Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 13

“بتا دو نہ مجھے کے کیوں اتنی ہنسی آرہی ہے تم دونوں کو ؟؟” ریاض نے غصّے سے اشعر اور حارث کو دیکھا تھا جن کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا چہرے بے تحاشا سرخ ہو چکے تھے “اگر یہ تمہارے ساتھ ہوتا نہ تو تب پوچھتا میں بھی تم سے ” تیمور نے بھی ان کو گھورتے ہوئے کہا تھا “ابے یار تم لوگوں کو کہا کس نے تھا وہاں جانے کو ؟ا اور اگر چلے ہی گئے تھے تو کیا ضرورت تھی ایسے ڈرپوکوں کی طرح بھاگنے کی ؟ تھوڑی تو بہادری دکھاتے ” حارث نے ان لوگوں کو جیسے شرم دلائی تھی “تو کیا چاہ رہا ہے تو .؟ خود کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دیتا ..لے بھئی منگلو کھا لے مجھے ..ڈنر سمجھ کر ” ریاض نے تپ کر کہا تھا “ریاض کمینے تو تو کچھ بول ہی مت ..تو ہی لے کر گیا تھا مجھے وہاں ..وہ تو قسمت اچھی تھی میری جو بچ گیا ..ورنہ بیٹھا ہوتا ابھی اس منگلو کے پیٹ میں …” تیمور نے اس کو گھور کر کہا تھا ” ابے چل ..میں کون سا تجھے ہاتھ پیر باندھ کر لے کر گیا تھا .. سالے تو اپنی مرضی سےگیا تھا “ریاض نے دانت پیسے تھے “تو تو ہی تو آ کر ناچ رہا تھا کے نوکری مل گئی نوکری مل گئی ..میں نے سوچا ذرا دیکھو تو جا کر کےکیسی نوکری ہے …” ” بس بیٹا ..تیرا حسد ہی تجھے لے ڈوبا ..” “اوے ..حسد کس بات کا ؟ ..اللہ نہ کرے اگر میں کبھی مارا مارا بھی پھر رہا ہوں گا نہ تو بھی یہ نوکری نہیں کروں گا “تیمور نے کانوں کو ہاتھ لگاے تھے “اچھا بس کرو ..تم دونوں تو لڑنا ہی شروع ہو گے..اور اس کو دیکھو ..حیدر ….اوے پاگل اٹھ جا ..کیا ہوا تجھے ؟؟ اشعر نے حیدر کا کندھا ہلایا تھا جو ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھے ان میں اپنا منہ چھپاۓ بیٹھا تھا ” “اس امیر زادے کو غم لگا ہوا ہے کے اس کا “ستر ہزار ” کا فون منگلو کے پاس رہ گیا “تیمور نے دانت پیسے تھے “ہیں …ستر ہزار کا فون ؟؟؟؟” اشعر اور حارث کی آنکھیں اور منہ کھلے تھے “ابے حیدر تونے کب خرید لیا اتنا مہنگا فون ؟؟؟” اشعر نے حیرت سے پوچھا تھا ” اوے اس کنجوس کی شکل ہے کیا اتنا ستر ہزار فون لینے والی ؟؟ مشکل سے ہی سترہ کا ہوگا ” ریاض نے منہ بنایا تھا “جتنے کا بھی ہو ہزاروں کا تو تھا نہ ؟؟” حیدر نے سر اٹھا کر ان سب کو دیکھا تھا ” دیکھا سچ بات منہ سے نکل ہی جاتی ہے ” تو میں نے کب جھوٹ بولا ہے ؟ ” “تونے کہا ہے نہ کے تیرا فون ستر ہزار کا تھا ” ” ہاں تو اس میں جھوٹ کیا ہے ؟ وہ ہے ستر ہزار کا ” ” دیکھ پھر سے جھوٹ بول رہا ہے ” ارے بھائی جھوٹ تھوڑی بول رہا ہوں ..وہ تو میں پیر سے” سترہ کو ستر کہتا ہوں ” اب اس میں تمہارے کند زہن کا قصور ہے .میری کیا غلطی ہے ؟؟” ان لوگوں نے پہلے اس کو بات کو سمجھنے کو کوشش کی تھی اور جب سمجھ آگئی تو حارث نے اس کے شانے پر تھپکی دی تھی ” واہ بھئی حیدر ..کیا کہنے تیرے ” “شکریہ ..” اس نے بے نیازی سے کہا تھا “اچھا بس ختم کرو اسن منگلو نامے کو ..کہیں آوٹنگ پر چلے .؟؟”اشعر نے ان سب سے پوچھا تھا ” کل ایک سیاسی پارٹی لانگ مارچ ریلی نکال رہی ہے ..ان کے ساتھ ہی چل چلیں گے ” حیدر نے اس کو کہا تھا ” میں نے آوٹنگ کے لئے کہا ہے ..مرنے کے لئے نہیں ..” “تو کیا ہوا ؟ بھلے سے مر جانا تو ..ویسے بھی تیری ہمیں کوئی ضرورت تو ہے نہیں ..اتنا بڑا ریسٹورانٹ ہے تیرے ماموں کا تجھ سے یہ نہیں ہوتا کے کسی دن اپنے بھائیوں کو کھانے پر ہی بلا لے .”ہنہ ..تجھے ہی تو بلاؤگا ..” ” ہاں ہاں ..ہمیں کیوں بلاۓ گا ..ہم لائبہ تھوڑی ہے ” ” ریاض نے بھی منہ بنایا تھا ” اوے حیدر وہ دیکھ …!!”تیمور جوش سے بولا تھا ” کیا دیکھوں ؟؟” “ابے وہ سامنے دیکھ .” تیمور نے کہتے ہوئے ساتھ ہی اس کا منہ پکڑ کر کینٹین کے دروازے کی طرف کر دیا تھا جہاں سے سامنے گراؤنڈ کا منظر نظر آ رہا تھا ” دیکھ لیا ؟؟؟” ” ہاں دیکھ لیا ..ہماری یونی کا گراؤنڈ ہے جو بہت بڑا خوبصورت اور ہرا بھرا ہے اور جہاں بہت سے سٹوڈنٹس چلتے پھرتے اور کھاتے پیتے نظر آتے ہیں “حیدر نے سر آثبات میں ہلاتے ہوئے کہا تھا “ابے گدھے ..میں تجھے اس بلقیس کو دکھا رہا ہوں ..” “کون بلقیس ؟؟” وہ سب ہی چونکے تھے “شرم کر تیمور ..اتنی جلدی تو کوئی کپڑے نہیں بدلتا جتنی جلدی تیری پسند بدل گئی ..کل تک تو ..تو چشمش چشمش کرتا تھا اور آج تو بلقیس کے پیچھے پڑ گیا “اشعر نے تاسف سے کہا تھا “ابے یار اس کا نام ہی بلقیس ہے ..بلقیس بانو .” “اوے تجھے کس نے کہا کے اس کا نام بلقیس ہے ؟؟” حارث نے حیرت سے پوچھا تھا “مجھے تو اس ریاض نے بتایا تھا ” تیمور نے ریاض کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا جس نے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی “ابے اس کا نام بلقیس نہیں ہے ..انوشے ہے …” حارث نے کہا تھا ” تجھے کس نے بتایا اس کا نام ؟؟ اور اگر پتا تھا تو بتا نہیں سکتا تھا کیا ؟؟” تیمور نے حارث کو گھور کر کہا تھا “مجھے تو خود کچھ دن پہلے پتا چلا ہے ..اور مزے کی بات بتاؤ ؟؟ وہ زرنور کی فرینڈ ہے ” “زرنور کی فرینڈ کہا سے ہو سکتی ہے ؟ اس کا تو جرنلزم کا ڈیپارٹمنٹ ہے اور چیشمش کا آرٹس ہے “ریاض نے حیرت سے کہا تھا “اب یہ تو مجھے نہی پتا شاید یونی کی باہر کی دوست ہو ..””ابے چھوڑو ابھی اس سب کو …تم میں سے کوئی جائے اور اس کی مدد کرے ..” تیمور بولا تھا ” ابے کس کی مدد ؟؟” ” ارے اس چشمش .میرا مطلب ہے انوشے کی..اوے اشعر جا نہ .. ” ” ابے چل بھئی …بہت تیز ہے وہ.. ایسے گھورتی ہے توبہ ..” اشعر تو فورآ پیچھے ہوا تھا ” ” او حارث تو چلے جا یار مدد کر دے اس کی ثواب ملے گا تجھے ..” تیمور اب حارث کی جانب گھوما تھا ” نہیں بھائی مجھے ایسا ثواب نہیں چاہیے ..تو حیدر کو بھیج دے نہ ..” “مر جاؤ کمینو ..جا اوے حیدر تو ہی چلا جا ..لیکن دیکھ ..پہلے سے ہی کہ رہا ہوں میں تجھے کوئی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہیے ..” ” اوے تو فکر ہی مت کر .بھابھی ہے میری تو …” حیدر کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا تھا اس نے دوبارہ سے انوشے کو دیکھا تھا جو ایک ہاتھ میں چکن برگر پکڑے دوسرے ہاتھ سے فائل اپنے شولڈر بیگ میں ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی سیل فون پہلے سے کندھے اور کان کے بیچ میں پھنسا تھا ” او بات سن ..تو خود جا نہ ہمارا کیوں سین آن کر وا رہا ہے اس کے ساتھ ؟؟” “انسان بن جا حیدر ..بھابی ہے تیری ..جا جا کر مدد کر اس کی ” تیمور نے اس کو گھرکا تھا جو اس کو گھورتا انوشے کے پاس آیا تھا وہ سب سیدھے ہو کر بیٹھ گۓ تھے “ایکسکیوز می ..مس …کین آئی ہیلپ یو ؟؟” حیدر نے شائستگی سے پوچھا تھا “یا شیور ..” اس نے جلدی سے برگر اور فائل حیدر کو پکڑائی تھی اور کال کٹ کر کے فون آف کر کر پہلے اسے بیگ میں ڈالا پھر حیدر سے فائل لے کر اس کو بھی بیگ میں ڈال کر زپ بند کر دی “تھینک یو سو مچ ” اس نے خوش دلی سے کہا تھا “مینشن ناٹ بھا …سوری سسٹر ..ویسے کیا آپ ایم اے فائنل کی سٹوڈنٹ ہیں ؟؟” حیدر نے شریفانہ انداز میں پوچھا تھا ” جی ..ایم اے فائنل کی ہی سٹوڈنٹ ہوں ۔۔” “اوے …ادھر آ ..جلدی آ ادھر ” حیدر نے ان لوگوں کی طرف رخ کر کے ہونٹوں کے دائیں بائین ہاتھ رکھ کر چیخ کر بولا تھا اور تیمور تو جیسے انتظار میں ہی بیٹھا تھا کے یہاں حیدر آواز لگاے اور وہاں وہ دوڑ لگا دے ..ابھی بھی وہ بھاگا بھاگا ان دونوں کے پاس پہنچا تھا اس کو دیکھ کر جہاں انوشے کی تیوریاں چڑھی تھی وہیں حیدر نے بھی ایک ابرو اٹھا کرتیمور کو دیکھا تھا “اس کو کیوں بلایا ہے تم نے ؟” انوشے نے حیدر کو تیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا “میں نے ؟؟ نہیں بھئی ..میں نے اس کو نہیں بلایا ..کیوں بھائی ..کیوں آے ہو تم ؟؟” “ابے حیدر ..تونے ہی تو آواز دی تھی مجھے ..” تیمور حیرت سے بولا تھا ” کیا کہ رہے ہو بھائی ؟؟ میں نے تم کو نہیں بلایا تھا شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تمہیں ..میں نے تو اپنے دوست ریاض کو بلایا تھا ..تم کو نہیں …ویسے ہو کون تم ؟”حیدر سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا اور تیمور ہکا بکا کھڑا اس کی شکل دیکھ رہا تھا “حیدر کے بچے ..تونے مجھے ہی بلایا تھا ” اس نے دانت کچکچاۓ تھے “تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کے میں نے تمہیں بلایا تھا ؟؟ کیا میں نے تمہارا نام لیا تھا ؟؟ ” “نن نہیں لیکن …!!” “تو بس میں نے تم کو بلایا ہی نہیں ہے تم فضول میں یہاں چلے آۓ ..جاؤ بھاگو یہاں سے ..” حیدر نے کہتے ہوئے ساتھ ہی ہاتھ جھلا کر اسے جانے کا اشارہ کیا تھا اور تیمور کا دل کر رہا تھا کے اس کو کچا چبا جائے ..”فضول آدمی بند کر اپنے ڈرامے …” “کون سے ڈرامے بھائی ؟؟ جب میں نے تمہیں بلایا ہی نہیں تو تم کیوں چلے آۓ ؟؟..” “کمینے تو میرے ہاتھ تی لگ ایک دفع …ہتھوڑے سے پھاڑوں گا میں تیرا سر ..” تیمور نے اس کو گھورتے ہوئے کہا تھا “اے ..کیا دھمکی دے رہے ہو تم اس کو ؟؟ شرم نہیں اتی دوسروں کو بلاوجہ تنگ کرتے ہو ..کمپلین کروں میں تمہاری ؟؟…” انوشے نے حیدر کو سائیڈ پر کیا تھااور خود اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو کے اپنے چشمے کے پیچھے چھپی بڑی بڑی آنکھوں سے تیمور کو گھورنے لگی تھی “نن ..نہیں ..دددھمکی نہیں دے ..رہا میں اس کو …” تیمور بیچارہ گڑ بڑا گیا تھا “اچھا تو کیا پھر لوری سنا رہے ہو تم اس کو ؟؟” اس نے فہمائشی انداز میں پوچھا تھا “ددیکھیں آپ میری بات سنیں …” “چپ کرو تم ..کوئی بات نہیں سننی مجھے تمہاری ..اور آیندہ اگر تم کسی کو تنگ کرتے ہوئے نظر آۓ نہ تو دیکھنا پھر اچھا نہیں ہوگا تمہارے ساتھ …” وہ انگلی اٹھا کر اس کو وارن کرتی حیدر کے ہاتھ سے اپنا برگر اور جھپٹ کر وہاں سے چلی گئی تھی تیمور نے گردن موڑ کر حسرت سے اس کو جاتے دیکھا تھا اور پھر پلٹ کر دوبارہ حیدر کو جو اس کو ہی دیکھ کر ہنس رہا تھا “کمینے تجھے تو نہیں چھوڑوں گا میں ….!”اس سے پہلے کے تیمور حیدر کی گردن جھپٹ لیتا حیدر چیختا ہوا وہاں سے بھاگا تھا ” اوے تیمور کیا کر رہا ہے ..؟؟میں دوست ہو تیرا …” “تو رک تو سہی میں بتاتا ہوں تجے ..”تیمور اس کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے بھاگا تھا
_____ _____ _____
“اب اٹھ بھی جاؤ لڑکی ..جان چھوڑ دو اپنے بیڈ کی ..دو دن سے تم اسی کی ہو کر رہ گئی ہو ” مناہل دروازہ کھول کر ٹرے میں سوپ کا پیالہ رکھے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی جہاں وہ بیڈ پر بلینکٹ اوڑھے لیٹی تھی اس کو آتا دیکھ وہ بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی “کیسی ہو تم مناہل ؟؟” اس نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے اپنے انداز میں بشاشت پیدا کرتے ہوئے کہا تھا لیکن ناکام رہی تھی “میں تو ٹھیک ہوں لیکن تم مجھے بلکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی ..جلدی سے یہ سوپ ختم کرو اس کے بعد ڈاکٹر کے پاس چلیں گے ..” مناہل نے سوپ کا پیالہ اس کے سامنے کیا تھا جس کو اس نے ہاتھ سے پیچھے کر دیا تھا “میرا دل نہیں کر رہا ..یہ پینے کو” “کیا ہو گیا ہے زری تمہیں ؟؟انٹی بتا رہی تھی کے تم نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا رات کو بھی صرف دودھ پیا تھا ..کچھ کھاؤگی نہیں تو ٹھیک کیسے ہو گی ؟؟چلو شاباش جلدی سے پیو ..” سچ میں مناہل ..مجھے بلکل بھی بھوک نہیں ہے ابھی ..بعد میں پی لوںگی .” “بعد میں کب پیو گی ؟ ابھی ختم کرو اسے ..اور پھر بتاؤ مجھے کے کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ ؟؟کیوں کر لی تم نے اپنی یہ حالت ؟ ” ” میں بیمار ہوں مناہل ..دیکھو بخار ہو رہا ہے مجھے ” اس نے ثبوت کے لئے اپنا ہاتھ بھی سامنے کر دیا تھا جس کو اس نے نظر انداز کر دیا تھا “پتا ہے مجھے کوئی بخار وخار نہیں ہے تمہیں اور نہ ہی تمہاری طبیت خراب ہے ..” “تو میں کیا پھر جھوٹ بول رہی ہوں ؟” “اس کا مجھے نہیں پتا ..فلحال تو تم اس کو ختم کرو .” “مناہل پلیز …!!” “کوئی پلیز ولیز نہیں ہے جلدی پیو اس کو ..اور تمہیں پتا ہے کے میں کتنی ضدی ہوں …”وہ ڈپٹ کر بولی تھی تب اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی سوپ پینا شروع کر دیا تھا اور چار پانچ چمچ لے کر ہی واپس کر دیا تھا “پورا تو پیو ..” “اور نہیں پیا جائے گا ..” “آدھا بھی نہیں پیا ..سینڈوچ بنا دوں ؟؟” “اس کے ضرورت نہیں ہے ..” وہ نڈھال سی ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی “چلو پھر اب بتاؤ ..کیوں طبیعت خراب کر لی تم نے اپنی ؟.حیدر کا تو دل ہی نہیں لگ رہا تمہارے بغیر …”مناہل نے ہنستے ہوئے کہا تھا “ہاں مجھے کال کی تھی اس نے کہنے لگا کے ..کل اگر تم نہیں آئی تو پوری یونی کو اٹھا کر تمہارے گھر لے آؤں گا “وہ بھی ہنس دی تھی “زرنور کیا ہوا ہے تمہیں ؟؟ کیا زارا انٹی نے کچھ کہا ہے ؟؟” مناہل نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر نرمی سے پوچھا تھا جو بے حد سرد ہو رہے تھے “نہیں ..” اس نے نفی میں سر ہلاتے زور سے اپنی پلکیں جھپکی تھی “تو بتاؤ نہ یار کیا ہوا ہے پھر ؟؟ کیا مجھ سے بھی شئیر نہیں کرو گی ؟؟..” “ایسی بات نہیں ہے ” ضبط سے اس کا چہرہ گلابی پڑنے لگا تھا “تو کیا احمد نے کچھ کہا ہے ؟؟” “احمد …!!” اس نے زیر لب اس کا نام لیا تھا وہ اپنے آنسووں کو روک نہ سکی تھی اور ایک کے بعد ایک آنسو اس کے گالوں پھسلتے چلے گئے تھے وہ مناہل کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی “زری ..زری کیا ہوا تمہیں ؟اس کے ایک دم سے رونے پر مناہل پریشان ہو گئی تھی “رو رو کر اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھی تب مناہل نے پانی کا گلاس اس کو دیا تھا جس میں سے اس نے بامشکل دو گھونٹ ہی لیے ہوں گے زرنور گہری سانس لے کر خود کو رونے سے باز رکھ رہی تھی “ار ارمان …!!” “ارمان ؟؟ کون ارمان ؟؟” مناہل نے نہ سمجھی سے اس کو دیکھا تھا تب اس نے شروع سے لے کر آخر تک اسے ایک ایک بات بتاتی چلی گئی تھی مناہل بے یقینی سے اس کو دیکھ رہی تھی “زری ..کیا سچ میں ؟؟” اسے یقین نہیں آرہا تھا ” زرنور نے سر آثبات میں ہلایا تھا ” لیکن تم تو کہ رہی ہو کے زرا انٹی کی کوئی بہن نہیں ہے ..تو پھر یہ خالہ ؟؟” “مما کی بیسٹ فرینڈ تھی سیماب آنٹی.اور عدیل انکل پاپا کے ..آنٹی کو برین ٹیومر تھا انہی کی خوائش پر یہ نکاح ہوا تھا انکل ان کو ٹریٹمنٹ کے لئے اٹلی لے گئے تھے لیکن علاج کامیاب نہ ہو سکا اور ان کی ڈیتھ ہو گئی تب سے انکل دوبارہ پاکستان نہیں آۓ ہیں ” اس نے دوپٹے سے اپنی آنکھیں رگڑی تھی “یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں ہے جو تم دو دن سے اپنی یہ حالت کئے بیٹھی ہو ” “تم لوگوں کو یہ بات اتنی چھوٹی کیوں لگ رہی ہے ..سمجھ نہیں آرہا میرے ..” “تو اس میں مسئلا کیا ہے ؟؟اب تمہاری شادی کسی سے تو ہونا تھی نہ ؟ اب وہ ارمان ہو یا کوئی اور ..کیا فرق پڑتا ہے ؟ ” “تم لوگوں کو نہیں پڑتا لیکن مجھے پڑتا ہے اور …. بہت زیادہ …مجھے نہیں قائم رکھنا اس کے ساتھ کوئی بھی رشتہ …” ارمان کے ذکر پر کڑواہٹ سی گھل گئی تھی اس کے منہ میں “کیوں نہیں قائم رکھنا چاہتی تم اس کے ساتھ یہ رشتہ ؟؟” “مجھے نہیں پتا …” کیا احمد کی وجہ سے ؟؟” مناہل غور سے اس کو دیکھ رہی تھی جو احمد کے نام پر چونکی تھی ..” اح ..احمدکا یہاں کیا ذکر ؟؟ اور میں کیوں اس کی وجہ سے منع کروں گی ؟؟ ” اس نے نظریں چرائی تھی “دیکھو زرنور ..اگر ایسی کوئی بات ہے تو تم مجھے کھل کر بتاؤ نہ ..تاکے میں کوئی حل نکال سکوں ..” “نن نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے “اس نے ٹالنا چاہا تھا “تمہں کیا لگتا ہے زر نور ..اگر تم مجھے بتاؤ گی نہیں تو کیا مجھے کچھ پتا نہیں چلے گا ؟؟” “کہنا کیا چاہتی ہو تم ؟ ” ” کیا تم اس میں انٹرسٹڈ ہو ؟؟ ” “کیسی فضول بات کر رہی ہو تم ؟ میں کیوں بھلا اس میں انٹرسٹڈ ہوں گی ؟؟” وہ کہتے ہوئے بیڈ سے اٹھنے لگی تھی لیکن مناہل نے اس کو اٹھنے نہیں دیا تھا ” کیا ؟؟” زرنور نے سوالیہ نظرو سے اس کو دیکھا تھا “پہلے مجھے پوری بات بتاؤ ..” مناہل پلیز اس ٹوپک کو رہنے دو ..میں نے بہت مشکل سے خود کو کنٹرول کیا ہے “وہ بے بسی سے بولی تھی “میں وہی تو کہ رہی ہوں کے جو بھی تمہارے دل میں ہے تم مجھ سے شئیر کرو نہ ..””مجھے خود نہیں سمجھ آ رہا کے ہو کیا گیا ہے مجھے؟ ..”اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا ” کیا …کچھ کہا ہے احمد نے تم سے ؟؟” “احمد …!!” اس نے چونک کر مناہل کو دیکھا تھا اور زور سے پلکیں جھپکی تھی “مناہل ….وہ ..وہ کچھ کہتا ہی تو نہی ہے مجھ سے “بلآخر اس نے ہتھیار ڈال دئے تھے تھک چکی تھی وہ بھی اب دل میں یہ بات چھپاۓ ” مجھے نہیں پتا یار کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ .لیکن ..لیکن مجھے احمد ….احمد چاہیے مناہل …..!!” ” کیا..یہ کیا کہ رہی ہو تم ؟؟” مناہل نے حیرت سے اس کو دیکھا تھا جو کتنی بکھری ہوئی لگ رہی تھی “وہ کیوں نہیں دیکھتا مجھے ؟ مناہل کیا میں بہت بری ہوں …؟؟اچھی نہیں لگتی میں اس کو ؟؟ بتاؤ نہ مناہل …لیکن میں کیا کروں ؟؟ وہ قابض ہو چکا ہے میرے دل و دماغ پر …اسے کہو نہ مناہل ..اسے بتاؤ کے وہ صرف میرا ہے ..صرف میرا ..” اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے تھے “مناہل تم تو میری اچھی دوست ہو نہ ..پلیز کچھ کرو.نہ تم ..مجھے.. مجھے وہ چاہیے ..میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر …کچھ کرو مناہل ..خدا کے لئے کچھ کرو …میں ..میں مر جاؤں گی اس کے بغیر …” وہ دم بخود سی اس کے منہ سے یہ اطراف سن رہی تھی اسے بلکل بھی اندازہ نہ تھا کے زرنور اتنی آگے جا چکی ہو گی مناہل نے اس کو گلے لگا لیا تھا “میری جان ..زرنور سمبھالو خود کو …”
____ _____ _____
“آنکھوں میں تیری عجب سی عجب سی ادائیں ہیں ….” ” ابے ڈھکن ..ادائیں نہیں ہے چشمہ ہے چشمہ ..وہ بھی موٹے والا ..ہا ہا ہا …” دو گھنٹے بھاگنے کے بعد بھی وہ تیمور کے ہاتھ نہیں لگا تھا تب وہ تھک ہار کر دوبارہ کینٹین میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا اور اب نہ جانے کہاں سے وہ ٹپکا تھا ” تو اپنا منہ بند ہی کرلے تو بہتر ہے ورنہ زاعع ہو جائے گا میرے ہاتھوں ” تیمور نے اس کو گھورتے ہوئے کہا تھا جو اس کے سامنے ہی کرسی کھینچ کر بیٹھ چکا تھا “ابے چل ..میرے اوپر کیوں رعب ڈال رہا ہے ؟ اگر ہمت ہے تو لے یہ پھول لے کر جا ..اور کر جا کر چیشمش کو پرپوز ..”حیدر نے کہتے ہوئے ساتھ ہی ایک گلاب کا پھول ٹیبل پر اس کے سامنے رکھا تھا تیمور نے پھول پر سے نظریں ہٹا کر اشعر حارث اور ریاض کو سوالیہ انداز میں دیکھا تھا مرد بن تیمور مرد بن ..جا کر بول دے اس کو کے تجھے شادی کرنی ہے اس سے ..اور ڈر کیوں رہا ہے ؟؟ لڑکی ہی تو ہے کیا کریگی زیادہ سے زیادہ تھپڑ ہی مارےگی نہ ؟ تو کیا ہوا کھا لیو ..” اشعر نے اس کی ہمت بندھائی تھی “اشعر ٹھیک کہ رہا ہے تیمور ..اگر وہ تجھے پسند ہے تو ..تو بتا دے اس کو ..ورنہ کوئی اور رخصت کروا کر لے جائے گا اسے ..اور تو ہاتھ ملتا رہ جائے گا ” “حارث تو کیا کہتا ہے ؟؟” تیمور کا دل نہیں مان رہا تھا “شاباش تیمور میرے بھائی ہمت کر ..اور جا کر سینہ ٹھوک کر بول دے اس کو ..کے صرف وہ ہی تیری دلہن بنے گی ..چل جلدی سے اٹھا یہ پھول ..اور جا اس کے پاس “وہ چارو مل کر اسے جوش دلا رہے تھے تیمور نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس پھول کو اٹھایا تھا اور کھڑا ہو گیا تھا “اوے رک ایک منٹ ..” حیدر نے بیٹھے بیٹھے کہا تھا “یہ شکل لے کر جائے گا نہ اس کے پاس تو ..جوتا کھینچ کر مارے گی تیرے منہ پر ..لگ رہا ہے کے کسی کو پرپوز کرنے نہیں بلکے مار کھا کر آ رہا ہے ..”حیدر نے گھر کا تھا “واقعی میں تیمور ٹھیک کر اپنی شکل اور ڈر کو نکال کر پھینک دے اپنے اندر سے ..وہ کھا نہیں جاےگی تجھے “حارث نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی “ت تم لوگ بھی چلو میرے ساتھ .” “ہاں ہاں تو چل ہم تیرے پیچھے ہی آ رہے ہیں ..” “مجھے مجھے تھک نہیں لگ رہا ہے یہ سب ..” تیمور کو ڈر لگ رہا تھا “اچھا چل تو تھوڑی دیر کے لئے یہ سپوز کر لے کے چیشمش کی شادی ہو رہی ہے ریاض کے ساتھ ..” “اوے حیدر ..کیا بکواس کر رہا ہے یہ ؟؟” ریاض چیخا تھا ” “منہ توڑ دوں گا میں تیرا حیدر …” تیمور بھی غصّے سے بولا تھا “اچھا اچھا ریاض کے ساتھ نہیں ..کسی اور کے ساتھ ہو رہی ہے ..اب تو کیا کرے گا ؟؟”حیدر نے تیمور کو دیکھا تھا جس کی آنکھیں ایک دم ہی سرخ پڑنے لگی تھی ” جان سے مار دوں گا میں اس کو …” “اور انوشے بھابی کو کیا کہے گا ..اگر وہ بھی اس کے ساتھ شادی کرنا چاہے تو ؟؟” ” ایسا ہو ہی نہیں سکتا ..انوشے کی شادی میرے علاوہ کسی کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتی ..” وہ مضبوط لہجے میں کہتا اس کو پھول کو اپنی مٹھی میں دباتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا “ابے پاگل حیدر ..یہ کیا کر دیا تونے ؟ وہ کہیں کچھ الٹا سیدھا نہ کردے …”حارث کو ہول اٹھنے لگے تھے “اوے ریلکیس کرو کچھ نہیں کرے گا وہ چیشمش کے سامنے جاتے ہی بھیگا بلّا بن جائے گا ” حیدر نے مطمئن انداز میں کہا تھا
____ _____ _____
وہ گراؤنڈ میں الگ تھلگ گوشے میں بیٹھی تھی موسم خاصا پیآرا ہو رہا تھا آوائل سردیوں کے دن تھے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی اس کا موڈ بھی خوشگوار ہو گیا تھا آج حنا نہیں آئی تھی اس لئے وہ اکیلے ہی اپنی آسائمنٹ کمپلیٹ کر رہی تھی تیمور نے اسے دور سے ہی دیکھ لیا تھا جو درخت کے نیچے بیٹھی گلابی اور وائٹ فراک میں نازک سے فریم کا چشمہ لگاۓ مہکا سا پھول لگ رہی تھی ہمیشہ کی طرح اس کے بال کمر پر بکھرے تھے وہ کبھی بھی بالوں کو پونی یا جوڑے میں نہیں باندھتی تھی لیکن سر پر دوپٹہ اوڑھے رکھتی تھی وہ رہ ہی نہیں سکتا تھا اس کے بغیر ..یہ لڑکی اس کی زندگی بن گئی تھی “انوشے …!!!” وہ اس کے پاس آ کر استہقاق سے بولا تھا “اس نے چونک کر سر اٹھا کر اس کو دیکھا تھا جو جینز پر ڈریس شرٹ پر سیلولیس جیکٹ پہنے دونوں ہاتھ پشت پر باندھے سنجیدہ سا کھڑا تھا استہققانہ انداز میں ہی وہ اس کو دیکھ رہا تھا بلاشبہ وہ ایک وجہہ مرد تھا لڑکیاں مرتی تھی اس پر لیکن وہ جس پر مرتا تھا وہ تو کچھ سمجتی ہی نہیں تھی “کیامسئلا ہے ؟؟” “بات کرنی ہے آپ سے ..” “میں فارغ نہیں ہوں نظر آ رہا ہوگا تمہیں ..” “پلیز مجھے ضروری بات کرنا ہے ..” انوشے اپنا کام چھوڑ کر اس کے مقابل دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑی ہو گئی تھی اور سوالیہ نظرو سے اس کو دیکھنے لگی تھی اس کے صرف دیکھنے پر ہی تیمور کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھنے لگا تھا “وہ مم مجھے کہنا تھا کے …!!” “منع کیا تھا نہ میں نے کے آئندہ شکل مت دکھانا مجھے اپنی …”وہ گھور کر بولی تھی “بولو جلدی کیا کہنا ہے ؟؟” وہ وہ مم مجھے …” تیمور کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے کیسے اسے کہے ” اب بول بھی دو ..کیا وہ وہ کیے جا رہے ہو ” وہ ڈپٹ کر بولی تھی “ان انوشے ..وہ ..میں ..میں اپ کو ..” “افوہ ..ہکلآنا تو بند کرو پہلے” “وہ مجھے نہیں سمجھ آ رہا کے میں کیسے کہوں ؟؟” وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بے بسی سے بولا تھا انوشے کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھی “کیا بکواس کر رہے ہو ؟؟ ساری یونی میں تم غنڈے بنے پھرتے ہو کبھی اس کو فضول میں مارا کبھی کس کو مارا .اور میرے سامنے تمہاری آواز نہیں نکل رہی ؟؟”وہ تیزنظروں سے دیکھتی ہی بولی تھی “ہاں تو آپ اتنا ڈانٹتی کیوں ہیں مجھے ؟؟” وہ منہ بسور کر بولا تھا “پاگل تو نہیں ہو گئے تم ؟؟ وہ حیرت سے چیخ پڑی تھی “میں ڈانٹتی ہوں تمہیں ؟ ” ” ہاں …” “کیا ..؟؟” ” ہاں ..مطلب نن نہیں ..میں تو کہ رہا تھا کے …!!” “چپ کرو تم…” وہ اس کی بات کاٹ کر بولی تھی جبھی تیمور کی نظر سامنے پڑی تھی جہاں اشعر حارث حیدر اور ریاض کھڑے تھے انوشے کی ان کی طرف پشت تھی حیدر اشارے سے تیمور کو کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا جو اس کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا ریاض نے کیاری میں سے پھول توڑ کر ہاتھ اونچا کر کے دکھایا بھی تھا اس کو کے پھول دے دے انوشے کو جو تیمور نے اپنے پیچھے چھپایا ہوا تھا “اوے فضول آدمی اب بول بھی دے .کیا پھول ہاتھ میں ہی لے کر کھڑا رہے گا ؟”حیدر نے دانت پیسے تھے “ابے حیدر تونے ٹھیک کہا تھا ..ہمارے سامنے تو ایسے چیخ چنگہاڑ کر گیا تھا اور اب دیکھ کیسے آنکھیں نیچے کر کے چپ چاپ اس شیرنی کی صلوا تیں سن رہا ہے ..”ریاض نے بھی انوشے کے ساتھ کھڑے تیمور کو دیکھ کر کہا تھا “ایسے تو اس کی کشتی پار نہیں لگنی .مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا ..” حیدر کے کہنے پر وہ تینوں ہی چونکے تھے “پاگل ہو گیا ہے کیا حیدر ..؟ کیوں پراۓ پھڈے میں ٹانگ اڑا رہا ہے ؟ تیرے بیچ میں جانے سے مسئلا اور خراب ہو جائے گا ..اسے خود حل کرنے دے اپنے مسئلے ..” اشعر نے اس کا بازو پکڑ لیا تھا “یار تم لوگ دیکھو تو سہی اس کی حالت ..لگ رہا ہے کے ابھی گر پڑے گا ..” حیدر اپنا بازو چھڑوا کر جلدی سے بھاگ کر ان دونوں کے پاس پہنچا تھا “السلام وعلیکم بھابی ..کیسی ہیں اپ ؟؟ یقینآ آپ بور ہو گئی ہوں گی اس سے ..ہے نہ ؟؟ کیوں کے یہ پاگل اتنی دیر سے آپ کو پکاۓ جا رہا ہے لیکن اس سے اتنا نہیں ہوتا کے سیدھے سیدھے “ول یو میری می ” بول دے ..اور میں جانتا ہوں کے یہ کہے گا بھی نہیں ..ڈرتا ہے نہ آپ سے دہشت بھی تو اتنی ہے آپ کی اس پر لیکن بندہ یہ دل کا بہت اچھا ہے تھوڑے سے تیڑھے دماغ کا ہے لیکن سچ میں آپ کو خوش بھی بہت رکھے گا اس بات کی تو میں گارنٹی دیتا ہوں آپ کو “تیمور حیدر کو اشارے کے جا رہا تھا کے چپ کر جا چپ کر جا ..لیکن وہ اس کو دیکھ ہی نہیں رہا تھا وہ صرف انوشے کی طرف متوجہ تھا جو حیرت سے منہ کھولے اس کو دیکھ رہی تھی “دیکھیں یہ غریب پھول بھی لے کر آیا تھا آپ کے لئے لیکن ہمّت ہی نہیں دینے کی …اوے تیمور …چل دے بھابی کو پھول ..دے بھی دے یار اب غصہ نہیں کریگی تجھ پر ..میں نے بات کر لی ہے ..دے دے نہ پھول …” تیمور امید بھری نظرو سے انوشے کو دیکھ رہا تھا “چل حیدر نکل اب یہاں سے …” “ہاں ہاں اب کون پوچھے گا حیدر کو ..معاملا جو سیٹ ہو گیا .. دیکھ بیٹا تو بعد میں تو مل مجھے ..خودغرض کہیں کے …” حیدر اس کو گھورتا ہوا ماتھے تک ہاتھ لے جا کر انوشے کو مسکرا کر دیکھتا وہاں سے بھاگا تھا تیمور دو قدم چل کر انوشے کے بلکل سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا اور اپنے پیچھے چھپاۓ پھول کو اس نے اس کے سامنے کیا تھا “انوشے …میں اپ سے اظہار محبّت کرنا چاہتا ہوں ..لیکن اس سے پہلے میں آپ کو اپنا بنانا چاہتا ہوں ..کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ؟؟” تیمور کے ہونٹوں پر دلفریب سی مسکراہٹ تھی انوشے نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں پکڑے اس پھول کو دیکھا تھا اور پھر اس کو ..جس کی آنکھوں میں جگنو سے چمک رہے تھے دوسرے ہی لمحے اس نے زناٹے دار تھپڑ کھینچ کر اس کے منہ پر مارا تھا “تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے یہ کہنے کی..ہاں . ؟؟ اچھی طرح سے جانتی ہوں میں تم جیسے امیرزادو کو ..لڑکیوں کو تم نے سمجھ کیا رکھا ہے ؟؟ صرف ٹائم پاس ؟؟ ایک سے دل بھر گیا تو دوسری کے پاس اس سے بھی دل بھر گیا تو تیسری کر پاس ..میں کس نمبر پر ہوں؟ یہ بھی بتا دو ..تم جیسے تھرڈ کلاس عاشقوں پر تو میں تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی .اور آخری بار کہ رہی ہوں میں تم سے ..آئندہ مجھے تنگ مت کرنا ورنہ سیدھے تمہیں اس یونی سے نکلوادوں گی میں ..کمزور مت سمجھنا تم مجھے …” وہ غصّے سے چبا چبا کر بولتی ایک کہر بھری نظر اس پر ڈال کر نیچے جھک کر اپنا سامان اور بکس سمیٹنے لگی تھی تیمور ایک ہاتھ گال پر رکھے بے یقین سا کھڑا تھا اس کی آنکھیں دھواں دھواں ہو رہی تھی چہرہ اہانت سے سرخ پڑنے لگا تھا وہ اس کے پاس سے ہو کر جانے لگی تھی لیکن تیمور نے پھرتی سے اس کا بازو پکڑ کر اپنے سامنے کیا تھا “میں کوئی گیم نہیں کھیل رہا آپ کے ساتھ ..سچ میں ..محبت کرتا ہوں میں آپ سے ..” “ہاتھ چھوڑو میرا …” وہ چیخی تھی اسے حیرت ہو رہی تھی ک تھپڑ کھانے کے بعد بھی کیسے دلیری سے اس کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا “آپ کو شادی کرنا پڑے گی مجھ سے ..” “میں نے کہا ہے نہ تم سے کے چھوڑو میرا ہاتھ ..” وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کی گرفت اتنی مظبوط تھی کے اس کو درد ہونے لگا تھا “نہیں چھوڑوں گا میں ..کرلیں جو کرنا ہے …” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا بے خوفی سے بولا تھا انوشے نے لب بھینچ لئے تھے اور الٹے ہاتھ کا تھپڑ اس کے دوسرے گال پر مارا تھا “یہی اوقات ہیں میری نظر میں تمہاری ..آئندہ جب بھی مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرو تو ..ان تھپڑو کو ضرور یاد کر لینا ..وہ سرخ چہرے کے ساتھ چیخ کر بولتی ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر وہاں سر چلی گئی تھی تیمور نے اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا تھا وہ وہیں کھڑا رہ گیا تھا انوشے اپنے دونوں ہاتھوں کو دبا رہی تھی جو لال ہو چکے تھے اتنی زور سے اس نے مارا تھا کے اس خود کے ہاتھ درد کرنے لگے تھے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *