Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 14

“اوے ریاض ..گاڑی روک جلدی …روک نہ …” حیدر کے ایک دم سے چیخنے پر اس نے گاڑی کے بریک لگاۓ تھے “دیکھ حیدر جب تو میرے ساتھ کہیں جائے نہ تو انسانوں کی طرح بیٹھا کر ..ایک دم سے تو چیختا ہے میرا بیچارہ دل دھک دھک کرنے لگ جاتا ہے “ریاض غصّے سے بولا تھا “اوے ریاض چپ کر تو ..اور وہ دیکھ سامنے ..” ریاض نے اس کا سر پیچھے کر کے کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے باہر دیکھا تھا “کہاں دیکھوں ؟؟” “ابے وہ چاٹ کا ٹھیلہ دیکھ ..” “تونے اس لئے گاڑی رکوائی تھی ؟؟” “یار میں تو صرف یہ دیکھ رہا تھا کے ..چاٹ تو صرف چاچا بیچتے ہیں ..یہ چاچیوں نے کب سے چاٹ کے ٹھیلے لگانے شروع کر دیے ..؟” “ابے کون سی چاچی ؟؟” “ارے یار وہ کھڑی تو ہے چاچا کے ساتھ ..”ریاض نے غور سے دیکھا تو واقعی چاٹ والے انکل کے ساتھ ایک لڑکی بھی کھڑی تھی جس نے جینز پر ٹاپ پہن رکھا تھا لڑکی تو خاصی پیاری تھی جو ارد گرد سے بے نیاز مہارت سے چاٹ کی پلیٹیں بنا رہی تھی اور چاچا بےچارے سائیڈ پر کھڑے نہ جانے کیا کیا بولے جا رہے تھے جن کی وہ سن ہی نہیں رہی تھی “آجا ریاض ..چاچی کے ہاتھ کی بنی چاٹ کھا کر چلتے ہیں ..” حیدر نے شرارت سے کہتے ہوئے آنکھ ماری تھی “چھوڑ نہ حیدر ..وہ سب انتظار کر رہے ہوں گے ..” “اوہو ..صرف پانچ منٹ ہی تو لگیں گے ..چل آجا ..” حیدر کہتے ہوئے گاڑی سے نیچے اتر آیا تھا آنکھوں پر گاگلز لگاتا اور بال ٹھیک کرتا وہ اس ٹھیلے کے پاس پہنچا تھا جہاں پہلے سے دو چار لوگ کھڑے تھے اور وہ ان کو چاٹ کی پلیٹیں بنا کر دے رہی تھی “السلام و علیکم چاچی ..کیسی ہیں آپ ؟ حیدر نے ماتھے تک ہاتھ لے جا کر اس کو سلام کیا تھا جس نے چونک کر کہا تھا “ذرا دو پلیٹیں تو بنا دیں ..اور ہاں مرچیں تیز ..” “میں کیا تمہیں چاچی نظر آتی ہوں ؟؟” وہ گھور کر بولی تھی “اور نہیں تو کیا .چاٹ بنانے والے تو چاچا ہوتے ہیں .اور بنانے والی چاچی ..اس لئے تم ہوئی چاچی ..” حیدر آنکھیں گھما کر بولا تھا “اسٹاپ کالنگ می چاچی ..”وہ تپ کر بولی تھی “سوری سسٹر ..اسکی تو عادت ہے بکواس کرنے کی ..آپ پلیز دو پلیٹیں بنا دے .””ریاض کو مجبورآ اسی لڑکی کو بولنا پڑا تھا کیوں چاچا تو سائیڈ پر ہاتھ باندھے کھڑے تھے اور وہ ان کے پورے ٹھیلے پر قبضہ کیے ہوئے تھی وہ ان کو گھورنے کے بعد جلدی جلدی پلیٹ بنانے لگی تھی “یار چاچا..چھوٹی(ہیلپر ) تو آپ کے پاس پہلے سے ہی ہے ایک اور چھوٹے .. کی جگہ خالی ہے تو مجھے بھی رکھ لیں ..پلیٹیں صاف کر دیا کروں گا ..” حیدر نے کہا تو چاچا سے ہی کہا تھا لیکن نظریں اسی پر جمی تھی “ارے بیٹا کیا بات کرتے ہو ؟ میں تو خود اس لڑکی سے پریشان ہو گیا ہوں ..اتنی دیر سے اس کو منع کئے جا رہا ہوں لیکن یہ کچھ سنتی ہی نہیں ..اب تم ہی بتاؤ بیٹا .لڑکیاں بھی کبھی چاٹ بیچا کرتی ہیں کیا ؟؟ ” بوڑھے چاچا خاصے ناراض نظر آ رہے تھے “اب یہ تو آپ لوگوں کی غلطی ہے چاچا .آپ لوگ عورت کو آگے بڑھتا ہوا دیکھ ہی نہیں سکتے ..عورت چاہے تو کہاں سے کہاں پہنچ جائے ..لیکن آپ سب کی وجہ سے اسے ایک قدم پیچھے رہنا پڑھتا ہے “یشفہ نے چاٹ کے پلیٹیں ریاض کو پکڑاتے ہوئے کہا تھا “ابے چاچی تو بہت پیاری ہے ..آواز بھی کمال ہے ..”حیدر ریاض کے کان میں گھس کر بولا تھا “چپ کرجا پاگل ..سن لے گی تو ابھی چھ انچ کی ہیل تیرے سر پر برسانا شروع ہو جائے گی “ریاض نے اس کو کہنی ماری تھی حیدر نے ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ سے پلیٹ لی تھی یشفہ نے اس کی بات سن لی تھی وہ ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی پرسوچ نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جو چاٹ کھانا شروع ہو چکے تھے یشفہ نے جلدی سے ٹشو پھینک کر کلچ میں سے اپنا سیل نکالا تھا اور ویڈیو کیمرہ آن کر کے ان پر فوکس کیا تھا “اے چاچی .یہ کیا کر رہی ہیں آپ ؟؟ “حیدر نے حیرت سے پوچھا تھا ” آج میں نے فرسٹ ٹائم چاٹ بنائی ہے نہ ..اس لئے جاننا چاہ رہی ہوں کے کیسی لگی ..ذرا بتاۓ تو سہی ..” “وہ اپنے اندر اٹھتی غصے کی لہر کو دبا کر آنکھیں پٹ پٹا کر بولی تھی “ارے چاچی ..کمال کر دیا ..کیا کہنے اس چاٹ کے ..ایسی چاٹ تو میں نے …!!” حیدر کھاتا جا رہا تھا اور بولتا جا رہا تھا جبھی مرچوں کا ایک تیز ریلہ اس کے منہ میں گھلا تھا اس کے کانوں میں سے دھواں نکلنے لگا تھا یشفہ نے چاٹ کے نیچے کٹی ہوئی اور پسی ہوئی مرچوں کا پورا پہاڑ چھپایا ہوا تھا “ابے تجھے کیا ہوا ؟؟”ریاض نے نہ سمجھی سے اس کو دیکھا تھا اس کی پلیٹ میں مرچیں نہیں تھی ..”ہاہ ….اف مرچیں ..مرچیں ..پانی دو پانی دو …ہاہ ..بہت مرچی ہے …پانی دو مجھے ..جلدی ..” حیدر پلیٹ کو ٹھیلے پر پٹختا ہونٹوں کو گول کئے ہاتھ کا پھنکا جھلتا پورے روڈ پر اچھل رہا تھا “اوہ ..کیا ہوا بیٹا ..کیا مڑچیں تیز ہو گئی چاچی سے ؟؟” یشفہ اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتی مصنوئی حیرت سے بولی تھی حیدر کی آنکھوں سے پانی بہ رہا تھا تین گلاس پانی کے پینے کے بعد بھی مرچیں کم نہیں ہوئی تھی شوق شوق میں پوری آدھی پلیٹ کھا گیا تھا “تم ..تم ..تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ..؟؟ اتنی مرچیں کون ڈالتا ہے ؟؟…اور بند کرو یہ ریکارڈنگ ..سمجھ نہیں آرہا ؟؟ کیا کہ رہا ہوں میں ..بند کرو اسے ..”حیدر اس کے سر پر پہنچ کر چیخ کر بولا تھا ضبط سے اس کا چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا آنکھیں بھی لال ہو گئی تھی “ایکسکیوز می ..مجھ پڑ چلانے کی ضڑوڑت نہیں ہے ..ورنہ منہ توڑ دوں گی میں تمہاڑا ..میں نے تمہیں منع کیا تھا نہ مجھے چاچی مت بولنا ..لیکن تم نے میڑی بات نہیں سنی ..اب کچھ تو سزا ملنی چاہیے تھی نہ تمہیں ؟” وہ انگلی اٹھا کر اس کو بولتی ریکارڈنگ سیو کر چکی تھی “تیری تو ….!!” اس سے پہلے کے حیدر اس تک پہنچتا ریاض نے اس کا بازو پکڑ لیا تھا “پاگل ہو گیا ہے کیا حیدر ؟ چل یہاں سے ..” “اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھے مرچیں کھلانے کی ؟ ایک تو مرچیں کھلائی اوپر سے ویڈیو بھی بنا لی میری …” حیدر اس کو گھورتا ہوا بولا تھا “”او ..تو تمہیں ویڈیو چاہیے ؟ چلو یو ٹیوب پڑ سے لے لینا ..بلکے ڑکو ..میں تمہارے سامنے ہی پوسٹ کڑ دیتی ہوں ..” اس نے کہتے ہوئے کلچ کو بازو کے بیچ میں دبآیا اور بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتی دونوں ہاتھوں سے موبائل چلانے لگی تھی جبکے حیدر حیرت سے آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھ رہا تھا اتنی بولڈ لڑکی اس نے شاید پہلی دفع دیکھی تھی جو زر نور سے بھی دو چار نہیں بلکے دس بارہ ہاتھ آگے تھی “دیکھوں آخری بار کہ رہا ہوں میں تم سے ڈیلیٹ کردو یہ ویڈیو .