Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan NovelR50715 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 22
Rate this Novel
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 01 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 02 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 03 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 04 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 05,06 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 07 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 08 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 09 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 10 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 11,12 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 13 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 14 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 15 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 16 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 17,18 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 19 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 20 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 21 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 22 (Watching)Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Last Episode
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 22
ابے ڈھکن ..کتنی دفعہ سناۓ گا تو یہ گانا ..بند کر اس کو ..میرے کان میں بھی اب سائیں سائیں ہونے لگی ہے ..” جب حیدر نے پانچویں دفعہ ایک ہی گانا لگایا تو ریاض نے منہ بنا کر اس کو کہا “ابے ریاض ..تجھے پتا ہے کیوں نہیں اچھا لگ رہا ہے یہ گانا ؟ کیوں کے تو دل سے نہیں سن رہا ہے ..تو غور سے سن اور دل سے محسوس کر ..پھر تجھے اچھا لگے گا ..” “ابے جا نہ اس پسیتو پسیتو کو میں کیا محسوس کروں ؟ نہ جانے کون سے بنگالی نے یہ گانا گیاہے ..مجھے مل جائے ایک دفعہ …پھر دیکھیو …” ریاض نے پھر سے منہ بگاڑ کر کہا حیدر کو تو گہرا صدمہ پہنچا تھا ” دیکھ ریاض دیسپسیتو کو کچھ مت بول ..یہ پہلا گانا ہے جو مجھے پسند آیا ہے .. اس کو کچھ بولے گا نہ تو اچھا نہیں ہوگا پھر ..” حیدر نے انگلی اٹھا کر کہا ” ا”ابے چل.پاگل ..” ریاض نے ہاتھ جھلا کر کہا اور پھر وہاں سے اٹھ کر وہ زین کے پاس آ گیا تھا جو کافی کا کپ ہاتھ میں پکڑے سپ لے رہا تھا “زین بھائی ..ایک بات تو بتاؤ یار ..” زین نے چونک کر ریاض کو دیکھا جو پلیٹ میں چکن رول اور کیچپ لیے کھڑا تھا جو ابھی اس نے آتے ہوئے حسن کے ہاتھ سے زبردستی جھپٹی تھی “پوچھو یار تم نے کب سے اجازت لینی شروع کر دی ..؟” زین مسکراتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہوا ” میرا سنگل ہونا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن تم کیوں ابھی تک اکیلے ہو؟تم نے بھی کیا ساری زندگی کنوارہ ہی رہنا ہے ؟” ریاض نے رول پر کیچپ لگاتے ہوئے کہا “ارے بھئی ..ہمیں کہاں شوق ہے اکیلے گھومنے کا ؟ وہ تو بس کوئی گھاس ہی نہیں ڈالتی ،..” آج تو زین بھی موڈ میں تھا ورنہ وہ اس ٹوپک پر بات نہیں کرتا تھا ” گھاس ڈالنے والی بات کو تو رہنے دے بیٹا ..سب پتا ہیں مجھے تیرے چکر..”احمد بھی اپنا کپ لئے ان کے پاس آ کھڑا ہوا تھا ” تجھے پتا ہے ریاض ..دو سال سے رنگ اپنے پاس رکھ کر بیٹھا ہے ..لیکن اسے دے نہیں رہا ہے ..” احمد کی بات پر ریاض نے حیرت سے زین کو دیکھا تھا ” امپاسبل ..یونین کونسل کا صدر ..ایک لڑکی کو پرپوز کرنے سے ڈر رہا ہے ..یقین نہیں ہوتا مجھے تو ..” اس کی حیرت کم نہیں ہو رہی تھی “ریاض یار غلط مت سمجھو تم ..اس کی تو عادت ہے بکواس کرنے کی ..” زین نے آنکھوں ہی آنکھوں میں احمد کو دھمکایا تھا “میں بکواس کر رہا ہوں ؟ دکھاؤں پھر میں اس کی تصویر ؟؟” احمد نے بھی جوابآ اس کو دھمکی دی ..” “سدھر جا تو احمد ..مار کھاۓ گا ورنہ مجھ سے ..” زین نے کہتے ہوئے زور سے کہنی احمد کو ماری تھی جس سے اس کے ہاتھ میں پکڑے کپ سے تھوڑی سی کافی چھلکی تھی “احمد نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہ رہا ہو کے ..”اچھا بیٹا .یہ بات ہے ..لو ابھی دیکھو .میں کیا کرتا ہوں ” “اوے حیدر …یہاں آ جلدی ..” اس نے تیز میوزک کے شور کی وجہ سے حیدر کو زور سے آواز دی تھی “ابھی آیا باس ..” حیدر نے بھی وہیں سے چیخ کر کہا اور زین احمد کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کچا چبا جاۓ گا ..”احمد کے بچے ..چھوڑوں گا نہیں میں تجھے ..روک جا ..تیرے بھی اٹلی والے افئیرز کی ساری کہانی بھابھی کو نہ سنائی تو نام بدل دیو میرا ..” وہ چہرہ پر ہاتھ پھیرتا اس کو دھمکی دیتا حیدر کے آنے سے پہلے پہلے وہاں سے کھسکا تھا کیوں کے اگر حیدر کو یہ بات پتا چل جاتی تو اس نے تو ..زین بھائی زین بھائی ..کر کے اس کی جان کھا جانی تھی احمد اور ریاض ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑے تھےزین پولیٹیکل سائنس میں ڈبل ماسٹرز کر رہا تھا جب کے احمد ایم بی اے کی ڈگری لے چکا تھا اسی لئے حیدر وغیرہ سب ان سے جونئیر تھے جبھی زین کو بھائی کہتے تھےلیکن احمد کے ساتھ دوستوں کی طرح ہی رہتے تھے حیدر نے گانا چینج کر کے اپنے ہیڈ فونز اتار کر ٹیبل پر رکھے ..اور بیس بڑھا کر وہ چیئر چھوڑ کر اٹھا اور ان دونوں کے پاس آیا تھا “جی فرماۓ دولہا بھائی ..کیسے یاد کیا ؟” حیدر نے آتے ہی احمد سے پوچھا ” میں تیرا دولہا بھائی کہاں سے ہو گیا حیدر ؟” اس نے حیرت سے پوچھا ” “ارے تو نور بانو بہن ہے نہ میری ..اب جیسے بھی ہے .چڑیل ہے بھوتنی ہے ..لیکن اب بہن ہے ..اسی لئے ..” اس نے ریاض کی ہاتھ میں پکڑی پلیٹ میں سے ایک چکن رول اٹھایا تھا “”نیتے آدمی ..وہاں ساری کی ساری ٹیبلز ہر طرح کے کھانوں سے بھری پڑی ہیں لیکن تیری نیت میری پلیٹ پر ہی کیوں خراب ہوتی ہے ؟” اس نے گھور کر کہا ” ابے چل ..تیری کون سی پلیٹ ہے یہ ؟ تونے خود حسن سے چھینی تھی ..” حیدر نے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پوری پلیٹ ہی جھپٹ لی ..”ہاں تو دولہا بھائی ..کس لیے یاد کیا تھا ؟” وہ دوبارہ سے احمد کی طرف متوجہ ہوا ” میں کہ رہا تھا کے ..یہاں اتنی ساری لڑکیاں ہیں .کیوں نہ کسی کے ساتھ ..ریاض کا نکاح پڑھوا دیتے ہیں ..” احمد کی بات پر جہاں حیدر کا قہقہ چھوٹا تھا وہیں ریاض کے حلق میں رول اٹک گیا تھا بڑی مشکل سے اس نے رول کو نیچے اتارا ..” “میری تو دل کی بات کہ دی یار …تم سب تو سیٹل ہو گئے ..بس میری شدید خواہش ہے کے ریاض کا گھر بس جائے ..تاکے مجھے بھی چین کی نیند آجاۓ ..” “کیوں؟ تجھے شادی نہیں کرنی کیا ؟” احمد نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا “ابے کہاں یار اس گدھے کا گھر بسانے سے زیادہ مجھے اپنا گھر بسانے کی خواہش ہے لیکن …کیا کروں یہ گھر والی ملتی ہی نہیں ..” اس نے منہ بسور کر کہا “اوہو .تو بس لڑکی پسند کر ..شادی کروانا میرا کام ہے ..” احمد نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا “ابے یہ ہی تو سارا مسلئہ ہے ..مجھے ایک پسند نہیں آتی ..آج ایک پسند آتی ہے تو کل دوسری پر دل آجاتا ہے ..اب سب سے تو شادی نہیں کر سکتا نہ؟؟” حیدر کے اپنے ہی مسلئے تھے “ہاہا ..تیرا علاج صرف ایک بندے کے پاس ہے ..روک ابھی بلاتا ہوں ریاض آواز لگا ذرا اشعر کو ..” احمد نے ریاض کو کہا ” “اس بیچارے کو تو میری بھابھیاں دو گھنٹے سےگھیر کر بیٹھی ہیں .. لگ رہا ہے آج تو اس پر فرد جرم عائد کر کے ہی چھوڑیں گی ..” ریاض نے ہنستے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھ کر کہا جہاں ایک ٹیبل کر گرد زرنور لائبہ اور مناہل اشعر کے ساتھ بیٹھی تھی ..”مجھے لگتا ہے کے اشعر کو میری اشد ضرورت ہے ..” حیدر نے پلیٹ دوبارہ ریاض کو پکڑائی اور جلدی سے وہ ان لوگوں کی ٹیبل کے پاس گیا تھا “اگر تم لوگ سائیڈ پر ہو کر کھڑے جاؤ تو بڑی مہربانی ہو گی …یوں تو نہیں کے صدیوں کی بھوکی عوام کا پیٹ بھرنے کرنے کے لئے ہماری مدد کرو ..بلکے اور ہماری مشکلاات بڑھا رہے ہو ..” تیمور نے ہاتھ میں ٹرے پکڑے احمد اور ریاض کے پاس آ کر کہا تھا اس کو تو پہلے ہی غصّہ چڑھا ہوا تھا کیوں کے انوشے کہیں نظر نہیں آ رہی تھی ابھی بھی وہ تپ کر بولا احمد اور ریاض ہنستے ہوئے سائیڈ پر ہو کر کھڑے ہو گئے تھے
__________________________________
“ارے یار شادی کرنا کوئی جرم تھوڑی ہے ..؟ ” “ہاں تو تمہیں اتنی جلدی کس بات کی ہے آخر ؟ صبر نہیں کر سکتے ؟ منگنی بھی تو ہوئی ہے نہ شادی بھی ہو جائے گی ” اشعر کے کہنے پر زرنور نے اس کو گھور کر کہا ” تمہاری تو ہو گئی ہے نہ شادی ..اسی لئے بول رہی ہو ..لیکن جس کی نہیں ہوئی ہے اس سے پوچھو نہ اس پر کیا گزرتی ہے ..” اشعر نے منہ بنا کر کہا ” اللہ .اللہ ..اتنے اتاولے کیوں ہو رہے ہو تم شادی کے لئے .؟” “یار مناہل ..صدیوں سے بس منگنی ہی کر کے بیٹھا ہوں .” “نا شکرے ہو تم ..ریاض سے ہی کچھ سیکھ لو ذرا اس کی تو منگنی بھی نہیں ہوئی ..حتیٰ کے کوئ گرل فرینڈ بھی نہیں ہے ..وہ تو بیچارہ کچھ نہیں کہتا ..” زرنور نے پھر سے اس کو گھور کر کہا لائبہ تو مسکراہٹ دباۓ سینڈویچز کھا رہی تھی “”مجھے خبر ملی تھی کے اشعر تجھے چڑیلوں نے اغوا کر لیا ” حیدر نے اس کے ساتھ ہی چیئر گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے تشویش سے پوچھا ” “بلکل سہی سنا ہے ..ان دونوں نے مجھے نہیں لائبہ کو اغوا کیا ہوا ہے ..” اشعر منہ بگاڑ کر بولا “اب دیکھو ذرا ..کتنا پیآرا موسم ہو رہا ہے ..اتنا رومانٹک ماحول ہے ..اب بندہ اپنی منگیتر سے بات بھی نہیں کر سکتا ..مجال ہے جو دو سیکنڈ کے لیے بھی اس کو اکیلا چھوڑ دے ” اشعر کی شکایاتیں ختم نہیں ہو رہی تھی “اس کا تو بھائی ایک ہی حل ہے ..ان دونوں کے بھوتوں کو بلا کر ان کر حوالے کردے دونوں کو ..پھر تو اور تیری چڑیا آزاد ..آرام سے جہاں چاہیں اڑتے پھر نہ ..” “مجھے شادی کرنی ہے حیدر شادی ..” اشعر اپنی بات پر زور دے کر بولا ” “ابے تو کیا یہاں نکاح پڑھواۓ گا ؟” “وہ تو میں ..” حیدر کی بات پر وہ گڑ بڑا گیا تھا “وہ تو میں ..کیا ؟ ہاں کیا ؟ تجھے شرم نہیں اتی اشعر .؟ یہاں تیرے بھائی شدید کنوارے بیٹھے ہیں ..اور تجھے شادی کی پڑی ہے ..نہیں ہو گی تیری شادی ..جب تک ہماری منگنیاں نہیں ہو جاتی ..میں نے کہ دیا بس ..” حیدر ہاتھ اٹھا کر کہتا اس کے پاس سے اٹھ کر مناہل کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا ” میری بھابھیوں ..مجھے اپنی سائیڈ پر قبول کرو ..” “غدار ..یہ امید نہیں تھی مجھے تجھ سے ..اللہ کرے تو کنوارہ ہی رہے ..” اشعر نے اس کو گھور کر کہا “نور ..میرا سیل فون دینا ..” احمد نے ان کے پاس آ کر کہا تھا “ابے تجھے کیا ہوا ؟” اس نے حیرت سے اشعر کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر کہا ” “یہ کہ رہا ہے کر اگر اس کی شادی نہ کی گئی تو ..یہ یونی کی چھت سے کھود کر اپنی جان دے دے گا ..” حیدر کے کہنے پر وہ بے ساختہ ہنسا تھا “ارے تو مسلئہ کیا ہے پھر ؟ سسر صاحب نہیں مان رہے کیا ؟.” زرنور نے اپنے کلچ میں سے اس کا فون نکال کر اسکو دیا تھا “ارے بھائی ساس سسر سب راضی ہیں ..بس یہ تیری بیوی ہے نہ .. بیٹھ کر ورغلا رہی ہے اس کو ..کے ابھی شادی مت کرو ..پہلے اپنی پڑھائی ختم کرو ..اور یہ ساتھ میں مناہل بھی مل گئی ..” اشعر نے منہ پھلا کر کہا جب کے زرنور اور مناہل تو اس الزام پر اس کو تیز نظروں سےگھور نے لگی تھی
“اب کیا شادی کے بعد نہیں ہو سکتی پڑھائی ؟ ” “ابھی تو تم پڑھنے دیتے نہیں ہو شادی کے بعد کیا خاک پڑھنے دو گے اس کو ؟ لائبہ کوئی ضرورت نہیں ہے ابھی سے شادی کرنے کی ..” زرنور نے صاف کہ دیا تھا اشعر نے احمد کو ایسے دیکھا تھا جیسے کہ رہا ہو ..”کچھ کر یار ..سمبھال اپنی والی کو ..” “اٹھ اشعر ..تو چل میرے ساتھ ” احمد نے ہنستے ہوئے اس کا بازو پکڑا تھا “لیکن یار ..” “ابے چل نا ..” وہ اس کو لئے وہاں سے چلا گیا تھا مناہل کا لبوں تک لے جاتا کپ .سامنے کا منظر دیکھ کر وہیں رہ گیا تھا جہاں حارث وائٹ شلوار قمیض میں آستینیں فولڈ کیے دو پلیٹیں ہاتھ میں پکڑے علینہ سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا جیسے نہ جانے کتنی پرانی دوستی ہو دونوں کی اس نے غصے میں کپ دوبارہ ٹیبل پر پٹخا تھا “ان کی ٹیبل کے پاس سے گزرتےتیمور نے مزے سے حیدر کو کھاتے دیکھ کر وہ روکا تھا ” ابے حیدر ..چل کھڑا ہو یہاں سے جب سے آیا ہے ..یہاں سے وہاں بس گھومے جا رہا ہے اور کھاۓ جا رہا ہے کوئی کام وام بھی کر لیا کر ..چل باہر جا ..اور دیکھ کر اگر کشمیری چاۓ بن گئی تھی ہے تو لے کر آ ..وہاں سب سے آگے کی جو دو ٹیبلز ہے ان پر دے دیو ..چل جا نا اب ..” تیمور کے کہنے پر وہ منہ بسورتا ہوا وہاں سے اٹھا تھا ریفریشمنٹ کے سارے سامان کی تیاری آرٹس کلاس میں کی جا رہی تھی آستین چڑھاتا وہ ہال سے باہر آیا تھا وہ دوسری طرف جانے ہی لگا تھا کے اس کی نظر اس کے سیدھے ہاتھ کی طرف سے آتی یشفہ پر پڑی تھی لمحے کو حیدر کے ابرو اٹھے تھے اس کے قدم وہیں پر تھم گئے تھے ..اس نے تنگ سے پاجامے پر چھوٹی سی گھٹنوں تک آتی گھیر دار گولڈن کلر کی فراک پہن رکھی تھی دوپٹہ مفلر کی طرح ہی گردن سے لپیٹا ہوا تھا پونی ٹیل کی بجاۓ اس کے گہرے کالے بال اسٹریپس میں کٹے کمر پر بکھرے ہوئے تھے آج تو اس نے شوز کی جگہ کم ہیل والی گولڈن کلر کی ہی سینڈل پہن رکھی تھی ..جس کی وجہ سے وہ دو تین دفعہ گرتے گرتے بچی تھی شوز میں تو وہ آرام سے جلدی جلدی چل لیتی تھی لیکن ہیل میں اسے آرام آرام سے چلنا پڑ رہا تھا اور اسی وجہ سے وہ خود کو بار بار کوس رہی تھی “اف یشفہ ..کیا ضرورت تھی ہیل پہننے کی ؟ اس سے اچھا تو میں شوز ہی پہن لیتی ..فضول کی مصیبت گلے پڑ گئی ..” بڑبڑاتے ہوئے اس کی نظر بھی سامنے کھڑے حیدر پر پڑی تھی جو پورا اس کی طرف متوجہ تھا یشفہ کے لب بھینچ گئے تھے “کول ڈاؤن یشفہ ..کول ڈاؤن ..” گہری سانس لے کر خود کو پر سکون کرتی وہ دوبارہ چلنے لگی ..”اف بد تمیز کہیں کا ..گھورے ہی جا رہا ہے ..جیسے کوئی عجوبہ ہوں میں ..” وہ دل ہی دل میں تلملا رہی تھی اس طرح کی ڈریسنگ اس نے پہلے بار کی تھی جبھی اتنا اکورڈ لگ رہا تھا
چلتے ہوئے نہ جانے کیسے اس کا پیر رپٹا تھا وہ خود کو سمبھال نہیں پائی تھی منہ کے بل دھڑام سے نیچے گری حیدر نے حیرت سے اس کو دیکھا پھر بے حد مشکل سے اس نے اپنا قہقے کا گلہ گھونٹا تھا وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا ایک پیر زمین پر ٹیک کر دوسرا پیر کھڑا کئے وہ اس کے پاس نیچے بیٹھا “چہ ..چہ ..بلندی پر پہنچنے کی خواہش انسان کو ایسے ہی منہ کے بل گراتی ہے یشفہ ڈئیر ..” اس کے چہرے پر آۓ بالوں کواپنی انگلی سے پیچھے کرتے ہوئے حیدر نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جس کا چہرہ اہانت سے سرخ پڑنے لگا تھا اس نے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکا “تمہیں کہا کس نے تھا آج لڑکی بن کر آنے کو ؟” وہ استہزایا انداز میں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا “تم تو جینز اور شوز میں ہی ٹھیک ہو …یہ لڑکیوں والے ڈریس.. ہیلز ..یہ سب سوٹ نہیں کرتا تم پر ..خیر چلو آجاؤ ..” حیدر نے کہتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا جیسے اسے سہارا دینا چاہتا ہو یشفہ نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کر دیا زمین پر ہاتھ رکھتی وہ خود اٹھنے لگی حیدر نے کندھے اچکا کر بڑھاۓ ہوئے ہاتھ کو اپنے بالوں میں پھیرا تھا یشفہ کو پتا تھا کے اگر وہ اس کا ہاتھ تھامنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاتی بھی تو اس نے ایسے ہی کرنا تھا کپڑے جھاڑتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی “مجھ پر کیا سوٹ کرتا ہے اور کیا نہیں ..یہ میں اچھی طرح سے جانتی ہوں ..تم اپنے کام سے کام رکھو تو بہتر ہو گا ..” اپنے ہاتھوں سے پر سے گرد ہٹاتے ہوئے اس نے گھور کر کہا ” وہ کیا ہے نہ یشفہ جی ..” انگوٹھے اور انگلی سے وہ کان کی لو مسلتا این اس کے سامنے آیا تھا ” اپنے کام سے کام ..اب میں رکھ نہیں سکتا ..کیوں کے تم میرے سارے کام خراب کر دیتی ہو ..اب مجھ سے کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں ہو پاتا ..اور تمہیں پتا ہے کیوں ؟….چلو چھوڑو ..پھر کبھی بتاؤں گا …” “اس فضول بکواس کا مقصد ؟؟” یشفہ نے چھبتے ہوئے انداز میں پوچھا “نہ تو یہ بکواس ہے اور نہ ہی یہ فضول ہے ..بس غور کرنے کی بات ہے ساری ” ” تمہیں پتا ہے تمہارا مسلئہ کیا ہے حیدر ؟” اس نے دونوں بازوں سینے پر باندھتے ہوئے کہا “جی جی بتاۓ ..کیا مسلئہ ہے میرے ساتھ ؟؟” حیدر نے اپنے دونوں ہاتھ پشت پر باندھتے سر کو تھوڑا سا اس کی طرف جھکایا تھا جیسے غور سے اس کی بات سننا چاہتا ہو ” یشفہ اس کو گھورتے ہوئے پیچھے ہوئی تھی ” تمہارا نہ یہاں کا حصّہ ..” اس نے انگلی سے اپنے سر پر دستک دی “خالی ہے پورا ..جبھی تمہیں کوئی بات سمجھ نہیں آتی انسانوں والی ..تمہیں پتا ہے کس چیز کی ضرورت ہے ؟ کسی پاگل خانے میں ایڈمٹ ہونے کی ..بہتر ہوگا وہاں چلے جاؤ تم .تاکے یہاں کے لوگوں کو سکون ملے ..” “ہمم ..تو تم کہنا چاہ رہی ہو کے ..یشفہ حمین ..حمزہ حیدر علی سے پریشان ہو گئی ؟” اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا ” اگر بات کو اپنے مطلب کا رنگ چڑھا کر تمہیں خوشی ملتی ہے تو ..ہو جاؤ خوش ..” اس نے شانے اچکاۓ “ویسے میرے دوست کہتے ہیں کے تم مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے ہو ..تو اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کے مجھ سےزیادہ ….تمہیں پاگل خانے جانے کی ضرورت ہے ..”حیدر کے شرارت سے کہنے پر وہ اس کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی آگے بڑھی تھی ” ہنہ فضول انسان …” دو قدم ہی چلی تھی کے اس کی کلائی حیدر کے ہاتھ کی گرفت میں آئی تھی “میدان چھوڑ کر بھاگ جانے والے بزدل ہوتے ہیں ڈاکو رانی ..” یشفہ نے پلٹ کر ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی “میرے پاس گن ہے حیدر ..” وہ چبا کر بولی اور حیدر فلک شگاف قہقه لگا کر ہنس پڑا اس نے نا گواری سے اس کو ہنستے ہوئے دیکھا ” اوہ واؤ ..تمہارے پاس گن ہے ..؟ لیکن مجھے کیوں بتا رہی ہو ؟” اس نے ہنسی ضبط کرتے ہوئےکہا “اس لئے کے ابھی تو چھ گولیاں اس گن میں ہی ہیں ..لیکن کسی بھی لمحے تمہارے اندر بھی ہو سکتی ہیں “یشفہ نے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہ تھا لیکن حیدر کی گرفت مظبوط تھی “اوہ ..میں تو ڈر گیا ..” وہ ہونٹوں کو گول کرتے ہوئے بولا ” “تمہیں ڈرنا بھی چاہیے ..اور ہاتھ چھوڑو میرا ..” “تمہیں پتا ہے میں کون ہوں یشفہ ؟ حیدر نے اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے کہا “ہاں پتا ہے مجھے ..تم ایک پاگل خانے سے بھاگے ہوئے شخص ہو ..” وہ غصّے سے بولی “یہ تو مجھے بھی نہیں پتا تھا ” ” کیا چاہتے کیا ہو تم آخر ؟ “اس نے چیخ کر کہا “”شش …آہستہ بولو ..اگر کسی نے تمہیں میرے ساتھ ایسے دیکھ لیا تو .تمہیں پتا ہے نہ پھر کیا کہانی بنے گی ؟” اس نے شرارت سے کہا “لگتا ہے کے گزرے ہوئے دن بھول گئے ہو تم “یشفہ نے چبا کر کہا “گزرے ہوئے دنوں کا ایک ایک لمحہ میرے ذہن پر نقش ہے اور تمہارا دیا ہوا ایک ایک نقصان مجھے یاد ہے ..جن کا بدلہ میں تم سے ایک ساتھ ہی لوں گا ..لیکن تمہارا دیا ہوا ایک نقصان اتنا بڑا ہے کے میں چاہ کر بھی اس کو بھول نہیں سکتا ..” وہ کھوۓ کھوۓ انداز میں بولا “تمہیں کبھی محبّت ہوئی ہے یشفہ ؟” “مجھے نہیں پتا یہ فضول چیز کیا ہوتی ہے “یشفہ نے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ سے اپنی کلائی کھینچی تھی ” بلکل ..تھوڑی دیر پہلے تک مجھے بھی نہیں پتا تھا ..لیکن اب اچھے سے پتا چل گیا ہے ..” کہنا کیا چاہتے ہو ؟ ” ” مجھے محبّت ہو گئی ہے یشفہ ..” “اوہ ..تو تمہیں محبّت ہو گئی ہے حیدر ؟” اس نے ابرو اٹھا کر اس کو کہا “ہاں ..اور مجھے یہ بھی پتا چل گیا ہے کے وقت رکنا کسے کہتے ہیں ؟ ہوائیں کیسے چلتی ہیں ؟ سانس کیسے تھم جاتی ہے دھڑکنوں میں ایک دم ہی شور کیوں مچنے لگتا ہے ؟” یشفہ کو جھٹکا لگا “یا اللہ ابھی تک تو ٹھیک تھا یہ ..یہ اچانک کیا ہو گیا ..”اس نے آسمان کی طرف دیکھا اب ہلکا ہلکا اندھیرا پھیلنے لگا تھا مغرب کا بھی وقت ہونے لگا تھا وہ مشکوک اندز میں اس کو دیکھنے لگی پھر اس کے پاس آئی جو ابھی تک اس کے چہرے کو ہی دیکھ رہا تھا یشفہ نے زور سے اس کا گال تھپتھپایا “حیدر ..بھوت چڑھ گیا ہے تم پر ؟” وہ سرگوشی میں بولی وہ بے ساختہ ہنسا تھا “ہاں بھوت چڑھ گیا ہے میرے سر پر ….محبّت کا ” اس نے نچلا لب دانتوں تلے دبا کر کہا یشفہ کا منہ حیرت سے کھلا اس نے جلدی سے اپنے کھلے ہوئے بالوں کو گول مول کر کے جوڑا بنایا اور گردن میں لپٹے ہوئے دوپٹے کو نکال کر سر پر اوڑھا ” جلدی اندر چلو حیدر ..تم پر سایہ ہو گیا ہے ..ویسے ہی مغرب کا وقت ہو رہا ہے چلو جلدی ” حیدر ہنستا چلا گیا “تم ..تم بہت خوبصورت ہو یشفہ …” حیدر نے کھوۓ ہوئے انداز میں کہتے ہوئے ہولے سے اس کے گال کو چھوا تھا …یشفہ کو تو اس کو دیکھ کر خوف ہونے لگاپہلے تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی دوسرے ہی لمحے وہ تو اس کو چھوڑ چھاڑ فورآ اندر کی جانب بھاگی “ہئیے ہئیے ..تیز گام ..کہاں بھاگی جا رہی ہو ؟” وہ حارث سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی “اوے..وہ تمہارا ….تمہارا پاگل دوست …وہ سچ میں پاگل ہو گیا ہے ” وہ پھولی سانسوں ک درمیان بولی ” پاگل دوست ؟؟ اوہ اچھا ..حیدر کی بات کر رہی ہو ..لیکن وہ تو پہلے سے پاگل ہے ..” حارث نے آرام سے کہا ” ارے نہیں …اس پر.. اس پر بھوت چڑھ گیا ہے ..سایہ ہو گیا ہے اس پر ..وہ وہاں ہنسے جا رہا ہے ..اسے لے کر آؤ اندر ..” ” ارے وہ ایسے ہی ڈرامے کرتا ہے ” اس نے ہاتھ جھلایا ” “او ہو ..تم سمجھ نہیں رہے ..وہ مغرب کے وقت کھلے آسمان کے نیچے کھڑا تھا وہ بھی اتنا ڈھیر سارا پرفیوم لگا کر ..اور تمہیں نہیں پتا ..مغرب کے وقت جنّاتوں کا گزر ہوتا ہے ..مجھے لگتا ہے اس پر کسی جن نے قبضہ کر لیا ہے ..” “کیا واقعی میں ؟؟” حارث نے چونک کر کہا “ہاں ہاں …سچ میں ” وہ زور دے کر بولی “ہاہاہا…اف یشفہ …کیا تمھیں واقعی میں لگتا ہے اس پر کسی جن کا سایہ ہو سکتا ہے …؟ اس پر ؟ حیدر پر ؟ہاہا ..” یشفہ نے غصّے سے اس کو ہنستے ہوئے دیکھا “میں جھوٹ نہیں بول رہی ..اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو جاؤ دیکھو اس کو جا کر ” وہ ناراضگی سے کہتی ہوئی اندر ہال میں چلی گئی ..حارث ہنستے ہوئے باہر آیا جہاں حیدر گراؤنڈ میں دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا تھا حارث اس کے پاس چلا آیا “حیدر …وہ کہ رہی ہے کے تجھ پر سایہ ہو گیا ہے ؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا “حیدر نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر اس کو دیکھا اور پھر آثبات میں ہلایا “ہاں ..مجھ پر سایہ ہو گیا ہے ….محبّت کا ..” اس نے مسکرا کر کہا “محبّت کا سایہ ؟؟ تجھے محبت ہو گئی ہے حیدر ؟؟” وہ حیرت سے بولا “ہاں حارث ..مجھے محبت ہو گئی ہے ..وقت رک گیا ہے ..میرا دل بدل گیا ہے .” وہ کہتے ہوئے اس کے گلے لگ گیا “یہ کیا بول رہا ہے پاگل ؟” اس نے حیرت سے کہا ” “مجھے پتا چل گیا ہے آج کے محبّت کسے کہتے ہیں ..””پاگل ..یہ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے ؟” “نہ جانے میرے دل کو یہ کیا ہو گیا ..ابھی تو یہیں تھا ابھی کھو گیا ..” حیدر کو گنگناتے دیکھ حارث کو پکّا یقین ہو گیا تھا کے یشفہ ٹھیک کہ رہی تھی اس پر واقعی کسی جن کا قبضہ ہو گیا ہے ” حیدر ..منع کیا تھا نہ میں نے تجھے ..مت لگایا کر اتنا پرفیوم ..اور اوپر سے تو یہاں آ کر کھڑا ہو گیا وہ بھی اس وقت ..چل اندر چل ..جلدی ” حارث نے اس کا بازو پکڑا “ابے تو پوچھے گا نہیں کے کس سے ہوئی ہے مجھے محبت ؟” “پوچھوں گا سب پوچھوں گا ..ابھی اندر چل تو ..” حارث اسے زبردستی اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھا تھا ..
محبّت تو بس لمحوں کا کام ہوتی ہے ..محبّت یہ نہیں دیکھتی کے وہ شخص آپ کو کیسا لگتا ہے ..اگر اس سے آپ کو شدید نفرت بھی ہو تو تب بھی آپ کو اپنے دل میں اس کو وہ مقام دینا ہی پڑتا ہے جو آپ نے آج تک کسی کو نہیں دیا ..محبّت تو دھیرے دھیرے اپنا اثر چھوڑتی ہے اور آخر میں بلکل ہی بے بس کر دیتی ہے ..
___________________
لڑکی نہیں ہے وہ جادو ہے اور کہا کیا جائے
رات کومیرے خواب میں آۓ وہ زلفیں بکھراۓ
آنکھ کھلی تو دل چاہا ..پر نیند مجھے آجاۓ
بن دیکھے یہ حال ہوا ہے..دیکھوں تو کیا ہو جائے …
احمد اور اشعر نے معنی خیزی سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ریاض کو جس نے ابھی ابھی یہ گانا لگایا تھا “ریاض بھائی ..خیریت ؟؟ ” “ہاں خیریت ہے ..کیوں کیا ہوا ؟” “خیریت ہے تو پھر یہ گانا ؟” اشعر کا مطلب وہ سمجھ گیا تھا “ابے یار اس حیدر نے اس پسیتو ..بادشاہ اور ہنی سنگھ کے گانے سنا سنا کر کان پکا دئے تھے ..اسی لئے یہ کم میوزک والا لگایا ہے ..” اس نے والیوم بڑھاتے ہوئے کہا ” لیکن مجھے تو کوئی اور ہی مامعلہ لگ رہا ہے کیوں احمد ؟ ” اشعر نے شرارتی انداز میں کہا “”ہاں بلکل …” اس نے بھی ہاں میں ہاں ملائی “یار ..اب پھر سے شعروع مت ہو جانا تم دونوں “اس نے منہ بنا کر کہا جتنا وہ اس موضوع سے بچنے کی کوشش کرتا یہ لوگ اتنا ہی اس کے پیچھے پڑتے تھے “ریاض ..تونے کب سے ایسے گانے سننے شروع کر دئے ؟” تیمور نے ان کے پاس چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا “حد ہو گئی ہے …ایک گانا کیا لگا دیا تم لوگ تو پیچھے ہی پڑ گئے ..” ریاض نے ناراضگی سے کہتے ہوئے پھر سے دیسپسیتو لگا دیا ” اس کو کیا ہوا ؟” تیمور نے حیرت سے اشعر اور احمد سے پوچھا جنہوں نے مسکراہٹ دباتے ہوئے لاعلمی سے شانے اچکا دئے ” تیمور کا فون بجنے لگا تھا اس نے جیب میں سے نکال کر سکرین کو دیکھا تھاجہاں “انوش کالنگ “کے الفاظ چمک رہے تھے وہ حیران ہوتے سائیڈ پر آیا تھا کیوں کے ایسا تو پہلی بار ہوا تھا جب انوشے نے اسے خود سے کال کی تھی “انوش ..ٹھیک ہو تم ؟ اور آئی کیوں نہیں تم آج ؟” اس نے کال یس کرتے ہی بغیر سلام دعا کے تشویش سے پوچھا ” ہاں .میں ٹھیک ہوں ..مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے ..میں یونی میں ہی ہوں ..لائبریری کے باہر ..وہاں آجاؤ جلدی ..” اس نے کہتے ہوئے فون بند کر رھا تیمور الجھن میں پڑ گیا تھا…
