Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Muhabbatein (Episode 2)

Yeh Muhabbatein By Pari Khan

بھابھی جان بہت مبارک ہو آخر کار آپ میری بھابھی بن ہی گئ سلیم شانزے کے کمرے میں داخل ہوئے بولا ۔۔

میں نے کتنی بار بولا ہے بھابھی مت بولوں مجھے میرے نام سے ہی بولاوں جیسے پہلے بولاتے تھے ۔

پہلے کی بات کچھ اور تھی اب تو میں آپ کو بھابھی ہی بولاوں گا ۔

ٹھیک جیسے تمہیں ٹھیک لگے آج سے ہماری دوستی اور بہن بھائ کا رشتہ بھی ختم آج سے میں صرف تمہاری بھابھی ہوں اور تم میرے دیور آج سے تم مجھے سے زیادہ بات نہیں کر سکتے اور نہ ہی مجھے تنگ کر سکتے ہوں ۔۔

کیوں ایسا کیوں ۔۔سلیم پریشان ہوا ۔

تم نے خود ہی تو مجھے اپنی بھابھی بنایا ہے سب رشتے چھوڑ کر تم نے بھابھی کا رشتہ چنا ہے

اور بھابھی کے رشتے سے میں تم سے بڑی ہوئ ۔

چلو اب جاوں مجھے ڈریس چینج کرنا ہے شانزے اپنی ہنسی چھپائے بولی وہ جانتی تھی سلیم ایسا ہر گز نہیں چاہے گا کہ سب رشتے ختم کر کے وہ صرف بھابھی کا رشتہ رکھے وہ تو اسے اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح چاہتا تھا اس لیے تو ہر وقت تنگ کرتا تھا اسے ۔۔

ٹھیک ہے تم جیت گئ نہیں کہوں گا تمہیں بھابھی تم میری بہن ہو اور ہمیشہ رہو گی بھابھی کے چکر میں میں اپنی بہن نہیں کھو سکتا لیکن کبھی کبھی میں تمہیں بھابھی بولا سکتا ہوں میرے بھی چھوٹے چھوٹے ارمان ہے کہ میں بھی کسی کو بھابھی بولوں تم ان ارمانوں کو ختم نہیں کر سکتی ۔۔

ٹھیک ہے کبھی کبھی تم بولا سکتے ہوں شانزے سلیم کے معصوم سے چہرے کو دیکھ ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔

تم بہت چالاک ہوں اپنی بات مناوا ہی لیتی ہوں

آخر بہن کس کی ہوں ۔

شہزادے سلیم کی سلیم اپنا کالر اوپر کئے بولا جس سے دونوں کا قہقہ کمرے میں گونجا۔۔۔

****

ماما۔۔۔ماما۔۔۔ریحان غصے سے چیخا ۔

کیا مسئلہ ہے کیوں سارا گھر سر پر اٹھایا ہوا ہے صبح صبح ۔۔ ماما میری شرٹ کا یہ حال کس نے کیا آپ کو پتہ ہے یہ میری فیورٹ شرٹ تھی ۔

شانزے جو ابھی آئ تھی ریحان کی بات سن کے دروازے پر ہی رک گئ آج اس کی خیر نہیں تھی ۔

یا اللہ شرٹ تو میں نے چھپا دی تھی یہ کھڑوس کو کہاں سے مل گئ شانزے دل ہی دل میں بولی ۔۔

تم نے میری شرٹ کا یہ حال کیا ہے ریحان شانزے کو دروازے پر گھبرایا ہوا کھڑا دیکھ اس کے پاس آیا اور شرٹ کو اس کے آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا شرٹ بری طرح سے جلی ہوئ تھی ۔۔

نہیں میں نے نہیں کیا یہ مجھے کیا پتہ تمہاری شرٹ کیسے جلی مجھ پر الزام مت لگاو شانزے اپنی گھبراہٹ چھپائے بولتی ہوئ صائمہ کی جانب بڑھی اگر ایک سکینڈ اس کھڑوس کے پاس روکتی تو وہ کھڑوس شاید اس کی جان لے لیتا ۔۔

ایک شرٹ کے لیے اتنا شور کیوں ڈال رہے ہوں شرٹ ہی تو ہے نئ آ جائے گئ صائمہ غصے سے بھری ریحان کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

یہ میری فیورٹ شرٹ تھی اور جس نے بھی اس کا یہ حال کیا اس کا تو نقشہ بھگاڑ دو گا ریحان کی نظریں شانزے پر تھی جیسے ابھی اسے اپنے غصے سے جلا دے گا ۔۔

شانزے کو کیوں ایسے دیکھ رہا ہے وہ کہہ تو رہی ہیں کہ اس نے نہیں کیا یہ سب اور اگر کیا بھی ہوتا تو اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے ایک شرٹ ہی ہے نئ آ جائے گئ ۔

اچھا ایسا ہے اب میری اس گھر میں کو ویلیو نہیں رہی اور نہ ہی میری چیزوں کی کوئ قدر رہی ہے

اور یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے جب سے اس گھر میں آئ ہے سب اس کے ہی دیوانے بنے بیٹھے ہیں دیکھ لو گا اسے میں ریحان غصے سے بولے واش روم میں گھس گیا ۔۔۔

پاگل ہو گیا ہے یہ لڑکا صائمہ بھی کمرے سے باہر نکل آئ ۔۔

شکر ہے اللہ کا میری جان بچ گی ورنہ یہ کھڑوس آدمی تو آج میری جان لے لیتا

اللہ میاں آپ تو دیکھ رہے ہیں میں نے جان بوجھ کر اس کی شرٹ نہیں جلائ وہ غلطی سے سلیم کی شرٹ سمجھ کے میں نے اس کی جلا دی ۔

چل شانزے یہاں سے بھاگ لے اس سے پہلے وہ کھڑوس سنگ پر تمہارے سر پر نازل ہو جائے شانزے کمرے میں نظریں دوڑائے وہاں سے بھاگ گئ ۔۔۔

*****

ریحان آج سے شانزے کو یونیورسٹی تم لے کر بھی جایا کرو گے اور لے کر بھی آیا کرو گے ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے سب خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے کہ ارشاد کی آواز گونجی ۔۔

ریحان اور شانزے نے ایک سکینڈ کے لیے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ان کے چہرے کے تاثرات ایسے تھےجیسے کسی نے اس کے سر پر بھم پھوڑا ہوں

بابا اس کی ضرورت نہیں ہے میں ڈرائیو انکل کے ساتھ چلی جاوں گئ اور ویسے بھی تو میں ہمیشہ ان کے ساتھ جاتی ہوں ۔۔

ہاں تم ان کے ساتھ جاتی ہوں لیکن اب تم ریحان کے ساتھ جایا کروں گی اب تم اس کی ذمہ داری ہوں ڈرائیو انکل کی نہیں ۔

ڈیڈ پہلے بھی تو ڈرائیو لے کر جاتا تھا اب لے کر جانے میں کیا مسئلہ ہے ریحان ناشتہ چھوڑتے ہوئے بولا

میں نے بولا ہے تم لے کر جایا کروں گے تو بہس کس بات کی ہے ڈرائیو اب میرے ساتھ جایا کرے گا اب مجھ سے گاڑی نہیں چلتی اور ڈاکٹر نے بھی ڈرائیو کرنے سے منع کیا ہے ۔۔

جلدی چلو میں تمہارا ہر گز باہر انتظار نہیں کرو گا ریحان غصے سے ٹیبل سے اٹھتے ہوئے شانزے سے بولا ۔۔

رہان اپنی زندگی سے تنگ آ گیا تھا جب سے شانزے اس کی زندگی میں شامل ہوئ تھی اس کی زندگی پوری بدل گئ تھی اب ہر وقت غصہ اس کے سر پر سوار ہوتا تھا اس کی اپنی زندگی جیسے ختم ہو گئ تھی ہر کام ،ہر بات شانزے سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی تھی ۔۔

میں نے بولا تھا میں زیادہ انتظار نہیں کرو گا ایک بات تمہاری سمجھ نہیں آتی ریحان باہر آتی ہوئ شانزے کو دیکھ اس پر برس پڑا ۔۔۔

میں ٹائم پر ہی آئ ہوں بابا کا غصہ مجھ پر نکالنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے بابا سے نہیں بولا میرا ڈرائیو بدلنے کے لیے شانزے ریحان کے غصے کو اگنور کئے گاڑی کی پیچھلی سیٹ پر جا کر بیٹھ گی ۔۔

ڈرائیور ۔۔۔میں ڈرائیور ۔۔یہ اللہ مجھے صبر دے کہی میں اس لڑکی کا قتل ہی نہ کرو دو ریحان اپنا غصہ کنٹرول کئے ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا ۔۔۔

آگے آو میں تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں جو تم میڈم کی طرح بڑے آرام سے پیچھے بیٹھی ہوں ۔۔

ریحان مرر سے پیچھے بیٹھی شانزے کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔

شانزے سوچ میں پڑ گئ جائے یہ نہیں ۔۔

اتنا سوچ کیا رہی ہوں اگر آگے نہیں بیٹھنا تو گاڑی سے اتر جاوں میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں لے کر جا سکتا ریحان گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے پیچھے دیکھنے لگا ۔۔

شانزے بابا کا سوچتے ہوئے پیچھے سے اگلی سیٹ پر آ گئ ۔۔۔

****

ماما آپ سب مجھے اکیلے چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں ۔شانزے صائمہ کے ساتھ پیکنگ میں مدد کرتے ہوئے اداسی سے بولی ۔۔

تم اکیلی کہاں ہوں ریحان بھی تو ہے

اسی بات کی تو فکر ہے شانزے اتنے آرام سے بولی کہ پاس کھڑی صائمہ بھی سن نہیں پائ ۔۔

ہمارا جانا ضروری نہ ہوتا تو میں تمہیں چھوڑ کر کبھی نہیں جاتی اور تمہیں بھی تو ساتھ نہیں لے کر جا سکتی تمہارے ایگزام ہو رہے ہیں ۔۔

ہم کچھ ہی دن میں واپس آ جائے گئے ۔

تم اپنا اور ریحان کا خیال رکھنا صائمہ شانزے کا گال سہلاتے ہوئے پیار سے بولی ۔۔

شانزے صائمہ کے سینے سے لگے اپنے آنسو کو چھپانے لگی آج پہلی دافع ایسا ہو رہا تھا کہ شانزے صائمہ کے بنا اکیلی گھر رک رہی تھی ورنہ صائمہ جہاں جاتی تھی شانزے ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتی تھی ۔۔

چلو اب جلدی سے پیکنگ کر لیتے ہیں ورنہ تمہیں تمہارے بابا کا پتہ تو ہے وقت کے کتنے پابند ہے اگر تھوڑی سی بھی دیر ہوئ تو انہیں موقع مل جائے گا مجھے باتیں سنانے کا ۔۔

****

ریحان ڈرائیو کو بولوں یہ سب بیگ بھی گاڑی میں رکھ دے صائمہ اپنے بیگ بھی ریحان کو دیے بولی ۔۔

اب ہم چلتے ہیں تم اپنا خیال رکھنا اور اچھے سے پیپر دینا صائمہ شانزے کی پیشانی کو چومے اسے سینے سے لگا گئ ۔۔

ماما مجھے بھی بھابھی سے ملنا کا موقع دے ہم بھی ویٹنگ لسٹ میں شامل ہے سلیم دونوں کو ایموشنل ہوتا دیکھ شرارت سے بولا ۔۔

میں باہر جا رہی ہو تم بھی جلدی آ جانا تمہارے بابا ہمارا آئیر پورٹ پہ انتظار کر رہے ہیں صائمہ سلیم سے بولے باہر گاڑی کی جانب بڑھی ۔۔۔

اللہ حافظ پیاری بھابھی جان آپ یہاں رہ کر پیپر دے اور میں تو چلا انجوائے کرنے کتنا مزہ آئے گا شادی پہ مجھے تو ابھی سے سوچ کے مزہ آ رہا ۔

بہت ہی فضول قسم کے بھائ ہوں تم کیا ضرورت ہے شادی پہ جانے کی یہی پر رہتے ہمارے ساتھ شانزے غصے سے بولی ۔۔

بہت اچھے خود تو شادی میں جا نہیں رہی اور میرے بھی مزے خراب کرنے پر لگی ہوئ ہے ۔۔

تم رہو اپنے کھڑوس شوہر کے ساتھ اور ہاں اپنا خیال رکھنا شیر سے الجھنے کی کوشش مت کرنا ورنہ تمہیں بچانے کے لیے کوئ نہیں ہو گا جتنی زبان کم چلاوں اتنی ہی فائدے میں رہوں گی سلیم ہنستے ہوئے بولا ۔۔

تم مجھے زیادہ نصیحت مت دو اپنا خیال مجھے رکھنا آتا ہے فکر تو تمہارے بھائ کو کرنی چاہیے ۔

میرا کام تھا تمہیں آگاہ کرنا اب اس پہ عمل کرنا یا نہ کرنا تم پر ڈیپینڈ کرتا ہے چلو اب میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا ۔۔

سلیم باہر کی طرف بڑھا صائمہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے روانہ ہو گئے ۔۔

شانزے اور رہان دونوں کو الوداع کئے اندر چلے آئے ۔۔۔

****