Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan NovelR50715 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 15
Rate this Novel
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 01 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 02 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 03 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 04 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 05,06 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 07 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 08 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 09 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 10 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 11,12 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 13 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 14 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 15 (Watching)Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 16 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 17,18 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 19 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 20 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 21 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 22 Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Last Episode
Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 15
تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم …پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم .” مناہل کے کان کھڑے ہو گئے تھے اس نے کن انکھیوں سے حارث کو دیکھا تھا جو موبائل پر جھکا گنگنا رہا تھا مسکراہٹ تو اس کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی دو چار دن سے وہ کافی بدلا بدلا لگ رہا تھا “حارث ..گاجر کا حلوہ کھانا ہے تم نے ؟” وہ کچن سے ہی آواز لگا کر بولی تھی جانتی تھی کے گاجر کے حلوے کا نام سن کر تو بھا گا بھاگا آے گا اور ہوا بھی یہی تھا اگلے دو منٹ میں وہ کچن میں موجود تھا “لاؤ جلدی سے دو ..کہاں ہے حلوہ ؟ کدھر ہے حلوہ ؟؟” وہ متلاشی نظروں سے سارے کچن میں دیکھ رہا تھا “تم جانتے ہو حارث ..میرے ہوتے ہوۓ تو تمہیں کوئی چیز بیٹھے بیٹھاۓ نہیں مل سکتی ..اسی لئے اگر حلوہ کھانا ہے تو یہ گاجرے تمہارے سامنے پڑی ہیں ان کو اٹھاؤ اور شروع ہو جاؤ کدوکش کرنا ..” اس نے سکون سے کہا تھا حارث نے ایک ابرو اٹھا کر اس کو دیکھا تھا جو کہنے کے بعد دوبارہ سے گاجرے چھیلنا شروع ہو چکی تھی “اے ہیلو ..میں کیوں کدوکش کروں ؟ حلوہ بنانا تمہارا کام ہے تو اس لئے ان کو چھیلو گی بھی تم .کدوکش بھی کرو گی تم ..اور بناؤگی بھی تم …” “اور تمہارا کام کیا ہے ؟ صرف کھانا ؟” ” ہاں صرف کھانا ..” ” ایسا تو ہو گا نہیں اب اگر حلوہ کھانا ہے تو ان کو کدوکش تو تم کو ہی کرنا پڑیگا ..” “بھئی مجھے کدو کش کرنا نہیں آتا نہ ..” “تو میں سکھا رہی ہوں نہ تمہیں ..تم بیٹھو تو سہی ..” “سوری مجھے نہیں سیکھنا ..” “ٹھیک ہے پھر حلوے کا نام بھی نہیں لینا تم ..” “بھئی مناہل کیا ہے ؟ یہ اتنی ڈھیر ساری گا جرے ہیں ..میں پاگل ہوں کیا جو ان کو کدوکش کرو ؟” “نہیں تو تم بتاؤ نہ ..کیا میں پاگل ہوں ؟ جو ان کو چھیلوں بھی کدوکش بھی کروں اور بناؤ بھی ..” “اچھا ..لیکن صرف آدھی کروں گا ..” “ٹھیک ہے پھر تمہیں حلوہ بھی دو چمچ ہی ملے گا ..” وہ بے نیازی سے بولی تھی “اچھا ایسا کرو چھیل میں لیتا ہوں کدوکش تم کر لو ..” ” نہیں …جو جس کا کام ہے وہ وہی کرے گا ..” “اف …!!” وہ اس کو گھورتا ہوا چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گیا تھا موبائل کو اس نے سائیڈ پر رکھا دونوں ہاتھوں کی آستینیں چڑھائی اور باسکٹ کو اپنی جانب کھسکا یا تھا “دیکھو میں ابھی پانچ منٹ میں واپس آ رہی ہوں جب تک تم یہ ساری گاجریں کدوکش کر لو ..” وہ ہاتھ صاف کرتی اس کو کہتی ہوئی چیئر سے کھڑی ہو گئی تھی “ہاں ..