Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan NovelR50715 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 16
Rate this Novel
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 01 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 02 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 03 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 04 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 05,06 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 07 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 08 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 09 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 10 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 11,12 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 13 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 14 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 15 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 16 (Watching)Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 17,18 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 19 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 20 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 21 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 22 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Last Episode
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 16
حارث نے بال بناتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں سے مناہل کا عکس دیکھا تھا جو اس کے ہی بیڈ پر منہ پھلا کر بیٹھی تھی اور نارضگی سے ہی اس کو دیکھے جا رہی تھی “یار مناہل ..کیوں فضول ضد کر رہی ہو ؟ ” حارث نے برش رکھتے ہوئے کہا تھا “یہ فضول ضد ہےحارث ؟” “میرے لئے تو فضول ضد ہی ہے ..” “میں نہیں جانتی ..بس مجھے تمہارے ساتھ جانا ہے ..” “تم میرے ساتھ نہیں جا سکتی مناہل ..میں کتنی دفع تمہیں بتاؤ ؟” “تم ہر دفع ایسے ہی کرتے ہو ..خود تو تم چل جاتے ہو اور مجھے گھر پر بور ہونے کے لئے چھوڑ جاتے ہو ..” “نہیں تو تم مجھے بتاؤ نہ ..میرے ساتھ جا کر تم کرو گی کیا ؟؟ .انار جلاؤ گی یا پٹاخے پھاڑوگی ؟ یا پھر ون وہیلنگ کرو گی ؟” حارث نے تنگ آ کر اس کو کہا تھا ایک گھنٹے سے وہ اس کو سمجھا رہا تھا لیکن مجال ہے جو اس نے کان دھرے ہو “ہاں …اگر تم انار جلاؤ گے پٹاخے پھاڑوگے تو میں بھی کروں گی ..” وہ ضدی انداز میں بولی تھی ” اللہ ..اللہ ..مناہل ..لڑکیاں انار نہیں جلاتی ..” اس نے اپنا سر پکڑ لیا تھا “مجھے نہیں پتا حارث ..تم مجھے اپنے ساتھ لے کر جاؤ گے بس ..!!” “تم نے فائرورکس ہی دیکھنا ہے نہ ..تو ٹی وی پر دیکھ لو …!” “واہ ..واہ ..خود تو تم وہاں اصل میں آتش بازی دیکھو گے پٹاخے بھی پھاڑوگے انار بھی جلاؤ گے ..اور میں یہاں ٹی وی پر دیکھوں ؟؟” وہ شدید ناراضگی سے بولی تھی جبھی اسے باہر سے عمیر کے بولنے کی آواز آئی تھی “روکو …ابھی جا کر تمہاری شکایات کرتی ہوں عمیر بھائی سے ..” وہ اس کو دھمکاتی وہاں سے اٹھ کر لاؤنج میں چلی گئی تھی حارث اپنا سر تھام کر رہ گیا تھا یہ لڑکی اس کی سمجھ سے باہر تھی اور جب تک وہ اپنے جوتے لے کر لاؤنج میں آیا اس کی نظر سیدھی مناہل پر ہی پڑی تھی جو صوفے پر عمیر کے ساتھ بیٹھی تھی منہ بدستور پھولا ہوا ہی تھا “آپ ہی سمجھاۓ اس پاگل کو بھائی ..کہ رہی ہے کے نیو ائیر پر آتش بازی کرنے اور دیکھنے یہ بھی میرے ساتھ ہی جائے گی ..” “دیکھیں عمیر بھائی ..یہ بھی تو جا رہا ہے نہ ..پھر آپ مجھے کیوں نہیں جانے دے رہے ..؟؟” وہ ناراضگی سے بولی تھی “وہ لڑکا ہے مناہل ..اور یہ کام لڑکے ہی کرتے اچھے لگتے ہیں اور وہاں صرف لڑکے ہی ہوں گے ..تم کرو گی کیا وہاں جا کر ؟” عمیر نے بھی اس کو سمجھا نے کی کوششیس کی تھی “اگر تم نے جانا ہی ہے تو ..میں معلوم کر لیتا ہوں اگر کوئی کنسرٹ وغیرہ ہو رہا ہوگا تو تم زر نور اور لائبہ کے ساتھ وہاں چلی جانا “حارث نے صوفے پر بیٹھ کر شوز پہنتے ہوئے کہا تھا “تمہیں پتا ہے حارث ..مجھے نہیں پسند یہ کنسرٹ وغیرہ ..مجھے تمہارے ساتھ ہی جانا ہے “وہ اٹل لہجے میں بولی تھی “حارث اگر بچی کا دل کر رہا ہے تو تم لے جاؤ نہ اس کو اپنے ساتھ ..” حارث کی امی نے مناہل کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر کہا تھا “میں تو خود ریاض کی بائیک پر اس کے ساتھ ہی جا رہا ہوں امی ..اس کو کہاں بٹھاؤں گا ؟” اس نے جوتے پہنے کے بعد کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا “ٹھیک ہے پھر اپنی کار کی چابی دو مجھے ..” وہ مناہل کی بات پر ٹھٹھک گیا تھا ” تمہیں کیوں چاہیے چابی ؟” اس نے مشکوک انداز میں اس کو دیکھ کر کہا تھا “تو کیا کنسرٹ میں پیدل جاؤں ؟” وہ ناراضگی سے بولی تھی “تمہیں ڈرائیو کرنے کی ضرورت نہیں ہے ..زرنور کے ساتھ جانا ..” “مجھے آرڈر مت دو حارث ..”وہ تنک کر بولی تھی “ٹھیک ہے پھر تمہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے گھر میں بیٹھو ..” “دیکھ رہے ہیں بھائی آپ اس کو ؟؟” اس نے شکایاتی نظرو سے اس کو دیکھنے کے بعد عمیر سے کہا تھا ” مناہل چھوڑو اسکو ..تم میری گاڑی لے جاؤ ..”عمیر نے کہا تھا ” نہیں ..مجھے اسی کی گاڑی چاہیے …!” وہ پھر سے ضد کرنے لگی تھی “بھائی ..آج کتنا رش ہوگا سڑکوں پر اور اس کی ڈرائیونگ کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہے ..فضول میں یہاں وہاں مار دے گی یہ ” “چپ ہو جاؤ حارث ..اب ہر بات میں تمہاری نہیں چلے گی ..” وہ غصے سے بولی تھی
“اچھا ٹھیک ہے میرے کمرے میں ہے چابی ڈریسنگ پر رکھی ہے جاؤ لے لو ..”حارث نے موبائل نکالتے ہوئے بے نیازی سے کہا تھا اور میسج پر احمد سے کسی کنسرٹ کے بارے میں پوچھنے لگا تھا جس کا میسج اگلے پانچ منٹ میں ہی موصول ہو گیا تھا حارث کن آنکھیوں سے ان سب کو باتوں میں لگا دیکھ کر اپنے کمرے میں آیا تھا “مناہل ..وارڈروب میں سے میری گرے والی جیکٹ دو ..” اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی مناہل کو دیکھ کر کہا تھا “کوئی کام خود بھی کر لیا کرو .”