Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 20

“سر۔۔سر۔۔وہ کاک ۔۔کاکروچ مارے..مارے ہیں اس لڑکے نے مجھے ..” وہ گھبراۓ ہوئے انداز میں ہاتھ سے حیدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی “کیا ہوا پھر ؟ کاکروچ ہی مارے ہے نہ ؟ کوئی مزائل تو نہیں مار دئے جو تم ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو ” پروفیسر نے اسے گھور کر کہا “سر اس نے مجھے کاکروچ مارے ہیں کاکروچ ..” وہ زور دے کر بولی “تو اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے ؟ کاکروچ تو اتنے اچھے ہوتے ہیں ..کلاس ایک بات آپ سب میری غور سے سنیں ..” پروفیسر نے کھی کھی کرتے سٹوڈنٹس کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا ” بلکے ایسا کریں کے دوپٹے سے ..شرٹ سے ..رومال سے ..جو بھی ہے آپ کے پاس اس سے یہ نصیحت باندھ لیں کے …جب بھی جہاں بھی آپ کو کاکروچ چھپکلی نظر آۓ ..اسے اٹھا کر منہ میں ڈال کر کھا جائیں ..اور یہ تو آپ جانتےہی ہیں نہ کے پروفیسر حارث آپ کو کبھی بھی کوئی غلط نصیحت نہیں کرتے ….ہاں تو صرف نگلنا نہیں ہے بلکے چبا چبا کر کھانا ہے ..امیجن کریں ذرا ..ککروچ اور چھپکلی آپ لوگ چبا چبا کر کھا رہیں ہیں ..آہا ..کیا مزہ آ رہا ہے …کیا لطف آ رہا ہے ..” پروفیسر بنے حارث نے چٹخارے لیتے ہوۓ کہا …
…یشفہ نے اپنے دونوں ہاتھ جلدی سے منہ پر رکھے کے کہیں اسے الٹی نہ ہو جاۓ “ارے تم کیوں ایسے منہ بنا رہی ہو ؟ ..سچ میں یہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑے تو اتنے لذیز ہوتے ہیں ..میں تو صبح شام ایک ایک کھاتا ہوں ..ارے ہاں سچ میں یقین نہیں آتا تو یہ دیکھو ..اس نے کہتے ہوئے ساتھ ہی ایک سائیڈ سے اپنا کوٹ ہٹایا تھا جہاں بے شمار کاکروچز اور چھپکلیوں کی لاشیں لٹکی ہوئی تھی یشفہ کی آنکھیں باہر نکلنے کو تھی وہ تو اپنا سامان چھوڑ چھاڑ چیختی ہوئی کلاس سے باہر بھاگی اتنا تو قتل کرنے سے نہیں ڈرتی تھی جتنا ان کیڑ ے مکوڑوں سے ڈرتی تھی “اے ..بات سنو …بات سنو میری .کیا تمہیں پتا ہے کے… پرنسپل کا آفس.. کدھر ہے ؟” اس نے اپنی سانسیں ہموار کرتے ہوئے ایک لڑکے کو روک کر پوچھا جس کے ہاتھ میں بڑا سا چپس کا پیکٹ تھا “ہاں پتا ہے ..لیکن تم اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو ؟” اشعر نے فکر مندی سے پوچھا اور ساتھ ہی چپس کے پیکٹ میں ہاتھ ڈال کر مٹھی بھر کر بہت سے عجیب و غریب کیڑے اور گراس ہاپرز نکال کر اپنے منہ میں ڈالے یشفہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہی تھی “اسی لئے میں کسی کے سامنے نہیں کھاتا سب نظر لگانا شروع ہو جاتے ہیں ..یہ لو کھالو تم بھی ..” اشعر نے ناراضگی سے کہتے ہوئے پیکٹ اسکی طرف بڑھآیا تھا ” آہ ..دور کرو اس کو ..دور کرو مجھ سے ..” وہ چیخ مارتے ہوئے وہاں سے بھاگی ..اور سامنے سے آتے ایک لڑکے کو روک کر بولی .” بب بات سنو…بات سنو میری ..وہا..وہاں پر ..!!!” “وہ آگیا ہے ..آگیا ہے وہ اپنی موت کا بدلہ لینے ..” ریاض نے سرد لہجے میں کہا ” کک کون سا بدلہ ..اور کون آگیا ؟؟” اس کی دھڑکن تیز تیز چل رہی تھی “وہی ..جس کو تم نے لال بیگ سمجھ کر کھا لیا تھا ..لیکن وہ واپس آ گیا ہے ..اپنی موت کا بدلہ لینے ..وہ کھا جاۓ گا تمہیں ..کھا جاۓ گا ..” ریاض اسے گھورتے ہوئے پراسرار انداز میں بولا یشفہ کا چہرہ سفید پڑنے لگا تھا اس کو دھکا دے کر وہ وہاں سے نکلی لگ رہا تھا کے جیسے بے ہوش ہی ہو جاۓ گی صد شکر کے سامنے ہی پرنسپل کا آفس مل گیا وہ جلدی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی ناک کرنے کا بھی خیال نہ آیا “پر پرنسپل ..