مشین ہو نہ میں تو ..ہنہ ..” وہ اس کو تیز نظرو سے دیکھتا ہوا بولا تھا اس نے کوئی نوٹس نہیں لیا نظر انداز کرتی کچن سے چلی گئی تھی اور جب آدھے گھنٹے بعد اس نے واپس آ کر دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھی ایک ہاتھ سے موبائل پر ٹائپنگ ہو رہی تھی دوسرے ہاتھ سے گاجر کدوکش کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی تھی اور دھیان سارا چیٹنگ پر تھا اور یہ مسکراہٹ ؟؟ مناہل کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے وہ کچھ دنوں سے اتنا مسکرانے کیوں لگ گیا تھا “حارث پاگل تو نہیں ہو گئے تم ؟” وہ اس کی آواز پر بری طرح چونکا تھا ” ک کیا ہوا مناہل ؟؟” “ایسے کام ہوتے ہیں ؟؟ ” “نہیں تو پھر کیسے ہوتے ہیں ؟؟” جواب میں اس نے بھی سوال پوچھا تھا “ابھی تمہارا ہاتھ کٹ جاتا .پہلے تو اس فون کو بند کرو اور پورے دھیان سے ان کو کدوکش کرو ..” ” دھیان لگانے سے کیا ہوگا ؟ کیا ان کا ذائقہ اچھا ہو جائے گا ؟” ” ہاں بلکل ..آپ انٹرس لے کر محنت لگن اور محبت سے جب کوئی چیز بناتے ہیں تو اس کا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے ..” ” واہ بھئی واہ ..کیا بات کہی ہے ..ویسے تمہاری کتاب کب آ رہی ہے مارکیٹ میں ؟ ” حارث نے گاجر کھاتے ہوئے پوچھا تھا “چپ کرو ..اور جلدی سے کام ختم کرو ..”وہ کہتے ہوئے بیٹھ گئی تھی اور دوبارہ سے گاجر چھیلنے لگی تھی “ایک منٹ۔۔۔ ” .وہ چونکی تھی “.کدوکش تو تم نے ایک بھی نہیں کی ..تو پھر چھیلی ہوئی گاجریں کہاں گئی .؟؟” اس نے باسکٹ کو دیکھتے ہوئے حیرت سے کہا تھا جس میں مقدار خاصی کم تھی ..” پتا نہیں کہاں چلی گئی ..میں تو تمہارے سامنے ہی موبائل پر مصروف تھا ” وہ انجان بن کرگاجر کھاتے ہوئے بولا تھا “حارث …مجھے اچھی طرح پتا ہے کے وہ کہاں گئی ہیں …” وہ دانت پیستے ہوئے بولی تھی ” ” ایسے مت دیکهو مناہل .سچ کہ رہا ہوں میں .اور تم تم ..چند گاجروں کے لئے مجھ پر شک کر رہی ہو ؟ چہ چہ ..”وہ افسوس سے بولا تھا “شک نہیں کر رہی مجھے پکا پتا ہے کے یہ تمہارا ہی کام ہے .کیوں کے تمہارے علاوہ کوئی دوسرا بھوت پریت تو یہاں بیٹھا نہیں ہے”وہ تپ کر بولی تھی ” اب تمہیں نہیں ملے گا حلوہ ..” ” مجھے تو ہمدردی ہو رہی ہے خود سے کے ساری زندگی تمہیں جھیلنا پڑے گا ..” ” تم کیوں جھیلوگے مجھے ؟” وہ حیرت سے بولی تھی ” بھئی جب تمہاری شادی ہی نہیں ہوگی تو ..تم تو یہیں رہو گی نہ ؟” “کس نے کہا کے میری شادی نہیں ہو گی ؟” ” کیوں کے تمہاری ڈیمانڈ کے مطابق تو جس لڑکے سے تم شادی کرنا چاہتی ہو ..وہ لڑکا کم .ماسٹر شیف پلس دھوبی پلس مالی پلس کام والی ماسی زیادہ ہونا چاہیے ..تو یہ ساری خوبیاں جس میں ہوگی ..وہ لڑکا تو نہیں لیکن خلائی مخلوق ضرور ہو سکتا ہے “حارث ہنستے ہوئے کہے جا رہا تھا اور مناہل کا گھورنہ جاری تھا “تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے حارث ؟” “کیا مطلب ؟” اس نے نہ سمجھی سے مناہل کو دیکھا تھا “یہ جتنے بھی کام تم نے گنواہۓ ہیں ان میں سے تقریبآ میں سارے ہی تم سے کروا چکی ہوں .جالے تم صاف کرتے ہو ..کپڑے تم پریس کرتے ہو ..جھاڑ پونچھ تم کرتے ہو ..ہر ہفتے مالی کے ساتھ لان کی صفائی ستھرائی بھی تم کرتے ہو …تھوڑا بہت کھانا پکانا وہ بھی میں نے تمہیں سکھا دیا
…اب جب میں یہ سارے کام تم سے کروا سکتی ہوں تو کسی سے بھی کروا سکتی ہوں ..” وہ اطمینان سے بولی تھی اور حارث اس کی حاضر جوابی پر عش عش کر اٹھا تھا ” ہاہا …اب ہر کوئی حارث تو نہیں ہوتا نہ …میڈم ” وہ اپنے کالر کھڑا کرتے ہوئے فخر سے بولا تھا “ہنہ ..!!” وہ کان لپیٹ کر اپنا کام کرنے لگی تھی کیوں کے اب.حارث نامہ شروع ہونے والا تھا جو دو گھنٹوں سے پہلے رکنے والا نہیں تھا
______ ______ _______
“بی بی جی وہ کوئی صاحب آۓ ہیں..” وہ بیڈ پر لیٹی ناول پڑھ رہی تھی جبھی سکینہ نے آ کر اس سے کہا تھا ” کون صاحب ؟؟” “پتا نہیں جی .کہتے ہیں کے صاحب جی کے دوست ہیں ..میں نے ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا ہے ..” “ٹھیک ہے تم جاؤ ..اور چاۓ وغیرہ کا انتظام کرو “زر نور کہتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی کپڑوں کی شکنیں دور کرتی اور دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھتی وہ ڈرائنگ روم میں آئی تھی “السلام و علیکم ..” اس نے صوفے پر بیٹھی اس شخصیت کو دیکھ کر سلام کیا تھا “وعلیکم سلام …کیسی ہے میری پیاری بیٹی ؟؟” انہوں نے اٹھ کر اس کو گلے لگایا تھا “میں ٹھیک ہوں لیکن ..آپ ؟” زرنور ان کی اتنی گرمجوشی پر حیرت سے بولی تھی وہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی کے اس نے ان کو کہیں دیکھا تو نہیں ہے؟ ” نہیں پہچانا تم نے مجھے ؟ ..ارے پہچانوگی بھی کیسے ؟ ہم اتنے عرصے بعد جو مل رہے ہیں ..خیر میں عدیل خانزادہ ہوں ارمان کا ڈیڈ ..” “ار ارمان کے ڈیڈ ..؟؟” اس نے حیرت سے ان کو دیکھا تھا جو پینٹ کوٹ میں ملبوس کافی ڈیسنٹ اور ڈیشنگ لگ رہے تھے اس عمر میں بھی کافی فٹ تھے مشکل سے ہی چالیس پینتالیس کے ہوں گے “میں تو اس نالائق سے کب سے کہ رہا تھا کے جا کر مل آۓ تم لوگوں سے لیکن میری سنتا ہی نہیں کہتا ہے کر ایک ہی بار جاؤں گا برات لے کر .” وہ ہنستے ہوئے کہ رہے تھے “خیر باقی سب کہاں ہے بھئی ؟” “وہ ..مما اور پاپا تو کہیں انوائٹ تھے وہاں گئے ہیں اور بازل ٹیوشن سینٹر گیا ہے ..آپ پلیز بیٹھے نہ ..” جبھی سکینہ چاۓ اور لاوازمات کی ٹرالی لے آئی تھی “اور پڑھائی کیسی چل رہی ہے تمہاری ؟” “الحمد لله انکل بہت اچھی چل رہی ہے ..” زرنور نے ان کو چاۓ کا کپ پکڑاتے ہوئے کہا تھا “کیا ہوا بھئی ..اتنی حیرت سے کیوں دیکھ رہی ہو ؟؟” وہ ان کے ایک دم سے پوچھنے پر گڑبڑا گئی تھی اور کچھ نہ بن پڑا تو یہ ہی کہ دیا ” نن نہیں انکل ..وہ آپ تو ساری زندگی ہی باہر رہے ہیں لیکن اردو تو آپ کی کافی اچھی ہے ..”وہ ہنس پڑے تھے ” ارمان کی مجھ سے بھی زیادہ اچھی ہے ..اتنا عرصہ اٹلی میں رہنے کے باوجود بھی میں پاکستان کو نہیں بھولا اپنی مٹی تو پھر اپنی ہوتی ہے پہلے تو سیماب کے بعد میرا آنے کا دل نہیں کیا اس کے بعد ارمان نے آنے نہیں دیا کہتا تھا کے جب جائیں گے تو پھر ہمیشہ کے لئے ہی جائیں گے اور اسی وجہ سے ہم باپ بیٹے میں ٹھنی رہتی تھی اور اب تو میں اس سے ڈیل کر کے آیا ہوں اور کہ آیا ہوں کے جب تم نے آنا ہو آجانہ میں تو جا کر شادی کی تیاری کروں .” “کس کی ..شادی ؟؟” وہ نہ سمجھی سے بولی تھی ” تمہاری اور ارمان کی بھئی ..بلکے شادی تو ہو چکی ہے یوں کہنا چاہیے کے رخصتی کی تیاری ..” زرنور کو لگ رہا تھا کے جیسے اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے یہ ہو کیا رہا ہے اس کے ساتھ ؟جبھی ڈور بیل بجی تھی ” شاید مما پاپا آگئے ..میں دیکھتی ہوں ” وہ کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور باہر کی جانب گئی تھی
_____ ______ ______
“حیدر علی ..اسٹینڈ اپ ..” “حیدر علی نہیں سر ..حمزہ حیدر علی ..” اس نے سر عامر کے کہنے پر کھڑے ہوتے ہوئے تصیح کی تھی “ہاں وہی کہا میں نے بھی ..حمزہ حیدر علی ..تمہاری آسائیمنٹ کہاں ہے ؟ سب نے جمع کروادی ہے بس تمہاری رہ گئی ہے ” “پتا نہیں سر ..” “کیا مطلب پتا نہیں ؟ کیا تم نے اسائیمنٹ بنائی تھی ؟ “نہیں بنائی تھی سر ..” ” جب میں نے کہا تھا کے لازمی بنانی ہے تو پھر کیوں نہیں بنائی ؟ ” ” دل نہیں کر رہا تھا سر ..” “کیا مطلب تمہارا دل نہیں کر رہا تھا ؟” ” مجھے نہیں پتا سر ..میں نے تو بہت سمجھایا تھا اس کو سر ..کے دیکھ بھائی بنانے دے مجھے اسائیمنٹ ورنہ سر ناراض ہوں گے ..لیکن اس نے میری بات ہی نہیں مانی سر ..مجھے دوسرے کاموں میں لگا کر رکھا .اس لئے میں بنا نہیں سکا …” “اپنے دل کو ذرا قابو میں رکھو ورنہ فیل ہو جاؤ گے …” “کوئی مسئلہ نہیں ہے سر ..ہو جائیں گے فیل ..” ” تم اپنے دوستوں سے پیچھے رہ جاؤ گے ..” “کوئی مسئلہ نہیں ہے سر ..رہ جائے گے پیچھے ..” “تمہیں کوئی جاب بھی نہیں دے گا پھر ..” “کوئی مسئلہ نہیں ہے سر …نہ دے جاب میں خود کا بزنس کر لوں گا ..” “حمزہ حیدر علی ..ابھی جو میں نے لیکچر دیا ہے ..کیا تمہاری سمجھ میں کچھ آیا ؟؟” “نہیں آیا سر …” “کیوں نہیں آیا سمجھ میں ؟ کیا کر رہے تھے تم اس دوران ؟؟” “جہاز بنا رہا تھا سر …” “جہاز بنا رہے تھے ؟؟” “جی سر ..یہ جو آپ کو ہر ڈیسک کے پاس جہازوں کی کریش لینڈنگ نظر آ رہی ہے ..یہ میری ہی تخلیق ہے ..” “تمہاری بہت کمپلین آ رہی ہیں میرے پاس ..کل بھی تم نے فضول میں وجاہت کو مارا تھا وجہ پوچھ سکتا ہوں ؟ ” ” فضول میں نہیں مارا تھا سر ..وہ تو میں نے اس سے کہا تھا کے میری اسائیمنٹ بنا دے ..لیکن اس نے میری بات نہیں مانی ..تو میرا ہاتھ اٹھ گیا اس پر ..” “بات تو تمہاری ..تمہارا دل بھی نہیں سنتا ..اس پر کیوں ہاتھ نہیں اٹھاتے ؟؟” ” دل تو بچہ ہے سر …اب آپ ہی بتاۓ کیا میں بچے کو مارتا ہوا اچھا لگوں گا ؟؟” پوری کلاس ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتی حیدر اور سر عامر کی مکالمہ بازی سن رہی تھی “تم اچھا پڑھتے ہو حیدر ..بس پتا نہیں کیوں بار بار لائن سے ہٹ جاتے ہو ..خیر اپنا بیگ اٹھاؤ اور لائبریری جاؤ ..آسئیمنٹ کمپلیٹ کرو اپنا ..” “میں لائبریری نہیں جا سکتا سر ..” “کیوں نہیں جا سکتے ؟ ” ” ڈر لگتا ہے سر ..” “ڈر لگتا ہے ؟ کس سے لگتا ہے ؟” ” لائبریری سے ہی لگتا ہے سر ..مجھے لگتا ہے کے جب میں وہاں جاؤں گا تو کتابوں کی بڑی بڑی الماریاں میرے اوپر گر جائے گی ..اور میں مر جاؤں گا ..” ” لیکن مجھے تمہاری اسامنٹ آج ہی چاہیے حیدر …” ” ڈونٹ وری سر ..آپ کو آج ہی مل جائے گی ..” ” خود بناؤ گے ؟؟” “نہیں سر …” “تو پھر ؟؟” ” ریاض سے بنواؤگا سر ..” “ریاض .کیا تم اس کی اسائیمنٹ بناؤ گے ؟؟” سر کے پوچھنے پر ریاض نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا ” میں نے تو خود احمد سے بنوائی ہے ..” “تم نے کیوں بنوائی احمد سے ؟ تمہارا دل بھی تمہاری نہیں سنتا کیا ؟ ” “ایسا ہی سمجھ لیں سر …” ” اور کس کا دل نہیں سنتا اس کی ؟” سر کے کہنے پر پوری کلاس نے ہاتھ کھڑے کردئے تھے ” لگتا ہے کے تم سب کے دل کا علاج کرنا ہی پڑے گا مجھے ..” کسی نے پوچھا ..” کیسے کریں گے سر ؟ کیا ہمارا دل نکالیں گے ؟؟” “ویل دل نہیں نکالوں گا ..بلکے تم لوگوں کا علاج مجھے تمہارے ہی انداز میں کرنا پڑے گا نیکسٹ ویک سے سیمسٹر سٹارٹ ہو رہے ہیں اس سے پہلے یونی کے یونین کونسل کی جانب سے آپ سب کے لئے ایک ٹی پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہے اس لئے سیمسٹر سے پہلے پہلے جو تم سب کے اندر تمہارے دل کو کنٹرول کئے بیٹھا ہے اسے نکال باہر کرو اور دل لگا کر پڑھو ..مجھے سب کا رزلٹ اس بار بھی اچھا چاہیے ..” “فکر ہی نہیں کریں سر ..آپ نے کہ دیا ..سمجھے ہو گیا ..” حیدر کے اطمینان سے کہنے پر سر دوبارہ اس کی جانب گھومے تھے ” اگر تمہاری اسائیمنٹ کمپلیٹ ہوئی تو ہی تم پارٹی میں آؤ گے حیدر ..ادروائز.نہیں ..” “یہ کیا بات کہ دی سر آپ نے ..اب تو میں گھر ہی نہیں جاؤں گا اسائیمنٹ کمپلیٹ کئے بغیر ..” “ویری گڈ حیدر ..لیکن سب سے پہلے تم ان سارے جہازوں کی لاشیں اٹھاؤ ..” “سوری سر ..یہ میں نہیں کر سکتا ..” ” اب یہ مت کہنا کے تمہارا دل نہیں کر رہا ..” ارے سر ..میں یہ ہی کہنے والا تھا ..لیکن اب آپ یہ مت کہیے گا کے جب تک میں ان لاشوں کو نہیں اٹھاؤگا آپ مجھے پارٹی میں نہیں آنے دیں گے ..” “ایکسزیکلی حیدر …میں یہ ہی کہنے لگا تھا “سر عامر بھی اسی کی انداز میں بولے تھے ” سرآپ تو… “بھائی ” بن گئے جو بات بات پر بوری میں بند کرنے والی دھمکی دیتا ہے ..” حیدر کے منہ بنا کر کہنے پر سر سمیت پوری کلاس ہنس پڑی تھی
_____ _____ ______
“کیا ہوا تیمور ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ؟ دو دن سے یونی بھی نہیں آ رہا ..” “بس ایسے ہی ..دل نہیں چاہ رہا تھا میرا ..” وہ ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتا دوسرے سے فون کان سے لگاۓ احمد سے بات کر رہا تھا ” ابھی کہاں پر ہے تو ؟” “گھر جا رہا ہوں ..راستے میں ہوں ..” ” ٹھیک ہے میں آتا ہوں ایک گھنٹے تک تیری طرف ..” “اوکے ..آتے ہوئے ایک لارج سائز پیزا بھی لیتے ہوئے آنا ..زیادہ چیز والا ..” “اچھا لے آؤں گا ..اللہ حافظ ..” اہمد نے ہنستے ہوئے فون کاٹ دیا تھا اس نے بھی فون بند کر کر ڈیش بورڈ پر ڈالا تھا اور جبھی اس کی نظر سائیڈ پر پڑی تھی اس نے چونک کر کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے باہر دیکھا تھا جہاں ایک طرف ایک گاڑی کھڑی تھی اور جس کا بونٹ اٹھاۓایک لڑکی جھکی کھڑی شاید کوئی خرابی چیک کر رہی تھی اور تھوڑی دور ہی دو تین اوباش لڑکے کھڑے آوازیں کس رہے تھے جبھی اس لڑکی نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا تھا اور اس کو دیکھ کر تیمور ٹھٹھکا تھا دوپٹہ سر پر اوڑھے اور چشمہ لگاۓ وہ لڑکی کوئی اور نہیں انوشے ہی تھی ..تیمور کی رگیں تن گئی تھی اس نے گاڑی کو ریورس کر کے اس کے پاس لے جا کر تھوڑی دور روکا تھا سیٹ بیلڈ ہٹا کر نیچے اترتا اور ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے آستینیں چڑھاتا ہوا وہ اس تک پہنچا تھا ” اے چیز بڑی ہے مست مست …اپنا نمبر تو دے دے ” ان میں سے ایک لڑکا اپنے ساتھی کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے بے ہمنگم طریقے سے ہنستے ہوئے بولا تھا “کیا کر رہی ہیں آپ یہاں پر ؟؟” وہ اس کے سر پر پہنچ کر غصے سے بولا تھا “فٹبال کھیل رہی ہوں ..نظر تو آ رہا ہوگا تمہیں ..” انوشے کا تو پہلے ہی دماغ گھوما ہوا تھا ان لڑکوں کی وجہ سے ابھی بھی تپ کر بولی تھی “کیا ہوا ہے گاڑی کو ؟؟” “اگر مجھے پتا ہوتا تو کیا ٹھیک نہ کر لیتی میں ؟؟” “ہر بات کا الٹا جواب دینا لازمی ہے کیا آپ پر ؟ ” ” الٹا سوال کرو گے تو جواب بھی الٹا ہی ملے گا نہ ؟” تیمور نے ایک انگلی اور انگوٹھے سے اپنی پیشانی مسلی تھی (یہ لڑکی تجھے پاگل کر دیگی تیمور ..” ) “اس وقت اکیلے نکلنے کی ضرورت ہی کیا تھی آپ کو ؟؟ ” ” غلطی ہو گئی مجھ سے ..آئندہ تم سے پوچھ کر نکلا کروں گی ..” “ابے ہیرو ..اس کو پہل ہم نے دیکھا تھا اس لئے ابھی ہماری باری ہے .تو نکل یہاں سے ” جبھی ایک لڑکا تیمور کے پاس آ کر بولا تھا اس کا تو خون ہی کھول اٹھا تھا ” تمیز نہیں ہے تجھے بات کر نے کی ؟” تیمور نے ایک پنچ اس کی ناک پر مارا تھا ” “سالے تیری تو …” وہ لڑکا پھر سے اس کی جانب بڑھا تھا اور ایک پنچ اسے مارنا چاہا تھا لیکن اس کا ہاتھ تیمور نے فضا میں ہی پکڑ لیا تھا اور ایک مکا اس کے پیٹ میں مارا تھا “تیمور …!!” انوشے چیخی تھی ” چھوڑو انہیں ..تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ان سے لڑنے کی …چھوڑ دو تیمور ..میں کیا کہ رہی ہوں تم سے ؟؟” تیمور نے اس لڑکے کو دھکا دے کر دور پھینکا تھا اور انوشے کے پاس آیا تھا “بکواس بند کرو اپنی ..اور چپ چاپ گاڑی میں جا کر بیٹھو …”تیمور کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی اور اس کے چہرے پر پھیلی سختی کو دیکھ کر انوشے کو اپنے اندر خوف کی ایک لہر اٹھتی ہوئی محسوس ہوئی تھی “گاڑی …گاڑی خراب ہے میری ..” وہ خود کو کنٹرول کرتی ہوئی بولی تھی ” انوشے …کیا تمہیں وہ سفید کلر کی کار کھڑی ہوئی نظر آ رہی ہے ؟ اگر نہیں تو بتاؤ مجھے ..میں خود تمہیں اٹھا کر اس میں ڈال آتا ہوں ..” وہ بہت ضبط سے بولا تھا ” تم …تم اس طرح چیخوں مت مجھ پر..ورنہ …!!” ” ورنہ ؟؟ کیا ورنہ ؟ تھپڑ تو مار ہی چکی ہو .اب کیا سر پھاڑوگی میرا ؟؟” تیمور کے غصے سے بولنے پر اس کو شرمندگی نے ان گھیرا تھا وہ اس کو گھور تی ہوئی اس کی گاڑی کی طرف جانے لگی تھی جبھی پیچھے سے آ کر ایک لڑکے نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا وہ ڈر گئی تھی اور تیمور کا میٹر گھوم گیا تھا اس نے پیچھے کالر سے پکڑ کر اس لڑکے کو اپنی جانب کھنچا تھا اور پے در پے گھونسے اس کے چہرے پر مارے تھے انوشے تو یہ صورتحال دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی تھی لمحے کی تاخیر کئے بنا بھاگ کر اس کی گاڑی کے پاس گئی تھی اور اندر بیٹھ کر جلدی سے لاک لگایا تھا “تیری ہمت کیسے ہوئی اس کو ہاتھ لگانے کی ؟ ہاں ..؟؟” وہ بول نہیں دھاڑ رہا تھا ایک تو پہلے ہی نیچے گرا کراہا رہا تھا اور دوسرے کو تیمور روئی کی طرح پیٹے جا رہا تھا اس لڑکے کا ہونٹ پھٹ گیا تھا سارا چہرہ لہو لہان ہو رہا تھا وہ تیمور کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا تھا تب اس نے ایک جھٹکے سے اس کو چھوڑا تھا وہ دور جا کر گرا تھا “اگر اس کے اس پاس بھی نظر آۓ نہ تو پھر دیکھنا کیا حال کرتا ہوں میں تم لوگوں کا ..” تیمور نے ایک کہر بھری نظر ان پر ڈالی تھی جو گرتے پڑتے وہاں سے بھاگے تھے وہ اپنے ہاتھ جھاڑ رہا تھا جبھی انوشے بھی گاڑی سے نکل کر وہاں آ گئی تھی “تم کیوں آئی ہو باہر ؟؟” وہ اس کو دیکھ کر بولا تھا ” گھر جانا ہے مجھے ..” “میں چھوڑ دوں گا ..” “تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی ..” تیمور نے ایک نظر اس کو دیکھا تھا جو ناراض سی کھڑی تھی اور دوسرے ہی لمحے اس نے انوشے کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا “تیمور …!!” اس نے حیرت سے اس کا نام لیا تھا ” کیوں نہیں جاؤ گی تم میرے ساتھ ؟” “چھوڑو مجھے..” “کیا مسئلا ہے تمہیں میرے ساتھ جانے میں ؟؟” ” چھوڑو مجھے تیمور ..تم پھر سے وہی حرکت کر رہے ہو ..” “تو پھر ؟ کیا کرو گی میرے ساتھ ؟ پھر سے تھپڑ مارو گی ؟مار لو.. جتنے دل چاہے مار لو ..لیکن آج …میں تمہیں ..نہیں چھوڑوں گا ..” “ہوش میں تو ہو تم ؟ یہ گھر نہیں ہے تمارا ” وہ چیخی تھی “جانتا ہوں گھر نہیں ہے میرا یہ ..لیکن تم کہو تو لے بھی جاؤں گا بتاؤ چلو گی میرے ساتھ میرے گھر ..؟” وہ خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی تیمور نے سختی سے اس کی کلائی پکڑی ہوئی تھی “خدا کے لئے تیمور چھوڑ دو مجھے ..تماشہ مت بناؤ میرا ..” وہ روہانسی ہو گئی تھی وہ روڈ ویسے ہی سنسان رہتی تھی اور ابھی یوں تھا بھی دوپہر کا ٹائم اکا دکا لوگ بھی نہیں تھے “تماشہ نہیں عزت بنانا چاہتا ہوں اپنی ..بتاؤ کرو گی مجھ سے شادی ؟ ” “پہلے ہاتھ چھوڑو میرا ..” “اس کے بعد بتاؤ گی ؟” “نہیں …!!” “ٹھیک ہے پھر میں بھی نہیں چھوڑ رہا ..” وہ مزے سے بولا تھا انوشے کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے اس کو ہو کیا گیا ہے ابھی تو وہ مرنے مارنے پر تلا ہوا تھا اور اب …!!” انوشے نے اپنا پیر زور سے اس کے پیر پر مارا تھالیکن حیران رہی تھی کیوں کے اس کو کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا تب انوشے نے اورزیادہ زور سے مآرا تھا لیکن اسے تب بھی کچھ نہیں ہوا تھا وہ اسی طرح اطمینان سے کھڑا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا “یہ طریقے ….پرانے ہو چکے ہیں میڈم ..کچھ اور ٹرائی کریں ..” وہ اس کی طرف جھک کر بولا تھا انوشے تھوڑا پیچھے ہوئی تھی اور اپنے ناخن اس کے ہاتھ میں گڑا دئے تھے “آہ ..جنگلی بلّی …”وہ ہلکے سے چیخا تھا لیکن ہاتھ پھر بھی نہیں چھوڑا تھا “میں …دیکھ لوں گی تمہیں …!!” وہ غصّے سے بولی تھی تیمور اس کے انداز پر ہنس پڑا تھا “ہنس کیوں رہے ہو ؟؟” وہ چڑ گئی تھی جبھی وہاں سے ایک گاڑی گزری تھی اس میں بیٹھے منچلو نے ان دونوں کو دیکھ کر سیٹیاں بجائی تھی انوشے تو شرم سے پانی پانی ہو گئی تھی تیمور نے اس کے لال گلابی چہرے کو دیکھ کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا اور دو قدم پیچھے ہو کر کھڑا ہو گیا تھا وہ اس کو حیرت سے دیکھنے لگی تھی “کیا ہوا ؟؟ پھر سے پکڑ لوں کیا ؟؟” اس کے شرارت سے کہنے پر وہ اس کو گھورتی ہوئی وہاں سے ہٹی تھی اور اپنی گاڑی کے پاس آئی تھی “یہ دیکھو ..تم نے میرا ہاتھ لال کر دیا ..” انوشے نے مڑ کر ناراضگی سے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا تھا جو سرخ پڑ چکا تھا “یہ میرے پکڑنے سے نہیں بلکے تمہارے مزاحمت کرنے سے ہوا ہے اگر تم چپ چاپ کھڑی رہتی تو…ایسا نہیں ہوتا….اچھا ہٹو میں دیکھ لیتا ہوں تمہاری گاڑی ..اگر ٹھیک ہو گئی تو اسی میں چلی جانا ورنہ …!!!” “ورنہ ؟ کیا ورنہ ؟ اگر ٹھیک نہیں ہوئی تو ..تمہارے ساتھ بھی نہیں جاؤں گی ..” وہ اس کی بات کاٹ کر بولی تھی “تو تمہیں کیا لگتا ہے ..کے اس سنسان روڈ پر تمہیں کوئی کنوینس مل جائے گی ؟” وہ گاڑی کا بونٹ اٹھاۓ اس پر جھکے جھکے ہی بولا تھا لیکن انوشے نے کوئی جواب نہیں دیا تھا صرف ایک تار ہی نکلا ہوا تھا جسے تیمور نے سیکنڈوں میں ٹھیک کر دیا تھا اب گاڑی سٹارٹ ہونے کے قابل ہو گئی تھی “کیا ہوا نہیں ہوئی ٹھیک ؟” اس نے تیمور کو بونٹ گراتے دیکھ کر پوچھا تھا ” نہیں ..تھوڑا زیادہ مسئلہ ہے میری سمجھ میں نہیں آرہا مکینیک ہی ٹھیک کرے گا “وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا تھا ” اب کیا ہوگا ؟”وہ پریشانی سے بولی تھی ” اب کیا ہوگا ؟؟ کچھ نہیں ہوگا ..گاڑی بھی حاضر ہے اور بدمعاش ڈرائیور بھی ..اب آپ کو میرے ساتھ ہی جانا پڑیگا ..آجائے محترمہ ..” اس نے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول دیا تھا لیکن وہ نہیں بیٹھی تھی وہی کھڑی رہی تھی “کیا ہوا اعتبار نہیں ہے مجھ پر ؟” “بلکل بھی نہیں ..!” اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ” اچھا ایسا کرو .میری گاڑی کو تم اپنی گاڑی سمجھ کر ڈرائیو کر لو اور مجھے لفٹ دے دو ..” تیمور نے حل پیش کیا تھا “فائدہ ؟؟ جانا تو مجھے پھر بھی تمہارے ساتھ ہی پڑیگا ..” وہ دانت پیستے ہوئے کہتی فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھی تھی تیمور نفی میں سر ہلاتا ہنس دیا تھا اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا تھا آنکھوں پر گاگلز لگا کر اس نے کار سٹارٹ کی تھی ” یہ تمہارا غصہ ناک پر کیوں رہتا ہے ہر وقت ؟”وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس کو دیکھ کر بولا تھا جو دروازے سے تقریباً چپک کر بیٹھی تھی “زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے مجھ سے ..اور یہ کیا تم تم لگا رکھی ہے ؟ہاں ؟؟” وہ اس کو گھورتی ہوئی بولی تھی “پہلے تو ڈر لگتا تھا اس لئے آپ کہتا تھا ..” “تو کیا اب نہیں لگتا ؟؟” “نہیں ..تھپڑ کھانے کے بعد نکل گیا ہے .” تیمور کے اتنے سکون سے کہنے کے بعد اسے پھر سے شرمندگی ہوئی تھی ” بار بار یاد دلانا ضروری ہے کیا ؟” “ساری زندگی دلاتا رہوں گا ..کے تم نے مارا تھا مجھے ” ” تم نے حرکت ہی کیوں کی تھی تھپڑ کھانے والی؟” “میں نے صرف ہاتھ پکڑا تھا ..” “ساری یونی کے سامنے ؟؟” “یارر ..سب کے سامنے پکڑو تو تمہیں اعتراض ہے ..اکیلے میں پکڑو تو تمہیں اعتراض ہے ..اب تم ہی بتاؤ کیا کرو ؟؟” “مجھے دیکھنا بند کرو اور سامنے دیکھ کر ڈرائیو کرو ..” “تم میرے برابر میں بیٹھو اور میں تمہیں دیکھوں نہ ؟؟ ایسا تو ہو نہیں سکتا ..اسی لئے کہ رہا تھا کے تم ڈرائیو کرلو ..مجھ سے ہو ہوگی نہیں ..” “تم سے تو ..بات ہی کرنا فضول ہے …!!” وہ غصّے سے بولتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی اور تیمور نے ہنستے ہوئے میوزک پلئیر آن کیا تھا
“فلک سے پوچھ لو چاہے گواہ یہ چاند تارے ہیں
نہ سمجھو اجنبی صدیوں سے ہم تو بس تمہارے ہیں
محبّت سے نہیں واقف بہت انجان لگتی ہو
ہمیں ملنا ضروری ہے حقیقت نہ سمجھتی ہو
کوئی کیسے سمجھ پاۓ کسی کے دل کا افسانہ
محبت میں کوئی عاشق کیوں بن جاتا ہے دیوانہ
کسی سے پیار ہو جائے .کسی پے دل جو آجاۓ
بڑا مشکل ہوتا ہے دل کو سمجھآنا …
ہوئے بیچین پہلی بار ہم نے راز یہ جانا
محبت میں کوئی عاشق کیوں بن جاتا ہے دیوانہ …!!”
“سن رہی ہو انوش ؟…!! یہ شاعر تو میرے دل کی عکاسی کر رہا ہے “انوشے نے سختی سے دانت پر دانت جما کر خود کو کچھ بولنے سے روکا تھا اب اتنا تو وہ اچھی طرح جان گئی تھی کے اس سے بات کرنے کا مطلب تھا ..فضول بحث …!!” اس لئے خاموشی سے باہر دیکھتی رہی تھی “تمہیں پتا ہے میری امی کو بہت جلدی ہے اپنی بہو لانے کی ..انفیکٹ وہ تو اسی سال میری شادی کرنا چاہتی ہیں ..” “تو پھر ؟ کیا کروں میں ؟ مجھے کیوں بتا رہے ہو ؟” “میں تو اسی لئے بتا رہا ہوں تاکے تم شادی کی تیاری شروع کردو ..” “کس کی شادی کی ؟ِ” وہ حیرت سے بولی تھی ” ہماری شادی کی …!” “بکواس بند کر لو اپنی تیمور …! میں کہ چکی ہوں تم سے کے ہماری شادی نہیں ہو سکتی …!!” “کیوں نہیں ہو سکتی ؟؟ِ” “بس نہیں ہو سکتی ..” تیمور نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی انوشے کا سر ڈیش بورڈ پر لگتے لگتے بچا تھا “گاڑی کیوں روکی تم نے ؟” “پہلے مجھے وجہ بتاؤ ..مجھ سے شادی نہ کرنے کی ..اس کے بعد ہی گاڑی چلاؤں گا ورنہ نہیں …!!” وہ ضدی انداز میں بولا تھا “بہت اچھی بات ہے ..بیٹھے رہو یہاں اکیلے ..جا رہی ہوں میں .. ” وہ اس کو گھورتی ہوئی دروازہ کھولنے لگی تھی جبھی تیمور نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور اس کی جانب جھک کر ہینڈل پر رکھا اس کا دوسرا ہاتھ ہٹا کر لاک لگا دیا تھا وہ حیرت سے خود پر جھکے تیمور کو دیکھ رہی تھی “کہا ہے نہ میں نے تم سے کے ..پہلے وجہ بتاؤ ..” “دور ہٹو مجھ سے ..” “نہیں ہٹوں گا …” “تم ..تم انتہائی بد تمیز انسان ہو ..” وہ غصے سے بولی تھی ” جانتا ہوں …” جبھی پیچھے آنے والی گاڑیوں نے ہارن دیا تھا تب مجبورآ اسے پھر سے گاڑی سٹارٹ کرنا پڑی تھی “قسمت ہی خراب تھی میری جو پہلے گاڑی خراب ہو گئی ..اور اب تم ..!!” “میری قسمت تو بہت اچھی ہے ..” وہ مزے سے بولا تھا ” “ویسے کیا خیال ہے میڈم ..کیا سارا دن آپ نے میرے ساتھ کراچی کی سڑکوں پر مٹرگشتی کرتے ہوئے گزارنا ہے ؟؟ ..اچھا .اچھا ایسے تو مت دیکھو اب .میں تو ایڈریس پوچھنا چاہ رہا تھا “تیمور کے پوچھنے پر اس نے ایڈریس بتا دیا تھا اور اگلے دس منٹ میں اس نے انوشے کے گھر کے سامنے گاڑی روکی تھی “تم کہاں جا رہے ہو ؟” اس نے حیرت سے اس کو سیٹ بیلڈ ہٹاتے ہوئے دیکھ کر کہا ” چاۓ پینے جا رہا ہوں ..تمہارے گھر ..” “لیکن میں نے تو تم کو نہیں بلایا ..” “پتا ہے مجھے ..بہت بے مروت لڑکی ہو تم ..ایک تو میں نے تمہیں ان لڑکوں سے بچایا ..تمہاری گاڑی ٹھیک کی ..تمہیں لفٹ دی لیکن تم …بجاۓ میرا شکریہ ادا کرنے کے مجھے چاۓ پلانے کے دروازے سے ہی لوٹا رہی ہو ..” انوشے کو سچ مچ شرمندگی ہوئی تھی “دیکھو ..بہت شکریہ ..تمہارا تم نے جتنی بھی میری مدد کی لیکن چاۓ ..وہ میں تمہیں نہیں پلا سکتی ..اس لئے اب تم یہاں سے سیدھے گھر جاؤ.. اور گاڑی …گاڑی کب ٹھیک کی تم نے ہاں ؟ ” وہ یاد آنے پر جیسے چونک کر بولی ..”گاڑی ؟؟ وہ تو ..صرف ایک وائیر نکلا ہوا تھا ..وہ میں نے ٹھیک کر دیا تھا ..” تیمور مسکراہٹ دباتے سر کھجاتا ہوا بولا تھا “تم ..تم نے جھوٹ بولا مجھ سے ؟؟” وہ غصّے سے اس کو گھورنے لگی تھی “جھوٹ تو نہیں بولا میں نے ..بس سچ چھپایا ہے ..اچھا چلو ..آج تھوڑا کام ہے مجھے اسی لئے جا رہا ہوں لیکن اگلی دفع….. چا ۓ بھی پیوں گا اور کھانا بھی کھاؤں گا ..وہ بھی تمہارے ہاتھوں کا ..آخر کو تم نے میرا شکریہ بھی تو ادا کرنا ہے ..” وہ اس کو تیز نظرو سے دیکھتی ہوئی اپنا پرس سمبھال کر گاڑی سے نیچے اتر گئی تھی اور کھینچ کر دروازہ بند کیا تھا تیمور بھی ہنستے ہوئے گاڑی نکال لے گیا تھا .
