Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan NovelR50715 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 19
Rate this Novel
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 01 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 02 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 03 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 04 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 05,06 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 07 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 08 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 09 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 10 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 11,12 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 13 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 14 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 15 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 16 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 17,18 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 19 (Watching)Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 20 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 21 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 22 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Last Episode
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 19
” یہ لو زرنور بن گیا تمہارا لنچ ..جلدی سے پی لو یہ سوپ پھر تم نے دوا بھی لینی ہے ” انوشے نے اس کی طرف سوپ کا باؤل بڑھایا جس کو دیکھ کر اس نے برا سا منہ بنایا تھا “بھئی مجھے نہیں پینا یہ گندا پھیکا سا سوپ ” اس نے پیچھے کر دیا تھا “ارے …بیماری میں سوپ ہی پیتے ہیں ” “میں اب ٹھیک ہوں انوشے ..اور یہ سوپ تو بلکل بھی نہیں پیونگی ” “اچھا تو پھر دلیہ .یا کھچڑی بنا دوں ؟” “دلیہ ؟ کھچڑی ؟؟ یخ یخ …” اس نے پھر سے برا سا منہ بنایا ” “دلیہ بھی نہیں کھانا کھچڑی بھی نہیں کھانی سوپ بھی نہیں پینا ..تو پھر برگر اور پیزا حاضر کر دوں میں آپ کی خدمت میں میڈم ؟؟” زرنور کی آنکھیں چمکی تھی .”ضرور ..اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے؟ ” “پیزا تو ایک ہی شرط پر ملے گا اگر تم ان تینوں چیزوں میں سے کچھ کھاؤ گی تو ورنہ نہیں ..” انوشے کے کہنے پر اس نے منہ پھلا لیا تھا “میں نہیں کھاؤں گی یہ بیماروں والا کھانا ” ” اس کا تو پھر ایک ہی حل ہے ڈئیر نور بانو ..اگر تم چھلانگیں لگا کر دکھاؤ تو واقعی میں ان کو یقین آجاے گا کے تم بیمار نہیں ہو پھر تمہیں آرام سے پیزا برگر جو مانگو گی مل جائے گا ” حیدر نے کمرے میں آتے ہوئے کہا تھا ” تم تو رہنے ہی دو حیدر . تم سے اتنا نہیں ہوتا کے کسی کی عیادت کرنے آؤ تو ساتھ کچھ لیتے ہوئے ہی آجاؤ ..ایسے ہی ہاتھ ہلاتے آگئے ” زرنور نے اس کو شرم دلانی چاہی تھی ” “ایسے طنز تو مت کرو نور بانو مانا کے میں خالی ہاتھ آ گیا لیکن کیا یہ کم نہیں کے ایم این اے کا بیٹا تمہاری …ایک نوربانو… کی عیادت کرنے آیا ہے ” وہ کالر کھڑا کرتے ہوئے فخر سے بولا ” خالی ہاتھ ..” زرنور نے پھر طنز کیا تھا ” میں اس لئے خالی ہاتھ آیا کے ..میں نے سوچا کے جب نوربانو اگلی دفع بیمار پڑیگی تو جب کچھ لے جاؤں گا .اسی لئے ایسے ہی آ گیا لیکن وہ اشعر اور ریاض بےچارے اتنی چیزیں تو لے کر آئیں ہیں تمہارے لئے ..” “کون سی چیزیں ؟ مجھے تو کچھ بھی نہیں ملا ” وہ حیرت سے بولی “ہاں تو وہ سب پیزا برگر بروسٹ تکے وغیرہ تھے تم تو کھا نہیں سکتی تھی اس لئے وہ سب ہم نے ہی کھا لئے ..” حیدر کے بےفکری سے کہنے پر اس کا منہ حیرت سے کھلا تھا “تم لوگوں نے سب کچھ کھا لیا ؟” صدمے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا “ہاں تو ..اور پوچھو ہی مت نوربانو ..اف کیا بریانی بنائی تھی مناہل نے ..اہاں …مزہ آ گیا بھئی اتنی مصالے والی اتنی ٹیسٹی …اف میں تو بتا ہی نہیں سکتا ..”وہ چٹخارے لیتے ہوئے بولا اور زرنور کی غصے اور مارے صدمے کے اب تو آواز ہی نہیں نکل رہی تھی “چپ ہو جاؤ حیدر ..وہ پہلے ہی نہیں پی رہی ہے سوپ ..” انوشے نے آنکھیں نکالی تھی “اچھی بات ہے پینا بھی نہیں چاہیے ..سوپ بھی کوئی پینے والی چیز ہے کیا ؟” حیدر …..!!!” انوشے نے اس کو گھور کر کہا تھا ” ارے ..