سر ..مم ..میری ..بات سنیں …” وہ ہاتھ کی پشت سے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے گردن مسلتے ہوئے بولی جبھی پرنسپل نے اپنی راکنگ چیئر کا رخ موڑا ..ان کے ہاتھ میں شیشے کا بڑا سا باؤل تھا ” ارے تم پریشان کیوں ہو ؟ …کوئی مسلئہ ہے ؟ ..چلو چھوڑو پہلے چل کرو ..یہ لو کیڑے کھاؤ ..آئی مین ..انسیکٹ سیلڈ کھاؤ ..میری پسند کے چھپکلی کاکروچز ..مکوڑے گراس ہوپرز سب ہیں اس میں ..کھاؤگی..؟… ہاں کھاؤ گی ؟؟ ..یہ لو ..کھاؤ کھاؤ ..” یشفہ نے صرف ایک نظر تیمور کے ہاتھ میں پکڑے باؤل کو دیکھا تھا جس میں بھرے ہوئے حشرات الرض باؤل میں سے نکلنے کی پوری کوشش کر رہے تھے یشفہ کی برداشت جواب دے گئی تھی اس کا زور سے سر چکرآیا تھا اور اس سے پہلے کے وہ فرش پر گر پڑتی آفس کے باہر کھڑے اندر کا تماشا دیکھتے حیدر نے جلدی سے جا کر اس کو تھاما تھا لیکن تب تک وہ بے ہوش ہو چکی تھی “یشفہ ..یشفہ ..” حیدر نے اس کا گال تھپتھپایا “ابے حیدر ..یہ تو بے ہوش ہو گئی ہے ..کہیں کوئی مسلئہ نہ ہو جاۓ ..” اشعر نے پریشانی سے کہا ” او یار ..کچھ نہیں ہوگا اسے ..بہت سخت جان ہے ..چلو اچھا ہے اسے بھی سبق مل گیا ہوگا ..لائبہ وغیرہ تو گھر چلی گئی ہیں ..تیمور تو ایسا کر انوشے کو فون کر اس کو بلا یہاں جلدی ..”حیدر نے یشفہ کے بے ہوش وجود کو اٹھا کر سوفے پر ڈالتے ہوئے کہا تھا وہ کوئی پرنسپل روم نہیں تھا بلکے یونین کونسل کے صدر کا عارضی آفس تھا یونیورسٹی کے یونین کونسل کی عمارت الگ سے احاطے میں بنی ہوئی تھی لیکن وہاں کچھ کام چل رہا تھا اسی لئے اس کے صدر نے یونی کے اندر ہی اپنا عارضی آفس قائم کیا ہوا تھا ان لوگوں کے اس وجہ سے کام آیا کیوں کے یونین کا صدر ان سب کا دوست تھا تیمور نے انوشے کو فون کر کے مختصر سچویشن بتا کر وہاں آنے کے لئے کہا تھا
________________________
گاڑی نہ جانے کن انجان راستوں پر سفر کر رہی تھی کچھ دیر بعد اس نے بڑے سے سفید گیٹ کے اندر لے جاکر کار روکی اور سیٹ بیلڈ ہٹا کر دروازہ کھول کر وہ باہر نکلا تھوڑی دیر اس نے زرنور کے باہر آنے کا انتظار کیا لیکن وہ تب بھی باہر نہ آئی تو احمد نے اس کی سائیڈ پر جا کر دروازہ کھولا اور دروازے پر ہاتھ رکھتے وہ اس کی طرف جھکا تھا ” محترمہ ..اگر آپ خود چل کر نہیں جانا چاہتی تو بتا دیں …میں آپ کو اٹھا کر لے جاتا ہوں ..مجھے کوئی مسلئہ نہیں ہے ..” اس نے آرام سے کہا “پیچھے ہٹو ..” وہ کاٹ کھانے کے سے انداز میں بولی وہ دروازہ چھوڑ کر پیچھے ہو کر کھڑا ہو گیا اس کو گھورتی وہ باہر آئی اور اپنے پیچھے دروازہ زور سے بند کرتی اندر کی جانب بڑھ گئی احمد مسکراتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اس کے پیچھے آیا “کہاں جا رہے ہو تم ؟” اس کو سیڑهیاں چڑھتے دیکھ کر زرنور نے کہا ” روم میں جا رہا ہوں اپنے ..” اس نے رک کر کہا ” مجھے کیوں یہاں لے کر آۓ تھے پھر ؟” وہ چڑ کر بولی “مجھے بات کرنی ہے تم سے نور ..اوپر آجاؤ ..” “میں ..کوئی نہیں جا رہی تمہارے ساتھ اوپر وپر ..جو بھی بات کرنی ہے یہیں کرو ..” وہ گڑبڑا کر بولی ..اتنا بڑا گھر خالی پڑا تھا اسے ہلکا سا خوف ہونے لگا “میں نے تم سے کہا ہے نور کے اوپر آجاؤ ..ہر بات میں ضد مت کیا کرو ..” “میں نے بھی کہ دیا ہے میں نہیں جاؤنگی اوپر ..” وہ ہٹیلے انداز میں بولی احمد نے ایک نظر اس کو دیکھا تھا “مرضی ہے تمہاری ..میں اٹھا کر لے جاتا ہوں تمہیں ..” احمد دوبارہ سے سیڑھیاں اترنے لگا تھا زرنور بوکھلا گئی تھی “اچھا ..اچھا میں آرہی ہوں ..آرہی ہوں ..” دو قدم پیچھے ہٹتے وہ جلدی سے بولی “آرام سے تو بات سمجھ میں آتی ہی نہیں ..” بڑبڑاتا ہوا وہ اوپر چلا گیا تھا اس کی پشت کو گھورتی وہ بھی اس کے پیچھے آئی تھی جہاں ایک طرف ٹی وی لاؤنج بنا ہوا تھا اور ایک طرف دو کمرے تھے نیچے والے پورشن کی طرح اوپر کی سیٹنگ اور سجاوٹ دیکھنے لائق تھی ایک کمرے کا لاک کھولتا وہ اندر چلا گیا تھا وہ بھی اسکے پیچھے آئی تھی وہ غالباً اس کا بیڈروم تھا جہاں ایک طرف جہازی سائز بیڈ تھا وارڈروب سوفے .رائٹنگ ٹیبل فرنیچر .بیڈ شیٹ کرٹنز سب کچھ ہی بہت خوبصورت اور قیمتی تھا بیڈ کے اوپر لگی لارج سائز تصویر دیکھ کر وہ ساکت رہ گئی تھی کیوں وہ اس کی تصویر تھی جس میں اس نے گولڈن کلر کی میکسی پہنی ہوئی تھی وہ اس کی بیسوی سالگرہ کی تصویر تھی “نور ..” احمد کی آواز پر وہ چونکی تھی ” بیٹھو ..” اس نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا اس نے فورآ سے اپنے تاثرات سپاٹ کئے .” مجھے نہیں بیٹھنا ..جو بھی بات کرنی ہے جلدی کہو ..مجھے واپس بھی جانا ہے ..” احمد نے تاسف سے انگلی اور انگوٹھے سے اپنی پیشانی مسلی ..” تمہیں ایک ہی بات بار بار کیوں بتانی پڑتی ہے نور ؟” وہ اس انداز سے بولا کے وہ منہ بناتی بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی تھی..رائٹنگ ٹیبل کے پاس رکھی چیئر اٹھا کر ٹھیک اس کے سامنے رکھتا وہ بیٹھ گیا تھا زرنور بےساختہ پیچھے ہوئی تھی لیکن اس نے کوئی نوٹس نہیں لیا “اب بتاؤ کیا مسلئہ ہے تمہیں ..؟” “کون سا مسلئہ ؟؟” “شادی سے کیوں منع کر رہی ہو ؟” “کس کی شادی سے ؟” ” ہماری شادی سے ۔۔” ” واؤ ..ایٹیٹیوڈ تو دیکھو ذرا ..” وہ طنز سے بولی ..” “عباد انکل اور ڈیڈ رخصتی کی ڈیٹ فکس کرنا چاہتے ہیں ..” ہ” اس کی فکر تم مت کرو ..پاپا کو میں منع کر دوں گی ..” “میں نے تم سے یہ تو نہیں کہا کے تم منع کردو ..” ” تو پھر ؟؟” وہ نہ سمجھی سے بولی “میں چاہتا ہوں کے تم ہاں کہ دو ..” ” لیکن میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی ..” “ہماری شادی غالباً ہو چکی ہے ..” احمد اس کے گلابی چہرے کو تکتے ہوئے بولا “میں نہیں مانتی اس شادی کو ..اور احمد خانزادہ ..بہتر ہوگا کے تم اس نام نہاد کاغذی رشتے کو ختم کر دو ..کیوں کے نہ مجھے تم میں پہلے کوئی دلچسپی تھی اور نہ اب ہے ..” وہ چبا چبا کر بولی “چلو ٹھیک ہے شادی کو ابھی سائیڈ پر رکھتے ہیں …ابھی تمہیں مجھ سے جتنے بھی شکوے شکایاتیں ہیں تم مجھے وہ بتاؤ ..تاکے میں دور کر سکوں ..” “نہیں ..پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ کے تم ہو کون ؟ ارمان یا پھر احمد ؟ تاکے میں تم سے اسی حساب سے پیش آؤں ..” وہ طنزیہ انداز سے بولی اور احمد نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دیا تھا ” میں ارمان احمد خانزادہ ہوں ..تمہارا شوہر ..جس سے تم بے حد محبّت بھی کرتی ہو ..”وہ شرارتی انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ” یہ خوشفہمی کب سے پال لی تم نے ؟” وہ فہمائشی انداز میں بولی ” جب سے تمہاری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھا ہے ..” وہ ایک لمحے کے لئے بھی اس کے چہرے پر سے اپنی نظریں نہیں ہٹا رہا تھا یہی چیز زرنور کو کنفیوز کر رہی تھی “بہتر ہوگا کے اپنی آنکھوں کا علاج کرواؤ تم ..” وہ چڑ کر بولی تھی لیکن چونکی ضرور تھی کے اس کے دل کا حال احمد نے کیسے پڑھ لیا کیوں یہ بات تو صرف اس کے علاوہ مناہل اور لائبہ جانتی تھی بس “کیوں ..کیا یہ سچ نہیں ہے کے تمہیں مجھ سے محبّت ہے ؟” ” بلکل بھی نہیں ..مجھے تم سے کوئی محبّت نہیں ہے ..” وہ صاف مکر گئی تھی لیکن احمد کی شرارتی مسکراہٹ اسے تپا گئی تھی ” دیکھو ..میں تم سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی ..اسی لئے بہتر ہوگا کے مجھے غصّہ مت دلاؤ ..میں شوٹ کر دوں گی تمہیں ..فضول میں میرے ہاتھوں قتل ہو جاؤ گے ..” وہ دانت پیستے ہوئے بولی “بلکے میں فضول میں ہی اپنا ٹائم ضائع کرنے تمہارے ساتھ آ گئی ..” وہ اٹھ کر جانے لگی تھی جبھی احمد نے اس کی کلائی پکڑ کر دوبارہ اپنے سامنے بٹھایا تھا “ہاتھ چھوڑو میرا ..” پہلے تو وہ حیران ہوئی پھر غصے سے بولی “تب تک نہیں چھوڑوں گا ..جب تک تم میری بات نہیں سنو گی ..” وہ دباؤ ڈالتے ہوئے سکون سے بولا “ہاتھ چھوڑو میرا احمد …درد ہو رہا ہے مجھے ..” وہ چھڑوانے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی لیکن اس کی گرفت سخت تھی “بات سنو گی میری ؟” ” بلکل بھی نہیں ..”وہ ضدی انداز میں بولی “مرضی ہے تمہاری ..میں بھی نہیں چھوڑ رہا پھر ..” “اچھا اچھا ..سنو گی ساری باتیں سنو گی .تم ہاتھ تو چھوڑو میرا ..” احمد نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا وہ ناراضگی سے اس کو دیکھتی اپنا ہاتھ دبانے لگی تھی اگر تمہیں مجھ سے کوئی شکایات نہیں ہے تو پھر میں ڈیڈ سے کہ دیتا ہوں کے بہو مان گئی ہے آپ کی ..ڈیٹ رکھ لے آپ رخصتی کی ..” “میں نے تم سے کہا ہے نہ میں تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنہ چاہتی ..” اس نے زور دے کر کہا ” “وجہ ..؟؟” ” مسٹر خانزادہ ..اگر آپ فلیش بیک میں جائے نہ تو وجہ آپ کو خود ہی پتا چل جائے گی .” زرنور نے قہر برساتی نظروں سے کہا “جو بھی میں نے کیا ..اس کےلئے میں شرمندہ ہوں ..لیکن وہ بس ایک مذاق …!!” ” مذاق ؟ وہ صرف مذاق تھا ؟ میرا تماشا بنا کر رکھ دیا تم نے احمد ..اور تم کہ رہے ہو کے بس مذاق تھا ..” اس کی بات کاٹ کر وہ چیخ کر بولی زخم پھر سے ہرے ہو گئے تھے “نور ..بات سنو میری ..” احمد نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا لیکن وہ جھٹکے سے چھڑواتی دور جا کھڑی ہوئی تھی “تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ احمد ..بگاڑا کیا تھا میں نے تمہارا جو تم نے اس طرح سے بدلہ لیا مجھ سے ؟ ” احمد سے اس کے آنسو برداشت نہیں ہو رہے تھے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے سامنے جا کھڑا ہوا “میں نے تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا ہے نور ..”اس نے نرمی سے کہا “پھر کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا ؟؟” وہ اس کی شرٹ کے کالر پکڑے روتے ہوئے بولی احمد نے اس کا بازو پکڑ کر اپنے گلے لگا لیا تھا زرنور نے اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی تھک ہار کر اس نے اپنا سر احمد کے کندھے پر رکھ دیا “بہت برے ہو تم احمد ..بہت برے ..” وہ بے تحاشا رو رہی تھی وہ ہلکے ہلکے اس کا سر سہلانے لگا اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے زرنور کو خودمیں سمو لیا تھا خود کو جیسے ان لمحوں کے سپرد کر دیا ہو آج اس کی جان اس کا عشق اس کے قریب ترین تھا وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تصور کر رہا تھا
________________________
تیمور کے فون کرنے پر انوشے پانچ منٹ میں ہی وہاں پہنچ گئی تھی صوفے پر یشفہ کو بے ہوش پڑا دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی اس سے پہلے کے وہ کچھ پوچھتی تیمور نے اس سے کہا ” یار انوش ..آج اس کا فرسٹ ڈے تھا نہ اسی لئے ہم نے بس ایک چھوٹا سا مذاق کیا تھا ہمیں کیا پتا تھا کے یہ بے ہوش ہی ہو جائے گی ..اب تم پلیز جلدی سے اس کو ہوش میں لاؤ ..” انوشے اس کو ہوش میں لانے کی تدبیریں کرنے لگی جس سے تھوڑی ہی دیر میں اس نے آنکھیں کھول دی تھی ہوش میں آتے ہی اس نے کہا ” میرا سر گھوم رہا ہے ..” وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑے پیر اوپر کئے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی انوشے نے جلدی سے اس کو گلاس میں پانی ڈال کر دیا جو پینے کے بعد اس کے حواس کچھ بحال ہوئے ” ” اب ٹھیک ہو ؟” انوشے نے اس سے پوچھا یشفہ نے آثبات میں سر ہلایا “آپ بھی ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی انوشے ..” وہ ناراضگی سے بولی “قسم سے مجھے تو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا بلکے میں تو خود حیران تھی تمہیں یہاں دیکھ کر ..کیوں کے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو میں نے تمہیں کلاس میں چھوڑا تھا..مجھے کیا پتا تھا کے یہ بدمعاش پہلے سے ہی تمہاری کلاس میں بیٹھے ہیں ” انوشے نے خفگی سے اندر آتے تیمور کو دیکھ کر کہا جس نے دانت نکوسے تھے “یہ جوس پی لو بھئی ..اور ہاں اس میں کاکروچز نہیں ہے ..” تیمور نے شرارت سے کہتے ہوئے جوس اور چپس کا شاپر انوشے کو دیا تھا تاکے وہ یشفہ کو دے دے “ویسے سچ بتاؤں تو حیدر نے جب مجھے یہ آئیڈیا بتایا تھا نہ تو مجھے پکا لگا تھا کے فلاپ ہی ہوگا کیوں کے ہیوی بائیک چلانے والی ..لڑکوں سے بھڑنے والی ..خوف نہ کھانے والی ..کاکروچز سے ڈر جائے گی تیمور نےچیئر انوشے کی چیئر کے ساتھ رکھ کر بیٹھتے ہوئے کہا “اوہ .تو یہ سب اس لنگور کا پلین تھا ..” وہ تپ کر بولی انوشے نے جوس نکال کر اس طرف بڑھایا جو اس نے لے لیا تھا “ویسے مجھے حیرت اس بات پر ہے کے تم نے کاکروچ کو کاکڑوچ کیوں نہیں کہا ؟ اس دن بھی تمہاری حیدر سے اسی بات پرلڑائی ہوئی تھی ..” تیمور کے حیرت سے کہنے پر اس نے منہ بنایا تھا اور راحم والی پینلٹی بتائی تھی “واہ بھئی ..کیا کہنے تمہارے …” تیمور نے اس کو داد دی “یہ چپس اور جوس کیا اسی بندر نے بھیجے ہیں ؟” چپس کھاتے ہوئے وہ ایک دم چونک کر بولی “ہنہ ..اس کنجوس کو اٹیک نہ پڑ جائے ..یہ سب چیزیں لانے پر ..” تیمور نے ہاتھ جھلایا “انوشے آپ مجھے ٹائم ٹیبل بتا دیں ..ایک کلاس تو اب میری نکل ہی گئی ہے ان لوگوں کی مہر بانی سے ..” یشفہ نے گھور کر اشعر اور ریاض کو دیکھا جو اندر جھانک کر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے “وہ تو میں بتا دوں گی ..ابھی تم مجھے بتاؤ کے اگر اب حالت بہتر ہے تو کلاس میں چلو ..دوسرا پیریڈ لگنے والا ہے ” “اب ٹھیک ہوں میں ” یشفہ نے مسکرا کر اس کو کہا جو کتنی فکر مند ہو گئی تھی اس کے لئے ..” ٹھیک ہے آجاؤ پھر .” انوشے نے کھڑے ہوتے ہوے کہا اور ٹیبل پر سے اس کا بیگ اور فائل اٹھا کر اس کو پکڑائی جو تیمور ہی کلاس میں سے لے کر آیا تھا “کلاس تو وہ ہی والی ہے نہ ؟” یشفہ نے اس سے پوچھا “ہاں وہی ہے ..” “ٹھیک ہے پھر میں چلی جاؤں گی ..آپ پریشان نہ ہو ..آج میرا پہلا دن ہے نہہ یہاں پر اسی لئے یہ لوگ بچ گئے لیکن اگلی دفع …میں نہیں یہ لوگ بے ہوش ہوں گے ..میں چلتی ہوں ..گڈ باۓ …” وہ اطمینان سے کہ کر انوشے سے گلے مل کر اور اس کا گال چوم کر آفس سے باہر آئی تھی جہاں کھڑے ریاض اور اشعر کو نظر انداز کرتی وہ آگے چلی گئی تھی “یار کتنی بولڈ ہے یہ لڑکی ..” تیمور نے یشفہ سے متاثر ہوتے ہوئے کہا “کیا چکر ہے یہ تیمور ؟” انوشے نے اس سے پوچھا ” یار انوش تم نے تو مجھے اکیلے میں تھپڑ مارے تھے لیکن اس نے تو سب کے سامنے حیدر کو پنچ مارا تھا ..” “کیا مطلب ؟” اس نے نہ سمجھی سے کہا تب تیمور نے اسے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتائی ..”حد ہے..تم لوگوں کا کام کیا بس لڑکیوں سے مار کھانا ہی رہ گیا ہے ؟” اس نے بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے کہا ” اب یہ تو لڑکیوں کو سوچنا چاہیے نہ کے ..کبھی بھی کسی پر بھی ہاتھ اٹھا دیتی ہیں ..نہ موقع دیکھتی ہیں اور نہ محل ..آئی ..مارا …اور چلی گئی ..یہ بھی کوئی بات ہے ویسے تمہارا لاسٹ پیریڈ تو سر جبران لیتے ہیں نہ ؟ اور آج وہ آۓ نہیں ..تو تم کہاں جا رہی ہو ؟” “گھر جا رہی ہوں ..” “ٹھیک ہے میں ڈراپ کردیتا ہوں ..” وہ جلدی سے بولا ” کوئی ضرورت نہیں ہے ..ویسے بھی وائر جوڑنا میں نے سیکھ لیا ہے …” اس دن کا حوالہ دے کر وہ طنز سے بولی تیمور ہنس دیا تھا “ہاں تو آسانی سے تم مانتی کہاں ہو …چلو نہ میں ڈراپ کر دوں گا .. .” “تم کچھ زیادہ ہی فری ہونے نہیں لگ گئے ؟” وہ اس کو گھورتی ہوئی باہر چلی گئی تھی ” ارے انوش.. بات تو سنو یار ” وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا تھا
________________________
احمد نے اسے چپ نہیں کروایا تھا رونے دیا تھا تاکے اس کے دل کا غبار نکل جاۓ نہ جانے کتنے ہی لمحے ایسے بیت گئے تھے تب کہیں جا کر اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا جھٹکے سے وہ اس سے الگ ہوئی تھی شرم سے اس کی پلکیں جھک گئی تھی اپنی بے خودی پر اسے تا ؤ آرہا تھا جبکے وہ دلفریبی سے اس کے بھیگے چہرے کو دیکھ رہا تھا ” ا ایسے مت دیکھو ..منہ توڑ دوں گی میں تمہارا ..” وہ شرم اور ناراضگی کے ملے جلے تاثرات سے بولی وہ چاہ کر بھی اپنی مسکراہٹ نہ چھپا سکا جس کو دیکھ کر زرنور کو تپ چڑھی تھی “مت ہنسو ایسے ..غصہ آ رہا ہے مجھے تم پر ..” “چلو پھر …پہلے تو تم اپنا غصہ اتار لو مجھ پر اس کے بعد میں تمہیں اپنے یہ سب کرنے کی وجہ بتاؤں گا.. ٹھیک ہے ؟” “مجھے جس پر غصہ آتا ہے نہ تو میں اس کو تھپڑ مار کر اپنا غصہ اتارتی ہوں ..” وہ اپنی شرم اور جھجھک پر قابو پاتے ہوئے بولی “اوہ تو یہ بات ہے ..” وہ قدم قدم چلتا اس کے سامنے جا کھڑا ہوا “میں مانتا ہوں کے میں نے غلطی کی اور شاید بہت بڑی غلطی کی ..اسکی سزا مجھے ملنی چاہیے ..تم جو بھی سزا دو مجھے قبول ہے ..اسی لئے تمہیں اجازت ہے جتنے تھپڑ مارنے ہیں مار لو ..” احمد کے اطمینان سے کہنے پر وہ حیرت اور بے یقینی سے اس کو دیکھ رہی تھی “میں ..میں سچ میں مار دوں گی ..” اس نے زور دیتے ہوئے کہا “ہاں تو مار لو ..میں نے منع تھوڑی کیا ہے ..” وہ اسی انداز میں بولا اور زرنور نے صرف ایک لمحہ لیا تھا سوچنے میں دوسرے ہی لمے اس کا ہاتھ اٹھا تھا اور احمد کے گال پر نشان چھوڑ گیا تھا ایک اور الٹے ہاتھ کا تھپڑ اس نے کھینچ کر احمد کے دوسرے گال پر مارا ..ہاتھ اٹھاتے ہوئے وہ ڈر رہی تھی کے کہیں اسے غصہ نہ آجاۓ اور بدلے میں کہیں وہ اس کو تھپڑ نہ مار دے ..لیکن وہ حیران تھی کیوں کے احمد نے کوئی ردعمل نہیں دیا تھا وہ اسی سکون سے کھڑا اسکو تک رہا تھا “بس …اتر گیا غصہ ؟؟ ” وہ اور اس کے قریب ہوا تھا اور زرنور جلدی سے پیچھے ہٹی تھی اسے اب افسوس ہو رہا تھا کے دل میں ایک ملال سا ہو رہا تھا کے اس نے کیوں احمد پر ہاتھ اٹھایا لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا احمد کے سفید گالوں پر ہلکی ہلکی سرخی تھی جو اس کے ہاتھ اٹھانے سے ہی تھی اس کا خود کا ہاتھ بھی دکھنے لگا تھا “اتنا تو تم بولتی ہو اس سے بھی زیادہ تم روتی ہو ..دیکھو پوری شرٹ گیلی کر دی تم نے میری ..” احمد کے کہنے پر زرنور نے اس کی شرٹ کو دیکھا تھا جو واقعی میں اس کے رونے کی وجہ سے خراب ہو چکی تھی “سوری ..” وہ شرمندگی سے بولی ” “سوری سے کام نہیں چلے گا یہاں کمرے سے باہر جاؤ ..سیدھے ہاتھ پر کچن ہے ..جا کر میرے لئے سٹرونگ سی کافی بنا کر لاؤ تب تک میں شرٹ چینج کر لوں ..” “حکم دے رہے ہو ؟” وہ گھور کر بولی ..” نہیں محترمہ ..میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کے میرے لئے پلیز کافی بنا دیں ..کیا آپ بناۓ گی ؟؟” وہ اس کی طرف جھکتے ہوئے بولا ” ملاذمہ نہیں ہوں میں ..خود بنا لو جا کر ..” پیچھے ہوتے ہوئے اس نے لٹھ مار انداز میں کہا “یار بیوی تو ہو نہ..شوہر کے لئے کیا تم کافی بھی نہیں بنا سکتی ؟” احمد نظریں اس کے چہرے پر جماۓ شرٹ کے اوپری بٹن کھولنے لگا زرنور گھبرا گئی تھی “ہنہ ..شوہر اور بیوی ..” منہ بنا کر کہتی وہ خود پر جھکے احمد کو دھکا دے کر وہاں سے بھاگی تھی اس کی گھبراہٹ اور شرمیلا انداز دیکھ کر ہنستے ہوئے وہ دوسری شرٹ لینے وارڈروب کی طرف بڑھا ..
________________________
“ماہین بھابھی ..میری تو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کے آپ لوگ رشتہ لے جانے میں اتنا ٹائم کیوں لگا رہے ہیں ..؟” وہ ابھی یونی سے آ کر کچن میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ساتھ ہی ماہین سے باتیں بھی کر رہا تھا ماہین چونکی تھی اس کی بات پر کیوں کے ابھی تو وہ کوئی اور بات کر رہا تھا ایکدم سے اس نے ٹوپک چینج کر دیا تھا وہ سمجھ گئی تھی اسی لئے مسکرا دی یقینآ مناہل کو آس پاس دیکھ لیا ہوگا جبھی بات بدل دی “اور مجھے یہ نہیں سمجھ آ رہا ہے کے آخر کو تمہیں شادی کی اتنی جلدی کیوں ہے ؟” روٹیاں پکاتے ہوئے اس نے حارث کے ہی انداز میں کہا “ہاں تو اس کے گھر والے اس کی شادی جلدی کرنا چاہتے ہیں نہ ..پہلے سے ہی اس کے پرپوزلز آۓ ہوئے ہیں ..اگر آپ لوگ رشتہ نہ لے کر گئے تو اس کے گھر والے کہیں اور شادی کر دیں گے اس کی ..اور اگر مجھ سے نہ ہوئی نہ اس کی شادی تو آگ لگا دوں گا میں ساری دنیا کو …” وہ دھمکانے والے انداز میں بولا “اف حارث ..تم تو بلکل ہی مجنوں بن گئے ہو اس کے پیچھے ..” “میں نہیں بنا بھابھی …اس نے بنایا ہے ..” حارث نے شاعرانہ انداز میں کہا ماہین ہنسنے لگی “پاگل ۔۔۔۔” “ویسے بتاۓ نہ بھابی کے کیسی لگی آپ کو میری پسند ؟” “بہت خوبصورت اور بہت پیاری ..مجھے تو سوجان سے وہ اپنی دیورانی کے طور پر قبول ہے “ماہین کے کہنے پر اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی “تو پھر آپ بات کریں نہ امی سے ” ” امی نے تو صاف کہ دیا ہے حارث کے تین چار سال سے پہلے تمہاری شادی نہیں ہو گی ” “یار منگنی ہی کروا دیں ..” وہ منہ بسور کر بولا “صبر کرو ..اتنی بے صبری بھی اچھی نہیں ہوتی ..پہلے اپنی پڑھائی ختم کرو بزنس جوائن کرو ..تھوڑے سے قابل بن جاؤ ..پھر لے کر جاۓ گے رشتہ ..ایسے گئے تو وہ دروازے ہی واپس لوٹا دیں گے ” “ارے نہیں ..وہ لوگ میرا پرپوزل ریجیکٹ نہیں کریں گے انفیکٹ منگنی بھی کر دیں گے …” “تم اتنے اطمینان سے کہ رہے ہو حارث ..کیا عائشہ سے کوئی کمٹمنٹ ہوئی ہے تمہاری ؟” ماہین نے لہجے میں حیرانی سموتے ہوئے کہا “اور نہیں تو کیا ..وہ تو سو جان سے مجھ پر فدا ہے ..” حارث نے شرارت سے کہا “اور یہ اس نے تمہیں خود بتایا ہے ؟” “وہ بہت بولڈ ہے بھابھی ..جو دل میں آتا ہے کہ دیتی ہے ..لیکن یہ اس نے نہیں کہا مجھے ..میں نے خود ہی اندازہ لگا لیا کے وہاں بھی کچھ میرے جیسا ہی حال ہے “وہ ہنستے ہوئے بولا کچن کے باہر دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑی مناہل کی آنکھوں سے آنسوں بہ رہے تھے وہ ماہین کے پاس کسی کام سے آئی تھی لیکن اندر سے آتی حارث کی آواز نے اس کے قدم وہیں پر روک دئے تھے نہ جانے کیوں وہ اس کے حواسوں پر اس قدر حاوی ہوتا جا رہا تھا اسے لگ رہا تھا کے اگر وہ تھوڑی دیر بھی اور وہاں کھڑی رہی نہ تو ضرور اس کا دل بند ہو جائے گا بے جان قدمو سے چلتی وہ اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ لاک کر کے وہیں پر گھٹنوں کے گرد بازو پھیلا کر بیٹھ گئی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے اسے ہو کیا گیا ہے پچھلے کچھ دنوں سے حارث کو دیکھ کر اس کا دل ایک الگ ہی لے پر دھڑکنے لگ جاتا تھا وہ بےچین رہتی تھی جب تک حارث اس کو نظر نہ آجاتا ..اور جب وہ اس کو دیکھ لیتی تو ایک ٹھنڈا میٹھا سا احساس اس کے دل میں اتر جاتا “یہ ..یہ کیا ہو گیا ہے مجھے ؟ کیوں حارث کو دیکھ بغیر مجھے سکون نہیں ملتا اب ..؟ کیوں وہ مجھے اتنا اچھا لگنے لگ گیا ہے ؟” روتے ہوئے وہ جیسے خود سے ہی پوچھ رہی تھی “تمہیں محبّت ہو گئی ہے مناہل ..آج تک جس محبّت کا تم مذاق بناتی آئی تھی اسے فضول کہتی آئی تھی آج وہ تمہیں بھی ہو ہی گئی ..” اپنے دل کی آواز پر وہ دم بخود رو گئی تھی “یہ ..غلط ہے ..مجھے کوئی …محبّت نہیں …اس سے ..وہ تو پہلے ہی کسی اور سے محبّت کرتا ہے …میں کیسے ..اس سے محبّت کر سکتی ہوں ؟؟” اس نے سختی سے جھٹلایا تھا اس کے گالوں پر آنسوں پھیلتے جا رہے تھے اس کا دل چیخ چیخ کر بس ایک ہی نام لے رہا تھا “کیوں کیا تم نے ایسا حارث ،،،” وہ بے تحاشا رو رہی تھی
________________________
“یہ پہلی اور آخری دفعہ میں نے تمہارے لئے کافی بنائی ہے آئندہ مجھ سے کوئی امید مت رکھنا ..” وہ صوفے پر بیٹھا پیر لمبے کیے ٹیبل پر رکھے موبائل پر میسجز چیک کر رہا تھا جبھی زرنور نے کافی کا بھاپ اڑاتا کپ اس کے سامنے رکھتے ہوئے تڑک سے کہا “احمد نے حیرانی سے اس کودیکھا تھوڑی دیر پہلے تک تو ٹھیک تھی لگتا ہے پھر غصہ چڑھ گیا اسے .”تھینک یو نور ..ویسے مجھے کہنا تو نہیں چاہیے ..کیوں کے یہ تو تمہارے ہی کرنے کے کام ہیں ..اگر میرے لئے کافی تم نہیں بناؤ گی تو اور کون بناۓ گا ؟” وہ عام سے انداز میں کہتا اس کو تپا گیا تھا ” ایکسکیوز می ..تم ہو کون جو میں تمہارے لئے کافی بناؤ ؟” “شوہر ہو نہ تمہارا …” “ہنہ شوہر ہو نہ تمہارا ..آۓ بڑے ..” زرنور کے نقل اتارنے پر وہ ہنس دیا “دوبارہ مت کہنا ..ورنہ اچھا نہی ہوگا .” وہ وارن کرتے ہوئے بولی “کیوں تم مجھے اپنا شوہر نہیں مانتی کیا ؟” “بلکل بھی نہیں .تم صرف ایک دھوکے باز اور فراڈی انسان ہو ..اور کچھ بھی نہیں ..” “کیا کہا ؟ میں دھوکے باز ہوں ؟ِ” “ہاں ہو تم دھوکے باز ” ” زرنور نے تپ کر کہا احمد نے اس کی کلائی پکڑ کر جھٹکے سے اسے کھینچ کر اپنے پہلوں میں گرایا تھا ور اس کو سمبھلنے کا موقع دئے بغیر اس کے گرد اپنا حصار کھینچ دیا تھا “بھلے میں ایک دھوکے باز ہوں فراڈی ہوں ..لیکن اب صرف تمہارا ہوں ..اور تم سے بے حد محبّت بھی کرتا ہوں .اسی لئے اب تمہیں اسی دھوکے باز کو ساری زندگی برداشت کرنا پڑے گا ..کیوں کے اب میں تمہاری جان چھوڑنے والا نہیں ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *