Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Muhabbatein (Episode 5)

Yeh Muhabbatein By Pari Khan

عروہ میری جان ، میری بہن ، میری سہیلی ، میرے جگر کا ٹکڑا کیسی ہو شانزے اندر داخل ہوتے ساتھ ہی اس سے لپیٹے اس کے دونوں گالوں کو چوم گئ ۔۔

ارے۔۔۔یار یہ لڑکی بلکل پاگل ہے ہر ایک کو چومتی رہتی ہے ریحان اپنی مٹھی زور سے بند کئے شانزے کو عروہ سے لپیٹے دیکھ اپنا غصہ کنٹرول کئے آہستہ سے بڑبڑایا جسے بس وہی سن سکتا تھا ۔۔۔

میں بلکل ٹھیک ہوں اور ویسے بھی تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کچھ ہو سکتا ہے عروہ اس سے علیحدہ ہوئ بولی ۔۔۔

کوئ ہم غریبوں کو بھی پوچھے گا یا پھر ہم واپس چلے جائے سلیم شانزے کے ساتھ صوفے پر بیٹھے ہوئے معصوم سی شکل بنا گیا ۔۔۔

کیوں نہیں میرے شونے مونے بھائ کیسے ہو تم ۔۔

مجھے تو لگا تھا ماما بابا تمہیں نہر میں پھینک آئے ہیں لیکن افسوس میرا بیڈ لک تم اتنی جلدی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑوں گئے شانزے عروہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھے زور کا قہقہ لگا گئ ۔۔

شانزے مجھے تم سے اس کی امید نہیں تھی مجھے بہت افسوس ہوا یہ جانے کے کہ تم نے مجھے توڑا سا بھی یاد نہیں کیا ۔۔

سلیم ناراض ہوئے اپنا چہرے دوسری طرف پھیر گیا میرا سونا بھائ ناراض ہو گیا ہے شانزے اس گالوں کھیچتے ہوئے پیار سے بولی ۔۔۔

سچ بتاوں میں نے سچ میں تمہیں بہت مس کیا ہے ۔

سچ میں تم نے مجھے مس کیا ۔۔۔میں نے بھی اپنی بہن کو بہت مس کیا سلیم خوش ہوئے اس گلے سے لگا گیا ۔۔۔۔

ارے۔۔۔۔واہ یہاں تو بہت پیار بانٹا جا رہا ہے مجھے بھی تھوڑا پیار ملے گا ۔

کیوں نہیں صدام بھائ آپکو یہاں ڈیر سارا پیار ملے گا شانزے اپنے دونوں بازوں ہوا میں پھیلائے بولی۔۔

پھر ٹھیک ہے مجھے تو لگا تھا مجھے یہاں کوئ پوچھے گا نہیں لیکن تمہیں دیکھ کہ لگ رہا ہے ہم دونوں کی خوب جمے گئ صدام شانزے کی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے ریحان کے ساتھ جا بیٹھا ۔۔

ان دونوں کی دوستانہ باتیں سن کر کسی کو کچھ فرق پڑے یا نہ پڑے لیکن ریحان کا غصہ ضرور ساتوے آسمان تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔

ریحان ایک غصیلی نظر شانزے پر ڈالے کھڑا ہو گیا ۔

اگر مزید یہاں رہتا تو شاید یہی پھٹ پڑتا ۔

بیٹا تم کہا جا رہے ہوں پروین ریحان کو کھڑا دیکھ بولی

خالہ مجھے کچھ کام ہے میں وہ کر کے آتا ہوں ریحان مصنوعی مسکراہٹ سجائے بولا سرد نگاہ شانزے پر ڈالے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔

کھڑوس کہی کا ۔شانزے ریحان کی پیٹھ کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائ۔۔۔

چلو عروہ میرے کمرے میں چل کر باتیں کرتے ہیں ۔

مجھے تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہے ۔۔

شانزے عروہ کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے کمرے میں لے آئ ۔۔۔

***

ریحان اپنے کمرے کی بلکونی میں کھڑا سگریٹ پہ سگریٹ پھوک رہا تھا اپنا سینا جلا کر بھی اسے سکون حاصل نہیں ہو رہا تھا اس کا دل کر رہا تھا ابھی جا کر اس صدام کا منہ توڑ دے جس منہ سے وہ اس کی بیوی سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا ۔

اس کا دل شانزے کو بھی اچھا خاصا سبق سکھانے کر رہا تھا اس کے سامنے وہ کسی غیر مرد سے کیسے پیار محبت والی باتیں کر سکتی تھی ۔۔

شانزے ہمیشہ سے ہی ایسی تھی جلد ہی سب کو اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے اپنا بنا لیتی تھی وہ الگ بات ہے ریحان کو اس کی یہی میٹھی باتیں زہر لگتی تھی ۔

صدام ،عروہ ،سلیم سے اس کی بچپن سے ہی بہت گہری دوستی تھی عروہ تو اس کے لیے بہنوں سے بھی بڑھ کر تھی اور سلیم اور صدام تو اسے بھائیوں جیسے پیارے تھے ان کی خاطر وہ کچھ بھی کر سکتی تھی اور یقینا وہ بھی اس کی خاطر کچھ بھی کر سکتے تھے ۔۔۔۔

صاحب آپکو کو صائمہ میڈم کھانے کے لیے بلا رہی ہے نورین دروازہ نوک کئے اندر داخل ہوئے بولی۔۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے ریحان کی آواز اتنی سرد تھی کہ نورین مزید کچھ بولے وہاں سے چلی گئ ۔۔

ریحان کو خود بھی نہیں اندازہ تھا کہ وہ کتنے سگریٹ پی چکا تھا نیچے فرش پر سگریٹ کا ڈھیر لگا ہوا تھا گھر والے اس کی اس عادت سے انجان تھے ۔

ریحان روز نہیں پیتا تھا بس جب ٹینشن زیادہ ہو تب خود کو پرسکون کرنے کے لیے اسے ان کی ضرورت پڑتی تھی ۔۔۔

***

یار میں تمہارے نکاح پر تو نہیں آ سکی لیکن دیکھنا تم تمہاری شادی پر کیسی دھوم مچاتی ہوں سب دیکھتے ہی رہ جائے گئے ۔دھوم تو تم تب مچاوں گئ جب وہ کھڑوس دھوم مچانے دے گا ۔۔۔

کوئ سڑیل بندہ میرے پلے پڑا ہے میرے تو نصیب ہی پھوٹ گئے شانزے بوڑھی عورتیں کی طرح دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھے بولی تو عروہ کی ہنسی چھوٹ گئ ۔۔۔

تمہیں بہت ہنسی آ رہی ہے یہاں میرے خواب چکنا چوڑ ہو گئے ہیں اور تمہیں ہنسی آ رہی ہے جیسے تم ری ایکٹ کر رہی ہوں جو بھی دیکھے گا ہنسے گا ۔۔

ویسے ایک بات کہو میرے ریحان بھائ اتنے بھی برے نہیں ہے ۔۔

اچھا جی۔۔۔میرے ریحان بھائ ۔۔عروہ میڈم تم تو بڑی بے وفا نکلی شانزے منہ پھولائے اسے گھورنے لگی ۔۔

سچ کہہ رہی ہو ریحان بھائ بہت اچھے انسان ہے تم اپنی ساری ناراضگی ایک سائیڈ پر رکھ کر ان کے اندر موجود اچھائ کو دیکھوں دیکھنا تمہیں ان سے پیار ہو جائے گا پھر تم ان کی تعریفیں کرتے ہی نہیں تھکوں گئ ۔۔

میں اور اس کھڑوس کی تعریفیں ایسا کبھی نہیں ہو گا ۔۔وہ ہمیشہ میری زندگی میں ایک ویلن رہے گا جس نے میرا سکون قرار سب کچھ چھین لیا۔۔

دیکھنا ایک دن یہی ویلن تمہارا دل بھی چرا لے گا اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا عروہ اس کے لال پیلے ہوتے چہرے کو دیکھے مسکرا گئ ۔۔

عروہ ایسی باتیں کرنا بند کر دو ورنہ میں سلیم کو سب بتا دو گئ شانزے بیڈ سے اٹھتی ہوئ دونوں ہاتھ کمر پر جمائے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

شانزے تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم یہ بات کسی کو نہیں بتاوں گئ عروہ گھبراتے ہوئے ایک دم سے اٹھی ۔۔

اگر تم چاہتی ہو یہ بات میں کسی کو نہ بتاوں تو تم اس کھڑوس کی حمایت میرے سامنے نہیں کرو گی سمجھی۔۔۔

اور جو میں کہہ رہی ہوں میرے پیچھے پیچھے رپیٹ کرو اور قسم کھاو ۔۔

کیسی قسم عروہ نے سمجھی سے بولی۔۔۔

تم اس کھڑوس کی کبھی میرے سامنے حمایت نہیں کرو گئ ۔۔۔بولوں جیسے میں کہہ رہی ہوں بلکل ایسے ہی بولوں۔۔۔شانزے اپنا دایاں ہاتھ عروہ کے سامنے پھیلائے اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔

میں کبھی بھی تمہارے سامنے اس کی حمایت نہیں کروں گئ ۔عروہ اس کے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھے بولی۔۔

وہ انسان ایک ڈریکولا ہے ،بنا پوشر والا بندر ہے اور میری زندگی میں ہمیشہ ایک ویلن رہے گا ۔۔

بولوں۔۔۔شانزے اپنی ہنسی دبائے عروہ کو دیکھنے لگی جس کی حالت خراب ہو رہی تھی ۔۔

شانزے میں ریحان بھائ کو ایسے کیسے بول سکتی ہوں ۔۔تم بول رہی ہو کہ میں جاوں ۔شانزے اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئ بولی۔۔

نہیں میں بول رہی ہوں ۔۔جلدی بولوں۔۔۔

وہ انسان ایک ڈریکولا ہے بنا پوشر والا بندر ہے اور تمہاری زندگی میں ایک ویلن ہے ۔۔

اور وہ کبھی میرے دل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ۔اور وہ کبھی تمہارے دل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ۔۔

بہت خوب۔۔۔اب اپنے دماغ سے باقی فضول کی باتیں بھی نکال دو ۔۔

شانزے تم یہ ٹھیک نہیں کر رہی عروہ اداس ہوئ بولی ۔۔

نہ میری جان اداس نہیں ہوتے شانزے سے بے وفائ کا نتیجہ یہی ہوتا ہے اب کبھی میرے سامنے اس کھڑوس کی حمایت کی تو اس سے بھی کچھ برا کرواوں گئ ۔۔۔

چلو اب جا کر کھانا کھاتے ہیں شانزے اس کے گالوں کو چومے اس اپنے گلے سے لگائے باہر لے آئ۔۔۔۔

***

آج سنڈے ہونے کے باعث ڈائننگ ٹیبل پر عام روٹین کے علاوہ کچھ زیادہ ہی رونق لگی ہوئ تھی بچے ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے صائمہ اور پروین ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھی اور ساتھ ناشتہ کر رہی تھی ۔۔ارشاد سربراہی کرسی پر بیٹھا ان سب کی باتیں سن کہ مسکرا رہا تھا۔۔

لڑکیوں ذرہ کم کھاو اتنا کھا کر بھی تم لوگ ہم سے جیت نہیں سکتی سلیم دونوں کو اپنی اپنی پلیٹ پر جھکا دیکھ شرارت سے بولا ۔۔

جیت کی بات کون کر رہا ہے جو خود پیچھلی بار ہم سے ہار گیا تھا شانزے سلیم کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگی ۔

پیچھلی بار کی چھوڑوں اب کی سوچوں شاید تم ریحان بھائ کو جانتی نہیں ہوں کرکٹ کے چپین رہ چکے ہیں ۔۔اور تمہاری اطلاع کے مطابق اس بار ریحان بھائ بھی کھیلنے والے ہیں وہ بھی میری ٹیم کی طرف سے سلیم ریحان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے شانزے کی جانب دیکھنے لگا ریحان کی نظریں بھی شانزے پر تھی ۔۔

اگر تمہارے ساتھ تمہارا بھائ ہے تو ہمارے پاس بھی صدام بھائ ہے اور یاد ہے پیچھلی بار کیسے صدام بھائ اکیلے تم سب پہ بھاری پڑ گئے تھے شانزے صدام کی طرف ایک نظر ڈالے سلیم کے سامنے اترا کر بولی ۔۔۔

جہاں صدام کے لب مسکرائے تھے وہی شانزے کا صدام کے بارے میں تعریف کرنا ریحان کو برا لگا تھا پہلے بھی کہی دفعہ صدام ان کے گھر آ چکا تھا اور ریحان بھی اچھے سے جانتا تھا کہ صدام شانزے کو بلکل عروہ کی طرح ہی مانتا ہے لیکن پھر بھی اس بار نہ جانے کیوں ریحان کو صدام سے جلن ہو رہی تھی ۔۔۔

میں کوئ میچ نہیں کھیلنے والا مجھے آج بہت کام ہے تو پلیز مجھے ان فضول کے کاموں سے دور ہی رکھوں ریحان اپنا غصہ ضبد کئے اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔

یہ لو یہ جناب تو کھیلنے سے پہلے ہی ڈر گئے انہیں بھی پتہ ہے یہ صدام بھائ سے نہیں جیت سکتیں شانزے ہنستے ہوئے ریحان کے غصے کو ہوا دے گئ ۔۔

تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ تمہارے صدام بھائ سے میں ڈرتا ہوں ریحان ناشتہ چھوڑے شانزے کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔

مجھے لگتا کیا ہے بلکل ایسی ہی بات ہے صدام بھائ سے اچھا کوئ کرکٹ کھیل ہی نہیں سکتا ۔

شانزے اب زیادہ ہو رہا ہے تم ابھی میرے ریحان بھائ کو جانتی نہیں ہو اگر یہ میدان میں اتر آئے تو سب کی چھٹی ہو جائے گئ ۔۔

اگر ایسی بات ہے تو لگی شرط اگر ہم لوگ جیت گئے تو تم لوگ وہی کروں گئے جو میں کہوں گئ اور اگر تم لوگ جیت گئے ویسے ایسا ہو گا تو نہیں لیکن پھر بھی بائ چانس اگر تم لوگ جیت بھی گئے تو ۔پھر جو تم کہوں گئے وہ ہم کریں گئے ۔۔

مجھے شرط منظور ہے ریحان شانزے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک سکینڈ ضائع کئے بنا بولا۔

اگر تم شرط ہار گئ تو جو میں بولا گا وہ تمہیں کرنے پڑے گا ۔

شانزے ایک منٹ میری بات سنو اس سے پہلے شانزے کچھ بولتی صدام اسے ٹوکتے ہوئے بولا۔

نہیں صدام بھائ اب سننے کا ٹائم نہیں ہے ۔

مجھے منظور ہے شانزے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھے بولی۔۔۔

صدام اس کی تیزی دیکھے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔

واہ۔۔۔۔کیا بات ہے تو میں پھر میچ کی تیاری کرتا ہوں سلیم ریحان کے کندھے تھپتھپائے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔

شانزے یہ تم نے کیا کر دیا اگر تم ہار گئ عروہ پریشانی سے بولی۔۔

ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا جہاں تک مجھے پتہ ہے ریحان کو کرکٹ سے نفرت ہے

اگر ایسی بات ہے تو سلیم ریحان بھائ کے بارے میں جو کہہ رہا ہے وہ کیا جھوٹ ہے ۔

ہاں۔۔بلکل تم فکر نہ کرو ہم ہی جیتے گئے شانزے اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھے ہوئے ریحان کو دیکھ کر مضبوط لہجے میں بولی۔۔۔۔۔

****