ورنہ ….!!” حیدر چباچبا کر بولا تھا ” وڑنہ کیا کڑ لو گے تم میڑا ؟؟” وہ بھی دوبدو بولی تھی “تم جانتی نہیں ہو مجھے ..حمزہ حیدر علی نام ہے میرا …ایم این اے کا بیٹا ہوں میں ایم این اے کا ..”حیدر نے رعب ڈالنا چاہا تھا مگر مجال ہے جو یشفہ کے تاثرات میں کوئی فرق آیا ہو ..”تو ..کیا کرڑو میں اگر تمہاڑا نام حیدڑ ہے تو ؟ اوڑ تم ایم این اے کے بیٹے ہو تو ؟” “دیکھ لڑکی میری بات سن ..ایک منٹ ایک منٹ ..کیا کہا تم نے مجھے ؟؟” پہلے تو غصے میں حیدر نے اتنا نوٹس نہیں کیا تھا لیکن اب وہ اپنے نام پر چونکا تھا “حیدڑ……!!!؟ ” اس نے نہ سمجھی سے حیدر کو دیکھا تھا “پھر سے بولو ..” “حیدڑ ..!!” اس کے دوبارہ سے بولنے پر حیدر کا قہقہ چھوٹا تھا “اے لڑکی پھر سے بولنا ایک دفع …” تمہاڑا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ؟؟” یشفہ نے غصّے سے اس کو دیکھا تھا “نہیں بھئی ..میرا دماغ نہیں خراب ..بلکے تمہارا سسٹم خراب ہے ….دیکھ ریاض یہ لڑکی ..”ر ” کو “ڑ” بول رہی ہے ..ہاہاہا …” حیدر نے ہنستے ہوئے ریاض سے کہا تھا جو چاچا کے ساتھ ہی بیٹھا چاٹ کھا رہا تھا “اے ..ہسنا بند کڑو تم ..”وہ چیخی تھی “نہیں بند کڑوں گا ..کیا کڑلو گی تم ؟؟..ہاہا ….” “تم..تم نقل اتاڑ ڑہے ہو میڑی؟؟” غصے سے اس کی مٹھیاں بھینچ گئی تھی “ہاں میں تیڑی نقل اتاڑ ڑہا ہوں …” حیدر ہنس ہنس کر پاگل ہو رہا تھا “میں..میں پولیس میں ڑپوڑٹ کڑ دوں گی تیڑی …”وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولی تھی ” جا جا کڑ دے ڑپوڑٹ ..میں کوئی ڈرتا تھوڑی ہوں تیڑے سے …” میں چھوڑوں گی نہیں تجھے …” غصے سے اس کا چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا “ہاں ہاں مت چھوڑ ..یہ لے میرا ہاتھ پکڑ لے اپنے ساتھ لیجا مجھے …” حیدر نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ بھی آگے کر دیا تھا جس کو اس نے نظر انداز کر دیا تھا ریاض تو ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھامزے سے یہ بغیر ٹکٹ کا شو دیکھ رہا تھا دو پلیٹ تو وہ کھا چکا تھا یشفہ کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر حیدر کی ہنسی کو بریک لگے تھے “اچھا اچھا سوری ..لیکن ایک بات پوچھوں ؟؟ مذاق کے علاوہ ..ہاں ؟؟ِ” یشفہ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا اسی طرح اس کو گھورتی رہی تھی “اچھا یہ تو بتادو کے تمہارا نام کیا ہے ؟ ..سمیڑا ؟ نہیں ؟ اچھا تو پھر ڑمشہ ؟…زڑینہ ؟ …اے لڑکی جا کہاں رہی ہو ؟نام تو بتا دو ..” وہ جانے کے لئے پلٹ گئی تھی جبھی حیدر چیخ کر بولا تھا “اچھا تو ڑشنہ ؟..ڑ بیعہ ؟ فڑیہا ؟ اڑیشمہ ؟ ” حیدر نے چن کر سارے” ر”والے نام لئے تھے وہ چلتے چلتے حیدر کی گاڑی کے قریب رکی تھی اور پلٹ کر اس نے ان دونوں کو دیکھا تھا اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی تھی اس نے اپنے ہاتھ میں پہنے بریسلیٹ کو اتارا تھا جس میں ایک چھوٹی سی چابی لگی تھی جس کو وہ اپنی مٹھی میں دبا کر اس کی گاڑی کے بونٹ پر ہاتھ پھیرتی ہوئی آگے نکل گئی تھی اور دور کھڑی اپنی کرولا میں بیٹھ کر اڑا لے گئی تھی “لڑکی تو اچھی خاصی ہے ..بس” ڑ ” نے کام خراب کر دیا ” حیدر نے ہنستے ہوئے ریاض کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا “حیدر تونے اچھا نہیں کیا بے چاری کے ساتھ ” ریاض نے ہنستے ہوئے کہا تھا “ہاہا بیٹا اگر یہ “ڑ ” بیچ میں نہیں آتا نہ تو …میں اسی کو تیری بھابھی بناتا ” حیدر بھی ہنستا ہوا ڈارک گلاسیس آنکھوں پر لگاتا اپنی گاڑی کی طرف آیا تھا “میرے خیال سے تو یہ کوئی بیسویں یا اکسویں لڑکی ہے جس کو تونے مجھے میری بھابھی کے طور پر دکھایا ہے حیدر نے اس کی بات نہیں سنی تھی وہ چشمہ اتار کر آنکھیں پھاڑے اپنی گاڑی کے بونٹ کو دیکھ رہا تھا “ابے تجھے کیا ہوا ؟؟” ریاض نے حیرت سے اس کو دیکھا تھا جو اسٹیچو بنا کھڑا تھا “یا اللہ …یا اللہ ..وہ لڑکی نوے لاکھ کی گاڑی پر اسکریچ مار گئی ..”حیدر گہرے صدمے سے بولا تھا “ہیں ..یہ کیا بول رہا ہے ؟؟” ریاض نے اس کو ہٹا کر خود آگے جا کر دیکھا تھا جہاں واقعی میں ایک لمبا سے اسکریچ ایک کونے سے دوسرے کونے تک جا رہا تھا “آتے جاتے لوگوں سے فضول میں پنگے کرےگا تو یہ ہی ہوگا نہ ؟” …”میں بتا رہا ہوں تجھے ریاض …میں نہیں چھوڑوں گا اس کو ” حیدر نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی تھی “ہاں تو …تونے بھی تو کتنا مذاق بنایا تھا اس کا ” “تو کیا اتنا بڑا بدلہ لے گی ؟؟ “تجھے ہی شوق چڑھ رہا تھا چاچی کی کی چاٹ کھانے کا ..لے کھالے اب …” “مجھے کیا پتا تھا کے یہ چاٹ اتنی مہنگی پڑے گی مجھے ۔۔” بونٹ کو دیکھ دیکھ کر حیدر کو تپ چڑھ رہی تھی غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا “اللہ …صرف ایک دفع ..صرف ایک دفع وہ لڑکی میرے ہاتھ لگ جائے …اپنے ہاتھوں سے اس کا گلہ دباؤں گا …..ریاض ….میری گاڑی …” بے بسی سے اس کی شکل رونے والی ہو گئی تھی ریاض نے تاسف سے اس کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا
_____ ______ _____
“یار میری تو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کے یہ ہو کیا رہا ہے ؟ ایک طرف زرنور بیمار پڑی ہے ..دوسری طرف وہ تیمور کمرے میں بند پڑا ہے ..اور اب یہ حیدر منہ سجا کر بیٹھا ہے ..ہو کیا گیا ہے تم لوگوں کو ؟” حارث نے ان لوگوں سے کہا تھا ریاض اور اشعر تو ایک طرف گاڑ ی سے ٹیک لگاۓ کھڑے تھے اور حیدر ریاض کی بائیک پر دونو پیر ایک طرف کئے سر جھکاۓ افسردہ سا بیٹھا تھا “زرنور کی حالت تو اب بہتر ہے ..بات ہوئی تھی میری لائبہ سے ..وہ تینوں تو آ رہی ہے اور تیمور کو تو کمرے میں ہی بند رہنے دے تو بہتر ہے دو چار دن اکیلے رہے گا تو خود ہی ٹھیک ہو جاۓ گا اور غصہ بھی اتر جاۓ گا اس کا اور رہی بات اس حیدر کی تو ..چھوڑ دفع کر اس کو ..ڈرامے ہی نہیں ختم ہوتے اس کے “اشعر نے کہتے ہوئے ہاتھ جھلایا تھا “ریاض بتا ان کو ..تونے تو دیکھا تھا نا میری گاڑی کا بونٹ ؟؟ “حیدر نے اشعر کو ناراضگی سے دیکھنے کے بعد ریاض سے کہا تھا “ہاں بھئی ..یہ کوئی ڈرامے نہیں کر رہا …واقعی میں وہ لڑکی اس کی گاڑی پر اسکرریچ ڈال گئی ہے “ریاض نے سر اثبات میں ہلایا تھا “اگر وہ لڑکی مجھے کہیں ملی نہ تو ..سات سلام پیش کروں گا میں تو اس کو ..” “اور میں تو بیتاب ہوں اس کو دیکھنے کے لئے جس نے ہمارے شیر سے پنگا لیا ..” اشعر اور حارث کے کہنے پر حیدر کے زہن میں جھپاک سے یشفہ کا سراپا آیا تھا دوسرے ہی لمحے اس نے سر جھٹک دیا تھا ..منہ ہی کڑوا ہو گیا تھا “اوے سات سلام میری طرف سے بھی …” ریاض کے کہنے پر اس نے ان سب کو گھورا تھا “ایسا کرو مجھے ہی توپ کے آگے باندھ کر اس کے گھر کے سامنے اڑا دو ..”حیدر نے تپ کر کہا تھا “ابے چھوڑ نہ حیدر ..خراب ہونے والی چیز تھی ..ہو گئی ..اب کیا تو اس کی گردن مارے گا ؟ “اشعر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا “اگر دس بارہ روپے کی چیز ہوتی تو چھوڑ بھی دیتا ..لیکن بات میری زندگی کی ہے ..تجھے پتا تو ہے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے مجھے میری گاڑی ..” وہ افسردہ سا بولا تھا جبھی ایک گاڑی ان کے پاس آ کر رکی تھی ..”لے آگئی چڑیلوں کی سواری ..” حیدر نے اس گاڑی کو دیکھنے کے بعد کہا تھا ” آہستہ بول ..ورنہ ان چڑیلوں سے پہلے ان کے بھوت تجھے مار گرائیں گے ..” ریاض نے اسے ڈرایا تھا “کیا ہوا ؟ہمیں دیر ہو گئی کیا ؟؟” لائبہ نے ڈرائیونگ سیٹ سے اترتے ہوئے کہا تھا ” نہیں ..نہیں تم لوگ تو ٹائم پر آتی ہوں ..ہم ہی پاگل پہلے سے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ..” حارث کے اطمینان سے کہنے پر ان کو اندازہ ہو گیا تھا کے وہ لوگ آج بھی لیٹ ہو چکی ہیں ..”اسے کیا ہوا ؟” زرنور نے حیرت سے اس طوفان کو دیکھا تھا جو کتنے آرام سے بیٹھا تھا بغیر حس و حرکت .مگر اداس سا ….” “آج اس نے آئینہ دیکھا ہے …” اشعر نے ہنستے ہوئے کہا تھا ” واقعی میں زرنور آج تو میں نے حیدر کا “فی میل ورژن “دیکھا ہے ..” ریاض بھی ہنسنے لگا تھا “کیا مطلب ؟” اس نے نہ سمجھی سے کہا تھا ” “نور بانو ..آج مجھے تمہاری گمشدہ بہن ملی تھی “ڑ بانو ” اور یقین کرو آج اس نے شدید ترین خوائش پوری کردی تمہاری ..اتنا بڑا نقصان کر گئی میرا ..” “مجال ہے جو کسی بات کا سیدھا جواب دے دو تم لوگ ..صرف اتنا پوچھا تھا کے …اس کو کیا ہوا ؟ جواب میں پوری کہانی سنادی تم لوگوں نے یہ نہیں بتایا کے ہوا کیا ہے ؟” لائبہ نے تپ کر کہا تھا “اوہو لائبہ بھابھی غصہ نہ کریں بھئی …اشعر کا بی پی شوٹ کر جاۓ گا ..دیکھیں ذرا کیسے بیچارے کا دل دھڑکے جا رہا ہے ..” حارث کے کہنے پر اشعر نے اس کو زور سے کہنی ماری تھی “ایک منٹ میں بتاتا ہوں ساری بات ..کیوں کے جائے وقوع پر میں ہی موجود تھا “ریاض نے کہتے ہوئے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات ان کو کہ سنائی تھی “اب تم لوگ ہی بتاؤ ک غلطی کس کی تھی ..؟” ریاض نے ان تینوں سے پوچھا تھا جو خاصی متاثر نظر آ رہی تھی “اب تو تمہیں سبق مل گیا ہوگا نہ حیدر ؟؟” مناہل نے ہنستے ہوئے کہا تھا “کون سا سبق ؟؟ میں تو پسٹل جیب میں رکھ کر گھوم رہا ہوں ..جہاں ملی وہیں ٹھوک دوں گا ..” “میرے خیال سے تو تم کو اب عقل آ جانی چاہیے حیدر …” زرنور نے گاڑی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا تھا “شکل سے تو اتنی معصوم لگ رہی تھی ..اور کام دیکھوں ..بلکل تم چڑیلوں کی طرح ..ہنہ ..” “یہ چڑیل کس کو بولا تم نے ؟؟” لائبہ نے آنکھیں نکالی تھی ” ارے لائبہ بھابھی نہیں یار ..آپ کو اور مناہل کو نہیں بول رہا ..میں نے صرف نور بانو کو کہا ہے ..”حیدر کے اتنے آرام سے کہنے پر زرنور نے اپنا گولڈن کلچ زور سے اس کے سر پر مارا تھا ” اہ ..اچھا بھئی نور بانو ..نہیں بولوں گا آئندہ تم کو چڑیل ..” حیدر نے سر سہلاتے ہوئے کہا تھا تب زرنور نے دوبارہ سے اس کے سر مارا تھا “اف یار ..اب کیوں مارا ؟؟” اس نے ناراضگی سے زرنور کو دیکھا تھا جو اس کو ہی گھور رہی تھی “منع کیا تھا نہ تمہیں کے مت بولا کرو مجھے ..نور بانو نہیں سمجھ میں آتی تمہارے ؟؟” “ہاں بس میرے ہی بولنے پر اعتراض ہے تمہیں ..وہ احمد بھی تو تمہیں نور کہتا ہے .اس کو تو تم کچھ نہیں بولتی ” وہ خفگی سے بولا تھا اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی تھی ایک لمحے کے لئے وہ رکی تھی ” تمہاری طرح آگے بانو نہیں لگاتا وہ ..سارے نام کا بیڑا غرق کر دیاتم نے ..” وہ ناراضگی سے بولی تھی “اوہو زرنور سے زیادہ نور بانو ہی اچھا ہے تمہارا نام اور تم پر سوٹ بھی بہت کرتا ہے ..میں نے پہلے بھی کہا تھا تمہیں ..لیکن تم سمجھتی ہی نہیں ..” “تم سے تو بات کرنا ہی مجھے فضول بحث لگتا ہےحیدر ..”اس نے کہتے ہوئے آنکھوں پر ڈارک گلاسیس لگاۓ تھے “جانتا ہوں جانتا ہوں ..میری پرسنیلیٹی ہی ایسی ہے کے لڑکیوں کی چلتی ہی نہیں میرے سامنے ..لیکن تمہیں پتا ہے نور بانو ..تم سے بات کر کے میرا موڈ خدبخود خوشگوار ہو جاتا ہے ٹینشن ریلیز ہو جاتی ہے میری ..ایسا لگتا ہے جیسے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو ..دور کہیں پرندے چہچا رہے ہو .ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہو …” “اور تمہیں پتا ہے میرے سر میں درد ہو جاتا ہے تم سے بات کر کے ..دل کرتا ہے دیوار میں دے کے مارلوں اپنا سر ..بس تم سے بات نہ کروں ..” “ہاں بھئی اب میری آواز احمد جیسی نہیں ہے تو ..تم کو تو بری ہی لگے گی ..اس کی آواز تو تمہیں بہت اچھی لگتی ہے ..اس دن بھی جب وہ گانا سنا رہا تھا تو کتنے شوق سے سن رہی تھی ..” ” اف ..تم کیوں بیچ میں لے کر آ رہے ہو اس کو بار بار ؟؟” اس کو غصہ آنے لگا تھا “حیدر خیال کر لے تھوڑا ابھی بیماری سے اٹھی ہے یہ دوبارہ سے اس کا بی پی ہائی ہو جائے گا “اشعر نے اس کو گھرکا تھا “ارے ہاں نور بانو …یہ تو بتاؤ کے تم بیمار کیسے ہو گئی ؟ ہاں ؟؟” حیدر نے مصنوئی حیرت سے کہا تھا “تمہیں کیا روبورٹ نظر آتی ہوں ؟؟” وہ غصے سے بولی تھی “اوہو یار ختم کرو نہ تم لوگ ..اوے حیدر چپ کر جا اب تو ..جب دیکھوں شروع ہو جاتا ہے ..حارث تو کال کر نہ احمد کو کہاں رہ گیا وہ ؟؟ اتنی دیر تو ہو گئی ..” ریاض نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا تھا “اس نے چار بجے کا کہا تھا مجھے ..صبح ہی تو وہ آیا ہے اور آتے ہی سو گیا تھا “حارث نے جیب میں سے فون نکالتے ہوئے کہا تھا “بس تو پھر وہ ابھی تک سو ہی رہا ہوگا ..” “نہیں اشعر ..اب ہر کوئی حارث کی طرح تھوڑی ہوتا ہے جس کی زندگی کا مقصد ہی صرف سونا ہو ..” “مناہل کے ناراضگی سے کہنے پر وہ ہنس پڑا تھا “میں کال کر کے دیکھ لیتا ہوں ” حارث نمبر ملانے ہی لگا تھا کے حیدر بول پڑا تھا “اس کی ضرورت نہیں ہے حارث ..وہ دیکھ آ گیا احمد ..” حیدر کو احمد کی سپورٹس بائیک نظر آگئی تھی اس نے دور دیکھتے ہوئے کہا تھا جہاں سے ہلکا ہلکا غبار اٹھ رہا تھا .جیسے کوئی تیزائی میں گاڑی چلا رہا ہو احمد بائیک کو چلاتا نہیں اڑاتا تھا اس نے ان لوگوں کے پاس آ کر بریک لگاۓ تھے اور ہیلمٹ اتار کر اپنے بال سنوارے تھے “ہیلو گائیز …” اس نے مسکراتے ہوئے ان سب کو کہا تھا جہاں اشعر اور حارث تو گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑے تھے حیدر ریاض کی بائیک پر بیٹھا تھا اور ریاض اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا اور وہ تینوں ایک ساتھ کھڑی تھی ان سب کا پروگرام آرٹس کونسل میں لگی ایکسیبیشن دیکھنے جانے کا تھا جو احمد کے دوست نے آرگنائز کی تھی جس نے ان سب کے لئے بھی پاسیس بھیجے تھے اور انوائٹ کیا تھا ایکسیبیشن کے بعد ان کا ارادہ “دو دریا” جانے کا بھی تھا زرنور نے ایک نظر اس کو دیکھا تھا جو ہمیشہ کی طرح فریش اور ہینڈسم لگ رہا تھا بلیک پینٹ پر وائٹ شرٹ اور بلیک ہی لیدر کی جیکٹ پہنے مفلر گردن کے گرد لپیٹے ہاتھوں میں بینڈز چڑھاۓ وہ سیدھا اس کے دل میں اتر رہا تھا “دیکھ لینا احمد …میرا ہی نصیب بنو گے تم ..” وہ دل ہی دل میں کہتی بے اختیاری میں اسے دیکھے جا رہی تھی تب ہی احمد نے اسے دیکھا تھا جو کالے رنگ کی فرآک میں دوپٹے کو مفلر کی طرح لپیٹے کھڑی تھی احمد کو لگ رہا تھا کے جیسے صدیاں بیت گئی ہوں اسے دیکھیں ہوئے “یار احمد تو کیا ہماری بھابھی کو ڈھونڈنے لگ گیا تھا جو اتنے دن لگا دئے؟؟” حیدر کے کہنے پر وہ ہنستے ہوئے اس کے گلے لگا تھا “ہاہا ..نہیں بھئی ..میں نے کہا تھا نہ تجھے کے ..تیری بھابھی پاکستان کی ہی ہو گی ” “تو یار اتنے دن کیوں لگا دئے پھر ؟؟ ” ریاض بھی کہتے ہوئے اس کے گلے لگا تھا “بس ایک ضروری کام پورا کرنا تھا ..” وہ اشعر سے ملنے کے بعد حارث کے گلے لگا تھا ” نظروں کو ذرا کنٹرول میں رکھ ..ورنہ چوری پکڑی جاۓ گی تیری ..” حارث نے ہنستے ہوئے آہستہ سے اس کے کان میں کہا تھا ” “تو ..جانتا تو ہے کے یہ میرے اختیار سے باہر کی چیز ہے ..” اس نے بھی مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تھا اور ساتھ ہی ایک مکّا اس کے پیٹ میں مارا تھا “آہ ظالم ..آتے ہی شروع کردی تونے غنڈہ گردی “ایک تو تم دونوں کا یارانہ نہیں ختم ہوتا ..” حیدر نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا “وہ ہنستے ہوئے اس سے الگ ہوا تھا “اور بھئی مناہل ..لائبہ کیسی ہو تم دونوں ؟؟” وہ ان کی جانب متوجہ ہوا تھا “ہم تو بلکل ٹھیک ہے اور بس اسی انتظار میں ہیں کے کب تم اپنی دلہن سے ہم کو ملواؤ .” لائبہ کے کہنے پر وہ ہنس پڑا تھا “انشااللہ بہت جلد …اور زرنور ..اب کیسی ہے تمہاری طبیعت ؟؟” مناہل نے زرنور کا ہاتھ پکڑ کر ہلکا سا دبایا تھا جو بے خود سی کھڑی تھی “اہاں اب ..ٹھیک ہوں میں ” اس نے جواب دینے کے بعد رخ ہی موڑ لیا تھا “(دیکھ لوں گا میں تمہیں ..) وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوا تھا “کیا خیال ہے چلیں اب ؟؟” اس نے ان سب سے کہا تھا “ٹھیک ہے لیکن حارث تم ایسا کرو کے اس اسٹور سے کچھ کھانے کے لئے لے آؤ ..چپس اور کولڈڈرنک لے آؤ سینڈوچز اور نمکو کے پیکٹ بھی لے آنا ..” “کہو تو اس اسٹور کو ہی اپنی گاڑی کے پیچھے باندھ کر لے چلتا ہوں ..” “تمہیں پتا ہے حارث ..میں تمہاری طرح اتنا نہیں کھاتی ..اور ہم تینوں میں سے کسی نے بھی لنچ نہیں کیا ..اسی لئے کہ رہی تھی میں ..تم سے تو اتنا ہوتا نہیں کے خود ہی کچھ لا کر دے دو ..” وہ بے نیازی سے کہتی گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی تھی “تجھے کیوں ہنسی آ رہی ہے اتنی ؟؟” حارث نے حیدر کو گھور کر دیکھا تھا جو ہنسے جا رہا تھا “توبہ ..کتنا بھگو بھگو کر مارتی ہے …میں سمجھ سکتا ہوں حارث .محبت واقعی می اندھی ہوتی ہے ..” ریاض نے بھی ہنستے ہوئے کہا تھا “مجھے پتا ہے اگر محبت کی آنکھیں ہوتی نہ تو تب بھی اس کی پسند نہیں بدلنی تھی ..بہت پکا عاشق ہے یہ ..” “احمد نے ہنستے ہوئے کہا تھا “ہاہا ..لیکن تیرے جتنا نہیں ہوں نہ یار ….” وہ بھی ہنسنے لگا تھا “جاؤ بیٹا .حکم کی تعمیل کرو ..وہ لوگ نکل بھی چکی ہیں آگے ” “ابے اشعر ہماری زندگی تو لگتا ہے کے ایسے ہی حکم کی تعمیل میں گزر جاۓ گی “ہاہا فکر مت کر حارث ..صرف دو دن کی بات ہے یہ جو ہنس رہے ہیں نہ ہم پر ..ان کو بھی ہماری لائن میں کھڑا ہونے میں ٹائم نہیں لگے گا .تیمور تو آ چکا ہے …” ” صہیح بول رہا ہے تو اشعر …” ” احمد ایک بات تو بتا یار ..کبھی تو بائیک پر آتا ہے کبھی کار میں …تو برات کس پر لے کر جاۓ گا ؟” “گھوڑے پر …” اس نے حیدر کے پوچھنے پر مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تھا “اوے تیرے پاس گھوڑے بھی ہیں ؟؟” ” پورا فارم ہاؤس ہے اس کا جس میں الگ سے اصطبل ہے .”حارث کے کہنے پر حیدر تو بےچین ہی ہو گیا تھا ” یار جتنا مجھے شوق ہے ہارس رائیڈنگ کا اتنا ہی زیادہ یہ گھوڑے مجھے نہ پسند کرتے ہیں ..جب بھی بیٹھتا ہوں ..سالے گرادیتے ہیں مجھے …” حیدر کے منہ بسور کر کہنے پر وہ سب ہنس پڑے تھے
____ _____ _____
وہ کافی دیر سے کال ٹراۓ کر رہی تھی پہلے تو نمبر بزی جا رہا تھا اور اب کاٹ دی جا رہی تھی کال اس نے لعنت بھیج کر فون کو بیڈ پر پھینک تھا اور الماری میں سے کپڑے نکال کر شاور لینے جا رہی تھی جبھی اس کا فون بجنے لگا تھا اس نے اٹھا کر دیکھا تو کسی دوسرے نمبر سے کال کی جا رہی تھی اس نے یس کر لیا تھا ” السلام و علیکم …خیریت فون کر رہی تھی مجھے ..یاد آرہی تھی کیا میری ؟؟” ” میری کال ریسیو کرنے میں کوئی مسئلہ ہے کیا تمہیں ؟ کیوں کاٹتے ہو تم میرا فون ؟؟” وہ اس کی بات نظرانداز کر کے غصے سے بولی تھی ” بس ایسے ہی ..خیر بتاؤ .کیوں کر رہی تھی کال ؟” “مجھے کچھ بات کرنا تھی تم سے ..” ” سن رہا ہوں …” “مجھے …ختم کرنا ہے اس ..رشتے کو …” “کون سے رشتے کو ؟” وہ انجان بن کر بولا تھا “تمہارے اور میرے نکاح کے رشتے کو ..” وہ چبا چبا کر بولی تھی “پوچھ سکتا ہوں کیوں ؟؟” وہ ٹھہر کر بولا تھا “نہیں ….” ” پہلے مجھے وجہ بتاؤ ..اگر معقول لگی تو پھر میں کچھ سوچ سکتا ہوں ” “میں تمہیں وجہ بتانا ضروری نہیں سمجھتی .بس جتنا کہا ہے اتنا ہی کرو ..پاپا کو فون کر کے کہو کے .تم ختم کرنا چاہتے ہو اس رشتے کو ” “لیکن میں تو ..ایسا نہیں چاہتا …” “تمہارے چاہنے یا نہ چاہنے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ..تم بس وہ کرو جو میں نے کہا ہے ..” ” آئم سوری ٹو سے بٹ ..آرڈرز تو میں خود کے بھی نہیں مانتا …اگر آپ ریکویسٹ کریں تو ….!!!” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی ” کیا کہا تم نے .میں ریکویسٹ کروں تم سے ؟؟” ” ہاں بلکل …” ” ماۓ فوٹ …” زرنور غصے سے بولی تھی “ویسے اس رشتے کو ختم کرنے کے بعد تمہیں کوئی افسوس تو نہیں ہوگا ؟؟” “میری کون سا تمہارے ساتھ اتنی اچھی کیمسٹری بنی ہوئی ہے جو مجھے افسوس ہوگا …” ” ہاں یہ بھی ہے ..لیکن معاف کرنا میں اس معاملے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا ..جو کرنا ہے خود کرو ..” “اگر مجھے خود ہی کچھ کرنا ہوتا تو ..تمہیں کیوں کال کرتی ؟؟” وہ غصے سے بولی تھی “یہ تو تمہیں ہی پتا ہوگا …خیر میں مصروف ہوں ابھی.. بعد میں فون کروں گا ..” ” کر کے تو دکھاؤ …” اس نے غصے سےکہتے ہوئے فون کاٹ دیا تھا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *