Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Muhabbatein (Episode 8)

Yeh Muhabbatein By Pari Khan

چاروں جیسے ہی ہال میں داخل ہوئے ان پر پھولوں کی برسات شروع ہو گئ ۔۔

دونوں کپل چلتے ہوئے سٹیج کی جانب بڑھیں ماشا اللہ دونوں کپل بہت ہی پیارے لگ رہے تھے ایک ساتھ ۔۔۔ٹی پینک کے ساتھ وائٹ کنٹراس بہت ہی جچ رہا تھا سلیم اور ریحان وائٹ ٹو پیس پہنے بہت ہینڈسم لگ رہے تھے ۔۔

صائمہ اور پروین انگوٹھی کے بوکس لیے اوپر سٹیج پر چاروں کے پاس گئ ۔

پہلے سلیم نے عروہ کو رنگ پہنائ اس کے بعد عروہ نے ریحان کو عروہ نے جیسے ہی ریحان کو رنگ پہنائ پورے ہال میں ایک شور سا گونجا عروہ شرم کے مارے نظریں جھکا گئ ۔۔

ماما اب میری باری شانزے صائمہ کے ہاتھ سے رنگ لینے کے لیے آگے بڑھی یہ پہلی دولہن تھی جو اپنی ساس سے انگوٹھی تقریبا چھین رہی تھی

صبر رکھوں شانزے پہلے تم نہیں ریحان تمہیں انگوٹھی پہنائے گا صائمہ کہے ریحان کو انگوٹھی پکڑا گئ شانزے خوشی سے ریحان کے آگے بایاں ہاتھ پھیلا گئ اسے اپنی شادی کا بہت شوق تھا شادی سے زیادہ شادی کے دوران ہونے والی رسموں سے اسے زیادہ لگاو تھا اس نے اپنی شادی کے لیے بہت خواب سجائے تھے جسے وہ ایک کھڑوس انسان کے لیے قربان نہیں کر سکتی تھی ۔۔

ریحان کی اگر اس گھر پر چلتی تو شاید وہ اس منگنی کے لیے بھی راضی نہیں ہوتا نکاح ہو گیا تھا اس کے لیے بس یہی کافی تھا ۔۔

چلو آپ پہناو بھی شانزے بے تاب ہوتی بولی ۔

انسان میں کوئ صبر نام کی بھی چیز ہوتی ہے ریحان اپنا غصہ دبائے آہستہ آواز میں کہے رنگ شانزے کی انگلی میں پہنا گیا ۔

شانزے ریحان کی ساری باتیں اگنور کئے سب کے سامنے انگوٹھی کو چوم گئ اس کی یہ حرکت دیکھے جہاں سب مسکرائے تھے وہی ریحان کے لب بھی ہلکے سے مسکرائے ۔

چلو بیٹا اب تمہاری باری صائمہ کہے شانزے کو رنگ پکڑا گئ شانزے خوشی خوشی ریحان کو رنگ پہنائے مسکرا گئ ۔۔۔

ایگیجمنٹ کی رسم خیر خیرایت سے پوری ہو گئ تھی ۔۔

***

عروہ تم نے میری رنگ دیکھی کتنی خوبصورت ہے

کوئ ستر بار تو تم مجھے اپنی رنگ دیکھا چکی ہوں لیکن میری تم نے ایک بار بھی نہیں دیکھی عروہ موبائل میں اپنی آج کی تصویریں دیکھے بولی ۔

جب سے انگوٹھی اس نے انگلی میں پہنی تھی تب سے اس کا تقریبا آدھا دماغ تو کھا چکی تھی ۔

یار میں آج بہت خوش ہو فائنلی میری بھی آج ایگیجمنٹ ہو گئ تمہیں پتہ ہے مجھے کتنا شوق تھا میری بھی ایگیجمنٹ ہوں کوئ سال دو سال میرے بھی سسرال سے عیدیں آئے لیکن ایسا کچھ ہوا ہی نہیں ہوا تو ڈائریکٹ نکاح وہ بھی اس کھڑوس کے ساتھ ۔

عروہ تم ریحان بھائ کو ایسے کیوں بولتی ہوں وہ کتنی اچھے تو ہیں ہر کیسی سے کتنی اچھی طرح سے بات کرتے ہیں اب تو وہ تم سے جھگڑتے بھی نہیں ہے ۔

تمہیں کیسے پتہ وہ مجھ سے نہیں جھگڑتے شانزے عروہ کی طرف دیکھتی ہوئ آئ برو اچکا گئ ۔

مجھے کیسے نہیں پتہ ہو گا میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہوں ریحان بھائ اب پہلے کی طرح تم پر غصہ نہیں کرتے مجھے تو لگتا ہے ریحان بھائ کو تم سے محبت ہو گئ ہے عروہ ہلکا سا مسکرائ ۔۔

عروہ کی باتیں سنے شانزے کی نظروں میں ریحان کا بدلہ ہوا چہرہ آیا ۔۔

جب انسان کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو وہ کس طرح کی حرکتیں کرتا ہے میرا مطلب ہے کس طرح ری ایکٹ کرتا ہے شانزے عروہ کے پاس جا بیٹھی ۔

اب مجھے کیا پتہ ہو گا کہ انسان کس طرح بی ہیو کرتا ہے میں نے کونسا پی ایچ ڈی کر رکھی ہے عشق محبت میں ۔۔پی ایچ ڈی نہ سہی لیکن محبت تو کرتی ہو سلیم سے ۔

محبت تو کرتی ہو لیکن مجھے یہ نہیں پتہ کہ محبت میں ری ایکٹ کیسے کرتے ہیں مجھے تو بس اس کے سامنے جاتے ہی شرم آتی ہے اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں پتہ عروہ کندھے اچکا گئ ۔

تمہیں سلیم سے شرم آتی ہے شانزے عروہ کے چہرے کو دیکھے مسکرا گئ جو ابھی بھی شرما رہی تھی ۔۔

اوئے ۔۔۔ہوئے ۔۔تم تو اس کے نام سے بھی شرماتی ہو شانزے اسے کندھا مارے مسکرا گئ ۔

شانزے تم بہت بدتمیز ہو عروہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئ ۔

تم کہاں جا رہی ہوں اب شانزے عروہ کو کمرے سے باہر جاتا دیکھ بولی ۔

میں ماما کے ساتھ سونے جا رہی ہوں عروہ کہے وہاں سے بھاگ گئ شانزے پیچھے سے اسے آوازیں ہی دیتی رہ گئ ۔۔۔

***

عروہ کب کا ڈریس چینج کر چکی تھی جبکہ شانزے ابھی تک اسی ڈریس میں موجود تھی اسے ایگیجمنٹ کی اتنی خوشی ہو رہی تھی کہ اس نے ڈریس ابھی تک چینج ہی نہیں کیا تھا ڈریس چینج کرنے کے خیال سے شانزے ڈریسنگ روم میں گئ ۔

ڈریس چینج کئے شانزے جیسے ہی ڈریسنگ روم سے باہر نکلی اپنے بیڈ پر ریحان کو لیٹا دیکھ خیران ہوئ ۔۔

تم یہاں کیا کر رہے ہوں شانزے چلتی ہوئ اس کے قریب آئ ۔

ریحان اس کی بات اگنور کئے خاموشی سے اسے سر سے لے کر پاوں تک دیکھنے لگا بلیک ٹروزر اور اس کے اوپر بلیک ہی ڈھیلی ٹی شرٹ پہنے شانزے بہت پیاری لگ رہی تھی لمبے کالے ریشمی بال اس کی کمر پر جھول رہے تھے کچھ بال اس کی پیشانی کو چھپائے ہوئے تھے ۔۔۔

میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہو تم یہاں کیا کر رہے ہو شانزے ریحان کو خود کو گھورتا ہوئے دیکھتا دیکھ اس کے مزید قریب جا کر کھڑی ہو گئ ۔۔

ریحان ایک منٹ ضائع کئے بنا اسے بازوں سے اپنی جانب کھینچ گیا یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ شانزے کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا اور وہ سیدھا ریحان کے سینے پر جا گری ۔۔

ریحان اسے نیچے کئے خود اس کے اوپر اپنا سایہ بنائے اس کے چہرے سے بالوں کو پیچھے ہٹانے لگا

یہ کیا بدتمیزی ہے پیچھے ہٹو شانزے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی ۔

یہ بدتمیزی نہیں ہے تمہارے شوہر کا تمہارے لیے پیار ہے ریحان اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں پھسائے بیڈ کے ساتھ لگا گیا نیچے سے اس کی دونوں ٹانگوں کو اپنی ایک ٹانگ میں لاک کئے اسے پوری طرح اپنے شکنجے میں لے گیا ۔۔

کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہوں شانزے خود کو اس کے شکنجے سے باہر نکالنے میں ناکام ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

تمہیں کس نے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ریحان اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپائے گہرا سانس بھرے اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتار گیا ۔

شانزے کی دل کی دھڑکن اچانک ایک دم سے تیز ہوئ اس کی گرم سانسیں اس کی دھڑکن کو بڑھا گئ ۔۔

بولوں تمہیں کیسے پتہ چلا کے میں تم سے محبت کرتا ہوں ریحان اسے خاموش دیکھے اس کی گردن سے چہرہ اوپر اٹھائے اسے دیکھنے لگا ۔۔

تم مجھ سے جھگڑتے کیوں نہیں اور یہ عجیب عجیب حرکتیں کیوں کرتے ہوں۔۔شانزے کہے ریحان کی جانب دیکھنے لگی جو لبوں پر ہلکی مسکراہٹ سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

میں تم سے محبت نہیں کرتا تمہارا شوہر تم سے محبت کرتا ہے

مطلب۔۔۔تم ہی تو ہو میرے شوہر شانزے نہ سمجھی سے بولی ۔۔

ایک ریحان ہے جو تمہارا شوہر ہے اور تم سے بہت محبت کرتا ہے اور ایک ریحان وہ ہے جو تم سے بہت نفرت کرتا ہے ریحان شانزے کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکائے بولا ۔

ریحان کی باتیں شانزے کے سر کے اوپر سے جا رہی تھی ۔۔ ایک تو اس کی الجھی ہوئ باتیں اوپر سے اس کی جان لیوا قربت شانزے کی سانیس بھاری ہو رہی تھی ۔۔

ایک بات پوچھو ۔۔شانزے ریحان کو آنکھیں بند کئے اپنی پیشانی سے سر ٹکائے دیکھتا دیکھ بولی۔

ہاں پوچھو ریحان آنکھیں بند کئے ہی بولا۔۔

تمہیں کیسے پتہ چلا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہو گئ ہے شانزے کا سوال سنے ریحان اپنا سر اٹھائے اسے دیکھنے لگا کچھ دیر اس کی آنکھوں میں دیکھنے کے بعد اس کے ہاتھوں کو آزاد کرتے ہوئے ایک ہاتھ اس کا اپنے دل کے مقام پر رکھ گیا اور ایک ہاتھ اس کا اس کے دل کے مقام پر رکھ گیا دونوں کی دل کی دھڑکن ایک رفتار پر چل رہی تھی ۔۔

شانزے دونوں کی ایک جیسے دل کی دھڑکن سنے خیران ہوئ ریحان کی جانب دیکھنے لگی ۔۔

ایسے پتہ چلا تمہارے پاس آنے سے میرے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے میرا دل میرے قابو میں نہیں رہتا اور اسی طرح میرے نزدیک آنے سے تمہارے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو جاتی ہے اس کا مطلب ہے کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہوں ۔۔

نہیں میں تم سے محبت نہیں کرتی شانزے فورا اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ گئ ۔۔

اچھا ایسی بات ہے تو پھر میرے نزدیک آنے سے تمہارے دل کی دھڑکن کیوں تیز ہو جاتی ہے تمہاری سانسیں ایک دم سے بھاری کیوں ہو جاتی ہے ۔

ایسا کچھ نہیں ہے تمہارے پاس آنے سے مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا ۔

اچھا پھر تو میرے کس کرنے سے بھی تمہیں کوئ فرق نہیں پڑتا ہو گا ریحان اس کے سرخ ہونٹوں پر نظریں گاڑھے بولا۔۔۔

شانزے ایک پل کو گھبرائ ۔۔

ریحان مسکرائے ایک نظر شانزے کی آنکھوں میں دیکھے اس کی ہونٹوں پر جھک گیا ہلکا سا چھوئے ریحان پیچھے ہوا ۔۔

اب کچھ محسوس ہوا ۔

نہیں ۔۔۔شانزے گلا تر کئے نہ میں سر ہلا گئ

ریحان ایک بار پھر اس کے ہونٹوں پر جھکے ہلکا سا کاٹے پیچھے ہوا۔۔

شانزے غصے سے اسے گھورنے لگی ۔

اب تو کچھ محسوس ہوا گا ۔

کوئ بہت ہی بدتمیز انسان ہو تم چھوڑوں مجھے شانزے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے پیچھے کرتی ہوئ اپنی ٹانگے اس کے شکنجے سے چھوڑانے لگی ۔۔

ویسے ایک بات بتاوں ریحان اس کے بالوں کو پیشانی سے پیچھے ہٹائے ٹھوڑی سے اس کا چہرہ تھوڑا اوپر کو اٹھاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا

شانزے اپنے ہاتھ اس کے سینے پر ہی رکھے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔

تم آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی کئ لمحے دونوں ایسے ہی ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پہلی دفعہ شانزے شرم سے نظریں جھکا گئ جسے دیکھ ریحان مسکرا گیا اور پوری شدت سے اس کی پیشانی کو چوم گیا ۔۔۔

ریحان چھوڑوں مجھے کوئ آ جائے گا شانزے فورا واپس اپنی ٹون میں آئ ریحان اتنی مضبوطی سے اسے پکڑے ہوئے تھا کہ شانزے چاہ کر بھی خود کو چھوڑا نہیں پا رہی تھی ۔۔

ایک شرط پر چھوڑ سکتا ہوں ۔

میں تمہاری کوئ شرط نہیں ماننے والی ۔شرط تو ماننی پڑے گئ اگر تم آزاد ہونا چاہتی ہوں تو تمہیں مجھے سے التجا کرنی ہو گئ ہاتھ جوڑ کر مجھ سے بولنا ہو گا اور یہ سب مجھے زور سے گلے لگا کر بولنا ہو گا ۔

اس کی فرمائش سنے شانزے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی جیسے اس نے کچھ غلط سن لیا ہو ۔

میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی ۔۔

تو پھر ٹھیک ہے ساری رات ہم دونوں ایسے ہی گزارے گئے ویسے ایک راز کی بات بتاوں دروازے کا لاک کھولا ہوا ہے کسی بھی وقت کوئ بھی اندر آ سکتا ہے شانزے پر خیرت کا پہاڑ ٹوٹا ۔۔

ریحان تم ایسا کیسے کر سکتے ہوں یا اللہ کوئ آ گیا تو شانزے اپنے آپ کو چھوڑانے کے لیے پھڑپھڑانے لگی ۔۔

ریحان چھوڑوں مجھے شانزے چلائ ۔۔

پہلے میں نے جو کہا ہے وہ کرنا ہو گا پھر ہی رہائ ملے گئ جتنی دیر کروں گی اتنا پکڑے جانے کے چانسس زیادہ ہو گئے ۔۔

ریحان میں سہی سوچتی ہوں تم بہت ہی گھٹیا انسان ہوں بدتمیز ہوں اور ایک نمبر کے کھڑوس انسان ہوں ۔۔

یو باتیں کر کے ٹائم ضائع مت کرو ورنہ کوئ آ جائے گا ۔۔

شانزے کبھی دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی تو کبھی ریحان کی جانب اگر کوئ انہیں اس حالت میں دیکھے گا تو کیا سوچے گا شانزے یہ سوچ کر ہی شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی ۔۔۔

مجبورا شانزے ریحان کے گلے میں بازوں ڈالے اس کے سینے سے لگی ریحان مسکرائے اس کی کمر کے گرد حصار بنائے اس زور سے بیچ گیا ۔۔

ریحان پلیز ۔۔۔مجھے چھوڑ دو اس کے کانوں میں رس گھولتی آواز ریحان کو ہنسنے پر مجبور کر گئ ریحان کا قہقہ پورے کمرے میں گونجا ریحان کچھ دیر اسے محسوس کئے اسے چھوڑتے ہوئے پچھے ہوا ۔۔

شانزے اس کے چھوڑتے ہی ایک سکینڈ ضائع کئے بنا بیڈ سے نیچے اتری ۔۔

چلو اب نکلو یہاں سے اس سے پہلے یہاں کوئ آ جائے شانزے دوسری سائیڈ پہ آئے ریحان کو بازوں سے پکڑے دروازے کی جانب لائ ۔۔

ویسے تم جتنی بیوقوف لگتی ہوں اس سے کہی زیادہ بیوقوف ہو دروازہ لاک ہی تھا ۔

ریحان تم ایک نہایت ہی گھٹیا انسان ہو دفع ہو جاوں یہاں سے اس پہلے میں تمہارا سر پھاڑ دو شانزے دانت چبائے بولی اسے بے حد غصہ آ رہا تھا

گڈ نائٹ مائے گرل ریحان ایک بار پھر آگے بڑھا اس کے گال کو لبوں سے چھوئے وہاں سے بھاگ گیا ۔

میں تمہیں چھوڑوں گئ نہیں ریحان کے بچے شانزے غصے سے دروازے بند کئے اس کے ساتھ ٹیک لگا گئ ۔۔۔

****