وہ لٹھ مار انداز میں کہتی ہوئی الماری کے پاس آئی تھی اور جیکٹ نکالتے ہوئے اس کی نظر اندر رکھے ایک خوبصورت سے گولڈن ریپر میں پیک ہوئے گفٹ پر پڑی تھی مناہل نے حیرت سے اس گفٹ کو دیکھا تھا اور پھر اٹھا بھی لیا تھا “حارث .یہ کس کے لئے لیا ہے تم نے ؟” اس نے حیران ہوتے ہوئے حارث کو کہا تھا جو ابھی بھی موبائل پر ہی مصروف مسکرا رہا تھا مناہل کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا تھا اور پھر اس کے ہاتھ میں موجود اس گولڈن گفٹ کو دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی اس نے فورآ سے مناہل کے پاس پہنچ کر اس کے ہاتھ سے وہ گفٹ جھپٹا تھا “یہ کیوں نکالا ہے تم نے ؟ ” “میں تو …پوچھ رہی تھی کے ..یہ کس کے لئے لیا ہے تم نے ؟” وہ حیرت سے حارث کا یہ انداز دیکھ رہی تھی “عائشہ کے لئے لیا ہے “اس نے بے نیازی سے کہا تھا جبکے عائشہ کے نام پر وہ چونکی تھی “یہ عائشہ کون ہے ؟” اس نے حیرت سے پوچھا تھا “دوست ہے میری ..لیکن اب دوست سے کچھ بڑھ کر ہے ..” وہ مسکراتے ہوۓ بولا تھا “تم نے بتایا نہیں حارث ..کے تمہاری کوئی “لڑکی “بھی دوست ہے ” مناہل کی حیرت ختم نہیں ہو رہی تھی “ہر بات بتانے کی نہیں ہوتی ..مانو بلّی ..”حارث نے کہنے کے بعد اس گفٹ کو لاکر میں رکھ کر لاک لگا دیا تھا “یہ کون سی دوست ہے تمہاری ؟ اور یہ بنی کب ؟” “ابھی دیر ہو رہی ہے مجھے ..ریاض باہر ویٹ کر رہا ہے ..میں تمہیں بعد میں بتا دوں گا .بس اسے تم میری “دا ون “سمجھ لو ..امی سے کہوں گا بس جلد ہی رشتہ لے جانے کی تیاری کریں ..” آخر میں وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا تا ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آیا تھا اور پرفیوم کی بوتل اٹھا کر خود پر سپرے کرنے لگا تھا اس نے شیشے میں سے مناہل کو دیکھا تھا جو حیران پریشان سی کھڑی تھی مناہل کو یہ سب عجیب لگ رہا تھا اور سہی معنوں میں بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کیوں کے بچپن سے لے آج تک حارث پر وہ اپنا حق جتاتی آئی تھی اسے لگتا تھا کے بس اسی کی اجارہ داری ہے حارث پر لیکن ایک بات وہ بھول گئی تھی کے اگر اس کی شادی ہونا ہے تو پھر حارث کی بھی تو ہو گی نہ ؟اور ظاہر ہے تب وہ اسی آنے والی لڑکی میں دلچسپی لے گا اور یہ سوچ کر ہی مناہل بے چین ہو گئی تھی کے کوئی لڑکی اس کے سامنے حارث پر اپنا حق جاتاۓ اتنا آسان نہیں ہوتا اپنی ملکیت سے یوں دستبردار ہو جانا “کیا ہوا ؟جانا نہیں ہے تم نے ؟”حارث نے اس کے پاس آ کر اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا تھا تب وہ چونکی تھی “ہاں ..کیا ہوا ؟” اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے حارث کو دیکھا تھا جو بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ میں ملبوس خوشبوؤیں بکھیرتا جانے کے لئے بلکل تیار لگ رہا تھا “میں پوچھ رہا تھا کے تم جا نہیں رہی ؟ صرف ایک گھنٹہ رہ گیا ہے بارہ بجنے میں اور ابھی احمد سے پوچھا تھا میں نے ..تو وہ بتا رہا تھا کے نیشنل اسٹیڈیم میں عاطف اسلم اور فرحان سعید کا کنسرٹ ہو رہا ہے .تمہیں تو پسند بھی ہے نہ یہ دونوں ؟ تو یہیں چلی جاؤ .. “نہیں ..اب دل نہیں کر رہا میرا ..” اسے اب کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا دل ایک دم ہی اچاٹ ہو گیا تھا ہر چیز سے ..”ابھی تو تم نے شور ڈالا ہوا تھا کے .تم نے جانا ہے ..اور اب منع کر رہی ہو کہو تو میں ڈراپ کر دیتا ہوں “حارث نے چہرے پر حیرت طاری کرتے ہوئے کہا تھا “بس موڈ نہیں اب میرا ..”وہ بے دلی سے اس کو جیکٹ ور چابی پکڑا کر کمرے سے چلی گئی تھی حارث دل ہی دل میں محفوظ ہوتا اس کی یہ حالت دیکھ رہا تھا پہلی ہی سیڑہی پر کامیابی ملنے پر وہ خود کو شاباش دے رہا تھا
________________________
“مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا ہے کے زرنور .تم اتنی بدتمیز کیوں ہوتی جا رہی ہو ؟” “میں بدتمیزی کہاں کر رہی ہوں مما .؟ میں تو بس اتنا کہ رہی ہوں کے اب تو انکل خود ہی یہاں آ گئے ہیں ..تو آپ انہیں صاف صاف کہ دیں ..! ” “تم ہی بتاؤ کے میں کیا کہوں ان کو ؟ یہی کے میری بیٹی بہت نافرمان ہے ..اور ہم سے زیادہ سمجھ بوجھ ہے اس میں ہم سے بہتر فیصلے کر سکتی ہے وہ ..”زارا بخاری شدید ناراضگی سے بولی تھی “اب یہ مطلب تو نہیں ہے میرا مما ..” “تو بتاؤ پھر کیا مطلب ہے تمہارا ؟” “بس مجھے ارمان سے شادی نہیں کرنی ..کسے سے بھی کروا دیں ..بس اس سے نہیں کروں گی ..” “تمہیں مسئلہ کیا ہے ارمان سے شادی کرنے میں ؟؟ کسی اور سے بھی تو کرو گی نہ ؟ تو پھر ارمان سے ہی کر لو ” “مجھے ارمان سے ہر گز ہر گز شادی نہیں کرنی ..”وہ اٹل لہجے میں بولی تھی اور ابھی زارا بخاری کچھ کہنے ہی لگی تھی کے دروازے پر دستک ہوئی تھی ..وہ دونوں ہی چونکی تھی اور دروازے پر کھڑے عدیل خانزادہ کو دیکھ کر زرنور کو شرمندگی نے آن گھیرا تھا “زارا ..مجھے اپنی بیٹی سے اکیلے میں بات کرنی ہے ..” انہوں نے زارا بخاری کو مخاطب کر کے کہا تھا “جی ضرور بھائی صاحب ..”وہ زرنور پر ایک کڑی نگاہ ڈال کر کمرے سے چلی گئی تھی “زرنور بیٹا ..کوئی بھی فیصلہ فوری طور پر نہیں لیا جاتا ..مجھے بتاؤ کیا وجہ ہے ارمان سے شادی نہ کرنے کی ؟” وہ اپنے مخصوص دھیمے اور پروقار لہجے میں اس سے بولے تھے جس کا شرمندگی کے مارے سر ہی نہیں اٹھایا جا رہا تھا “(اف ..ان کے سامنے ہی ان کے بیٹے کو ریجیکٹ کے جا رہی تھی میں …افف )”زرنور ..میں تم سے بات کر رہا ہوں بیٹا ..کیا ارمان پسند نہیں ہے ؟” ” نن نہیں انکل ..ایسی بات نہیں ہے ..میں نے تو اس کو دیکھا ہی نہیں ہے ..”وہ جلدی سے بولی تھی ” “تو بیٹا جب تم نے اس کو دیکھا ہی نہیں اس سے ملی ہی نہیں .تو پھر اس کے بارے میں کوئی راۓ کیسے قائم کر سکتی ہو ؟” “نہیں انکل ..وہ بات دراصل …!” ” اچھا چلو رہنے دو .. جو بھی بات ہے مجھے پتا ہے کے صرف ارمان کو دیکھنے کے بعد ہی تمہاری راۓ بدل جائے گی …” عدیل خانزادہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور کوٹ کی جیب سے موبائل نکال کر اس پر گیلری کھولنے لگے تھے زرنور لب بھینچے ان کو دیکھ رہی تھی (بھلا ارمان کوئی احمد ہے کیا ؟ جو صرف اس کو دیکھنے پر ہی اس کی پسند بدل جاۓ گی )”یہ لو ..”انہوں نے اپنا سیل فون اس کو دیا تھا جو اس نے نہیں تھاما تھا “زرنور ..تمہیں میری بات پر یقین ہونا چاہیے بیٹا ..میں کوئی غلط نہیں کہ رہا ..اور ارمان.. تمہارے لئے کوئی نیا نہیں ہے .تم اچھی طرح سے جانتی ہو اسے ..یہ لو دیکھو اس کی تصویر ..اور اس کے بعد جو بھی تمہارا فیصلہ ہوگا وہ ہم سب کو قبول ہوگا ..ارمان کو بھی …” وہ اس کے ہاتھ میں فون دے کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر چلے گئے تھے “اور وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ان کے فون کو دیکھ رہی تھی اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی موبائل سکرین کو اپنے سامنے کیا تھا “یہ …؟؟!!” اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں اس نے بے یقینی سے سلائڈ کر کے تین چار تصویریں دیکھی تھی جن میں صرف ایک ہی مسکراتا ہوا چہرہ تھا جو عدیل خانزادہ کے بقول ارمان خانزادہ کا تھا اور وہ چہرہ واقعی میں اس کے لئے نیا نہیں تھا کیوں کے …وہ …وہ احمد کا چہرہ تھا جسے اس نے سب سے زیادہ چاہا تھا گرے آنکھوں اور گہرے ڈمپل والا وہ احمد ہی تھا جو عدیل خانزادہ کے ساتھ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے مسکراتے ہوئے کھڑا تھا اور دوسری تصویر تب کی تھی جب اس نے گریجویشن کلئیر کیا تھا کیوں کے اس میں وہ بلیک کوٹ ور ہیٹ پہنے ہاتھ میں ڈگری پکڑے کھڑا تھا عدیل خانزادہ کو دیکھ کر وہ جبھی تو چونکی تھی کیوں کے ان جا چہرہ زرنور کو جانا پہچانا لگا تھا ” ہم ایک دفع نہیں کی بار مل چکے ہیں ..اگر تم زہن پر زور دو تو تمہیں یاد آجاۓ گا ..” اسے ارمان کی بات یاد آئی تھی “ارمان تمہارے لئے کوئی نیا نہیں ..تم اچھی طرح سے جانتی ہو اسے ..” عدیل خانزادہ کی تھوڑی دیر پہلے کہی ہوئی بات اس کے آس پاس ہی کہیں گونجی تھی اس کی آنکھوں میں مرچیں سی لگنے لگی تھی اورایک کے بعد ایک آنسو اس کے گالوں پر پھسلتے چلے گے تھے
“کتنی آسانی سے …کتنی آسانی سے اس نے مجھے بے وقوف بنا دیا …اور میں اس کی محبت میں پاگل کچھ سمجھ ہی نہ سکی کے ..کے کتنا بڑا گیم کھیل رہا ہے وہ میرے ساتھ .. تم نے میری محبت کی توہین کی ہے احمد …میں تمہیں۔۔ کبھی بھی…کبھی بھی معاف نہیں کروں گی ..” اس کا سر چکرانے لگا تھا ہوش و حواس سے بیگانا ہوتی وہ نیچے کار پیٹ پر گری تھی
________________________
سی ویو کی طرف جانے والے سارے راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دئے گئے تھے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری وہاں تعینات کر دی گئی تھی لیکن اس کے سامنے والی سڑک پر منچلوں کا ایک جم گفیر تھا جنہوں نے شور مچا مچا کر سارا آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا پوری روڈ نوجوانو سے بھری ہوئی تھی نۓ سال کو خوش آمدید کہنے کے لئے ساری تیاری مکمل کر لی گئی تھی سب بارہ بجنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے لیکن ابھی بارہ بجنے میں ٹائم تھا ایک بڑے سے ٹرک میں بہت سے ایکو نصب کئیے گئے تھے ایک عجیب سے حلیے والا ڈی جے بھی ٹرک میں چڑھا بیٹھا تھا جو اپ بیٹ میوزک لگا لگا کر دیوانوں کے جوش کو ہوا دے رہا تھا نیوز چینلز کی ڈی ایس این جی وینز بھی پہنچنا شروع ہو چکی تھی فل کوریج دی جا رہی تھی اس دفع سب سے زیادہ اور سب سے زبردست آتش بازی یہاں ہونے کا امکان تھا بارہ بجنے کے بعد ہیوی بائیک ریس اور سٹریٹ ڈانس کمپٹیشن کا بھی انقعاد کیا گیا تھا
ہے مستی کے دن ہے چلو جھومے اور گائیں ہم
سارے جو مل جائے تو بولو پھر کیا ہو غم
حیدر کا بس نہیں چل رہا تھا ک وہ ٹرک پر چڑھے بیٹھے ڈی جے بابو کو دھکا دے کر نیچے پھینک دے اور خود چڑھ جاۓ وہ تو اشعر نے اس کا بازو مظبوطی سے پکڑا ہوا تھا “دیکھ اشعر …ہاتھ چھوڑ دے میرا .یہ جنگلی ڈی جے .مجھ سے بالکل بھی نہیں برداشت ہو رہا ..”حیدر دانت پیستے ہوئے بولا تھا آج تو لگ رہا تھا کے سارا کراچی ہی اٹھ کر اس سڑک پر آ کر جما ہو گیا ہو پیر رکھنے کی بھی جگہ نہ تھی “ابے یار ایک مسئلہ ہو گیا ..!” جبھی ریاض یہاں وہاں جھومتے مستانوں کو دھکا دے کر پیچھے ہٹاتا ان کے پاس آ کر پریشانی سے بولا تھا ” ابے تجھے کیا ہوا ؟” ان سب نے حیرت سے اس دیکھا تھا ” یار وہ جیکی ہے نہ .؟” “ہاں ہے تو پھر ؟” “وہ جس کا بھائی ہر دفع بائیک ریس جیت جاتا ہے ..” “ہاں تو پھر ؟؟” “یار وہ ہی جس کے لمبے لمبے بال ہیں ..” “ریاض بھائی ہمیں یاد آگیا ہے ..تو آگے تو بول ” “یار اس نے چیلینج دیا ہے کے اس بار ہم میں سے کوئی اس کو ہرا کر دکھاۓ ..” “یہ کیا بول رہا ہے ؟” “ایک لگاؤں گا میں تیرے حیدر …جب ڈیٹیل میں بتا رہا تھا تو تب بھی تجھے مسئلہ تھا اور اب بھی تجھے مسئلہ ہے ..سیدھی سی بات یہ ہے کے.. میں کھڑا تھا اس کے پاس ایسے ہی ..تو وہ شیخیاں بھگار رہا تھا اور سچ بتاؤ تو مجھے چڑا رہا تھا کے کوئی ہے نہیں جو اس کے بھائی کو ہرا سکے ..بس مجھے بھی غصہ آگیا تو میں نے بھی ….!” “کیا تونے بھی ؟” حیدر پھر بیچ میں بولا تھا “تو میں نے کہا کے میرا دوست ہے نہ احمد …وہ بھی ہیوی بائیک ریس کا چیمپئن ہے وہ بھی اٹلی کا …اور تیرے بھائی کو تو وہ یوں منٹوں میں ہراۓ گا ..” ریاض نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا تھا احمد جو دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ایک پیر گاڑی کے ٹائیر سے لگاۓ کھڑا ان کی گفتگو سن رہا تھا چونک کر سیدھا ہوا تھا ” ایک تو مجھے اتنا برا لگتا ہے اس جیکی کا بھائی جیزی اوپر سے وہ اس کی اتنی تعریفیں کئے جا رہا تھا مجھ سے تو برداشت نہیں ہوا اسی لئے میں نے تیرا نام لے دیا احمد ..” “یار تو پہلے مشورہ ہی کر لیتا ..”احمد ناراض نظر آرہا تھا ” ابے بھائی وہ تو مجھے ریس کرنے کے لئے کہ رہا تھا اور تو جانتا ہے کے اگر میں ریس لگاتا تو وہ تو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ..اور سچی بات ہے بھئی ..مجھے صرف بائیک چلانی آتی ہے تیری طرح اڑانی نہیں آتی ..اور تو اٹلی میں بھی تو ریس کرتا تھا نہ ؟ اور جیتتا بھی تھا ..یار بھائی بات مان لے میری ..تیرے بھائی کی عزت کا سوال ہے …” “وہ سب تو ٹھیک ہے ریاض ..لیکن ریس سے پہلے مجھے پاور چاہیے ..” وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا تھا “کیسی پاور ؟” “یہ جتنے بھی لوگ یہاں پر ہے نہ اس سے ڈبل اٹلی میں میرے سپورٹرز ہوتے تھے اور جب ہزاروں لوگ مل کر آپ کے نام کے نعرے لگا ۓ تو پھر جتنے کا شوق اور جذبہ تو خود ہی پیدا ہوگا نہ ..چاہے سے آپ چیمپئن ہو یا نہ ہو …”
“یہ کام تو تم لوگ مجھ پر چھوڑ دو ..اور احمد ..تو بس ریس جتنے کے لئے تیار ہو جا ..اور ایک دفع تو جیت گیا نہ پھر دیکھنا اس جیکی اور جیزی کی تو میں کیسی ہٹاتا ہوں ..” حیدر نے ایک ہاتھ سینے پر رکھے ان سب کو مطمئن ہونے کے لئے کہا تھا جبھی ڈی جے نے گانے بند کر دئے تھے اور کاؤنٹ ڈاؤن شروع کرنے کااعلان کیا تھا سب الرٹ ہو گئے تھے پٹاخے .انار اور راکٹ .بم نکال کر سڑک پر ڈھیر کر دئے گئے تھے تقریباً پچاس ساٹھ کے قریب شیشے کی خالی بوتلوں کو ایک لائن سے لگا کر ان میں راکٹ رکھ کر اس میں سے لٹکتے دھاگے پر لائٹر سے شعلے لگا دئے گئے تھے “
“…چھ ….پانچ ….چار ……”منچلوں کا جوش و خروش گنتی کے ساتھ بڑھنے لگا تھا “…تین …دو …ایک …..ہیپی نیو ائیر …!!” یہاں بارہ بجے اور وہاں بہت سارے راکٹ ایک ساتھ آسمان کی جانب بڑھے تھے سب نے یک زبان میں نۓ سال کو خوشآمدید کہا تھا آسمان کی فضاء گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور پٹاخوں کے شور سے گونج رہی تھی سب مہبوت ہو کر اس رنگین آسمان کو دیکھ رہے تھے جہاں ہرے .نیلے ..پیلے .لال اور نہ جانے کتنے رنگ سج چکے تھے نیوز چینلز کے رپورٹرز چیخ چیخ کر ایک ایک بات سے اپنے ناظرین کو آگاہ کر رے تھے جبھی ایک رپورٹر نے انار جلاتے حیدر کو جا لیا تھا “ارے یہاں آیئے ..آپ بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیجئے ..”میں ؟؟” حیدر نے چونک کر اس کو دیکھا تھا “ہاں ہاں ..آپ ہی.. آجاۓ جلدی آجاۓ ..” حیدر نے اپنے ہاتھ میں موجود بہت سے پٹاخوں کا پیکٹ تیمور کو پکڑایا تھا اور خود اپنے کپڑے جھاڑ تا اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تھا “ارے ارے کیمرہ مین بھائی ..اپنا کیمرہ بند کرو ..مجھے بال تو ٹھیک کرنے دو ..” “ہم لائیو جا رہے ہیں …” رپورٹر نے بظاھر مسکرا کر مگر دانت پیستے ہوئے کہا تھا “اچھا ٹھیک ہے ..” وہ دونوں ہاتھ پشت پر باندھ کر کھڑا ہو گیا تھا ” ہاں بھئی جلدی پوچھو کیا پوچھنا ہے ..””ہاں تو بتایہے کے نۓ سال کو ویلکم کرنے کے لئے آپ نے کیا کیا تیاری کی ؟” ا رپورٹر خوشدلی سے بولی تھی ” شروع سے بتاؤں یا بیچ میں سے ؟” “شروع سے بتاییے ” “شروع سے تو پھر.. میری تیاری بھی آجائے گی …اپنے تیاری کے بارے میں بھی بتاؤں کیا ؟” “نہیں نہیں صرف ..نئے سال کے حوالے سے بتاۓ ..” “اچھا تو پھر ایسے بولو نہ کے بیچ میں سے بتاؤں …ہاں تو سنو …سب سے پہلے میں اپنے دوست کے ساتھ” نانا فائرورکس “پر گیا ….!” “یہ نانا فائرورکس کیا ہے ؟” وہ حیدر کی بات کاٹ کر بولی تھی ” پٹاخوں کی دکان ہے ..اب بیچ میں نہیں بولنا لڑکی ….ہاں تو پہلے میں نانا فائرورکس پر گیا وہاں سے پٹاخے خرید کر اپنے دوست ریاض کو دئے پھر ہم دونوں وہاں سے اشعر ..ایک منٹ روکو ..تم آدھے گھنٹے پہلے بھی میرے پاس آئی تھی نہ ؟ اور میں نے اپنی ساری تیاری کے بارے میں تمہیں بتایا بھی تھا ..تم پھر سے پوچھنے آگئی ؟” حیدر اس کو مشکوک انداز میں دیکھتے ہوئے بولا تھا “نہ نہیں ..میں وہ نہیں ہوں ” رپورٹر غصہ دبا کر بولی تھی “اچھا تو ..تم وہ نہیں ہو ..چلو کوئی نہیں ..ایک تو تم سب نیوز والوں کی شکلیں اتنی ملتی جلتی ہیں کے بندہ کنفیوژ ہو جاتا ہے ..بحرحال ..میں دوبارہ سے نہیں بتا رہا پہلے ہی اتنی دیر تک میں نے تفصیل سے اس کو بتایا تھا ..سچ بتاؤں تو ..مجھ سے ایک ہی بات دوبارہ ریپیٹ نہیں کی جاتی ..” “اچھا چلیں یہ بتاۓ کے نئے سال کے لئے آپ نے کیا کیا گول سیٹ کئے ہیں ؟ کون سے ایسے مقصد ہیں جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں ..؟” “اوہ تیری …یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں اصل میں نیو ائیر کو لے کر ہم اتنے ایکسائٹڈ ہو گئے تھے کے اس بارے میں سوچا ہی نہیں کے اگلے سال کرنا کیا ہے ؟ خیر اگلے سال بھی وہی کریں گے جو اس سال کیا ہے ..” “اچھا تو یہ بتاۓ پھر کے آپ نے اس سال ایسا کون سا کام کیا ہے جو آپ اگلے سال بھی کرنہ چاہتے ہیں ؟ ” ” مزے …!!” حیدر ہنستے ہوئے بولا تھا “لیکن ایک پلین تو میں نے یہاں کھڑے کھڑے ہی بنا لیا تھا اور وہ یہ کے اسی سال دسمبر میں ..میں ایک پٹاخوں کی دوکان تو ضرور کھولوں گا ..خوب منافع ہوگا ..اور ابھی ابھی میرے اندازے کے مطابق تو کروڑوں کے نہ سہی لاکھوں کے پٹاخے اور راکٹ تو میرے ملک کے معمار پھاڑ ہی چکے ہیں ..اور ایک بات تو یہ کے …!” “اچھا چلیں چھوڑیں اسوقت آپ کو ہماری نیوز سکرین پر پوری دنیا دیکھ رہی ہے ..کوئی پیغام دینا چاہیں گے ؟” “اوہ واؤ ..مجھے پوری دنیا دیکھ رہی ہے ؟ “حیدر خوشی سے بولا تھا ” ہاں تو دنیا والو ..کیسے ہو آپ سب ؟میری طرف سے آپ کو نئے سال کی مبارک ..آپ سب کے کیا کیا مقصد ہیں نئیے سال کے لئے ؟ میں نے تو اپنا بتا دیا پورا سال آرام کرنے کے بعد آخری کے مہینے میں پٹاخوں کی دوکان کھولوںگا ..اور خبردار …! جو کسی نے میرے آئیڈیا کو چرانے کی کوشش کی تو ..اور یار نئیے سال کی آمد ہے ..خوشی کا موقع ہے ..آپ سب گھر پر بیٹھ کر یہ بورنگ سا نیوز چینل دیکھ کر کیا تو انجوۓ کر رہے ہوں گے ..ذرا باہر نیکلیے آسمان کو اصل میں دیکھیں بلکے ایسا کریں کے ..ہمارے پاس ہی آجائیں ..مل کر پٹاخیں پھاڑیں گے اور راکٹ بھی جلائیں گے اور اس کے بعد ریس ….!!” ہمیں اور لوگوں کے تاثرات بھی جاننے ہیں ..آپ کا بے حد شکریہ ..”وہ اس کی بات کاٹ کر خود پر ضبط کرتے ہوئے بولی تھی (یہ لڑکا تو میری جاب کے پہلے دن کو آخری دن بنانے پر تل گیا ہے )…اس کو لگ رہا تھا کے اگر وہ ساری رات بھی کھڑی اس کی سنتی رہی نہ تو ..وہ ایسے ہی بولتا رہے گا .اور بولتے ہوئے تو وہ لگتا بھی اتنا پیارا اور معصوم سا تھا کے بس بیٹھ کر اس کو دیکھتے اور سنتے ہی جاؤ “حمزہ حیدر علی ..!” حیدر نے اطمینان سے کہا تھا “کیا ؟؟” اس نے ناسمجھی سے حیدر کو دیکھا تھا “نام لے کر شکریہ ادا کرو ..” حیدر کی فرمائش ..”آپ کا بہت شکریہ حمزہ حیدر علی ..ہمیں اور ہمارے ناظرین کو بے حد اچھا لگا آپ سے مل کر اور آپ کے تاثرات اور نئے سال کے پلین جان کر ..” وہ چبا چبا کر بولی تھی ” تمہارا بھی شکریہ سویٹ گرل ..میرا سارا ٹائم تم کھا گئی ..میں ایک بھی پٹاخہ اور انار نہ جلا سکا ..میرے دوستوں کمینوں نے سب ختم کر دئے ..لیکن پھر بھی ..تمہارا شکریہ ..” حیدر بے نیازی سے کہنے کے بعد وہاں سے ہٹ گیا تھا اور وہ محض اس کی پشت کو …گھور کر رہ گئی تھی..
