Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan

"السلام علیکم " ماہین نے لاؤنج میں داخل ہوتے سلام کیا تھا جہاں سحرش اور زہرہ بیگم بیٹھی تھی "وعلیکم سلام آگہی ہماری بیٹی "ان دونوں نے خوش دلی سے جواب دیا تھا ماہین آگے بڑھ کر ان سے ملنے لگی جبکے حارث پیچھے اس کا بیگ اٹھا ے آ رہا تھا اندر آتے ہی اس نے بیگ سائیڈ پر رکھا اور صوفے پر سے کوشن اٹھا کر نیچے کار پیٹ پر رکھ کر لیٹ گیا "حارث کیا ہوا بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری "سحرش بیگم نے تشویش سے پوچھا تھا "ارے نہیں تائی امی بس ایسے ہی لیٹ گیا تھا ا"اس نے بشاشت سے کہا تھا جبھی اشنہ اور زین "حارث ماموں "کا نعرہ لگاتے اندر اے اور اور آتے ہی دونوں اس کے ایک ایک بازو پر سر رکھ کر اس کے ساتھ ہی لیٹ گئے "ماموں اپنا فون دیں ہم نے لوڈو سٹار کھیلنا ہے "اشنہ نے لاڈ سے کہا تھا "ہیں ..تم دونوں کو کس نے سکھایا یہ کھیلنا ہاں ؟"اس نے حیرت سے پوچھا "بابا نے " دونوں نے مزے سے کہا تھا "ایک تو تمہارے بابا بھی ہمیشہ نرالے کام کرتے ہیں خیر یہ بتاؤ تمہاری خالہ کہاں ہیں ؟ " حارث نے اشنہ کو اپنا فون دیتے آہستہ سے پوچھا تھا"خالہ ..وہ کچن میں ہیں " جتنی آہستہ سے اس نے پوچھا تھا زین نے اتنے ہی زور سے جواب دیا تھا اس نے فوراً زین کے منہ پر ہاتھ رکھا "کیا کر رہا ہے زین مرواے گا کیا؟" اس نے چور نظروں سے صوفے پر بیٹھی باتیں کرتیں ان تینوں کودیکھا جو اس کی جانب متوجہ نہیں تھی وہ شکر کرتا اٹھ کھڑا ہوا تھا اور سیدھا کچن میں آیا تھا جہاں مناہل چاے بنا رہی تھی "کیا کر رہی ہو مناہل ؟ " وہ دروازے سے ٹیک لگاے دونوں بازو سینے پر باندھے آنکھوں میں چمک لئے اس کو دیکھ رہا تھا "نظر نہیں آتا ؟میں کرکٹ کھیل رہی ہوں "اس نے جلے ہوئے لہجے میں کہتے حارث کو دیکھا "اچھا مجھے لگا تم چاے بنا رہی ہو "وہ اس کے انداز پر ہنس پڑا تھا مناہل نے اس کو گھورا اور دوبارہ پلٹ گئی "خیر ایک کپ مجھے بھی روم میں دے جانا "وہ مسکرا کر اسے دیکھتا وہاں سے چلا گیا تھا وہ سر جھٹک کر چاے کپوں میں نکالنے لگی پھر لاؤنج میں بیٹھی ان تینوں کو چاے دے کر اور ماہین سے مل کر جب وہ چاے اس کے کمرے میں لے کر ای تو وہ الماری کے سامنے کھڑا نہ جانے کیا تلاش کر رہا تھا "تمہاری چاے " اس نے سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے کپ پکڑایا "تھنکس مناہل ..اب ایسے کرو کے میری بلو شرٹ ڈھونڈ کر دے دو مجھے مل نہیں رہی اور اس کے بعد میری وارڈ روب سیٹ کر دینا "حارث نے کپ پکڑتے بے نیازی سے کہا تھا اور مناہل کا تو سر چکرا گیا تھا ..الماری کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے آدھے کپڑے نیچے کار پیٹ پر پڑے تھے آدھے بیڈ پر تھے کچھ ہینگرز میں لٹک رہے تھے "یہ کیا ہے حارث؟ دو دن پہلے ہی میں نے تمہاری وارڈ روب سیٹ کی تھی ..تم نے پھر یہ حشر کر دیا ..انسانوں کی طرح نہیں رہا جاتا کیا تم سے ؟؟" اس نے شدید ناراضگی سے حارث کو دیکھا "یار مجھے کیوں ڈانٹ رہی ہو میں نے تھوڑی کیا ہے یہ سب " "ہاں ..ہاں تم کیوں کروگے یہ ...تمہارے جانے کے بعد تو بھوت آ کر ناچتے ہیں نہ اس کمرے میں " اس نے طنز سے کہتے پورے کمرے کو دیکھا تھا جس کا حال بھی تقریباً الماری جیسا ہی ہو رہا تھا "اچھا نہ سوری آئندہ خیال رکھوں گا لیکن ابھی تو میری شرٹ ڈھونڈ دو مجھے جانا ہے ضروری " اس نے منت بھرے لہجے میں کہا تھا وہ ایک غصیلي نظر اس پر ڈالتی کپڑوں کی جانب بڑھ گئی اور تھوڑی ہی دیر میں شرٹ ڈھونڈ کر اس کو پکڑای "یہ لو پکڑو !" ارے واہ تھینک یو مناہل اب ایسا کرو کے جاؤ اور اس کو پریس کر کے لاؤ "حارث نے مزے سے کہتے ہاتھ میں پکڑی شرٹ اس کے سر پر ڈال دی تھی "اللہ حارث تمہارے کام ختم کیوں نہیں ہوتے ؟ مجھے تو لگتا ہے کے میں تمہارے کام ہی کرتے کرتے بوڑھی ہو جاؤنگی..تم اپنے لئے کوئی ملاذمہ کیوں نہیں رکھ لیتے ؟" اس نے ناراضگی سے کہتے اپنے چہرے پر سے شرٹ ہٹائی تھی "ہاہاہا مجھے ملاذمہ کی کیا ضرورت ؟ اس کی کمی پوری کرنے کے لئے تم ہو نہ " اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا "خیر اب میں ساری زندگی تو تمہارے کام نہیں کرنے والی.آخر کو مجھے بھی تو جانا ہے نہ ؟"اس نے مسکرا کر حارث کو دیکھا "کیا مطلب تم کہاں جا رہی ہو ؟ "اس نے نہ سمجھی سے کہا تھا "پیا کے گھر "مناہل ہنستے ہوئے کہ کر استری اسٹینڈ کی جانب بڑھ گئی "اچھا تو محترمہ کافی شوق ہے اپ کو شادی کا "حارث اس کے پیچھے آیا تھا "ہاں ہے تو پھر ؟؟؟" اس نے پیچھے مڑ کر اس کو دیکھا جو مناہل کو ہی دیکھ رہا تھا "چلو تمہاری شادی کا بیڑا تو میں نے اٹھا لیا اب دیکھو بس کے کتنی جلدی تمہاری شادی کرواتا ہوں "حارث نے اسےپر سوچ نظروں سے مسکرا کر دیکھا تھا "ہاہ ...بہت جلدی ہے تمیں بھی مجھے گھر سے نکالنے کی؟" اس نے گھور کر اسے دیکھا تھا "ہاں بہت جلدی ہے مجھے " حارث کہتے ہوئے پلٹ کر کمرے سے چلا گیا تھا مناہل کو اس کا لہجہ بدلہ ہوا محسوس ہوا تھا لیکن وہ سر جھٹک کر شرٹ پریس کرنے لگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *