Yeh Muhabbatein By Pari Khan Readelle502303 Yeh Muhabbatein (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Yeh Muhabbatein (Episode 10)
Yeh Muhabbatein By Pari Khan
ماما پلیز مان جائے ۔۔اگر لڑکے بیچولر پارٹی کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں وہ ساری رات مستی کرے گئیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے اور ویسے بھی ہم گھر میں پارٹی کریں گئے موج مستی کرے گئے شادی کے بعد ایسا موقع ملے نہ ملے شانزے معصوم سی شکل بنائے آنکھیں ٹمٹائے صائمہ کی جانب دیکھنے لگی ۔۔
صائمہ مان جا نہ بچیاں کونسا باہر جانے کی ضد کر رہی ہیں گھر میں ہی کچھ کرنے کا کہہ رہی ہے پروین شانزے کی سائیڈ لیے بولی صائمہ سب سے ہارتے ہوئے مان گئ ۔
جیسے تم سب کی مرضی ویسے ہی کرو لیکن ہم دونوں کو ان سب میں شامل مت کرو ۔۔
میری پیاری خالہ جان آپ دونوں کی بنا تو یہ پارٹی نامکمل رہی گئ آپ کو آنا ہی ہو گا عروہ صائمہ کے گال کھینچے وہاں اپنے لب رکھ گئ ۔۔
بالکل آپ دونوں بھی اس پارٹی میں شامل ہو گئ اور آپ کو پتہ یہ ایک تھیم پارٹی ہو گئ جہاں ہم مختلف مختلف ماڈلز بن کر آئ گئ ۔۔
کچھ خدا کا خوف کھاو لڑکیوں اب اس عمر میں تم دونوں ہم سے یہ سب کرواوں گئ تم دونوں ہی پارٹیاں کرو اب ہماری عمر نہیں پارٹیاں انجوائے کرنے کی ۔۔
پروین خالہ ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے آپ انڈیا کے ڈرامے نہیں دیکھتی ان میں تو لڑکی کی ماں کیسے ویل ڈریس ہو کے ہر فیکشن میں حصہ لیتی ہے اور ان کے بزرگ وہ تو ان سے بھی چار قدم آگے ہوتے ہیں ۔۔اگر وہ یہ سب کر سکتی ہے تو آپ کیوں نہیں ۔۔
لیکن بیٹی۔۔۔کوئ ایکسکیوز نہیں چلیں اٹھے دونوں اور جا کر رات کی پارٹی کی تیاری کرے تب تک ہم لوگ اپنے فرینڈز کو بھی بولا لیتے ہیں ۔
لیکن ہم لوگ پہنے گئ کیا ہمارے پاس تو ماڈلوں جیسی ڈریس نہیں ہے ۔۔صائمہ پریشان سے عروہ اور شانزے کی طرف دیکھنے لگی ۔۔
ماما آپ فکر نہ کریں آپ دونوں کے ڈریس آپ کے روم میں پہنچ جائے گئے آپ اندر جائے اور کوئ فیس پیک منہ پر لگائے تاکہ آپ دونوں فریش اور ینگ نظر آ سکیں ۔۔
اب بس یہی سب کچھ دیکھنا رہ گیا تھا جیسے جیسے دنیا آگے جا رہی ہے لوگوں کو نئے نئے چونچلے سوجھ رہے ہیں ماما اب بس بھی کرے نہ اور جلدی سے تیاریاں کرے جا کر ۔۔۔۔
اب مزہ آئے گا سلیم کا بچہ بڑی باتیں کر کے گیا تھا کہ ہم لوگ ساری رات باہر انجوائے کرے گئے مزے کریں گئے اور تم دونوں گھر بیٹھے کے سڑوں گئ اب اسے پتہ چلے گا لڑکیاں کچھ بھی کر سکتی ہے باہر نہیں جاسکتی لیکن گھر میں مزے کر سکتی ہے ۔
شانزے صائمہ اور پروین کے جاتے ہی سلیم کی باتیں سوچے بڑبڑائ ۔۔
شانزے ہمارے پاس بلکل بھی ٹائم نہیں ہے تم سب فرینڈز کو کال کرو میں کپڑوں کا انتظام کرتی ہو ۔۔۔ہاں یہ ٹھیک رہے گا دونوں آفراتفری سے ادھر اودھر بھاگنے لگی ۔۔۔
***
واہ بھائ کیا انتظام کیا ہے دل خوش ہو گیا ریحان سلیم صدام اور ان کے ساتھ موجود ان کے چار دوست کلب میں داخل ہوئے کلب بلکل خالی تھا ریحان نے آج کے دن کے لیے سارا کلب بک کروایا ہوا تھا ۔
وہاں شراب شباب ہر چیز موجود تھی ۔۔
امان میاں تم ابھی میرے بھائ کو جانتے نہیں ہو جس کام کی وہ اپنے اوپر ذمہ داری لیتے ہیں وہ کام تو پرفیکٹ ہونا ہی ہوتا ہے ۔۔
بلکل ریحان کوئ کام کریں اور لوگ اس کی تعریف نہ کریں ایسا کبھی ہو نہیں سکتا صدام آنکھ مارے مسکرا گیا ۔۔
بلکل ہمارا دوست لاجواب ہے آج کی شام بہت مست ہونے والی ہے ہمارے لیے بھی اور تم دونوں کے لیے بھی آج جتنا انجوائے کرنا ہے کر لو دو دن بعد تم دونوں کی آزادی بلکل ختم ہو جائے گئ پھر تم دونوں بیوی کے نخرے اٹھاتے ہی نظر آو گئے ۔۔۔
ایسی بات نہیں بیٹا جی اگر لائف پارٹنر اچھا ہو آپ کے ساتھ مخلص ہو تو اس کے نخرے اٹھانے میں کوئ خرج نہیں ارشاد سلیم اور ریحان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بولا ۔۔
انکل آپ یہاں ۔۔دونوں کے دوست خیران ہوئے تھے
ہاں بلکل میں یہاں۔۔کیوں میں تم لوگوں کے ساتھ پارٹی انجوائے نہیں کر سکتا یہ پھر تم سب مجھے بوڈھا سمجھتے ہو اور اپنی نوجوان پارٹی میں شامل نہیں کرنا چاہتے ۔۔
نہیں انکل ایسی بات نہیں ہے موسٹ ویلکم ۔۔
بلکل ہمارے ڈیڈ پرانے زمانے کے لوگوں جیسے نہیں یہ آج کے نوجوان ہے سلیم ہنسے ارشاد کے گلے لگ گیا ۔۔
چلو تو پھر پارٹی شروع کرتے ہیں میں بھی تو دیکھو میرے بیٹوں نے کیسا انتظام کیا ہے سب ایک ساتھ کلب میں داخل ہوئے ۔۔۔
***
تھوڑے ہی وقت میں شانزے عروہ اور اس کے فرینڈز مل کر گھر کا نقشہ ہی بدل گئے تھے یہ گھر کم کلب زیادہ لگ رہا تھا ۔۔
فل لاوڈ میوزک میں انجوائے کرتے ہوئے سب ایک ایک کر کے اپنے جلوے دیکھا رہے تھے سب نے بلیو کلر پہن رکھا تھا صائمہ اور پروین بلیو شلوار قمیض کے اوپر بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کئے اس کے اوپر بڑے بڑے پھول لگائے بلکل پرانے زمانے کی ہیروئن لگ رہی تھی دونوں کو بہت شرم بھی آ رہی تھی آج پہلی دفعہ دونوں اس قدر تیار ہوئ تھی ۔۔
عروہ نے فل بلیو میکسی پہن رکھی تھی درمیان سے مانگ نکالے سائیڈو سے بالوں کو کرل کئے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
شانزے بلیک ہاف بلاوز کے اوپر بلیو ساڑھی پہنے سائیڈ سے مانگے نکالے بالوں کو بلکل سٹریٹ کئے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ان کی فرینڈز بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
باری باری سب ماڈلوں کی طرح چلتی ہوئ اپنے جلوے دیکھا رہی تھی ۔۔فل ڈسکو لائٹ میں میوزک کو فیل کرتے ہوئے سب جھوم رہے تھے ۔۔
***
بھائ آپ یہاں ایک کونے میں بیٹھے کیا کر رہے وہاں سٹیج پر چلے دیکھے سب کتنا انجوائے کر رہے ہیں سلیم ریحان کو سب سے الگ ایک کونے میں بیٹھا دیکھ اس کے پاس آیا ۔۔
شانزے فون نہیں اٹھا رہی مجھے ٹینشن ہو رہی ہے
بھائ وہ گھوڑے بیچ کر سو رہی ہو گئ ٹائم تو دیکھے رات کا ایک بج گیا ہے سوئ ہو گئ ۔۔
کوئ سو دفع میں اسے کالز کر چکا ہو ایک بار تو اٹھا سکتی تھی اتنی بھی کیا گہری نیند ہوئ ۔۔
اب آپ کہا چل دیے سلیم ریحان کو وہاں سے اٹھتا دیکھ پریشانی سے بولا۔۔
میں شانزے کے پاس جا رہا ہوں ۔۔
میں بھی آپکے ساتھ چلتا ہوں نہیں تم ڈیڈ کے ساتھ یہی پر رہو ۔۔
بھائ ڈیڈ کے ساتھ صدام بھائ ہے اور ویسے بھی ہمیں اختیاط سے جانا ہو گا ان دونوں کے باڈی گارڈ نے ہمیں دیکھ لیا تو سسرال جانے سے پہلی ہی پرچہ کٹ جائے گا دونوں ایک ساتھ مسکرائے ۔۔
***
دونوں جیسے ہی گھر پہنچے گاڑی سے اترے میوزک کی تیز آواز انہیں سنائ دی دونوں ایک دوسرے کا چہرے دیکھے خیران ہوئے ۔۔
دونوں جلدی سے اندر کی جانب بڑھے جیسے ہی دونوں اندر داخل ہوئے گھر کا ماحول دیکھ دونوں کی آنکھیں پھیل گئ سب سے بڑا جھٹکا تو انہیں اپنی ماما اور خالہ کو دیکھ کر لگا جو میوزک کے لیرکس پر جھوم رہی تھی ۔۔
فل ڈسکو ماحول میں سب سب کچھ بولائے جھوم رہے تھے انہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی کلب میں دونوں آئے ہو ۔۔
عروہ اور شانزے کو دیکھ کر دونوں کے لب مسکرائے دونوں ناگن ڈانس کرتی ہوئ ان کے دل میں اتر رہی تھی ۔۔۔
واہ بھائ یہاں تو بڑا ماحول بنا ہوا ہے ۔۔ہم سے زیادہ تو یہ لوگ انجوائے کر رہے ہیں اور ہماری بیویوں کو تو دیکھوں ۔۔مجھے تو لگا تھا یہ گھوڑے بیچ کر سو رہی ہو گئ لیکن یہاں تو کچھ اور ہی چل رہا ہے ۔۔
دونوں دیوار کے پیچھے چھپے ان لوگوں کو دیکھ کر انجوائے کر رہے تھے ۔۔
میں ابھی آیا ریحان شانزے کو اوپر سڑھیاں چڑھتا ہوا دیکھ وہاں سے کھسک گیا جلدی آنا اگر میں پکڑا گیا تو یہ سب مل کر میرا سرما بنا دے گئے ۔۔
نہیں کچھ ہوتا تم اکیلے ہی ان سب کے لیے کافی ہوں ریحان آنکھ مارے مسکرا گیا اور جلدی سے وہاں سے باہر نکل گیا۔۔۔
واہ میڈم یہاں تو بڑا ناگن ڈانس ہو رہا ہے اور میرے سامنے تو تمہاری بولتی بند ہو جاتی ہے ایسا لگتا ہے جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو کوئ نہیں گن گن کر بدلے لو گا بس دو دن صبر کر لو سلیم عروہ کو ناگن ڈانس کرتا دیکھ بڑبڑایا ۔۔۔۔
***
شانزے فریش ہوئے واش روم سے باہر نکلی تھی کہ کھڑکی سے ریحان کو اندر کھودتا دیکھ خیرانگی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
تم۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو تمہیں اندر کس نے آنے دیا ابھی میں سب کو بلاتی ہوں شانزے ایک سکینڈ ضائع کئے بنا دروازے کی جانب بڑھی اس سے پہلے شانزے باہر نکلتی ریحان بھاگتے ہوئے اسے کمر سے پکڑے اس کی پیٹھ کو اپنے سینے سے لگائے اسے اپنے شکنجے میں لے گیا ۔۔۔
کہا بھاگ رہی ہو ۔۔ایک بات تم اچھے سے سمجھ لو اب تم کبھی بھی مجھ سے بھاگ نہیں سکتی اگر کوشش بھی کرو گئ تو نہیں بھاگ نہیں پاو گئ۔
تم یہاں کیا کر رہے ہوں تم تو اپنی بیچولر پارٹی سلیبریٹ کرنے گئے تھے اتنی جلدی ختم ہو گئ تمہاری پارٹی شانزے خود کو اس کے شکنجے سے چھوڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔
اگر میں یہاں نہ آتا تو اپنی بیوی کا سیکسی روپ کیسےدیکھتا ریحان اسے گھومائے اس کا چہرہ اپنی طرف کئے اس کے قاتل سراپے کو دیکھنے لگا اس کے ریڈ لیپسٹک سے رنگے ہوئے ہونٹ اس کے جذباتوں کو اجاگر کر رہے تھے ۔۔۔
چھوڑوں مجھے جب دیکھو چیپکتے رہتے ہوں چھوڑوں مجھے شانزے اس کی نظریں اپنے ہونٹوں پر محسوس کئے اس کے سینے پر مکے برسانے لگی ۔
یہ تو خدا کی مہربانی ہے اس نے مجھے تمہارا یہ روپ بھی دیکھایا اگر آج میں یہاں نہ آتا تو مجھے تو کبھی پتہ ہی نہیں چلتا کہ میری بیوی میں اتنا ٹیلنٹ چھپا ہوا ہے ریحان اس کی کمرے میں ہاتھ ڈالے اسے سہلانے لگا ۔۔
شانزے اس کی اس حرکت سے چونکی اور ریحان کا ہاتھ پکڑے اسے اپنی کمر سے ہٹانے لگی ریحان چھوڑوں مجھے ورنہ میں چیخ چیخ کر سب کو اکھٹا کر لو گی ۔۔
اتنے شور میں تمہاری آواز کوئ نہیں سنے گا فضول میں اپنا گلا خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ریحان دیکھو میں کہہ رہی ہو چھوڑ دو مجھے ورنہ۔۔۔شانزے اس کی آنکھوں میں دیکھے بولی۔۔
ورنہ ۔۔ورنہ کیا کر لو گی مارو گئ مجھے یہ چیخ چیخ کر گھر والوں کو بلاوں گئ ریحان طنز کئے ہنسا ۔
شانزے غصے سے اس کی جانب دیکھے اپنا گھوٹنا اس کے پیٹ پر مار گئ ریحان درد سے پیٹ پکڑتے شانزے سے تھوڑا پیچھے ہوا ۔۔
کہا تھا نہ چھوڑ دو ورنہ اچھا نہیں ہو گا ۔۔اب مزہ آیا اب مجھے ہاتھ لگایا تو اس سے بھی برا ہو گا شانزے ہاتھ جھاڑے ریحان کی جانب دیکھ کر ہنسنے لگی ۔۔۔
ریحان اس کے مسکراہتے ہوئے چہرے کو دیکھے ایک منٹ بھی ضائع کئے بنے اس کے سرخ ہونٹوں پر جھکا اسے پیچھے دروازے کے ساتھ لگا گیا یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ شانزے کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔۔ریحان شدت سے اس کے ہونٹوں پر جھکا اس کی سانسوں کو پینے لگا شانزے اس کے سینے پر مکے برسائے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
ریحان ایک ہاتھ اس کے بالوں میں پھسائے دوسرے ہاتھ اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑے اس کی تمام کوششوں کو نظر انداز کئے قطرہ قطرہ اس کی سانسوں کو پینے لگا ریحان اس کی سانسوں کو پیئے درندگی سے اس کے نچلے ہونٹ پر کاٹے پیچھے ہوا مسکرا کر اس کی اجڑی ہو حالت کو دیکھنے لگا ۔
شانزے گہرے گہرے سانس بھرے اس کو غصے سے دیکھنے لگی ۔۔
کیوں کیسا لگا اب کبھی مجھے خود سے دور کیا تو یہ جو تھوڑی بہت سانسیں چھوڑی ہےاسے بھی پی جاوں گا ریحان انگوٹھے کی مدد سے اس کے نچلے ہونٹ سے بہہ رہے خون کو صاف کئے اس کی غصے سے بڑی آنکھوں میں دیکھنا لگا ۔۔
بہت برے ہو تم ہر بار مجھے ہارٹ کرتے ہوں شانزے کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔۔
ریحان پریشان ہوا ۔۔
شانزے کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو ۔
تمہاری وجہ سے رو رہی ہو اتنی زور سے میرے ہونٹ پر کاٹا تم نے تم ہر بار ایسا ہی کرتے ہو جان بوجھ کر مجھے ہارٹ کرتے ہوں تمہیں مجھے روتا ہوا دیکھ خوشی ہوتی ہے۔۔
تمہیں درد ہو رہا ہے ریحان اسے کے نیچلے ہونٹ کو سہلائے اس کی جانب فکر مندی سے دیکھنے لگا ۔
شانزے اسے فکر کرتا دیکھ ہاں میں سر ہلا گئ ۔
ابھی تمہارا درد غائب کر دیتا ہوں ریحان نرمی سے اس کے زخم پر ہونٹ رکھے پیچھے ہوا شانزے کو ایک بار پھر شاک لگا اسے لگا تھا ریحان اس کے درد کا احساس کئے اسے چھوڑ دے گا ۔
اب کیسا لگ رہا ہے ریحان مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھنے لگا ۔۔
بہت ہی گھٹیا انسان ہو۔۔کھڑوس شانزے منہ بنائے بولی ۔۔
تم کیا سمجھتی ہوں میں تمہیں اتنی آسانی سے چھوڑ دو گا ابھی تو میں نے تمہیں جی بھر کر دیکھا ہی کہا ہے ریحان شانزے کو کمر سے ہی پکڑے آئنے کے سامنے کھڑا کئے خود اس کے شولڈر پر ٹھوڑی رکھے آئنے میں اسے سر سے لے کر پاوں تک دیکھنے لگا اسے اس طرح اپنی طرف دیکھتا دیکھ شانزے کو بے حد شرم آئ ۔۔۔
ریحان اب بس کرو کتنا مجھے دیکھوں گئے شانزے گھبرائ شرمائ سی بولی ریحان کا اسے گہری نظروں سے دیکھنا شرم سے پانی پانی کر رہا تھا ۔
ساری عمر۔۔ ساری عمر بھی تمہیں دیکھتا رہو تو پھر بھی یہ دل نہیں بھرے گا پتہ نہیں کیسے مجھے تم سے اتنی محبت ہو گئ ریحان اس کی گردن پہ اپنا لمس چھوڑے گہری سانس بھرے اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتار گیا ۔۔
شانزے زور سے اپنی آنکھیں میچ گئ ۔۔
ریحان کا ہاتھ حرکت کرتے ہوئے اس کی کمر سے ہوتے ہوئے اس کے پیٹ پر ریگنے لگا ۔۔
ریحان ۔۔شانزے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بھاری سانسوں سے پکارے ہوش میں لائ ۔۔
ریحان آئنے میں اس کی بگڑی حالت کو دیکھے زور سے اس کی کان کی لو پر کاٹے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر گیا ۔۔۔۔۔
شانزے گہرے گہرے سانس لیے خود کو پرسکون کئے ریحان کی طرف دیکھنے لگی جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔
بہت بدتمیز گھٹیا انسان ہوں تم جاوں مجھے نہیں تم سے بات کرنی شانزے اپنی ٹون میں واپس آئ کھڑکی کی جانب چلی گئ ۔۔
تو نہ کرو میں کونسا تم سے بات کرنے کے لیے پاگل ہو رہا ہوں ریحان کی بات پر شانزے پیچھے موڑے اسے گھورنے لگی ۔۔
چلے جاوں یہاں سے دفع ہو جاوں شانزے ریحان کا ہاتھ پکڑے اسے کھینچتی ہوئ کھڑکی کے پاس لائ ۔۔
شانزے ریحان کو کھینچ رہی تھی کہ اچانک پن کھولنے سے اس کے ساڑھی کا پلو نیچے گر گیا شانزے کا شاک سے منہ کھول گیا ریحان آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا شانزے ایک منٹ ضائع کئے بنا جلدی سے اپنا پلو اٹھائے کندھے پر رکھ گئ ۔۔
تم مجھے بیجھنا چاہتی ہو یہ روک رہی ہو ریحان اس کی پتلی ہوتی حالت دیکھ مسکرا گیا کوئ بہت ہی بے شرم انسان ہو ۔۔چلے جاوں شانزے اسے کھڑکی سے باہر دھکے مارتے ہوئے چلائ ۔۔
صبر رکھو لڑکی کیا مجھے مارنا چاہتی ہوں ۔
اگر تم یہاں سے نہ گئے تو سچ میں مار دو گی ۔
ویسے ایک بات کہو شانزے تجسس سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
باہر سے تو سیکسی ہوں لیکن اندر سے تو کافی ہوٹ ہو ریحان کہے کھڑکی سے کود گیا ۔۔
گھٹیا لوفر بے شرم انسان شانزے غصے سے کھڑکی بند کر گئ ۔۔۔۔
****
