Yeh Muhabbatein By Pari Khan Readelle502303 Yeh Muhabbatein (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Yeh Muhabbatein (Episode 1)
Yeh Muhabbatein By Pari Khan
بابا میں یہ نکاح نہیں کر سکتا
کیوں نہیں کر سکتے انکار کرنے کی کوئ خاص وجہ ہے تمہارے پاس ۔
ایک نہیں بہت ساری وجہ ہے اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں اسے پسند نہیں کرتا وہ میرے ٹائپ کی نہیں ہے ۔۔۔
اچھا وہ لڑکی تمہارے ٹائپ کی نہیں ہے کیا میں جان سکتا ہوں جناب کو کس ٹائپ کی لڑکیاں پسند ہے ۔
بابا آپ میری شادی دنیا کی کسی بھی لڑکی سے کروا دے میں خاموشی سے کر لو گا لیکن آپ کے دوست کی بیٹی سے شادی میں ہر گز نہیں کرو گا ۔۔
تمہیں آخر مسئلہ کیا ہے اس بچی سے کیا کمی ہے اس میں جو تم اس کے علاوہ کسی بھی لڑکی سے شادی کرنے کو تیار ہوں ۔۔بولوں ۔
بابا کمی کوئ نہیں ہے بس میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔
نکاح تو تمہارا اس سے ہی ہو گا اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے اور ویسے بھی ابھی بس نکاح ہی ہو گا رخصتی اس کی پڑھائی پوری ہونے کے بعد ہو گئ مجھے یقین ہے رخصتی تک تمہاری اس بچی کے بارے میں رائے بدل جائے گئ ۔
اس کے بارے میں میری رائے کبھی نہیں بدلے گئ نہ آج نہ کل اور نہ کچھ مہینوں بعد آپ میرے ساتھ زبردستی کر کہ اچھا نہیں کر رہے اور اس بات کا احساس آپ کو بہت جلد ہو جائے گا ریحان ارشاد کو انگلی دیکھائے غصے سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔
ارشاد آپ بچوں کے ساتھ زبردستی کیوں کر رہے ہیں دونوں بچے ایک ساتھ نہیں رہنا چاہتے تو آپ کیوں اتنا زور دے رہے ہیں
صائمہ تم اچھے سے جانتی ہوں میں کیوں اتنا زور دے رہا ہوں دونوں بچوں کی شادی کیلئے میں نے اپنے دوست سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کی بیٹی کا اپنی بیٹی کی طرح خیال رکھوں گا ۔
آپ نے شانزے کو سگے باپ سے بھی زیادہ پیار دیا ہے اس کی چھوٹی سے چھوٹی خوشی کا خیال رکھا ہے آپ نے ۔
اس لیے میں چاہتا ہوں جس بیٹی کو میں نے اتنا پیار دیا ہے وہ بیٹی ہمیشہ میرے ساتھ رہے ہماری نظروں کے سامنے رہے ۔
ارشاد میں آپ کے جذبات کو سمجھتی ہوں لیکن آپ بچوں کے جذباتوں کو بھی سمجھے شادی کے بعد اگر دونوں بچوں کی آپس میں نہ بنی تو کیا کرے گئے آپ تب بھی آپ زبردستی کرے گئے ۔۔
صائمہ جو میں دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھ سکتی تم بے فکر رہو کچھ نہیں ہوں گا تم نکاح کی تیاریاں کروں نکاح اسی جمعرات کو ہو گا ۔۔
ارشاد آپ ایک بار پھر سوچ لے یہ نہ ہو آپ کا فیصلہ بچوں کی زندگیاں تباہ کر دے ۔۔
کسی کی زندگی تباہ نہیں ہو گی یہ بات تمہیں بھی بہت جلد سمجھ آ جائے گی کہ میرا فیصلہ کتنا صحیح تھا ۔۔۔۔۔
***
میری پیاری بھابھی جان آپ دوپہر کے اس وقت کیچن میں کیا کر رہی ہے سلیم شانزے کو کیچن میں کھڑا دیکھ اس کے پاس آتا ہوا بولا ۔
میں تمہاری بھابھی نہیں ہوں ۔۔تو مہربانی ہو گی مجھے بھابھی کہنا بند کرو ۔
یہ کیا بات ہوئ بھابھی جان آپ میرے بھائ کی بیوی بننے جا رہی ہے تو اس حساب سے تو میری بھابھی ہی ہوئ اور آپ تو جانتی ہے میں حساب کا کتنا پکا ہوں سلیم شانزے کے بگڑے ہوئے موڈ کو مزید بگڑانے کے لیے ہونٹوں پہ بڑی مسکراہٹ سجائے بولا ۔۔
اگر مجھے غصہ آ گیا تو تمہارے سارے حساب کتاب نکال دو گی میں جانتی ہوں تم کتنے حساب کے پکے ہوں حساب کے اتنے ہی اچھے ہوتے تو اب تک گریجویٹ کر چکے ہوتے ۔
آئندہ مجھے کبھی بھابھی جیسے الفاظ سے پکارا تو میں تمہارا خشر بگاڑ دو گی بھابھی لفظ سے شانزے کے تن بدن میں آگ سی لگ گی تھی ۔۔
(شانزے ارشاد کے سامنے مجبور تھی اس انسان کی بات سے وہ کبھی انکار نہیں کر سکتی تھی جس نے اسے سگے باپ سے بھی زیادہ پیار دیا تھا
اگر اس کے پاس دوسرا کوئ بھی آپشن ہوتا تو وہ کبھی بھی ریحان سے شادی نہ کرتی ۔۔۔)
میں تو تمہیں بھابھی ہی کہو گا چاہے تم میرا خشر بگاڑوں یہ مجھے جان سے مار دو
سلیم اگر تم نے ایک اور بار بھی یہ لفظ بولا تو میں تمہارا سر پھاڑ دو گی شانزے آگ بگولہ بنی پانی کا خالی گلاس اٹھائے سلیم کی جانب بڑھی ۔۔
یار تم تو سیرس ہی ہو گی میں تو مذاق کر رہا تھا ریلکس رہو سلیم شانزے کے ہاتھ میں گلاس دیکھے گھبراتے ہوئے بولا
اچھا ہے تمہیں بات سمجھے میں آ گی ورنہ آج تمہارا سر شہید ہو جاتا شانزے سلیم کو یوں ہارتا ہوا دیکھ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔
زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے تمہاری شادی تو میرے بھائ سے ہو کر رہی گئ میں بھی دیکھتا ہوں تم شادی کے بعد مجھے بھابھی کہنے سے کیسے روکتی ہوں میری پیاری بھابھی جان
۔سلیم شانزے کو آنکھ مارے وہاں سے بھاگ گیا ۔۔
تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں سلیم کے بچے شانزے غصے سے لال ہوئ سلیم کے پیچھے بھاگی ۔۔۔۔۔
پہلے مجھے پکڑ کے تو دیکھاو سلیم ہال میں بھاگتے ہوئے اپنے پیچھے بھاگتی ہوئے شانزے کو چیڑاتے ہوئے بولا ۔۔۔
سلیم میں کہہ رہی روک جاوں ورنہ میں سچی میں تمہارا سر پھاڑ دو گی شانزے ہانپتے ہوئے ہاتھ میں گلاس اٹھائے بھاگتے ہوئے سلیم سے بولی ۔۔
میں نہیں ڈرنے والا تمہاری ان دھمکیوں سے سلیم لبوں پر مسکراہٹ سجائے اس کے آگے آگے بھاگتے ہوئے بولا ۔۔
اچھا۔۔۔تو تم نہیں رکنے والے تو ٹھیک ہے بعد میں شکایت مت کرنا کہ میں نے ورن نہیں کیا تھا ۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔کانچ کی آواز ایک دم ہال میں گونجی شانزے آنکھیں پھاڑے سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
واہ۔۔واہ کیا بات ہے کیا نشانہ ہیں مگر افسوس نشانہ مس ہو گیا سلیم اپنے آگے ریحان کو کھڑا دیکھ شانزے کی بگڑتی حالت کا سوچتے ہوئے افسوس سے بولا ۔۔
تمہارے پاس دماغ نام کی کوئ چیز ہے ۔۔اگر یہ گلاس کسی کو لگ جاتا تو جانتی ہو کیا ہوتا ریحان چند قدم دور کھڑی شانزے کو دیکھ اس پر بھڑک اٹھا ۔۔
کسی کو لگا تو نہیں۔۔ شانزے ریحان کے غصے کی پرواہ کئے بغیر بولی ایسا کبھی ہو سکتا تھا شانزے رہان کے آگے چپ رہ جاتی ۔۔رہان کو جواب دینا تو یہ اپنا فرض سمجھتی تھی ۔۔
آخر تم سمجھتی کیا ہوں خود کو ریحان چند قدم کا فاصلہ مٹائے شانزے کے پاس گیا اس کو بازوں سے پکڑے جھنجھوڑا گیا
جو تم خود کو سمجھتے ہوں اس سے تو کم ہی سمجتھی ہوں خود کو شانزے لبوں کو کھینچے ریحان کو آگ لگا گئ ۔
بہت زبان چلتی ہے تمہاری ریحان شانزے کے بازوں کو زور سے دبائے اسے کی بارون بڑی آنکھوں میں دیکھنے لگا
اللہ نے زبان دی ہے تو چلاوں گی اب زبان کو تالا لگا کر ڈبے میں بند تو نہیں کر سکتی تمہارے پاس بھی زبان ہے تم بھی جتنی مرضی چلاوں کسی نے روکا تھوڑی ہے شانزے بازوں سے اٹھتے ہوئے درد کو چھپائے ریحان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی
کئ سکینڈ دونوں ایک دوسرے کو غصے سے دیکھتے رہے دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے صرف اور صرف نفرت تھی نفرت کے علاوہ کوئ اور احساس ان کی آنکھوں میں نہ دیکھنے کے برابر تھا ۔۔۔
واہ۔۔۔کیا جواب دیا ہے میری پیاری بھابھی نے بھائ تو لاجواب ہی ہو گئے گریٹ بھابھی سلیم دونوں کی لڑائی انجوائے کرتے ہوئے تالیاں بجاتے بولا ۔۔۔
بھابھی نہیں ہے یہ تمہاری اور نہ ہی کبھی ہو گی ریحان شانزے کو پڑے جھٹکے غصے سے سلیم کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
ہاں تو مجھے بھی کوئ بھابھی بننے کا شوق نہیں ہے شانزے بھی غصے سے بھری بولی ۔۔
تو پھر کیوں کر رہی ہوں شادی انکار کیوں نہیں کر دیتی ۔
تم کیوں نہیں انکار کرتے مجھے تو لگتا ہے تم خود مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہوں تاکہ تم مجھے اپنا غلام بنا سکوں اور مجھ سے بدلے لے سکوں
واہ۔۔۔کیا بات ہے اب بس یہی سننا رہ گیا تھا مجھے لگتا تھا کہ تم تھوڑی پاگل ہو لیکن مجھے آج اندازہ ہو گیا ہے تم تھوڑی نہیں تم پوری پاگل ہوں ۔۔
ریحان ایک تلخ نظر شانزے پر ڈالے وہاں سے نکل گیا ۔
ریحان کے جاتے ہی سلیم کا قہقہ ہال میں گونجا ۔۔
اب تم کیوں گلہ پھاڑ کر ہنس رہے ہوں شانزے سلیم کو یوں ہنستا دیکھ بولی ۔۔
میں سوچ رہا تھا بابا نے کیا سوچ کر تم دونوں کی شادی کرنے کا سوچا بلی چوہے کی طرح لڑتے ہو تم دونوں کیسے رہو گے ایک ساتھ ۔
دفع ہو جاوں یہاں سے یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے تمہاری وجہ سے مجھے اس کھڑوس کے منہ لگنا پڑا شانزے پیر پٹکتی ہوئ اپنے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔۔
اے میرے خدا دونوں کو ایک ساتھ سکون سے رہنے کی توفیق دینا ورنہ ان دونوں کی لڑائی سے یہ گھر ضرور چڑیا گھر بن جائے گا ۔۔۔
***
بیگم سب تیاریاں ہو گی شاپنگ مکمل ہو گی ۔
ہاں سب تیاریاں مکمل ہو گی ہے اب بس خیر سے کل کا دن نکل جائے ۔
تم فکر نہ کرو سب خیر سے ہو جائے گا ۔
ارشاد آپ ایک بار پھر سوچ لے کہی ہم غلطی تو نہیں کر رہے صائمہ اداس ہوتے ہوئے بولی
دونوں بچوں کے اداس چہرے انہیں ٹینشن میں مبتلا رہے تھے
اب سوچنے کا وقت نہیں ہے اب تو اپنے فیصلے پر عمل کرنے کا وقت ہے کل کا دن جتنا ہمارے لیے خاص ہو گا اس سے کہی زیادہ ہمارے بچوں کے لیے خاص ہے تم پر سکون ہو کر سو جاوں ۔
اللہ بس ہمارے بچوں کے نصیب اچھے کرے میں تو بس اب ان دونوں کے لیے دعا ہی کر سکتی ہوں اللہ دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بے پناہ محبت پیدا کرے دے ۔۔۔آمین۔۔
انشاء اللہ ایسا ہی ہو گا چلو اب سو جاوں رات کافی ہو گئ ہے ارشاد اپنے اوپر کمبل لیے لیٹ گئے ۔۔
صائمہ بھی اپنے دونوں بچوں کے لیے بھر پور دعائیں مانگے سو گئ ۔۔
****
پوری حویلی رنگ برنگی لائٹوں اور پھولوں سے سجی ہوئ تھی تمام مہمان آ چکے تھے گھر کے سب افراد بھی تیار ہو کر ہال میں موجود تھے ۔۔
ریحان بلیو ٹو پیس میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا چوڑا سینا ،چھ فٹ سے نکلتا لمبا قد ،کالی درمیانی آنکھیں ،کھڑی ناک کالے بارون بال جو بڑی مہارت سے سیٹ کئے ہوئے تھے ۔۔
بلیو رنگ اس کی سفید رنگت کو اور بھی نکھار رہا تھا ۔۔۔
سب مرد ہال میں موجود تھے نکاح کی رسم شروع ہو چکی تھی۔۔
مولوی نکاح کی رسم شروع کر چکا تھا رہان بے بس بیٹھا اپنے ہی خیالوں میں گم تھا یہاں تک اسے مولوی کی آواز بھی سنائ نہیں دے رہی تھی ۔
مولوی دو مرتبہ رہان سے پوچھ چکا تھا ۔۔
بیٹا کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔سب کی نظریں رہان پر تھی جو گم سا بیٹھا سب کو پریشانی میں مبتلا کر رہا تھا ۔۔
ارشاد کا دل بیٹھا جا رہا تھا لاکھ سوال ان کے ذہن میں گردش کرنے لگے ۔۔
بھائ مولوی صاحب آپ سے کچھ پوچھ رہے ہیں سلیم رہان کو گم سم بیٹھا دیکھ رہان کو کندھے سے ہلاتے ہوئے ہوش میں لایا ۔۔۔
بیٹا میں آپ سے آخری بار پوچھ رہا ہوں کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے رہان ارشاد کی طرف دکھ بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔
سب کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گی نکاح نامے پر سائن کرتے ہی مبارک باد کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔۔
رہان کو مبارکباد دیے سلیم اور ارشاد مولوی صاحب کو لیے اندر کی جانب بڑھے جہاں شانزے اور باقی خواتین تھی ۔۔۔۔
شانزے دولہن بنی پہلے سے ہی انتظار میں بیٹھی ہوئ تھی وائٹ فل فیری فراک جس پر گولڈن سٹون کا کام ہوا تھا پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی
بارون بڑی آنکھیں اس پر مڑی ہوئ پلکیں آج غضب ڈھا رہی تھی چھوٹی ناک پتلے ہونٹ جو پنک کلر سے سجے ہوئے تھے ۔بال جو کے ڈھیلے جوڑے کی شکل میں باندھے ہوئے تھے اس کی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہے تھے ۔۔
مولوی صاحب کے آتے ہی صائمہ نے اس کے چہرے کو سفید نیٹ کے ڈوپٹے سے ڈھانپ دیا جس سے شانزے کا چہرہ فل چھپ گیا تھا ۔۔۔
نکاح کی رسم ادا ہوتے ہی مولوی صاحب شانزے سے سائن لیے باہر چلے گئے ارشاد شانزے کو مبارک باد دیے اسے اپنے سینے سے لگا گئے آج دونوں بچوں نے ان کا مان رکھا تھا آج ان کا وعدہ پورا ہو گیا تھا جو انہوں نے اپنے مرتے ہوئے دوست سے کیا تھا ۔
ہمیشہ خوش رہوں ارشاد شانزے کے سر پر بوسہ دیے آنکھوں میں آئ نمی چھپانے کے لیے فورا باہر چلے گئے ۔۔۔
مبارک ہو میری بچی اللہ تمہیں ڈھیروں خوشیاں دیں ۔
صائمہ کہے شانزے کے گلے لگ گی
۔
شانزے کو اپنے ماں باپ کہ نہ سہی لیکن ان لوگوں سے جتنا پیار ملا تھا شاید ہی اس کے اپنے ماں باپ سے اتنے پیار ملتا شانزے آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو صاف کئے زور سے صائمہ سے لپیٹ گی ۔۔
***
