور کرنے لگی ۔۔

تمہارا کام تو ہو گیا لیکن میرے کام کا کیا ریحان اس کی ہر کوشش کو ناکام بنائے آئ برو اچکائے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔

تمہارا کونسا کام ۔۔

میری آج کی کس کہا ہے وہ تو تم دینا ہی بھول گئ چلو ابھی جلدی سے میرا کام پورا کر دو ۔

ریحان دیکھوں دیر ہو رہی ہے ابھی کوئ باہر سے آ جائے گا مجھے جانے دو شانزے کو اس کی فضول سی بات پر بے حد غصہ آیا تھا ۔۔

جب تک تم میرا کام نہیں کر دیتی ہم باہر نہیں جائے گئے ۔۔

ریحان ۔۔۔۔۔ریحان مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ مجھے جانے دو باہر سب میرا انتظار کر رہے ہیں شانزے اپنا سارا زور لگائے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔

ریحان اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا تھا اتنے بڑے سانڈ کے آگے یہ چھوٹی سی چیز کی کیا اوقات تھی

تم باہر تب ہی جا سکتی ہو جب میرا کام کر دو ورنہ تم باہر نہیں جا سکتی ۔۔۔

شانزے مرتی کیا کرتی ہمت جمع کئے شانزے آگے بڑھی لیکن اس سے آگے اس کی ہمت جواب دے گئ تھی ۔۔

اگر تم سے نہیں ہو رہا تو میں کوشش کرتا ہو ریحان اسے اتنی دیر سے اپنے چہرے کو دیکھتا دیکھ ایک آنکھ مار گیا ۔۔

نہیں ۔۔۔میں خود کرتی ہو شانزے اس دن کا واقع سوچے جلدی سے بولی ۔۔

چلو جلدی کرو مییں انتظار کر رہا ہو ۔

شانزے ایک بار پھر ہمت کر کے اس کے گال پر جھکے اپنے لب رکھنے والی تھی کہ ریحان اپنا رخ موڑے شانزے کے ہونٹوں کو چوم گیا یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ شانزے کو جب تک سمجھ آتی ریحان اپنا کام کئے پیچھے ہو چکا تھا ۔۔۔

کس یہاں کرتے بچوں کی طرح گال پہ نہیں ریحان اسے اپنی گرفت سے آزاد کئے اسکے کے گال کھینچ گیا چلو شاباش اب جلدی سے باہر آ جاوں مجھ سے اب مزید انتظار نہیں ہوتا ۔۔

شانزے شاک کی کفیت میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے ہوا کیا ہے اس کی حرکتیں دن بہ دن عجیب ہوتی جا رہی تھی شانزے کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی

***