Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaar Yarun Sy Ho Na Juda by Zainab Khan Episode 08

وہ گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے باہر نکلا تھا چادر اتار کر اس نے گاڑی میں رکھ دی تھی آستینوں کو فولڈ کرتا وہ ان لوگوں کی ٹیبل کی جانب آیا تھا تقریبآ سارے مہمان ہی رخصت ہو گئے تھے جو ایک دو باقی تھے وہ لائبہ اور اشعر کی فیملی کے ساتھ بیٹھے تھے وہ دونوں بھی اب اسٹیج سے اتر کر ان ان لوگوں کے ساتھ ہی بیٹھےچاۓ اور کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے “تم لوگوں کا کیا ساری رات یہیں گزارنے کا ارادہ ہے ” احمد نے چیئر گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے کہا “اشعر کا دل ہی نہیں کر رہا یہاں سے جانے کا ” تیمور نے چاۓ کا سپ لیتے ہوئے کہا “ایسی بات بھی نہیں اب “اشعر نے جھینپتے ہوئے اس کے کندھے پر پنچ مارا تھا “ہاۓ ..ظالم توڑ دیا میرا کندھا ” تیمور نے اپنا کندھا سہلایا تھا ” ہاہا ..دیکھو بھائیو …یہ لڑکیاں اپنی اصلی حالت میں واپس آ رہی ہیں جیسے ..سنڈریلا بارہ بجتے ہی پھر سے ماسی بن جاتی ہے ” حیدر نے ہنستے ہوئے زرنور اور مناہل پر چوٹ کی تھی.زرنور نے اپنے کھلے ہوئے بالوں کا اونچا سا جوڑا بنا لیا تھا لیکن لئیر میں کٹے بالوں کی لٹے جوڑے میں سے نکل کر اس کے چہرے پر آ رہی تھی اور مناہل اپنی چوڑیاں اتار اتار کر ٹیبل پر رکھتی جا رہی تھی جن کو ریاض ایک لائن میں لگا کر نئی نئی شکلے بنا رہا تھا جس کو بار بار تنبه کرتی جا رہی تھی “ریاض ایک چوڑی بھی نہیں ٹوٹنی چاہیے ان میں سے ..میں کہ رہی ہوں تمہیں ” جبھی ویٹیر نے ایک کافی کا کپ لا کر احمد کے سامنے رکھا تھا “جہاں تک میرا خیال ہے تو اب حارث کا نمبر ہے …ہاں تو بھائی کب بلا رہا ہے اپنی منگنی میں ؟” اشعر نے شرارت سے پوچھا تھا ” ہاہا ..میں کچے کام نہیں کرتا ..انشااللہ بہت جلد تم لوگ اپنے بھائی کی برات لے کر جاؤ گے ” حارث نے ہنستے ہوئے کہا تھا ” او ہو بلے بھئی بلے ..مطلب تیاری شروع کر دینی چاہیے ؟” حیدر نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ” جو بھی ہو حارث ..تیری شادی کل ہو یا پرسوں لیکن یہ با تو کنفرم ہے کے اپنی برات سے پہلے تو میری برات لے کر جاےگا ” احمد نے کافی پیتے ہوئے کہا تھا “اوے یہ اچانک سے انقلاب کیسے آ گیا ؟؟ اتنے دنوں سے میں تیرے پیچھے پڑا ہوا تھا جب تو ..تو مانا نہیں اور اب ؟؟” حارث نے حیرت سے پوچھا تھا “بس بیٹھے بیٹھے ارادہ بن گیا ” اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ” یار تم لوگوں کی بات شادی تک پہنچ گئی ..اور میری والی مان ہی نہیں رہی ہے ” تیمور نے منہ پھلا کر کہا تھا “اوے تو فکر مت کر کل سے اس پر بھی کام شروع کریں گے ” اشعر نے اس کو تسلی دی تھی ” احمد بیٹا ..ذرا یہاں آیے “لائبہ کے والد نے احمد کو آواز دی تھی جو ان لوگوں سے تھوڑی دور دوسری ٹیبل پر بیٹھے تھے ” جی انکل آتا ہوں ” احمد اپنا کافی کا کپ اٹھا کر ان کے پاس چلا گیا تھا جہاں وہ باقی سب کے پاس بیٹھے تھے “ایسے ارادے کوئی بیٹھے بٹھاۓ نہیں بنتے ..مجھے تو لگتا ہے اس کالے کپڑوں والی مایا چھایا نے ہی کوئی کالا جادو اس پر کیا ہے .جبھی تو اس کی ٹون ہی بدلی ہوئی ہے “ریاض نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے ساری چوڑیاں سمیٹ کر مناہل کو دی تھی حارث تو قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا جبکے حیدر نے ریاض کے شانے پر تھپکی دی تھی “لڑکے …بات میں دم ہے تیری ..مناہل مجھے بھی دو اپنی چوڑیاں میں بھی کھیلونگا ..پھر میرا دماغ بھی کام کریگا ” حیدر نے مصنوئی سنجیدگی سے کہا تھا جس سے سب ہی ہنس پڑے تھے جبھی ڈی جے نے گانا لگایا تھا
جو تیری خاطر تڑپے پہلے سے ہی
کیا اسے تڑپانا او ظالمہ …او ظالمہ
“اس کو کون سے دورے پڑ رہے ہیں اب ؟؟ سارے فنکشن میں تو ناکام عاشقوں والے گانے سنا سنا کر کان پکادیے اور اب اس کو ظالمہ یاد آ رہی ہے “حیدر نے منہ بگاڑ کر کہا تھا ” اوے …او ڈی جے والے بھائی …بند کردے یار گانے ..اب تو جانے کا ٹائم ہو گیا “تیمور نے ہاتھ اٹھا کر اسے اپنی جانب متوجہ کر کے منع کیا تھا “ویسے حارث کیا سچ میں ..احمد اور مایا کے بیچ کچھ کچھ ہے ؟؟” ریاض نے حارث سے پوچھا تھا لیکن جواب اس کے بجاۓ احمد کی طرف سے آیا تھا اس نے ریاض کی بات سن لی تھی ” میرے اور مایا کے بیچ میں کیا ؟؟” اس نے کافی کا گھونٹ بھرتے ریاض کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ” ک کچھ نہیں میں تو ایسے ہی کہ رہا تھا ” اس نے گڑ بڑا کر کہا تھا “احمد ان کو شک ہو رہا ہے تجھ پر اور مایا پر “حارث نے ہنستے ہوئے کہا تھا وہ سر کو نفی میں ہلاتے ہنس دیا تھا ” ایسا کچھ نہیں ہے یار ” جبھی تیمور کھڑا ہو گیا ” اٹھ جو یار تم لوگ بھی ایسے بیٹھے باتیں کرتے رہیں تو رات ایسے ہی گزر جاےگی “تیمور نے اپنی ریسٹ واچ دیکھتے ہوئے کہا تھا احمد نے کافی کا خالی کپ ٹیبل پر رکھا تھا اور جیب سے اپنا موبائل نکال لیا تھا وہ سب تو ایسے بیٹھے تھے جیسے جانے کا ارادہ ہی نہ ہو حیدر کی بلو واسکٹ گول مول ہوئی وی ٹیبل پر پڑی تھی تیمور اور حارث نے اپنی بلیک چادر گردن کے گرد لپیٹی ہی تھی اور ریاض نے اپنی چادر سلیقے سے سمیٹ کر چیئر پر رکھی ہوئی تھی تیمور کو دیکھ کر وہ لوگ بھی کھڑے ہو گئے تھے مجھے تو لگتا ہے کے اشعر کو اٹھا کر ہی لے جانا پڑیگا “حیدر نے اشعر کو دیکھتے ہوئے کہا تھا “میں اٹھ ہی رہا تھا ک”اشعر حیدر کو گھور تے اپنا فون اٹھا کر کھڑا ہو گیا تھا “چلو بچیوں …گھر جانے کا وقت ہو گیا ” حیدر نے تالی بجا کر ان کو اپنی اپنی جانب متوجہ کیا تھا زر نور اور مناہل تو آرام سے پیر اوپر کر کے بیٹھی تھی “بیچاری لائبہ کا خیال کرو تم لوگ تھوڑا …خود تو تم دونوں آرام سے ساری چیزیں اتار کے بیٹھی ہو اور اس کو دیکھو جو دو چار کلو میک اپ ..دس کلو جیولری اور بیس کلو کے ڈریس میں کتنی مشکل سے تم دونوں کو برداشت کر رہی ہے “حیدر نے افسوس سے کہا تھا وہ دونوں اس کو گھورتی اپنی فراک سمبھال کر کھڑی ہو گئی تھیں اشعر کے گھر والے تو کب کے جا چکے تھے صرف اشعر ہی ان لوگوں کی وجہ سے رکا ہوا تھا احمد کی ریڈ سپورٹس کار ڈرائیور چھوڑ گیا تھا جو اس نے اشعر کے گھر پر کھڑی کی ہوئی تھی”ریاض تم مجھے بھی سکھا دو ہیوی بائیک چلانا ” زرنور نے حسرت سے ریاض کو کہا تھا جو بائیک پر بیٹھتے ہوئے ہیلمٹ پہن رہا تھا احمد کی میسج ٹائپ کرتی انگلییاں تھمی تھی اس نے ایک ابرو اٹھا کر اس گلابی فراک پہنے باربی ڈول کو دیکھا تھا “ارے ..میری گڑیا بائیک کو چھوڑو .تمہیں تو میں جہاز اڑانا سکھاونگا جہاز ” ریاض نے مسکراہٹ دباتے اس کو تسلی دی تھی “مذاق نہیں کرو ریاض ” اس نے منہ بنایا تھا “ہاہا اوکے نہیں کرتا مذاق ” اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا ” چلو نور ..میں ڈراپ کر دوں گا تمہیں ” احمد نے اپنا فون جیب میں رکھتے ہوئے کہا تھا “کیوں ؟؟ تم نے کیا خدمت خلق کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے ؟؟” اس نے بظاہر نارمل انداز میں ہی پوچھا تھا لیکن اس کے لہجے کی تپش اور طنز کو وہ سمجھ گیا تھا جو یقینآ مایا کو ڈراپ کرنے کی وجہ سے تھی احمد مسکرایا تھا ” تمہاری گاڑی کا ٹا ئیر پنکچر ہے ..تو میں نے سوچا کے میں تم میرے ساتھ چل لینا لیکن اگر تم پیدل جانا چاہتی ہو تو …تمہاری مرضی “..اس نے کہتے ہوئے کندھے اچکاۓ تھے زر نور نے چونک کر اپنی گاڑی کو دیکھا تھا جس کا واقعی میں اگلا وہیل پنکچر تھا “اچھا ہوا …اب تو میں اس بائیک پر ہی جاؤ گی ” دوسرے ہی لمحے وہ جوش سے بولی تھی “نہیں ں ں .!!!” حیدر چیختا ہوا بائیک سے لپٹ گیا تھا “کیا ہو گیا ہے زر نور؟،، لڑکیاں ہیو ی بائیک پر تھوڑی بیٹھتی ہیں ” تیمور نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا کیوں نہیں بیٹھ سکتی لڑکیاں ہیوی بائیک پر ؟؟ دیکھنا میں یہ بائیک تمہیں چلا کر دکھاؤں گی بلکے تمہیں ریس میں بھی ہر کر دکھاؤں ” اس نے چیلنجنگ انداز میں کہا تھا “ہاہا نور بانو ..اچھا مذاق ہے ” حیدر نے ہنستے ہوئے کہا تھا ” مذاق نہیں کر رہی میں ” اس نے حیدر کو گھورا تھا ” میری دعا ہے زرنور …کے جس بندے کی تمہارے ساتھ قسمت پھوٹے گی آئی مین .شادی ہو گی …وہ ہیوی بائیک ریس کا چیمپئن ہو ..پھر تم صبح شام اس کے ساتھ ریس لگاتی رہنا ” ریاض نے ہنستے ہوئے ایک ہیلمٹ تیمور کو پکڑایا تھا ” ہاہا ویری فنی ” اس نے منہ بگاڑا تھا اور حارث ہنستے ہوئے احمد کو دیکھ رہا تھا جو ایک ہاتھ سینے پر باندھے اور دوسرے ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر جماۓ سر نیچے کئے مسکراہٹ دبانے کی کوشش کر رہا تھا ریاض نے بائیک سٹارٹ کر لی تھی اور اس کے پیچھے بیٹھتے تیمور نے حارث کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو مناہل کے ساتھ سیلفی لے رہا تھا “اوے حارث …اس اشعر کو اپنے ساتھ ہی لے کر جانا… کہیں یہ تمہیں باتوں میں لگا دیکھ کر یہیں رک جائے….