Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Muhabbatein (Episode 3)

Yeh Muhabbatein By Pari Khan

رکو ! کہاں جا رہی ہو ریحان شانزے کو بیگ شولڈر کے ساتھ لگائے جاتا دیکھ اس کی طرف آیا ۔۔

میں کہی بھی جاوں تمہیں اس سے مطلب ؟

شانزے اس کی جانب مڑی ۔

بلکل۔۔شاید تم بھول رہی ہوں کہ کچھ دن پہلے ہی تم نے نکاح نامے پر دستخط کر کے خود کو میرے حوالے کیا ہے ۔۔

اب تم میری ملکیت ہوں اور تمہاری ہر بات ہر کام سے مجھے مطلب ہو گا ۔۔۔۔سمجھی ریحان آنکھوں میں نفرت لیے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔

ہاں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں تمہاری غلام ہو گئ ۔۔میں اب بھی جو چاہوں کر سکتی ہوں تم مجھے روک نہیں سکتے ۔۔

اچھا۔۔۔ایسی بات ہے تو تم مجھے اس گھر سے ایک قدم بھی باہر نکال کر دیکھاوں ریحان اسے چیلنج کرتے ہوئے پیچھے ہٹے اسے راستہ دیے پیچھے ہوا ۔۔۔

ریحان دیکھو تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ۔۔میں ماما اور بابا کو شکایت لگاو گئ ریحان کے لہجے میں اس قدر سختی تھی کہ شانزے کی آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئ اور ویسے بھی اس وقت اس کے ساتھ بہس کرکے اپنے پاوں پڑ خود کلہاڑی نہیں مار سکتی تھی ۔۔۔

کیوں کیا ہوا ڈر گئ بریو گرل۔۔۔

میں ڈرتی نہیں ہو وہ تو میں ایسے ہی لڑائی نہیں کرنا چاہتی کل میرا لاسٹ پیپر ہے اس کی تیاری کے لیے میں اپنا ذہن پرسکون رکھنا چاہتی ہوں بس اسی لیے ۔۔

کل تمہارا لاسٹ پیپر ہے تو تم تیاری کرنے کی بجائے بیگ پکڑے کہاں جا رہی ہو ۔

وہی تو کرنے جا رہی ہو مجھے کچھ ٹاپک سمجھ نہیں آ رہے تھے اس لیے میں اپنی فرینڈ کے پاس جا رہی تھی وہ میری مدد کر دی گئ ۔۔آج پہلی بار شانزے اسے کسی چیز کی وضاحت دے رہی تھی وہ بھی بس اس لیے کہ آج اسے اس کے غصے سے بچانے والا کوئ نہیں موجود تھا گھر میں صرف یہ دونوں ہی موجود تھے ملازمہ بھی اپنے کواٹر میں تھی ۔۔۔

اب میں جاوں شانزے بیگ پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگی جو اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔

نہیں تم کہی نہیں جاوں گئ ۔۔

نہیں۔۔۔اگر میں نہیں گئ تو کل کے پیپر میں میں فیل ہو جاوں گئ ۔۔

نہیں ہو گئ تم فیل بتاوں کونسے سے ٹاپک ہے میں سمجھا دیتا ہوں لیکن تم گھر سے باہر نہیں جاوں گئ

تم کیسے سمجھاوں گئے وہ بہت مشکل ٹاپک ہے تمہیں بھی سمجھ نہیں آئے گئیں شانزے جتنی اس سے اپنی جان چھوڑانا چاہتی تھی اتنا ہی وہ اس کے گلے پڑ رہا تھا ۔۔۔

تم میری قابلیت پر شک کر رہی ہوں ریحان اس کی طرف دیکھے اپنی آئ برو اچکائے بولا۔۔۔

چلو سٹڈی روم میں اور بتاوں کونسا ٹاپک ہے ریحان سٹڈی روم کی جانب بڑھتے ہوئے بولا ۔۔

یا اللہ ۔۔۔کس مصیبت میں پھسا دیا اس جن سے پڑھنے کی بجائے میں فیل ہی ہو جاتی تو اچھا تھا ابھی اس سے پنگا بھی نہیں لے سکتی ۔۔

آنے دو ماما،بابا کو ایک ایک شکایت لگاوں کی اس جن کی لیکن تب تک اللہ میاں جی مجھے اس سے محفوظ رکھنا شانزے اس کے پیچھے آہستہ آہستہ سے چلتے ہوئے بڑبرائے جا رہی تھی۔۔۔۔

***

شانزے یار تمہیں سمجھ کیوں نہیں آ رہی پانچویں مرتبہ میں تمہیں سمجھا رہا ہوں ۔۔۔

ریحان اسے بار بار سمجھائے تنگ آ گیا تھا لیکن ایک لفظ بھی اس کے پلے نہیں پڑ رہا تھا اب ریحان کو غصہ آنے لگا تھا ۔۔

نہیں سمجھ آ رہا تو نہیں آ رہا ویسے بھی میتھ میرا نا پسندیدہ سبجیکٹ ہے اس لیے میں نے بولا تھا مجھے اپنی فرینڈ کے پاس جانے دو وہ مجھے بہت اچھے طریقے سے سمجھاتی ہے اس کے سمجھانے سے تو مجھے ایک منٹ میں سمجھ آ جاتی ہے ۔۔۔۔

وہ ایسا کیا کرتی ہے کہ تمہیں اتنی جلدی سمجھ آ جاتی ہے ۔۔

مجھے پیار سے سمجھاتی ہے تمہاری طرح غصے سے نہیں ۔۔

رہنے دو تم تم سے نہیں ہو گا میں کل صبح اس سے جا کر سمجھ لو گی ۔مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے میں کھانا کھانے جا رہی ہوں تمہیں بھی چاہیے تو بتا دوں تمہارے لیے بھی لے آتی ہو ۔۔

شانزے اپنی کتابیں بیگ میں ڈالنے لگی ۔۔

ویسے تو تم بہت چلاکو ماسی بنتی پھرتی ہوں لیکن میتھ تمہیں سمجھ نہیں آتا ۔

مجھے بہت اچھے سے سمجھ آتا ہے لیکن جس طرح آپ سمجھاتے ہیں اس طرح مجھے سمجھ نہیں آتا ۔۔۔۔

اور ویسے بھی میتھ سمجھانا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہوتی شانزے جاتے ہوئے ریحان کو طنز کئے بنا نہیں رہ سکی ۔۔۔

جو خود ہی سمجھنا نہیں چاہتا اسے کیا میری سمجھ آئے گئ رہحان نے اپنی انسلٹ برداشت نہیں ہوئ ۔۔۔

یا اللہ مجھے صبر دینا نہ جانے کس نمونے کو آپ نے میری زندگی میں شامل کر دیا ہے میں نے کون کون سے خواب دیکھے تھے اپنی لائف پارٹنر کے حوالے سے لیکن یہ تو بلکل اس کے برعکس ہے ریحان سرد آہ بھر گیا ۔۔۔۔

****

ریحان پلیز مجھے شادی پر لے جاوں ۔۔

شانزے آخری پیپر دیے سیدھا یونیورسٹی سے ریحان کے آفس جا پہنچی ۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہوں اور کس کے ساتھ آئ ہوں میں نے منع کیا تھا کہ تم اکیلے کہی نہیں جاوں گی تو تم یہاں کیوں آئ ۔۔۔

ریحان اسے اپنے آفس میں دیکھ غصے سے اس پر چیخا ۔۔

اتنا چیخ کیوں رہے ہوں اکیلے نہیں آئ اپنی فرینڈ کے ساتھ آئ ہو مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی اس لیے آئ ہو ورنہ مجھے بھی یہاں آنے کا کوئ شوق نہیں ہے ۔۔

اور یہ فضول بات تمہاری ضروری بات تھی ریحان کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ماما بابا کی وجہ سے وہ اس سے اتنے دن سے نرمی سے بات کر رہا تھا ورنہ اسے دیکھ اس کا غصے خود بخود ہی ہائ ہو جاتا تھا ۔۔

لیکن آج اس کی برداشت ختم ہو گئ اور وہ اس پڑ پھٹ پڑا تھا ۔۔۔

یہ فضول کی بات نہیں ہے مجھے شادی پر جانا ہے

وہ بھی ابھی شانزے بھی غصے سے بھری بولی اس کی سوچ کے مطابق جب سے نکاح ہوا تھا ریحان اس پر کچھ زیادہ ہی حکم چلانے لگا تھا اور یہ بات شانزے کو کھٹک رہی تھی ۔۔اس لیے آج اپنی بات پر بضبد تھی ۔۔۔

گھر چلو گھر چل کر بات کرتے ہیں یہاں تماشہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ریحان اسے بازو سے پکڑے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گیا۔۔۔

چھوڑوں مجھے میں خود چلی جاوں گئ گھر شانزے اپنا بازوں چھوڑانے کی بھر پور کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔

چپ چاپ یہاں بیٹھو ورنہ۔۔۔ریحان اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر پھینکے خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے گاڑی لاک کر گیا ۔۔۔۔

بہت بدتمیز ۔۔اکڑو کھڑوس انسان ہو تم ۔۔۔شانزے غصے سے چلائ ۔۔۔

خاموش ہو جاوں شانزے ورنہ کچھ برا ہو جائے گا ریحان دانت چباتے ہوئے بولا ۔۔

شانزے اس پر لعنت بھیجے خاموش آنسو گرانے لگی ۔۔۔

****

ماما بابا کو گھر آنے دو سب بتاوں گی انہیں ۔۔تمہیں ڈانٹ نہ پروائ تو میرا نام بھی شانزے نہیں شانزے گھر کے اندر داخل ہوئ بڑبڑائ ۔۔۔

تم پاگل تو نہیں ۔یہ جان بوجھ کر میرے سامنے پاگل بنتی ہو شادی کل کی ختم ہو چکی ہے تم وہاں جا کر کیا کروں گئ ۔۔

ابھی ختم نہیں ہوئ رات کو ولیمہ ہے مجھے سلیم نے بتایا ہے ۔

تم ولیمہ پر جا کر کیا کرو گی چپ چاپ گھر رہو اور ویسے بھی کل سب واپس آ جائے گئے ریحان اسے مسلسل روتا ہوا دیکھ توڑا نرم ہوا ۔۔۔

تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ جاتی ۔۔تم کبھی نہیں میری بات مانتے مجھے ہر وقت ڈانٹتے ہو غصہ کرتے ہو ۔۔آخر کار میں نے تمہارا بگاڑا کیا ہے شانزے اپنے آنسو اپنی ہاتھ کی پوشت سے صاف کئے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔

تم نے کچھ نہیں کیا میں نے ہی سب کچھ کیا ہے مجھے ابھی جانا ہے میری بہت ایمپورٹنٹ میٹنگ ہے واپس آ کر بات کرتا ہوں اور کہی جانا مت ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا ریحان اس کی انکھوں میں دیکھے اسے وارننگ دیے واپس جانے کے لیے باہر کی جانب مڑا ۔۔ ۔۔

چلے جاوں ۔۔مجھے تمہاری کوئ ضرورت نہیں ہے گھٹیا انسان ، کھڑوس ،خود غرض، جلاد شانزے اونچی اونچی چلاتے ہوئ گھر کی تمام چیزیں توڑنے پھوڑنے لگی۔۔

اس کا کتنا دل تھا شادی میں جانے کا اس لیے بنا ریحان کے غصے کی پروا کئے وہ اس کے آفس میں گئ بس اس امید کے ساتھ کہ شاید ریحان اس کی بات مان جائے ۔۔۔

***