سوپ تو اتنے مزے کا ہوتا ہے میرا تو دل کرتا ہے کے بس صبح شام میں سوپ ہی پیتا رہوں …پیو پیو تم بھی پیو نور بانو تمہیں بھی پسند آے گا ..” حیدر نے فورآ پینترا بدلا “صرف ابھی پی لو زرنور پھر رات کو جو تم کہو گی میں بنا کر دوں گی ..لیکن ابھی تم نے دوا لینی ہے نہ اسی لئے جلدی سے سوپ پی لو ..” “کوفتے بنا کر دو گی ؟؟” زرنور نے اس سے پوچھا تھا ” ہاں بلکل بنا کر دوں گی …” “آدھا پیوں گی صرف ..” اس نے باؤل پکڑتے ہوئے پہلے ہی کہ دیا تھا “چلو ٹھیک ہے …” وہ بھی مان گئی تھی “مناہل ایک بات پوچھوں ؟؟” حیدر نے اندر آتی مناہل کو دیکھ کر کہا تھا ” میں منع کروں گی تو کیا تم نہیں پوچھو گے ؟” اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ” پھر تو ضرور پوچھوں گا ” “تو پھر اجازت کیوں مانگ رہے ہو مجھ سے ؟؟” وہ گھور کر بولی ” اچھا چھوڑو ..تمہیں ایک راز کی بات بتاؤں ؟؟” وہ اس کےساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے رازداری سے بولا تھا “رہنے دو اس میں بھی کوئی ڈرامہ ہی ہوگا تمہارا ..” اس نے میگزین کے ورق پلٹتے ہو ۓ ہاتھ جھلا کر کہا “ارے نہیں قسم سے کوئی ڈرامے بازی نہیں ہے ..واقعی میں ایک خفیہ بات ہے جو ان میں سے بھی کسی کو نہیں پتا ..” “کسی کو بھی نہیں پتا؟؟” نہیں ..” “مجھے کیوں بتا رہے ہو پھر ؟؟” وہ مشکوک انداز میں بولی “ارے تو راز کی بات ہے نہ گڑیا ..اور مجھے پتا ہے کے تمہیں راز رکھنے آتے ہیں اسی لئے بس تمہیں بتا رہا ہوں ..””اچھا بتاؤ پھر کیا بات ہے ؟” مناہل کو نہ چاہتے ہوئے بھی متوجہ ہونا پڑا “پہلے وعدہ کرو کے کسی کو بھی نہیں بتاؤ گی ..” “ایسی کون سی بات ہے ؟؟”وہ حیرت سے بولی “بتاؤں گا نہ پہلے وعدہ تو کرو ” “اچھا وعدہ نہیں بتاؤں گی کسی کو ..اب بتاؤ کیا بات ہے ..” وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی “تمہیں پتا ہے کے… “وہ اس کی جانب جھکتے ہوئے رازداری سے بولا ” “کیا ؟؟…” “یہی کے …شمالی کوریا جنوبی کوریا پر مزائل مارنا والا ہے ..اور یہ بات خود شمالی کوریا کو بھی نہیں معلوم کے وہ ایسا کرنے والا ہے لیکن میں نے تمہیں بتا دیا …اب تمہیں ہر حال میں اس راز کی حفاظت کرنی ہے کسی بھی صورت اس خبر کو لیک نہیں ہونے دینا ..ورنہ خفیہ والے تمہیں اٹھا کر لے جائیں گے …سمجھ گئی ؟؟” وہ گہری سنجیدگی سے بولا ” یہ راز کی بات ہے ؟؟” وہ سرد لہجے میں بولی “اور نہیں تو کیا مناہل بھابھی ..” آخر میں وہ اس کو چڑاتا دروازے کی جانب بھاگھا “حیدر …!!!” وہ زور سے چیخی اور کشن کھینچ کر اس کو مارا ..وہ تو نیچے جھک گیا لیکن اندر آتی لائبہ کے منہ پر جا کر لگا تھا “یا وحشت ..یہ گولہ باری کیوں شروع کر دی اب ؟” وہ ہڑ بڑا کر بولی “ہاہا نشانہ چک گیا بھابھی ..”وہ ہنستے ہوئے باہر بھاگا اور بس مناہل کی برداشت جواب دے گئی غصّے میں بھری وہ اسکے پیچھے لپکی تھی کے بس آج تو وہ ضرور اس کا قتل کریگی لیکن کمرے سے باہر نکلتے ہی وہ اندر آتے حارث سے بری طرح ٹکرائی تھی اس کے سر پر تارے گھوم گئے تھے “یہ ریس کیوں لگائی جا رہی ہے بھئی ؟” حارث نے اس کا بازو تھاما ہوا تھا مناہل کے دونوں ہاتھ اس کے کندھے پر تھے وہ ایک ٹک حارث کو دیکھ رہی تھی جو نیوی بلو شلوار قمیض میں ہمیشہ کی طرح فریش اور بہت ہینڈسم لگ رہا تھا اس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی “کیا ہوا مناہل ؟ ٹھیک تو ہو تم ؟” حارث نے اس کے سامنے ہاتھ ہلایا تب وہ چونکی “تت تمہاری وجہ سے وہ میرے ہاتھ سے نکل گیا حارث ..تم بیچ میں کیوں آۓ ؟؟” اپنی خفت مٹانے کے لئے مناہل نے اس پر چڑھائی کر دی ” تو تم نے اس کو پکڑ کر کیا کرنا تھا ؟؟” “قتل کرنا تھا اور کیا کرنا تھا ..” وہ اپنے بال ٹھیک کرتی منہ پھلا کر بولی اتنا اچھا موقع جو ہاتھ سے نکل گیا “یا اللہ کیا تخریب کارانہ سوچ ہے ..اچھا ہوا میں بیچ میں آگیا اور ایک معصوم کی جان بچ گئی ..” ” معصوم ؟؟” اس کے آنکھیں حیرت سے کھلی تھی “اور نہیں تو کیا ..معصوم سا ایک بچہ ہوں میں تو ..فضول میں یہ بھابھیاں تیرے بھائی کی جان کے پیچھے پڑی رہتی ہیں حارث ..”حیدر نے حارث کی گردن میں ہاتھ ڈالتے ہوئے منہ بنا کر کہا مناہل نے غصے سے اس کو گھورا اور پلٹ کر زرنور سے کہا “زرنور گن ملے گی تمہارے پاس ؟” “گن تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مناہل اگر تم دس بارہ مزائل بھی اس کے پیچھے چھوڑ دو نہ تو پکّا یقین ہے مجھے پھر بھی بچ جائے گا یہ ..”وہ بھی ناراضگی سے بولی “تعریف کا شکریہ ..” حیدر نے زرنور سے کہا جو میڈیسن لے رہی تھی مناہل اپنا غصّہ ضبط کرتی دوبارہ صوفے پر جا بیٹھی اور میگزین کھول کر چہرے کے سامنے کر لیا یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا “اب کیسی طبیعت ہے تمہاری زرنور ؟ کل تو تمہاری حالت اتنی سیرئیس ہو گئی تھی سب کو ہی ڈرا دیا تم نے ” حارث اس کے بیڈ کے پاس رکھی چیئر پر بیٹھتےہوئے بولا “یہ نہیں پوچھوگے کے کس کی وجہ سے وہ حالت ہوئی تھی ؟” وہ زہرخند لہجے میں بولی “ہاں تو وہ کون سا سکون میں تھا اس نے بھی ساری رات پریشانی میں ہوسپٹل کے کوریڈور میں گزاری ہے “وہ احمد کا دفاع کرتے ہوئے بولا “میں نے نہیں کہا تھا اسے پریشان ہونے کے لئے اور تم کیا میری عیادت کرنے آۓ ہو یا اس کی وکالت کرنے ؟” “یار عیادت کرنے ہی آیا ہوں ..” وہ گڑبڑا کر بولا ..”ہمم تم بھی خالی ہاتھ آۓ ہو ..” وہ اس کو گھور کر بولی “توبہ ہے نوربانو تم تو بہت ہی چٹوری ہو گئی ہو ..” حیدر نے تاسف سے کہا “یار وہ احمد نے ہی اتنی ڈھیر سارے فروٹس اور چیزیں لے لی تھی کے میرے لینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں پڑی ..” “اوے احمد بھی آیا ہے ؟” حیدر نے اس سے پوچھا ..” “ہاں میرے ساتھ ہی آیا ہے انکل کے ساتھ لاؤنج میں ہے اشعر ریاض اور تیمور نے تو اس کو آتے ہی گھیر لیا تھا ” ابے تونے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟” وہ جلدی سے باہر جانے کے لئے اٹھا جبھی اس کی نظر مناہل پر پڑی جو لائبہ اور انوشے سے بات کر رہی تھی “یار مناہل بات سنو ” وہ دروازے پر رک کر بولا “مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی بہتر ہوگا کے دفع ہو جاؤ تم یہاں سے ” وہ چبا کر بولی “وہ تو جا ہی رہا ہوں میں ..بس اتنا کہناتھا کے یہ حارث بیچارہ بھوکا پیاسا آیا ہے تم سے اتنا نہیں ہوتا کے اس کو چاۓ یا کھانا پانی کا ہی پوچھ لو ..بہت ہی کھڑوس ہو تم بھابھی ..ویسے حارث مجھے دلی افسوس ہے یار تیری قسمت میں ہی یہ ہے کیا کر سکتے ہیں ..” وہ بولتے ہوئے جھپاک سے باہر بھاگااور مناہل کا دل کر رہا تھا کے دیوار میں سر مار لے حارث نے بہ مشکل اپنی مسکراہٹ دبائی تھی “سچ میں یار بھوک تو مجھے لگ رہی ہے ناشتہ بھی نہیں کیا ..ماہین بھابھی کا فون آیا تھا کے حارث کھانا یہیں آ کر کھا لینا مناہل بریانی بنا رہی ہے ..اور مناہل کے ہاتھ کی بنی بریانی کھانے کے لئے تو میں سات سمندر پار سے بھی آ سکتا ہوں ..” حارث کے کہنے پر اس نے منہ بنایا ” ہنہ ..گھر پر تو اتنی برائیاں کرتے ہو کے نمک کم ہے مرچیں ٹھیک نہیں مصالہ سہی سے پکایا نہیں ..” حارث اس کے انداز پر ہنس پڑا تھا “اوہ انو شے جی کیسی ہیں آپ ؟” “ٹھیک ہوں ..” اس نے رسمی انداز میں کہا باہر کافی شور مچا ہوا تھا نہ جانے کس بات پر وہ لوگ اتنا ہنس رہے تھے “یار زرنور تم سے ایک بات کہنی ہے ” وہ اس کی طرف جھک کر رازداری سے بولا ” اگر اس کر متعلق کوئی بات کرنی ہے تو معاف کرنا مجھے کچھ نہیں سننا ..” اس نے پہلے ہی وارننگ دے دی ” یار بات تو اسی کے متعلق ہے ..وہ بھی ملنا چاہتا ہے تم سے ..” ” اسے صاف صاف کہ دوحارث کے مجھے اپنی شکل بھی مت دکھاۓ ورنہ اچھا نہیں ہوگا اس کے لئے “وہ غصّہ دبا کر بولی “وہ بس کچھ غلط فہمیوں کو ختم کرنا چاہتا ہے .” “مجھے اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں سننا حارث …” اس نے بات ہی ختم کر دی ” ٹھیک ہے بھئی جیسی تمہاری مرضی ..اب وہ خود ہی آ کر تم سے بات کرے گا وہ بھی اپنے طریقے سے ..” وہ چونکی “کیا اپنے طریقے سے ؟ ہاں کیا اپنے طریقے سے ؟ حارث میں کہ رہی ہوں تمہیں ..اگر اس نے میرے کمرے میں قدم بھی رکھا نہ تو اچھا نہیں ہوگا اس کے لئے ..” وہ انگلی اٹھاتے ہوئے بولی “فکر مت کرو یار وہ لوگ اس کی جان چھوڑیں گے تو وہ آۓ گا نہ.. “کیا مطلب ؟ تم نے ان سب کو بھی بتا دیا ؟” وہ حیرت سے بولی “تو اور کیا ..یہ کوئی چھپنے والی بات تھوڑی ہے ..” “چھپنے والی بات نہیں ہے تو پھر مجھے کیوں بے خبر رکھا ؟” وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی “ویل… اس کا جواب تو وہ ہی دے سکتا ہے ” وہ کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا “حارث ..تمہیں پہلے سے پتا تھا نہ ؟” حارث نے گہری سانس لے کر آثبات میں سر ہلایا ” تم نےصرف دوستی کا رشتہ نبھایا حارث ..تم تو خود کو میرا بھائی کہتے تھے نہ ؟” وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی “یار زرنور ..” وہ اس کے پاس بیٹھا ” اس نے مجھے بھی کافی ٹائم بعد بتایا ” وہ نرمی سے بولا “پھر بھی تم نے مجھے نہیں بتایا ” اس نے آنکھیں رگڑتے ہوئے ناراضگی سے کہا “مانتا ہوں یار کے غلطی ہے میری کم از کم مجھے تم سے نہیں چھپانا چاہیے تھا لیکن اس نے ہی مجھے پابند کیا تھا “وہ بےبسی سے بولا ” رہنے دو حارث بہن سے زیادہ دوست زیادہ اہم ہے تمہارے لئے ” ” یہ تو تم بھی جانتی ہو زرنور کے وہ دوست سے زیادہ بھائی ہے میرا ..میں اس کی بات ٹال نہیں سکا لیکن اسے خود پر بڑا یقین ہے کے وہ تمہیں منا لے گا .اسی لئے پھر میں نے بھی آگے سے کچھ نہیں کہا لیکن اس نے ایسا کسی غلط مقصد کے لئے نہیں کیا …تم ایک دفعہ اس سے مل لو ..اس کی بات سن لو .. اگر تمہیں پھر بھی تسلی نہ ہو تو.. جو تم کہو گی وہ ہی ہوگا ..ہم زبردستی نہیں کریں گے تمہارے ساتھ یہ ایک بھائی کا وعدہ ہے تم سے ” وہ نرمی سے اسے کہ رہا تھا “میں اسکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی حارث ..اسے کہدو کے میرے سامنے بھی نہ آۓ ..شوٹ کر دوں گی میں اسے “زرنور کو رہ رہ کر اس پر غصہ آ رہا تھا “اچھا چلو ٹھیک ہے ..اگر تم ابھی اس سے نہیں ملنا چاہتی تو میں اسے منع کردوں گا ..لیکن تم ریلکیس رہو ..ورنہ پھر طبیعت خراب ہو جائے گی تمہاری ..اور دوا لی تم نے ؟” وہ بلکل بھائیوں کی طرح اس کا خیال رکھتا تھا اس نے آثبات میں سر ہلایا ” ٹھیک ہے اب تم آرام کرو اور اسٹریس بلکل بھی مت لو ..انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ..” حارث نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اسکی آنکھیں پھر سے بھر آئی تھی بامشکل اس نے اپنے آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا “کھانا کھالو حارث ..ماہین بھابھی بلا رہی ہیں تمہیں ..” مناہل نے ناراضگی سے کہا ا”اب تمہارا منہ کیوں پھولا ہوا ہے ؟” حارث نے اس کے ناراض سندر مکھڑے کو تکتے ہوئے کہا ” بدلے میں اس نے ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی” تم اسے کچھ نہیں کہتے حارث ..اسی لئے وہ اتنا اوور ہوتا جا رہا ہے ” “تم جتنا چڑو گی وہ تمہیں اتنا ہی چڑاۓ گا ..تم رسپانس ہی مت دو اس کی بات پر ..اگنور کرو ..” ” ہر طریقہ کر کے دیکھ لیا میں نے ..لیکن اس ڈھیٹ پر کچھ اثر ہی نہیں ہوتا ..”وہ شدید ناراضگی سے بولی “اچھا ..میں بات کروں گا اس سے ” اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا ” ہاں تمہاری تو جیسے بہت سنتا ہے نہ وہ ” مناہل طنزیہ انداز میں بولی “کیا مجھے کسی نے یاد کیا ہے ؟؟” جبھی حیدر نے دروازے میں سے سر نکال کر کہا “مناہل نے پھر غصے سے حارث کو دیکھا ” ابے حیدر ..تیری سمجھ میں نہیں آۓ گا ؟ کیوں فضول میں تنگ کرتا ہے تو مناہل کو ؟” وہ مصنوئی غصے سے بولا “اچھا سوری مناہل بھابھی ..آئندہ آپ کو بھابھی نہیں کہوں گا ” وہ سنجیدگی سے بولا جبکے مناہل اس کو تیز نظروں سے گھورتی غصّے میں بھری کمرے سے نکلی زرنور نے تو حیدر کو دیکھتے ہی سر تک بلینکٹ اوڑھ لیا تھا حارث اور حیدر کے درمیان مسکراہٹ کے تبادلے ہوئے تھے پھر وہ بھی مناہل کے پیچھے بھاگا
آۓ ہم باراتی برات لے کر .
جائیں گے تجھے بھی اپنے ساتھ لے کر
وہ شرارتی انداز میں گنگنا رہا تھا ” آہستہ بولو حیدر شور مت کرو ..ابھی دوا لے کر سوئی ہے یہ ” انوشے نے اسے تنبہ کی تھی “کیا واقعی میں سو گئی ہے ؟” “ہاں میں مذاق تھوڑی کر رہی ہوں ..” “چلیں پھر ٹھیک ہے ..میں گھر جا رہا ہوں ..یہ اٹھ جائے تو اسے بتا دیجئے گا .” “ٹھیک ہے کہ دوں گی ” انوشے نے جلدی سے کہا وہ جاتے جاتے پلٹ کر سائیڈ ٹیبل کے پاس گیا اور وہاں رکھے ڈیری ملک کے ڈبے میں سے تین چار چاکلیٹس نکال کر اپنی جیکٹ کی جیب میں ڈالی تھی “ایسے مت دیکھیں انوشے ..نوربانو بھی میری بہن ہی ہے اگر میں یہ دو تین چاکلیٹس لے لوں گا تو وہ بلکل بھی برا نہیں مناۓ گی اس نے اتنے مان سے کہا کے انوشے ہنس پڑی “ٹھیک ہے حیدر تمہیں جتنی چاکلیٹس چاہیے تم لے لو ..میں اسے نہیں بتاؤں گی ..” “یہ ہوئی نہ بات ..چلیں اسی بات پر ایک آپ لیں لے ” حیدر نے ڈبے میں سے ایک اور چاکلیٹ نکال کر اس کی طرف بڑھائی “ارے لے لیں یار ..بھائی سمجھ کر لیں لے ..ویسے بھی یہ تو سو رہی ہے اس کو کیا پتا کے چاکلیٹس ہم نے کھائی ہیں ” یہ بات کرتے ہوئے وہ انوشے کو سچ میں معصوم سا لگا تھا لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کے یہ معصوم سا دکھنے والا دوسرو کو تگنی کا ناچ نچوا دیتا تھا انوشے نے مسکراتے ہوئے اس کی بڑھائی ہوئی چاکلیٹ تھام لی تھی “اوکے گڈ باۓ ..” وہ بھی دوسری چاکلیٹ کا ریپر ہٹاتا وہاں سے چلا گیا اس کے جاتے ہی زرنور نے سر باہر نکالا ..” تھینک گاڈ انوشے ..تم نے بچا لیا مجھے ،،” وہ شکر ادا کرتے ہوئے بولی “ویسے تمہیں پتا تو نہیں چلا نہ کے ہم بھائی بہن نے تمہاری چاکلیٹس کھائی ہیں ؟” انوشے نے شرارت سے کہا پھر وہ دونوں ہنس پڑی ..
________________________
“آج تو اپنا ارادہ ملتوی کر دے تو بہتر ہے ..کیوں کے اس کے روم کی فضاء انتہائی کشیدہ ہے ..گولہ باری توپ ..اور مزائل چلنے کے بھی سو فیصد امکانات ہیں “حارث نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا وہ دونوں اس وقت کچن میں ڈائینگ ٹیبل کے گرد بیٹے تھے “اور وہ تو پکّا تجھے قتل کرنے کا ارادہ کئے بیٹھی ہے “اس نے ہنستے ہوئے کہا “یہ مذاق تمہیں بہت مہنگا پڑنے والا ہے ارمان ..” ماہین نے ان کے سامنے بریانی کی ڈش رکھتے ہوئے کہا “میں نے تو پہلے ہی کہ دیا تھا کے اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے ..میری بہن ہے نہ اچھی طرح سے جانتی ہوں میں اس کے مزاج کو ..” “بھابھی ٹھیک کہ رہی ہیں احمد ..میں نے بھی تجھے شروع میں ہی کہ دیا تھا کے یہ ہرکت مت کر ..لیکن تو سنے تب نہ ..” حارث نے پلیٹ میں بریانی نکالتے ہوئے کہا “آگے تم نے کیا سوچا ہے ارمان .؟ کیوں کے وہ تو تمہیں قبول کرنے کے لئے بلکل بھی تیار نہیں ہے ..” ماہین نے اس سے کہا “پریشان نہ ہو آپی ..میں سمبھال لوں گا اسے ..آپ لوگ اس کی ٹینشن مت لیں ..” اس نے اطمینان سے کہا ” تیری یہ ہی بات مجھے بری لگتی ہے احمد کسی بات کو تو سیرئیس لیتا ہی نہیں ہے ..وہاں تیری بیوی تجھے مرنے مارنے پر تلی ہوئی ہے اور تجھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا آرام سے بیٹھ کر یہاں بریانی کھا رہا ہے ” حارث نے ناراضگی سے کہا “تو یار کیا چاہ رہا ہے تو ؟ ..کبھی تو کہتا ہے کے جا اس کے پاس …اچھا بھئی چلا جاتا ہوں ..کبھی تو کہتا ہے کے مت جا اس کے پاس مار دے گی تجھے ..اچھا یار نہیں جاتا …اور اب تو پھر غصّہ کر رہا ہے ..کیا چاہتا کیا ہے آخر ؟ کیا میں بریانی نہ کھاؤں ؟” وہ مصنوئی ناراضگی سے منہ پھلا کر بولا “اب میں نے یہ بھی نہیں کہا کے تو بریانی مت کھا ..شوق سے کھا ..جتنی کھانی ہے اتنی کھا ..لیکن یار تو تھوڑی سی ٹینشن ہی لے لے ” ” آپ کیا کہتی ہیں آپی کیا مجھے ٹینشن لینی چاہیے ؟” اس نے بریانی کھاتے ہوئے ماہین سے پوچھا ” اگر مجھے تمہاری نیچر کے بارے میں پتا نہ ہوتا تو میں بھی یہ ہی کہتی ..لیکن مجھے پتا ہے تم ہینڈل کر لوگے اسے ..”ماہین کے اطمینان سے کہنے پر احمد نے مسکرا کر حارث کو دیکھا “پریشان نہ ہو یار ..منا لوں گا میں تیری بہن کو ..” احمد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا “وہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھ سے کسی قسم کی کوئی امید مت رکھنا کیوں کے اس معاملے میں .میں تیری کوئی مدد نہیں کروں گا وعدہ کر آیا ہوں میں اپنی بہن سے ..” حارث نے بدستور ناراضگی سے کہا “چل جیسی تیری مرضی ..لیکن منہ ٹھیک کر اپنا ..ورنہ ایک پنچ مار کر میں خود ہی ٹھیک کر دوں گا …سالے ” “ارمان.. !!” ماہین نے اس کو گھور کر کہا “یار آپی یہ خود ہی تو کہ رہا ہے کے نور کا بھائی ہے تو اس حساب سے تو میرا سالا ہی ہوا نہ ؟” اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا ..ماہین بھی ہنس پڑی
________________________
“میں تم سے بے حد شرمندہ ہوں عباد ..ارمان نے جو حرکت کی ہے وہ واقعی میں اس قابل نہیں کے اسے معاف کیا جا سکے “عدیل خانزادہ نے شرمندگی سے کہا “تم کیوں ایسا کہ رہے ہو عدیل ؟ اگر ارمان کی اس میں کوئی غلطی ہے تو ہم بھی قصور وار ہیں کیوں کے ارمان نے یہ سب ہماری اجازت سے ہی کیا تھا ..اس لئے میرے بیٹے کو کچھ مت کہو ..” “جو بھی ہو عباد اس نے میری بیٹی کو بہت تنگ کیا ہے اس لئے میں اسے تب تک معاف نہیں کروں گا جب تک زرنور نہیں کر دیتی ..” عدیل خانزادہ نے ناراضگی سے احمد کو دیکھا جو سنگل صوفے پر کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑے بیٹھا تھا “چلو چھوڑو یار اس پر بعد میں بات ہو جائے گی تم یہ بتاؤ دوبارہ اٹلی کیوں جا رہے ہو ؟” “کچھ ضروری کام رہ گئے ہیں وہ نمٹانا ہے میں چاہ رہا تھا کے جب تک میں مستقل یہیں آجاؤں ..تم نے جو تیاری کرنی ہے کر لو ..جب تک زرنور کے پپیرز بھی ہو جائے گے تو پھر رخصتی کی کوئی ڈیٹ رکھ لیں گے ..” “میں چاہ رہا تھا کے کچھ مہینے اور رک جاتے ہیں عدیل ..” “نہیں عباد اب اور صبر نہیں ہوتا مجھ سے .اتنا عرصہ ہم باپ بیٹا تنہا رہیں ہیں دیکھو ذرا کس قدر ویرانی ہے اس گھر میں ..اب بس میں چاہتا ہوں کے میری بیٹی جلدی سے آ کر اس گھر کو آباد کر دے ..”وہ ٹھوس انداز میں بولے “وہ تو ٹھیک ہے یار لیکن زری ابی تک نہیں مانی ..انفیکٹ وہ تو اس بارے میں کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہتی اور میں نے بھی زیادہ نہیں کہا کے کہیں وہ اسٹریس نہ لے لے ..” ا”اس کی فکر مت کرو عباد ..یہ مسلئہ تو اب ارمان صاحب خود ہو حل کریں گے “عدیل خانزادہ نے فہمائشی انداز میں احمد کو دیکھا “آپ لوگ پریشان نہ ہو عباد انکل میں منا لوں گا اسے ” احمد نے یقین دلاتے ہوئے کہا “مجھے تم پر بھروسہ ہے بیٹا ..” عباد بخاری نے اس کا کندھا تھپکا ..
________________________
“اوے ریاض ..اب تو بھی جلدی سے کوئی اچھی خبر سنا دے ..سچ میں تو اکیلا بلکل بھی اچھا نہیں لگتا ..”اشعر کے کہنے پر اس نے ہاتھ جھلایا تھا “میں اکیلا ہی ٹھیک ہوں بھائی مجھ سے نہیں گھوما جاتا تتلیوں کے آگے پیچھے ” “یار تم لوگوں کو میں کیوں نظر نہیں آتا ؟ میں بھی تو بیچارہ اکیلا ہوں ..میری ہی سیٹنگ کر وادو کہیں ..” حیدر منہ پھلا کر بولا “تو کنوارہ ہی مرے گا حیدر لڑکیاں تو صرف “حمزہ حیدر علی ” کا نام سن کر ہی کانوں کو ہاتھ لگاتی بھاگ جاتی ہیں کوئی تیار ہی نہیں ہے تیری گرل فرینڈ بننے کے لئے “تیمور کے کہنے پر اس نے پھر سے منہ بنایا “اتنا تو پیارا ہوں میں ..” “ہاں بھائی تو بہت پیارا ہے ..” وہ سب ہنسے لگے احمد کا فون بجنے لگا اس نے نکال کر یس کیا تھا “اسلام علیکم ہاں راحم بول کیا ہوا ؟ ..کیا ابھی ؟ ..یار بات کچھ ایسی ہے کے مجھے تھوڑا ضروری کام ہے ..لیکن میرے دوست تیرا یہ کام کر دیں گے ..تو فکر مت کر ..اور کوئی تصیور وغیرہ ہے تو دے دے تاکے میں انھیں دکھا دوں ..چل ٹھیک ہے ..” اس نے کال کاٹ کر ان لوگوں سے کہا ” بات سنو یار ..میرے دوست کی ایک کزن ہے اس کا آج یہاں فرسٹ ڈے ہے تھوڑی دیر تک وہ پہنچ جائے گی تو تم لوگ اس کی ہیلپ کر دینا کلاس وغیرہ ڈھونڈنے میں اور یہ ہے اس کی کزن ..” احمد نے راحم کی بھیجی ہوئی تصویر ان کے سامنے کی تصویر دیکھ کر تو ان سب کو گویا سانپ سونگھ گیا “یہ ..یہ تیرے دوست کی کزن ..”ریاض نے حیرت سے کہا “ہاں اور میرے لئے بلکل چھوٹی بہنوں کی طرح ہے اس لئے کسی قسم کا کوئی مذاق نہیں ہونا چاہیے .. ” احمد نے انہیں پہلے ہی تنبہ کر دی تھی وہ سب حیدر کو دیکھ رہے تھے جس نے جلد ہی خود کو کمپوز کر لیا تھا “تو پریشان نہ ہو احمد ..ہم اس کی ہر طرح سے مدد کر دیں گے ..” حیدر نے اس کو یقین دلایا تھا اور یہ تو صرف اس کو ہی پتا تھا کے اس کے دماغ میں کیا کھچڑی پک رہی ہے “ٹھیک ہے پھر میں آتا ہوں ایک دو گھنٹے تک ..” احمد نے زرنور اور مناہل کو یونی کی عمارت سے باہر جاتے دیکھ لیا تھا اسی لئے جلدی سے موبائل پاکٹ میں رکھتا ان کے پیچھے گیا تھا “بھائی لوگ ..تیار ہو جاؤ شکار خود چل کر آ رہا ہے ” حیدر نے شیطانی مسکراہٹ سے ان سے کہا ..
________________________
“مناہل میرے سر میں درد ہو رہا ہے پلیز تم ڈرائیو کر لو ..” ” کیا ہوا زری تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ؟” مناہل نے فکرمندی سے اس کی پیشانی کو چھو کر دیکھا “طبعیت ٹھیک ہے بس میرا دل نہیں کر رہا ڈرائیو کرنے کو تم کر لو ” “ٹھیک ہے تم بیٹھو ..”زرنور نے اس کو گاڑی کی چابی دی اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے سیٹ کی بیک سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لی تھی “حارث نے احمد کو اشارہ کیا تھا جس نے خفیف سی سر کو جنبش دی “مناہل بات سنو ..” حارث نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتی مناہل کو آواز دے کر روکا اس نے چونک کر حارث کو دیکھا تھا اور پھر اس کے پاس آئی ..”کیا ہوا ؟” مناہل کے جاتے ہی احمد نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھنے کے بعد جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھائی تھی مناہل حیرت سے پلٹی تھی لیکن حارث نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا “کیوں تم میاں بیوی کے بیچ میں آ رہی ہو ؟” “اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے حارث ..” مناہل نے پریشانی سے کہا “وہ دیکھ لے گا تم پریشان نہ ہو ..” حارث نے اسے کہا
________________________
اس کی متلاشی نظریں احمد کو ڈھونڈ رہی تھی آدھے گھنٹے سے وہ اس کو دیکھ رہی تھی لیکن وہ کہیں نظر ہی نہیں آ رہا تھا کال بھی ٹرائی کر لی تھی لیکن نمبر ہی اوف جا رہا تھا بلاآخر اس نے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ کرنے کا سوچا “اے لڑکے بات سنو ..کیا تمہیں پتا ہے کے ایم اے فرسٹ ائیر کی کلاس کہاں ہے ؟” اس نے پاس سے گزرتے ایک لڑکے کو روک کر پوچھا جو اس کو گھورنے لگا ” بات کرنے کی تمیز نہیں ہے آپ کو باجی ؟ یہ بات کرنے کا کون سا طریقہ ہے …اے لڑکے بات سنو ..لڑکیاں ایسے بات نہیں کرتی پہلے تمیز سے بات کرنا سیکھے آپ ” وہ تو کہ کر نکل گیا اور وہ محض اس کی پشت کو گھور کر رہ گئی “ایک تو باجی بولا اوپر سے باتیں بھی سنا گیا .” لیکن اسے احساس ہو گیا تھا کے غلطی اسی کی ہے پھر اس نے دوسرے لڑکے کو روکا “بات سننا بھائی ..کیا آپ کو پتا ہے کے ایم اے فرسٹ ائیر کی کلاس کہاں ہے ؟” اس دفعہ اس نے قدرے شائستگی سے کہا لیکن وہ تو ایسے اچھلا جیسے کرنٹ لگ گیا ہو “اوے ..یہ بھائی کسے کہ رہی ہو ؟ میں تمہارا بھائی کہاں سے ہو گیا ..ہنہ حد ہے بھئی .. جسے دیکھو بھائی بنانے پر تلا ہوا ہے مجھے …” وہ بھی پہلے والے کی طرح منہ بناتا وہاں سے چلا گیا یشفہ نے حیران ہوتے ہوئے اس کو دیکھا پھر ایک غصیلی نظر اس پر ڈال کر بینچ پر بیٹھے ایک لڑکے کے پاس آ کر اس سے بھی یشفہ نے وہی سوال کیا جو کسی کتاب میں گم مطالعہ کر رہا تھا لیکن اس دفعہ اس نے ذرا ہوشیاری سے کام لیا “ایکسکیوز می .کین یو ٹیل می پلیز ویئر از دا کلاس اوف ایم اے فرسٹ ائیر ..” اس نے شائستگی سے کہا اس نے کتاب سے نظریں ہٹا کر اس لڑکی کو دیکھا جو جینز پر ٹاپ پہنے پونی ٹیل بناۓ کھڑی تھی “سوری آئی ڈونٹ نو ..” لٹھ مار انداز میں کہتا وہ پھر سے کتاب میں گم ہو گیا “بھاڑ میں جاؤ سب ..” دانت پیستے ہوئے وہ وہاں سے آگے چلی تھی ” سیم ہئیر ..” اس کو اپنے پیچھے اس لڑکے کی آواز آئی تھی اس نے دھیان نہیں دیا تقریبآ ایک گھنٹے تک وہ یہاں سے وہاں گھومتی رہی تھی لیکن کسی نے بھی اس کی کوئی مدد نہیں کی اسے حیرت تھی کے دنیا بھر کر بے مروت لوگ یہاں آ کر جمع ہو گئے ہیں تھک ہار کر وہ ایک بینچ پر بیٹھ گئی تھی فائل اور بیگ بھی اس نے سائیڈ پر رکھ دیا تھا غصے سے وہ یہاں وہاں بے فکری سے گھومتے سٹوڈنٹس کو دیکھ رہی تھی غصّے سے وہ سامنے گرین شرٹ والے لڑکے کو دیکھ رہی تھی جو کسی بات پر ہنس رہا تھا دل تو کر رہا تھا کے اس لڑکے کی گردن اڑا دے بد تمیز سے کلاس کا پوچھا تو ایسا راستہ بتایا کے ایک گھنٹے تک پوری یونی میں گھوم پھر کر وہ واپس وہیں آگئی جہاں سے چلنا شروع کیا تھا لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کے یہ سب حیدر کے ہی چیلے ہیں “کیا ہوا کچھ پریشان لگ رہی ہو ؟” یشفہ نے چونک کر سر اٹھایا تھا جہاں یلو فراک میں ایک لڑکی گلاسیس لگاۓ کھڑی تھی “آج فرسٹ ڈے ہے میرا ..اتنی دیر سے اپنی کلاس ڈھونڈ رہی ہوں مل ہی نہیں رہی ..اور اتنے بد تمیز اور بد تہذیب لوگ ہیں یہاں پر مجال ہے جو کسی نے میری مدد کی ہو .” وہ منہ پھلا کر بولی “اچھا بتاؤ کون سی کلاس ہے تمہاری .؟” انوشے نے اس سے پوچھا “ایم اے فرسٹ ائیر ..” وہ جلدی سے بولی اتنا دفعہ بول چکی تھی کے اب تو رٹ چکا تھا اسے “آجاؤ میں تمہیں کلاس تک چھوڑ دوں گی ” انوشے کے خوش دلی سے کہنے پر وہ بے ساختہ خوشی سے بولی “ہیں سچی ….؟؟” انوشے نے مسکرا کر سر آثبات میں ہلایا “ویسے آپ کون سی فیکیلٹی کی ہیں ؟” “ایم اے فائنل ائیر ..” “اوہ تو آپ مجھ سے سینئیر ہیں ..” اس نے اپنا سامان اٹھاتے ہوئے کہا
________________________
اسے جانی پہچانی سی کلون کی خوشبوں محسوس ہوئی تھی اس نے اپنی آنکھیں کھولی اور چونک کر اپنے برابر میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے احمد کو دیکھا اس کے دیکھنے پر وہ مسکرایا تھا “تم ..تم یہاں کیسے ؟ یہاں تو مناہل تھی ..” وہ حیرت سے بولی “یہاں ہمیشہ سے میں ہی تھا بس تم نے کبھی ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں ..” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا “گاڑی روکو فورآ ..” وہ سخت لہجے میں بولی لیکن اس نے کوئی رسپونس نہیں دیا “میں کیا کہ رہی ہوں تم سے گاڑی روکو …کیا تمہیں سمجھ نہیں آ رہی میری بات ؟” وہ غصّے سے بولی “نہیں …مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا ..” اس کے اطمینان سے کہنے پر وہ بھڑک اٹھی “تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری گاڑی میں بیٹھنے کی ؟؟” وہ اتنی زور سے چیخی کے احمد نے بے ساختہ ہاتھ اپنے کان پر رکھا تھا اور ایسے ایکسپریشن دئے جیسے زرنور کی آواز اس پر گراں گزری ہو “آہستہ بولو یار ..چیخ کیوں رہی ہو ؟ اونچا نہیں سنتا میں ..اور پریشان نہ ہو اغوا نہیں کر رہا تمہیں ..” اس نے کہنے کے بعد میوزک پلئیر آن کر دیا تھا
سن میرے ہمسفر ….
کیا تجھے اتنی سی بھی خبر
کے تیری سانسیں چلتی جدھر
رہوں گا بس وہی عمر بھر
کتنی حسین یہ ملاقاتیں ہیں
ان سے بھی پیاری تیری باتیں ہیں …
یہ گانا زرنور کو بے حد پسند تھا لیکن اس دفعہ زہر لگ رہا تھا اس نے ہاتھ مار کر پلئیر آف کر دیا تھا “ارے اسے کیوں بند کیا ؟” “بکواس بند کرو اپنی ..اور فورآ گاڑی روکو ..مجھے کہیں بھی نہیں جانا تمہارے ساتھ ..” وہ غصّے سے بولی اور احمد ایسے مسکرا کر اس کو دیکھ رہا تھا جیسے وہ اسے لطیفے سنا رہی ہو اتنے شدید غصے میں بھی زرنور کا دل اس کو مسکراتے دیکھ کر دھڑک اٹھا تھا ..اس کی تو جان بسی تھی اس کی مسکراہٹ میں ایک لمحے کے لئے تو وہ جیسے ساکت ہو گئی تھی پھر جلد ہی خود کو سمبھال لیا تھا “احمد میں کہ رہی ہوں تم سے گاڑی روکو ..ورنہ اچھا نہیں ہوگا ..” وہ دھمکاتے ہوئے بولی “نور ..اگر تم تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو جاؤ ..تو کیا یہ اچھا نہیں ہوگا ؟” وہ اس انداز سے بولا کے زرنور کو تو آگ ہی لگ گئی “میری گاڑی میں بیٹھ کر تم مجھے ہی باتیں سنا رہے ہو ؟؟” وہ پھر سے چیخ کر بولی “باتیں کہاں سنا رہا ہوں بس اتنا کہ رہا ہوں کے تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو جاؤ ..” “کیوں ہو جاؤں میں خاموش ؟؟ ہاں کیوں ہو جاؤں ؟؟ میری مرضی میں بولوں نہ بولوں ..تم ہوتے کون ہو مجھے خاموش کروانے والے ؟؟” وہ شدید غصے سے بولی “صرف اتنا کہا تھا کے تھوڑی دیر کے لیے چپ ہو جاؤ ..تم نے تو مجھے ہی باتیں سنا دی “وہ دھیان سے ڈرائیو کرتا ساتھ ساتھ بولتا بھی جا رہا تھا گاہے بگاہے اس کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے پر بھی نظر ڈال رہا تھا زرنور نے غصّے میں سٹئیرنگ پر ہاتھ مارا جس سے گاڑی کا بیلنس بگڑا تھا احمد نے با مشکل گاڑی کو کنٹرول کر کے سائیڈ پر کر کے بریک لگاۓ تھے اگر وہ بر وقت ایسا نہ کرتا تو یقینآ سامنے سے آتی کار سے ان کا زبردست تصادم ہو جاتا زرنور کا سر ڈیش بورڈ پر لگتے لگتے بچا “دماغ تو نہیں خراب ہو گیا تمہارا ؟ یہ کیا حرکت کی ہے تم نے ؟ کچھ خبر بھی ہے تمہیں کے کتنا برا ایکسیڈینٹ ہو سکتا تھا ؟” اس کے غصّے سے بولنے پر وہ سہم گئی تھی “ا ..احمد ..وہ ..!!” ” خاموش ہو جاؤ ..ایک لفظ نہ سنو میں تمہارے منہ سے اب ..” اس نے پھر سے کار سٹارٹ کی تھی اس کے اتنے سخت لہجے میں بات کرنے پر اس کا دل ٹوٹ گیا تھا اس نے شدید شاکی نظروں سے احمد کودیکھا جو خفا سا سامنے دیکھتا ڈرائیو کر رہا تھا اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنا شروع ہو چکے تھے ناراضگی سے اس نے منہ ہی موڑ لیا تھا ..اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی
_______________________
انوشے نے اسے کلاس تک پہنچا دیا تھا اس کا شکریہ ادا کرتی وہ کلاس میں جا بیٹھی تھی پروفیسر تھوڑی دیر پہلے ہی کلاس میں آۓ تھے اور ابھی وائٹ بورڈ کے سامنے کھڑے کچھ لکھنے میں مصروف تھے “اے شش ..!!” یشفہ کو یہ آواز اپنے پیچھے والی ڈیکسیس پر سے آئی تھی لیکن اس نے دھیان نہیں دیا “اے شش ..پنک بیگ ..” اب کی دفعہ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں اس کے پیچھے دو ڈیکسیس چھوڑ کر برابر والی رو میں ایک لڑکا بیٹھا تھا جس نے یشفہ کے دیکھنے پر مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی تھی اسے دیکھ کر وہ چونکی تھی اس کو امید نہیں تھی کے یہ لڑکا اس کو یہاں ملے گا اسے حیرانی اس بات پر تھی کے وہ اس کو دیکھ کر مسکرا کیوں رہا تھا کیوں کے جو حرکت اس نے حیدر کے ساتھ کی تھی اسے پکّا یقین تھا کے کبھی نہ کبھی وہ کہیں سے اچانک آۓ گا اور اس کو شوٹ کر کے نکل جاۓ گا لیکن یہ تو مسکرا رہا تھا پہلی ملاقات کا تو کوئی شائبہ تک نہیں تھا اس کے چہرے پر یشفہ اس کو نظر انداز کرتی پھر سے سامنے دیکھنے لگی جہاں پروفیسر ابھی تک کچھ لکھ رہے تھے “ہئیے ..!!” اس نےپھر اسے متوجہ کرنا چاہا لیکن اس دفعہ یشفہ نے کوئی رسپونس نہیں دیا بس سامنے دیکھتی رہی جبھی کوئی چھوٹی سی چیز آ کر اس کے کندھے پر لگی “ایک لمحے کے لئے تو وہ سن رہ گئی کے کہیں اس نے گولی تو نہیں مار دی ..اس نے سکھ کا سانس لیا ..کے گولی نہیں ماری تھی لیکن ویسی ہی ایک اور چیز اڑتی ہوئی آ کر اس کے سر پر لگ کر نیچے گری تھی اس نے حیرانی سے نیچے پڑی ان دونوں چیزوں کو دیکھ رہی تھی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھی دوسرے ہی لمحے وہ چیختی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی تھی پوری کلاس حیرانی سے اس کو دیکھ رہی تھی جس نے چیخ چیخ کر پوری کلاس سر پر اٹھا لی تھی “وہاٹ از یور پرابلم ..؟؟” پروفیسر نے اپنے موٹے سے چشمےکو ناک پر ٹکاتے گھور کر اس کو دیکھا جو اسٹیج سے نیچے کھڑی تھی حالت عجیب سی ہو رہی تھی “سر۔۔سر۔۔وہ کاک ۔۔کاکروچ مارے..مارے ہیں اس لڑکے نے مجھے ..” وہ گھبراۓ ہوئے انداز میں ہاتھ سے حیدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی “کیا ہوا پھر ؟ کاکروچ ہی مارے ہے نہ ؟ کوئی مزائل تو نہیں مار دئے جو تم ایسے ری ایکٹ کر رہی ہو ” پروفیسر نے اسے گھور کر کہا “سر اس نے مجھے کاکروچ مارے ہیں کاکروچ ..” وہ زور دے کر بولی “تو اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے ؟ کاکروچ تو اتنے اچھے ہوتے ہیں ..کلاس ایک بات آپ سب میری غور سے سنیں ..” پروفیسر نے کھی کھی کرتے سٹوڈنٹس کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا ” بلکے ایسا کریں کے دوپٹے سے ..شرٹ سے ..رومال سے ..جو بھی ہے آپ کے پاس اس سے یہ نصیحت باندھ لیں کے …جب بھی جہاں بھی آپ کو کاکروچ چھپکلی نظر آۓ ..اسے اٹھا کر منہ میں ڈال کر کھا جائیں ..اور یہ تو آپ جانتے ہیں آپے نہ کے پروفیسر حارث آپ کو کبھی بھی کوئی غلط نصیحت نہیں کرتے ….ہاں تو صرف نگلنا نہیں ہے بلکے چبا چبا کر کھانا ہے ..امیجن کریں ذرا ..ککروچ اور چھپکلی آپ لوگ چبا چبا کر کھا رہیں ہیں ..آہا ..کیا مزہ آ رہا ہے …کیا لطف آ رہا ہے ..” پروفیسر بنے حارث نے چٹخارے لیتے ہوۓ کہا .