چل چل ریاض …جلدی نکل ..بھگا بھگا ” اس نے ریاض کا کندھا جھنجھوڑ دیا تھا اس سے پہلے کے اشعر ان تک پہنچتا وہ دونوں قہقہے لگاتے وہاں سے نکل گئے تھے “اگر تیرا ایسا کوئی ارادہ بھی ہے نہ تو …تو بھول جا بیٹا …میری نظر ہے تجھ پر ” حارث نے شرارت سے کہا تھا ” یار تم لوگوں کی باری تو آنے دو ..دیکھنا گن گن کے بدلے لوں گا میں بھی ” وہ ان کو دھمکاتے ایک نظر لائبہ کو دیکھ کر حارث کی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا “نور …میرے ساتھ چل رہی یا پیدل ہی جانا پسند کروگی ؟؟” احمد نے گاڑی کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے زر نور سے کہا تھا جو لائبہ اور مناہل سے مل رہی تھی ” مجھے کوئی شوق نہیں پیدل جانے کا ” وہ کہتے ہوئے احمد کی کار کی طرف آئی تھی ا”اور میرا کوئی ارادہ بھی نہیں چھت پر بیٹھ کر جانے کا …براہ مہربانی ..لاک کھول دو اس کا ” اس نے احمد کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جس نے لاک کھول دیا تھا وہ دروازہ کھول کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی آگے حیدر اور احمد بیٹھے تھے اس کی گاڑی اور حارث کی گاڑی آگے پیچھے ہی نکلی تھی “احمد یار اس کی چھت تو کھول ..کیا فائدہ پھر سپورٹس کار کا ؟” احمد نے گاڑی مین روڈ پر ڈال دی تھیج ابھی ٹائم اتنا نہیں ہوا تھا لیکن پھر بھی سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا اس نے سپیڈ تیز کر دی تھی “اگر میں نے اس کو کھول دیا نہ تو ..پھر تجھ سے انسانوں کی طرح نہیں بیٹھا جائے گا ..اس لئے تو اسے بند ہی رہنے دے “احمد نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا تھا ” حیدر …پیچھے کرو ..پیچھے ” زرنور اتنی زور سے چیخی تھی اس کو دیکھ میوزک پلیئر پر ریڈیو کے چینل سرچ کرتا حیدر بھی چیخ پڑا تھا ان دونوں کی چیخوں سے گاڑی بے قابو ہو گئی تھی احمد نے با مشکل گاڑی کو کنٹرول کرتے سائیڈ پر پارک کیا تھا “کیا ہو گیا ہے نور ؟؟ کیوں اتنی زور سے چیخی تم ؟” وہ دونوں پیچھے مڑے اس کو دیکھ رہے تھے جس کا گاڑی کو جھٹکا لگنے کی وجہ سے جوڑا کھل گیا تھا ور سارے بال شانے پر بکھرے تھے اور چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا “103 لگاؤ جلدی ” وہ جوش سے بولی تھی “ہیں ؟؟” حیدر نے نہ سمجھی سے اسے دیکھا تھا ” ارے ریڈیو پر 103 چینل لگاؤ حیدر جلدی ” وہ زور دے کر بولی تھی حیدر نے ریڈیو پر اس کا مطلوبہ چینل لگا دیا تھا اور چینل لگتے ہی “آر جے آصف ملک ریاض ” کی خوبصورت سی آواز پوری گاڑی میں گونجی تھی ” سنڈے کی اس خوبصورت سی شام میں میرا اور آپ کا ساتھ رہیگا ..ٹھیک بارہ سے لے کر دو بجے تک .ان .دا پروگرام ..”.سونا منع ہے “…اور آج ہم کوئی ٹوپک نہیں رکھنے والے ..آج ہم صرف باتیں کریں گے ..کچھ آپ کی سنے گے ..کچھ اپنی سنا ۓ گے لیکن اس سے پہلے ایک گانا ہو جائے …کیا خیال ہے ؟؟ ایک سونگ میں لگاتا ہوں جو مجھے بے حد پسند ہے اور یقینآ اپ کو بھی پسند آے گا … تو چلیں اس خوبصورت سے ٹریک کے بعد میں اپ سے یہیں ملوں گا …کہیں مت جائے گا …ساتھ رہیے گا ” اب عاطف اسلم کا کوئی گانا بج رہا تھا “وہ دونوں ہاتھوں کو باہم پھنساۓ ان پر اپنی تھوڑی جماۓ چمکتی انکھوں اور مسحور کن انداز میں آر جے کو سن رہی تھی ” سیرئسلی نور ..تم لئے اتنی زور سے چیخی تھی ” احمد نے حیرت اور تاسف سے اس کو دیکھا تھا جس نے اثبات میں سر ہلایا تھا “حد ہے نور بانو ..اگر ابھی میرا ہارٹ فیل ہو جاتا تو ؟؟” حیدر نے اس کو گھورتے ہوئے کہا تھا “تو جان چھوٹ جاتی میری تم سے ..اور سکون آجاتا میری زندگی میں ” زر نور نے مزے سے کہا تھا جبھی ان کی گاڑی کے پاس سے دو بندر ہیوی بائیک پر سوار چیختے چنگہاڑتے سیٹیاں بجاتے گزرے تھے “کاش میں بھی یہ بائیک چلا سکتی “زر نور نے حسرت سے دور جاتے تیمور اور ریاض کو دیکھ کر کہا تھا ” نور بانو .تم شاید بھول گئی ہو ..میں یاد دلا دوں کے ….تم ایک لڑکی ہو ” حیدر نے مصنوئی سنجیدگی سے کہا تھا “تو لڑکیوں پر بائیک چلانے پر پابندی ہے کیا ” اس نے تنک کر پوچھا تھا ” ایسا ہی سمجھ لو ” احمد مسکراہٹ دباتے سنجیدگی سے کہا تھا ” اوہنہ …” وہ ان دونو کو گھورتی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی
– – –
“ماہین بھابی ..حارث اٹھ گیا کیا ؟ مناہل نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا تھا “نہیں ..ابھی تک سو رہا ہے وہ تو …آج کیا جلدی جانا ہے تم لوگوں نے ؟” ماہین نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا “جلدی تو نہیں جانا .لیکن اس حارث کی وجہ سے مجھے اپنے ٹائم سے پہلے اٹھنا پڑتا ہے اور اب اس نواب صاحب کو اٹھانے میں اتنا ٹائم لگے گا ..یار کس پر چلا گیا اپ کا دیور ؟ ایسے مدہوشوں کی طرح سوتا ہے جیسے اس سے زیادہ اور کوئی ضروری کام تو ہو ہی نہیں سکتا ” وہ سخت عاجز ای ہوئی تھی حارث کی نیند سے “یہ زرنور پر گیا ہے ” ماہین نے ہنستے ہوئے کہا تھا ” ٹھیک کہ رہی ہیں بھابی آپ ..جب صرف آدھا گھنٹہ ہوگا نہ کلاس شرع ہونے میں تب کہیں جا کر تو اس محترمہ کی آنکھ کھلتی ہے “مناہل نے اپنا بیگ اور فائلز ڈائینگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تھا ” جاؤ تم اٹھا دو اسے جب تک میں ناشتہ تیار کر لیتی ہو پھر ساتھ ہی کریں گے ” “میرے لئے تو آج اپ فرنچ آملیٹ بنادیں ” اس نے فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر ٹیبل پر رکھی تھی “آج پھر تمہارا حارث سے لڑنے کا ارادہ ہے ؟” ماہین نے ہنستے ہوئے احتیاط سے پراٹھا بیل کر توے پر ڈالا تھا “آج تو میں نے پکّا ارادہ کر لیا ہے بھابی ..آج میں اسے یہ آملیٹ کھلا کر ہی رہوں گی ..یہ تو اتنا مزے کا بنتا ہے اسے نہ جانے کیوں اتنا نہ پسند ہے ..اسکو تو بس سری پاۓ ..اور گردے پھیپھڑے کھلاتے رہو اسی میں خوش ہے وہ تو ” مناہل نے منہ بناتے کیبنٹ میں سے جگ نکال کر اس میں ٹھنڈا پانی ڈالا اور پھر فریج میں سے آئس کیوبس نکال کر وہ بھی اس میں ڈال دی تھی “یہ کیا کر رہی ہو مناہل ؟” ماہین نے حیرت سے و کی سرگرمی کو دیکھا تھا “اپ کے دیور کو ہوش میں لانے کا نیا طریقہ ڈھونڈا ہے میں نے ” مناہل نے ہنستے ہوئے کہا تھا “کس کو ہوش میں لانے کا ؟” جبھی عمیر نک سک سے تیار اوور آل بازو پر ڈالے اور ہاتھ میں ایک بریف کیس اٹھاۓ کچن میں آیا تھا اس نے مناہل کی آخری بات سنی تھی ” آپ کے بھائی کو ..ایک وہی تو ہے اس گھر میں جو رات کو سونے کے بجا ۓ بیہوش ہو جاتا ہے اور عمیر بھائی میں یہ پورا جگ اس پر پھینکنے جا رہی ہوں اور جب وہ چیختا چلّاتا میرے پیچھے آے گا نہ تو آپ کو مجھے بیک دینا پڑیگی “مناہل نے ٹیبل پر سے جگ اٹھا تے عمیر سے کہا تھا جو چیئر گھسیٹ کر بیٹھ چکا تھا ” اس کی تم فکر مت کرو ..میں سمبھال لوں گا اسے تو ..تم جاؤ اپنا مشن پورا کرو ” عمیر نے ہنستے ہوے کہا تھا “کیا ہو گیا ہے اپ دونوں کو ؟ مناہل کوئی ضرورت نہیں ہے یہ کرنے کی ..وہ غصّہ کرے گا نہ پھر ” ماہین نے ناشتہ کی ٹرے عمیر کے سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا “ایسے کیسے غصّہ کرے گا ..میں بیٹھا ہوں نہ یہاں ..تم جاؤ مناہل ” عمیر کے کہنے پر وہ پانی کا جگ اٹھا کر کچن سے نکلی تھی اور سیدھی اس کے کمرے پاس ای تھی دروازہ کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر ہلکے سے کھول کر وہ اندر آئ تھی پورا کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا صرف نائٹ بلب جل رہا تھا کھڑکی پر پڑے دبیز پردے اور اے سی کی کولینگ نے کمرے کے ماحول کو خاصا خوبناک بنا دیا تھا ا”ایسے ماحول میں کس کا دل کرے گا ااٹھنے کا ؟؟” وہ خود سے مخاطب ہوتی بیڈ کے پاس آئ تھی سائیڈ ٹیبل لیمپ کو جلایا تھا کمرے کا حال دیکھ کر تو اس کا میٹر گھومنے لگا تھا سارا کمرہ حال سے بے حال ہو رہا تھا حارث کے رات والے کپڑے سوفے پڑے تھے اور اس کی چادر آدھی ٹیبل پر اور آدھی نیچے کار پیٹ پر پڑی تھی سوفے کے کشن سارے کمرے میں بکھرے تھے چاۓ کے دو چار خالی کپ سائیڈ ٹیبل پر پڑے تھے اس کے کل والے کولا پوری فوٹ ویر ایک شو ریک میں رکھا تھا اوردوسرا پتا نہیں کہاں تھا ” اس کو بھی رکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟” اس نے دانت پیستے سوچا تھا اور سب سے برا حال تو ڈریسنگ ٹیبل کا تھا ہر چیز ہی بکھری ہوئی تھی “یا اللہ ..یہ کب انسان بنے گا ؟” غصّے کو کنٹرول کرتے اس نے کھڑکی کے پردے ہٹا ۓ تھے اور بیڈ کے نیچے سے جھانکتے ریموٹ کو اٹھا کر اس نے اے سی بند کیا تھا اور بیڈ کے پاس آئ تھی جہاں وہ سر تک بلینکٹ اوڑھے سو رہا تھا “حارث…اٹھ جاؤ …آٹھ بج رہے ہیں .. اٹھ جاؤ حارث دیر ہو رہی ہے “وہ اس کو آوازیں دے رہی تھی تا کے وہ بعد میں یہ نہ کہے کے اٹھایا نہیں تھا “پاگل ہو گئی ہو مناہل ؟؟..میرے بھوت سے باتیں کر رہی ہو ؟؟” مناہل اس کا بلینکٹ کھیچنے کا سوچ ہی رہی تھی کے اس کی آواز پر پر چونکی تھی جو یقینآ اس کے پیچھے سے ہی آئی تھی اس نے فورآ پلٹ کر دیکھا جہاں حارث بلو جینز پر چیک شرٹ پہنے فریش سا کھڑا تھا اور حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا جو یقینآ مصنوئی تھی “حارث یہاں ہے تو پھر یہ ؟؟” اس نے بیڈ پر سے اس کا بلینکٹ کھنچا تھا جہاں تکیوں اور کشن کو سیدھ میں اس طرح سے رکھ ک بلنکٹ اڑھایا گیا تھا جیسے سچ موچ کوئی انسان لیٹا ہوا ہو
“بہت سمارٹ بنتی ہو تم مانو بلی ..لیکن مجھ سے زیادہ نہیں ہو ..مجھے پتا تھا کے تم یہ حرکت ضرور کروگی “حارث نے ہنستے ہوئے اس کو چڑایا تھا ” تمہیں کیسے پتا چلا؟ ” مناہل کا موڈ خراب ہو گیا تھا اپنا پلان فیل ہوتے دیکھ کر ” تمہیں مجھ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے ؟؟ اور اب ہر دفہ تو ……آہ ..” حارث کی بات منہ میں ہی رہ گئی تھی کیوں کے آئس کیوبس تڑ تڑ اس کے چہرے پر آ کر لگی تھی کیوں کے مناہل نے ٹھنڈے پانی کا پورا جگ اس پر پھینک دیا تھا جبھی وہ بوکھلا کر دو قدم پیچھے ہوا تھا “آئندہ مجھے مانو بلی مت بولنا ..ورنہ جنگلی بلی بن کر دکھاو نگی میں تمہیں ” “مناہل کی بچی ..تم ” اس سے پہلے کے وہ اس تک پہنچتا وہ وہاں سے بھاگی تھی اور سیدھی کچن میں آئی تھی “عمیر بھائی ….بچاۓ مجھے ” وہ چیختی ہوئی عمیر کے پیچھے چھپ گئی تھی جبھی حارث غصّے میں لال پیلا ہوتا وہاں آیا تھا ” کہاں ہو تم ؟ نکلو باہر ..ایسے تو بڑی جنگلی بلی بنی گھومتی ہو .اب کیوں ڈر کر چھپ گئی ؟؟” حارث گیلی شرٹ اور چہرے کے ساتھ اس کو گھور تے ہوئے بول رہا تھا “حارث تم کیا رات کو ہی تیار ہو کر سو گئے تھے ؟” ماہین نے اسے حیرت سے دیکھتے پوچھا تھا جو یونی جانے کے لئے بلکل تیار لگ رہا تھا لیکن مناہل نے اس پر پانی پھینک کر ساری تیاری خراب کر دی تھی اس کی “کہاں بھابی …میں تو آج جلدی اٹھ گیا تھا ..تیار بھی ہو گیا تھا .تاکے مناہل خوش ہو جائے لیکن اسے دیکھیں .ٹھنڈے پانی کا جگ پھینک دیا اس نے مجھ پر ” حارث نے مناہل کو کہتے تیز نظرو سے مناہل کو گھورا تھا جو عمیر کے پیچھے سے اس کو منہ چڑا رہی تھی ” تمہیں تو میں نہیں چھوڑوں گا آج ..باہر نکلو مناہل ” وہ اس کو خشمگی نظروں سے گھورتے اس کی جانب بڑھا تھاتاکے اس کو عمیر کے پیچھے سے نکالے ” عمیر بھائی…. روکے اس کو ” مناہل عمیر کا بازو پکڑ کر چیخی تھی ” “رکو ..حارث ..پہلے میری بات سنو ” عمیر بیچ میں آیا تھا “مجھے کچھ نہیں سننا بھائی ..اپ بس نکالے اس کو باہر ..آج یہ نہیں بچے گی مجھ سے ..پوچھیں اس سے کے کیوں پھینکا اس نے مجھ پر پانی ؟؟ میں جلدی اٹھ گیا تھا تیار بھی ہو گیا تھا پھر بھی ؟” وہ شدید ناراضگی سے بولا تھا “مناہل …بھئی کیوں پھینکا تم نے اس پر پانی ؟” عمیر نے اپنی مسکراہٹ دباتے اپنے پیچھے چھپی مناہل سے پوچھا تھا ” آپ ہی نے تو کہا تھا “وہ معصومیت سے بولی تھی ” میں نے تو کہا تھا کے جب وہ سو رہا ہو تب پھینکنا پانی ” حارث حیرت سے منہ کھو لے ان کی گوفتگو سن رہا تھا اس نے ماہین کی طرف دیکھا تھا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا “نہیں بھئی ..میں ان کے ساتھ بلکل بھی شامل نہیں ہوں ” “عمیر بھائی “وہ ناراضگی سے کہتا عمیر کی جانب پلٹا تھا ” چلو مناہل ..جواب دو ” اس نے مناہل سے کہا تھا ” اچھا اچھا بتا رہی ہوں لیکن پہلے اس کو دور کرے ” ” جاؤ حارث اس کرسی کے پاس جا کر کھڑے ہو جاؤ ” عمیر نے اشارہ کیا تھا ” کیوں؟۔۔۔!!!!” اس نے دانت پیستے ہوئے پوچھا تھا ” کیوں مناہل ؟؟” عمیر نے پھر مناہل سے پوچھا “سیفٹی کیلئے نہ ” وہ جلدی سے بولی تھی حارث مٹھییاں بھینچتا چار قدم پیچھے ہو گیا تھا ” بات یہ کے عمیر بھائی …میں نے اتنی محنت سے ٹھنڈا پانی بنایا ..تاکے حارث سو رہا ہو تو میں اس پر پھینک دوں ..لیکن یہ تو جاگ رہا تھا ..اب اس نے میری محنت ضائع کر دی اس کو سزا تو ملنی چاہیے تھی نہ ؟؟ اس لئے میں نے پھینک دیا اس پر پانی …آپ بتاۓ کیا میں نے غلط کیا ؟؟” اس نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ دئے تھے “تمہیں تو میں دیکھ لوں گا ” وہ اس کڑے تیوروں سے گھور رہا تھا ” دیکھیں عمیر بھائی …دھمکی دے رہا ہے یہ مجھے ” حارث اس کو دیکھتا کچن سے چلا گیا تھا تا کے شرٹ چینج کرے ..اس کے جاتے ہی عمیر نے اس کا بازو پکڑ کر اپنے پیچھے سے نکالا تھا ” سدھر جاؤ لڑکی ..جب دیکھو میرے بھائی کے پیچھے پڑی رہتی ہو تم ” عمیر نے اس کو مصنوئی گھورتے ہوئے کہا تھا ” ہاہ ..اتنا بھی کوئی بچہ نہیں ہے اپ کا بھائی …ایک نمبر کا ….!!” “میں سب سن رہا ہوں مناہل ” حارث شایدکسی کام سے رک گیا تھا جبھی وہ اس کی بات کاٹ کر چیخ کر بولا تھا ” مناہل نے زبان دانتوں تلے دبالی تھی “ہاہا …میں تو کہ رہی تھی کے کتنا معصوم اور شریف ہے حارث ” وہ کھسیانی ہنسی ہستی جلدی سے چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گئی تھی ا”مجھے تو لگتا ہے ہارٹ اسپیشیلسٹ کے بجاۓ پاگلوں کا ڈاکٹر ہونا چاہیے تھا مجھے کم از کم تم دونوں تو انسانو کی طرح رہتے اس گھر میں ” عمیر نے ریڈنگ گلاسیس لگا کر نیوز پیپر اٹھایا تھا مناہل کے فون کی مسیج ٹون بجی تھی اس موبائل اٹھا کر دیکھا تو حارث کا مسیج تھا”میری معصومیت اور شرافت کے علاوہ تم نے ابھی تک کچھ دیکھا ہی نہیں ہے ….مانو بلی ” اس نے ایک ابرو اٹھا کر سکرین کو دیکھا تھا “اونہ ..بندر کہیں کا ” دوسرے ہی لمحے اس نے سر جھٹک موبائل اوف کر دیا تھا اور ناشتہ کرنے لگی..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *